Tuesday, April 9, 2019

بچوں کے شاعر اور ادیب کہاں چلے گئے؟—— ڈاکٹر سید مجیب ظفرانوارحمیدی سابق:ایجوکیشن ایڈوائزر،وفاقی محکمۂ تعلیم، اسلام آباد براے گریڈ :MP-I


بچوں کے شاعر اور ادیب کہاں چلے گئے؟
ڈاکٹر سید مجیب ظفرانوارحمیدی
اسسٹنٹ پروفیسر و صدر شعبۂ اردو، گورنمنٹ ڈگری اینڈ پی جی کالج سراج الدولہ۔ کریم آباد،کراچی (صوبہ سندھ)
ایک زمانہ تھا جب بچوں کا ادب بہت اہمیت کا حامل ہوا کرتا تھا۔ اخبارات میں بچوں کے صفحات پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ بچوں کے ماہانہ جرائد بڑی باقاعدگی سے شائع ہوتے تھے اور خاصی بڑی تعداد میں تھے لیکن پرانے جرائد میں آج صرف ’’ہمدرد نونہال‘‘ اور ’’تعلیم و تربیت‘‘ ہی نظر آتے ہیں۔ ’’بچوں کا ڈائجسٹ‘‘، ’’کھلونا‘‘، ’’بچوں کی دنیا‘‘، ’’جگنو‘‘، ’’غنچہ‘‘، ’’بچوں کا گلشن‘‘ اور کئی جرائد تھے جو رفتہ رفتہ بند ہوگئے۔ روزنامہ ’’مشرق‘‘ اور ’’امروز‘‘ کے بچوں کے صفحات بہت مقبول تھے اور ان میں بچوں کا اعلیٰ درجے کا ادب پڑھنے کو ملتا تھا۔ پھر بچوں کے ناولوں کا دور بھی کیا خوب تھا۔ لاہور کے ایک معروف اشاعتی ادارے نے بچوں کے بہت معیاری ناول شائع کیے۔ جن میں ’’عالی پر کیا گزری‘‘ اور ’’میرا نام منگو ہے‘‘ جیسے معرکۃ الاراء ناول بھی شامل ہیں۔ ’’عالی پر کیا گزری‘‘ جناب عزیز اثری کی تخلیق تھا جبکہ ’’میرا نام منگو ہے‘‘ جبار توقیر نے تحریر کیا تھا۔ ’’میرا نام منگو ہے‘‘ کو سرکاری ٹی وی پر ڈرامائی شکل میں بھی پیش کیا گیا تھا۔ ’’عالی پر کیا گزری‘‘اور ’’میرا نام منگو ہے‘‘ بچوں کے مقبول ترین ناول تھے اور ان کے بے شمار ایڈیشن شائع ہوئے۔ وہ لوگ جو اب پچاس یا ساٹھ کے پیٹے میں ہیں، وہ اپنے بچپن میں پڑھے گئے ان ناولوں کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ اثری صاحب اور جبار توقیر نے اس کے بعد بھی کچھ ناول تخلیق کیے لیکن وہ چیز کہاں؟ اسی طرح محمد یونس حسرت نے بھی کچھ عمدہ ناول لکھے۔مجیب ظفرانوار(یوسف ظفر)نے"کاسو"ناول لکھا۔ لاہور کے ایک اور اشاعتی ادارے نے بچوں کے لیے ’’پاکٹ کہانی‘‘ کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بچوں کو بہت پسند آئیں۔ ہر کہانی کی قیمت صرف 50 پیسے ہوتی تھی۔ سکول جانے والا ہر بچہ بڑی آسانی سے یہ چھوٹی سی کہانی خرید لیتا تھا۔ اس کامیاب تجربے کے بعدکچھ اور اشاعتی اداروں نے بھی پاکٹ کہانیاں شائع کرنا شروع کردیں اور یہ خاصا منافع بخش کام ثابت ہوا۔ کچھ برسوں بعد یہ سلسلہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔ اب دور آیا بچوں کے جاسوسی ادب کا۔ اس میں اشتیاق احمد نے بہت نام کمایا۔ انہوں نے خاصی بڑی تعداد میں بچوں کے جاسوسی ناول تحریر کیے جنہیں بچوں کی طرف سے بہت پذیرائی ملی۔ اس زمانے میں انہیں بچوں کا ابن صفی بھی کہا جاتا تھا۔ آج اشتیاق احمدکہاں ہیں، کیا کررہے ہیں، کچھ علم نہیں۔ لاہور کے ایک اور اشاعتی ادارے ’’مکتبہ اقرا‘‘ نے بھی بچوں کے ادب کے فروغ کے سلسلے میں شاندار خدمات سر انجام دیں۔ اس ادارے کے کرتا دھرتا جلال انور اور سلیم اختر تھے۔ انہوں نے بچوں کے لیے انتہائی سستی کہانیاں چھاپنے کا اہتمام کیا اور صاحب طرز ادیب اے حمید نے بھی اس ادارے کے لیے لاتعداد بچوں کی کتابیں لکھیں۔ جادوئی اور دیو مالائی کرداروں پر مشتمل ان کے ناولوں کی سیریز ’’عنبر، ناگ اور ماریا‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ بچوں کے معروف ادیبوں میں ایک نام امان اللہ نیرّ شوکت کا بھی ہے۔ جو طویل عرصے تک ’’بچوں کا ڈائجسٹ‘‘ اور ’’بچوں کا گلشن‘‘ جیسے معیاری جرائد کی ادارت کرتے رہے۔ اب وہ اپنا ذاتی جریدہ شائع کرتے ہیں۔ اسی طرح مقبول جہانگیر نے بھی بچوں کے لیے کئی ناول لکھے اور ان کی داستانِ امیر حمزہ تو بچوں کے ادب میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ مقبول احمد دہلوی، احمد شبیر، اقبال نواز، ایم ایس ناز اور کئی دوسرے ادیبوں نے بھی بچوں کے لیے بہت خوبصورت کہانیاں لکھیں۔ احمد شبیرّ نے بچوں کے افسانوں کا مجموعہ ’’گلاب کے پھول‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ بچوں کی شاعری کے حوالے سے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور قیوم نظر نے بے مثال کام کیا۔ ان کو جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ صوفی تبسم کی شہرہ آفاق بچوں کی نظم ’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ کو تو لافانی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے بعد آنے والوں میں سرور بجنوری، رفیق احمد خان، طالب حسین طالب (روزنامہ ’’کھلونا‘‘ کے مدیر)، غلام محی الدین نظر، محمد احمد شاد، زاہد الحسن زاہد، قندیل ناصرہ،مجیب ظفرانوار اور افضال عاجز نے بچوں کی شاعری کے حوالے سے اپنے فن کے جوہر دکھائے اور خوب نام کمایا۔ لیکن… اب کہاں ہیں یہ لوگ اور کہاں ہیں وہ جرائد۔ ایک ہمارے مسعود احمد برکاتی ہیں جنہوں نے عمر عزیز بچوں کے ادب کی آبیاری میں گزار دی۔ کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ بچوں کے ادیب کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ ان کی بات میں وزن ہے اور شاید یہی وہ بنیادی سبب ہے کہ آج کے ادیبوں کا رجحان بچوں کے ادب کی طرف نہیں ہے۔ شاید آنے والے دور میں ہمیں ایک بار پھر بچوں کے ایسے ادیب اور شاعر میسر آجائیں جن کو اپنے شاندار کام کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ اس سلسلے میں ہم سب کو دعا کرنی چاہیے۔بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے لیکن شاید اس کو اب تک بچوں کا کھیل ہی سمجھا گیا ہے کیونکہ بچوں کے رسالے کے مدیر کی حیثیت سے بہت سے سینئر ادیبوں سے بچوں کے لیے لکھنے کی درخواست کرتے ہیں تو حوصلہ شکن جواب ملتے ہیں۔
۔(بحوالۂ:اُردومیں بچوں کاادب،آزادی کےبعد ازپروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی،مطبوعہ نیشنل بک فاؤنڈیشن،اسلام آباد2011)
کچھ انکار کر دیتے ہیں، کچھ وعدہ کر لیتے ہیں جو وفا نہیں ہوتا، کچھ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ اب بچوں کی ذہنی سطح پر اُتر کر لکھا نہیں جاتا، کچھ مصروفیات کا عذر پیش کرتے ہیں، کچھ اعزازیے کی کم رقم سن کر خاموش ہو جاتے ہیں اور کچھ تو یوں گھورتے ہیں جیسے ان سے بچوں کے لیے لکھنے کی درخواست کر کے ہم نے ان کے ادبی مقام و مرتبے کی توہین کردی ہے۔ یوں ان میں سے بیشتر بچوں کے لیے معیاری ادب تخلیق کرنے کے بجائے بڑوں کے لیے بچگانہ ادب لکھنے میں مصروف، مشغول اور خوش رہتے ہیں۔
کوئی ان کو بتلائے کہ اگر بچوں کے لیے لکھنے سے ادبی قد کم ہو جاتا تو آج علامہ اقبالؒ ، اسماعیل میرٹھی، صوفی تبسم، احمد ندیم قاسمی، محسن احسان، خاطر غزنوی، میرزا ادیب، سید نظر زیدی، خالد بزمی، عزیز اثری اور ان جیسے دیگر شاعروں اور ادیبوں کا نام اتنے احترام سے نہ لیا جاتا۔
آپ نے بچپن میں بچوں کا کوئی رسالہ، بچوں کا اخباری صفحہ یا کوئی کتاب ضرور پڑھی ہوگی جس نے آپ کی شخصیت و کردار پر اثرات بھی مرتب کیے ہوں گے۔ آپ میں سے تقریباً تمام شاعروں اور ادیبوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بھی بچوں کے اخباری صفحے یا کسی رسالے سے کیا ہوگا لیکن اب بچوں کے لیے لکھنے سے اجتناب و احتراز میری سمجھ سے بالا تر ہے۔
بچے کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی بہتر تعلیم و تربیت ہی قوم کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان میں چار کروڑ سے زائد بچے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بڑی تعداد تعلیم، صحت، بنیادی ضرورتوں اور حکمرانوں کی توجہ سے محروم ہے۔ باپ حصول معاش میں کوہلو کے بیل کی طرح جتا ہوا ہے۔ مائیں کیبل پر سو سو قسطوں کے ڈرامے اور فلمیں دیکھنے میں مشغول ہیں۔ استاد بھاری بھرکم نصاب پورا کروانے کی دوڑ میں شامل ہیں اور بچے کیبل، انٹرنیٹ اور موبائل میں ایسے مگن اور مست ہوئے ہیں کہ ادب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
بچوں کا چونکہ ووٹ نہیں ہوتا اس لیے وہ سیاسی جماعتوں یا حکومتوں کے منظورنظر نہیں ٹھہرتے۔ نہ وہ ان کی ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں (ویسے تو ووٹ والوں کا بھی یہی حال ہے) جب تک بچے۱۸سال کے نہیں ہو جاتے تب تک حکومت کو ان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا لہٰذا یہ نظرانداز ہوتے رہتے ہیں۔
البتہ یہاں میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو خراجِ تحسین پیش کروں گا کہ انہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ بچوں کو عزت و احترام دیا ہے۔ دانش سکولوں کا قیام، ذہین بچوں کو لیپ ٹاپ دینا، پوزیشن ہولڈرز بچوں کو سکالرشپ دینااور غیرملکی دوروں پر بھیجنا ، ان کو گارڈ آف آنر پیش کرنااور تقریری و تحریری مقابلوں میں کروڑوں روپے کے انعامات دینا ان کے مثالی کارنامے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بچوں کا ادب ابھی تک ان کی توجہ کا منتظر ہے۔ اپوزیشن ان پر الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے سستی روٹی کے تحت کروڑوں روپے تندوروں میں جھونک دیئے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب چند کروڑروپے بچوں کے ادب کے تندور میں بھی ’’جھونک‘‘ دیں تو نئی نسل کندن بن کر اس میں سے نکلے گی۔ اپوزیشن تو شاید تنقید ہی کرتی رہے لیکن آنے والی نسلیں انہیں ہمیشہ دُعائیں دیں گی۔
بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کا مسئلہ، اصل میں لمحہ فکریہ ہے حکومت کے لیے، ادب کے فروغ کے لیے قائم اداروں کے لیے اور خود ادیبوں کے لیے۔ میں یہاں موجود تمام شاعروں اور ادیبوں سے اگر دریافت کروں کہ آپ نے اس سال یا گزشتہ دوتین سال کے دوران بچوں کے لیے کچھ لکھا؟۔ تو ۹۰فیصد سے زائد کا جواب نفی میں ہوگا۔ مختصراً ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت، کردار سازی اور بچوں کے ادب کے فروغ کے حوالے سے حکومت اپنی قومی ذمہ داری، ادبی ادارے اپنے محکمانہ فرائض اور ادیب اپنی ادبی ذمہ داری سے غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انفرادی و اجتماعی سطح پر بچوں کے ادب سے بے اعتنائی برتی گئی ہے۔
بچوں کے ادب کا فروغ کیسے؟ اس حوالے سے چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔ ان کو آپ مطالبات بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر صرف مطالبات پیش کرنے کا ہی رواج ہے لیکن میں چند اقدامات کا بھی ذکر کروں گا جو ہم کر چکے ہیں یا کررہے ہیں۔
* پاکستان میں ہر شعبے کے لیے وزارتیں ہیں لیکن چار کروڑ سے زائد بچوں کی کوئی وزارت نہیں ہے لہٰذا وفاقی اور صوبائی سطح پر ’’وزارتِ اطفال‘‘ قائم کی جائیں۔ کم از کم وزیراعلیٰ پنجاب تو اس کی ابتداء کر ہی دیں۔ اگر فوری طور پر وزارت کا قیام ممکن نہیں تو کم از کم مشیر اطفال ہی مقرر کر دےئے جائیں۔ وزیروں کی فوج ظفر موج میں ایک وزیر یا مشیر کے اضافے سے حکومت کو تو شائد کچھ فرق نہ پڑے ممکن ہے بچوں کا کچھ بھلا ہو جائے کیو نکہ بچوں کے حقوق کے لیے قائم کمشن کا مقصد سال بھر فا ئیو سٹار ہوٹلوں میں سیمینار کروانا اور سال کے آخر میں UNO کو رپورٹ بھجوانے کے علاوہ کچھ کام نہیں ہے۔
* حکومت ہر سال ہر شعبے میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی دیتی ہے اس میں بچوں کے ادب کا شعبہ بھی شامل کیا جائے۔ صوبائی حکومتیں بھی بچوں کے ادب پر ایوارڈز دینے کا سلسلہ شروع کریں۔ گورنر سندھ عشرت العباد خان نے تین سال قبل سندھ کے بچوں کے ادیبوں کو ایک ایک لاکھ روپے کے پانچ ایوارڈز دیے تھے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور باقی صوبوں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ ہم نے اس حوالے سے کچھ عملی قدم اٹھائے ہیں۔
ہم سے مراد ہم چند نوجوان بچوں کے ادیب جن میں حافظ مظفر محسن، نذیر انبالوی، عارف عثمان، ایم مجاہد و دیگر شامل ہیں۔’’ پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی‘‘ اور’’ اکادمی ادبیات اطفال‘‘ کے اشتراک سے ’’حکیم محمد سعیدؒ ایوارڈ‘‘ کا اجراء کیا ہے جس کے ساتھ ۱۵۰۰۰ روپے کی رقم بھی رکھی گئی ہے۔ پہلا ایوارڈ جون۲۰۱۲ء میں مسعود احمد برکاتی صاحب کو پیش کیا گیا تھا جو آواری ہوٹل لاہور میں ایک تقریب میں محترم عطاء الحق قاسمی صاحب نے بطور مہمان خصوصی ان کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ ایک ایوارڈ ہم نے محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کی خدمات پر ان کو پیش کیا ہے۔ یہ ’’میرزا ادیب ایوارڈ‘‘ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کی خدمت میں پیش کیا۔ یہ ایوارڈ ہر سال دیئے جائیں گے۔ ان کے علاوہ پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی اور’’ اکادمی ادبیات اطفال‘‘ کے اشتراک سے ایک ایوارڈ دیا جائے گا جس کے ساتھ ۵۰۰۰۰ روپے کی رقم بھی پیش کی جائے گی۔ یہ پہلا ایوارڈ ۱۹۴۷ء سے ۲۰۱۰ء تک بچوں کے ادب کے حوالے سے ادبی خدمات پر دیا جائے گا اور اس کے بعد ۲۰۱۱ء اور ۲۰۱۲ء کے ایوارڈز دیئے جائیں گے۔ اگر وسائل میسر آئے تو ایوارڈز کی تعداد اور رقم میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
* اکادمی ادبیات پاکستان، مقتدرہ قومی زبان، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اردو سائنس بورڈ، اقبال اکیڈمی، مجلس ترقی ادب جیسے اداروں میں بچوں کے ادب کا شعبہ قائم کیا جائے۔ ان اداروں میں بچوں کے ادیبوں کو بھی مساوی حقوق اور مراعات دی جائیں اور بچوں کے لیے بھی کتب شائع کی جائیں۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن میں اس حوالے سے کافی کام ہوا ہے۔ مرحوم احمد فراز کو خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے اس ادارے کو بہت ترقی دی اور بچوں کے ادیبوں کے لیے کئی انعامات ہر سال دیئے جاتے رہے۔ فنڈ نہ ملنے کے باعث اب یہ سلسلہ بند ہے البتہ موجودہ ایم ڈی مظہر الاسلام صاحب بھی مقدور بھر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال مجھے بھی’’ کتاب کا سفیر‘‘ مقرر کیا۔ ہم نے بچوں کے درمیان سال بھر میں سب سے زیادہ کتا بیں پڑھنے کا مقابلہ کروایا۔ اور نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے اسلام آباد میں ان بچوں کو خطیر انعامات سے نوازا۔ ایسی سر گرمیاں یقیناًفروغ مطالعہ و ادب کے لیے سود مند ثابت ہوتی ہیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان نے بچوں کے عالمی ادب کی نظموں کے تراجم اورپاکستانی ادب کی نظموں کے دو ضخیم انتخاب شائع کیے ہیں جبکہ نثر کے حوالے سے ایک انتخاب شائع ہو رہا ہے جو خوش آئند ہے اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور باقی اداروں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔
* مذکورہ ادبی اداروں اور پاکستان بھر کی آرٹس کونسلوں کی گورننگ باڈیز میں بچوں کے ادیبوں کو بھی نمائندگی دی جائے۔
* مقتدرہ قومی زبان کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ادیبوں اور رسائل کے مدیران کے لیے اصطلات پر مشتمل ایک لغت شائع کریں اور ان کو اس کشمکش سے نجات دلائیں جو مختلف جگہوں پر ایک ہی لفظ مختلف طر یقوں سے لکھنے سے دو چار ہیں۔ مثلاً توتا/ طوطا، پتہ/ پتا، مدیراعلیٰ/ مدیر اعلا وغیرہ۔
* بین الاقوامی ادبی وفود کے تبادلوں اور بیرون ملک ادبی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے بچوں کے ادیبوں کو بھی مواقع فراہم کیے جائیں۔
* حلقہ ارباب ذوق، رائٹرز گلڈ اور دیگر ادبی تنظیموں میں بچوں کے ادیبوں کو بھی رکنیت دی جائے اور بچوں کے ادب پر تنقیدی نشستیں کی جائیں۔ ہم وقتاً فو قتاً کچھ عر صے سے ادبی و تنقیدی نشستوں کا اہتمام کررہے ہیں۔ اور اب یہ سلسلہ ماہانہ بنیادوں پر جاری ہے۔
* بچوں کے ادیبوں کو بھی ادبی بیٹھک کی رکنیت دی جائے۔
* بچوں کے ادب کے حوالے سے پروگراموں کے لیے الحمراء اور دیگر ادبی اداروں کے ہال مفت فراہم کیے جائیں۔
* الحمراء قومی ادبی کانفرنس کی طرح ہر سال بچوں کے ادیبوں کے لیے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے یا ان ادبی کانفرنسوں میں بچوں کے ادیبوں کی نمائندگی میں اضافہ کیا جائے۔ ہم لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر اس کانفرنس میں بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کو جگہ دی۔ لاہور آرٹس کونسل کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کی باقی آرٹس کونسلز کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کی کانفرنسوں میں بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کو نمائندگی دیں۔
* پاکستان میں چار کروڑ سے زائد بچوں کے لیے صرف ۴۰ رسائل شائع ہو رہے ہیں جو اپنی اشاعت بمشکل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے معیاری رسالے ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ان رسائل کو خصوصی طور پر سرکاری اشتہارات دیئے جائیں تاکہ نہ صرف یہ اپنا وجود برقرار رکھ سکیں بلکہ اپنا معیار اور تعداد اشاعت میں اضافہ کر کے زیادہ بہتر انداز میں نئی نسل کو تعلیم و تربیت اور تفریح فراہم کرسکیں بلکہ ادیبوں کو بھی معقول اعزازیہ دے سکیں تاکہ سینئر ادیب بھی اس طرف مائل ہو سکیں۔
* بچوں کے رسائل براہ راست بچوں تک پیغام رسانی کا اہم ذریعہ ہیں لہٰذا پولیو مہم۔ ہاتھ دھونے کے عالمی دن، صحت و صفائی، ڈینگی سے بچاؤ، تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے تشہیری مہم کے حوالے سے بچوں کے رسائل میں بھی اشتہارات دئیے جائیں تو خاطر خواہ نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں ۔یاد رہے کہ بچوں کے رسائل صرف بچے ہی نہیں بلکہ والدین اور اسا تذہ بھی پڑھتے ہیں۔ چونکہ بچے یہ رسائل سنبھال کر رکھتے ہیں اس لیے ان رسائل کی عمر ایک ماہ نہیں ہوتی یوں نئی نسل میں شعور و آگہی کے حوالے سے ان رسائل سے دیر پا ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
* سرکاری ادبی رسائل/ خبر ناموں (News Letters) اور نجی شعبہ میں شا ئع ہونے والے ادبی جرائد میں بچوں کے ادب اور ادبی سر گرمیوں کے لیے بھی کچھ صفحات مختص کیے جا ئیں۔
* بچوں کے حقوق، صحت ، تعلیم اور بہبود کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے اور این جی اوز اہداف کے حصول اور بچوں تک براہ راست ر سائی کے لیے بچوں کے رسائل اور بچوں کے ادیبوں کی شراکت کو بھی یقینی بنائیں۔
*وفاقی و صوبائی حکومتوں کے علاوہ پرا ئیویٹ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کے رسائل کو اشتہارات دیں تا کہ یہ رسائل معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔
* جس طرح ما ضی میں بنک اور دیگر ادارے بچوں کے ادیبوں (کتب) کو ایوارڈ دیا کرتے تھے وہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور ادبی پروگراموں کو بھی سپانسر کریں تاکہ مثبت سر گرمیوں کو فروغ مل سکے اور دم توڑتی معاشرتی اقدار کو سہارا مل سکے۔
* ہر سکول کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر ماہ کم از کم بچوں کے ۵مختلف رسائل سکول لائبریری کے لیے خریدے، لائبریری کلچر کو فروغ دیا جائے اور ہفتے میں کم از کم ایک پیریڈ لائبریری کے لیے رکھا جائے تاکہ بچوں میں مطالعہ کا شوق پروان چڑھ سکے۔
* تعلیمی اداروں میں ’’بزم ادب‘‘ کا قیام لازمی قرار دیا جائے۔
* ہر سرکاری و نجی تعلیمی ادارہ اپنے اپنے وسائل کے مطابق طلباء و طالبات کی تحریروں پر مشتمل سالانہ میگزین ضرور شائع کرے اس سے بچوں میں لکھنے اور پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا۔
* پی ٹی وی پر بچوں کے پروگراموں میں اضافہ کیا جائے تاکہ بچوں کے ادیبوں کو وہاں لکھنے کے مواقع میسر آسکیں۔
* حکومت تمام چینلز کو پابند کرے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے پروگراموں کے لیے مختص کریں۔
* جس طرح جگہ جگہ فوڈ سٹریٹس بنائی جارہی ہیں اسی طرح مختلف مقامات پر بک سٹریٹس بھی بنائی جائیں جہاں خصوصی رعایت پر بچوں کو کتابیں دستیاب ہو سکیں اور وہ علم و ادب کی طرف مائل ہو سکیں۔
* حکومت بچوں کی ادبی کتب کی اشاعت کے لیے سستا کاغذ فراہم کرے تاکہ بچوں کو سستی کتب میسر آسکیں۔
* مختلف ادبی ادارے بچوں کے ادیبوں کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کریں۔
اس حوالے سے عرض ہے کہ پاکستان ینگ رائٹرز فورم کے پلیٹ فارم سے بطور مرکزی صدر میں نے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر تین سال تک صوبائی سطح پر لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور آزادکشمیر میں تین تین دن کے تربیتی کیمپ کروائے اور اس کے بعد تین روزہ قومی کانفرنس کروائی جس میں ملک بھر سے ایک سو سے زائد نوجوان اہل قلم شریک ہوئے۔ اس وقت بچوں کے لیے لکھنے والے ۸۰ فیصد سے زائد ادیب ان تربیتی کیمپوں سے تربیت یافتہ ہیں۔
ان کے انعقاد کے سلسلے میں ہمیں شعبہ بچوں کا ادب دعوۃ اکیڈمی اور یونیسیف کا تعاون حاصل رہا۔ دعوۃ اکیڈمی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے پاکستان میں بچوں کے ادب کی اہمیت اجاگر کی لیکن بعد میں اس نے سیاست کا ایسا زہر پھیلایا کہ یہ کریڈٹ ڈس کریڈٹ میں بدل گیا اوراس ادارے میں شخصی آمریت، غیر منصفانہ فیصلوں اجتماعی کے بجائے ذاتی مفاد و خود نمائی کو تر جیح اور شعبے پر عدم توجہ کے باعث آج کوئی ادیب دعوۃ اکیڈمی کے پروگراموں یا مقابلوں میں شرکت کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ کچھ لوگوں کو میری یہ بات ناگوار گزرے گی لیکن میں ہی دعوۃ اکیڈمی کا سب سے بڑا مداح اور میں ہی سب سے بڑا ناقد ہوں اور یہ تنقید اصلاح احوال کے لیے ہے۔
یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہم۱۹۴۷ء سے اب تک بچوں کے ادب کی تاریخ مرتب کررہے ہیں۔ نیز اس عرصے کے ادب کو محفوظ کررہے ہیں۔ اس کا انتخاب شائع کیا جائے اور پھر ہر سال بچوں کے ادب کا انتخاب شائع کیا جاتا رہے گا۔ ہمارے کچھ دوست بھی اس پر کام کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ سب سے بھی تعاون کی درخواست ہے۔
اس کے علاوہ بچوں کے ادیبوں کی ڈائریکٹری کی اشاعت پر بھی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔
*ہمیں چاہیے کہ جس طرح بچوں کی دیگر ضرورتوں اور سہولتوں کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح ان کی سیرت و کردار کی تعمیر پر بھی توجہ دیں۔ سالگرہ، عید اور دیگر مواقع پر بچوں کو دیگر تحائف کے ساتھ ساتھ معیاری کتب اور رسائل بھی تحفے میں دیں لیکن ہمیں بچے کے لیے۱۵۰ روپے کابرگر سستا اور ۵۰ روپے کی کتاب مہنگی لگتی ہے۔ میں نے سنا تھا کہ کسی نے کہاتھا کہ میں کتاب خریدنے گیا تھا۔ کتاب کی قیمت ۵۰۰روپے تھی میں ۴۰۰ روپے کا جوتا لے کر گھر آگیا۔ جن افراد اور قوموں کو کتاب اور جوتے کا فرق سمجھ میں نہیں آتا وہ جوتوں کے ہی حقدار ٹھہرتے ہیں۔

میری تمام سینئر شاعروں اور ادیبوں سے گزارش ہے کہ وہ بچوں کے لیے ضرور لکھیں۔ آپ کو اعزازیہ نہیں بھی ملتا تو آپ کو یہ اعزاز ضرور حاصل ہوتا ہے کہ آپ نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل تابناک بنا رہے ہیں۔ اگر آپ دس غزلیں لکھیں تو بچوں کے لیے ایک نظم بھی لکھ دیں اور اگر دس افسانے لکھیں تو بچوں کے لیے ایک کہانی بھی لکھ دیں۔ یہ ننھے پھول آپ کی توجہ اور شفقت کے حقدار ہیں۔ اگر آپ نے ان کا حق ادا نہ کیا تو یہ شکایت کریں گے کہ….. یا اللہ! انہیں جو تو نے لکھنے کی صلاحیت بخشی تھی یہ اسے حسن و عشق کے قصوں اور محبوب کی زلفوں اور جلوؤں پر ہی استعمال کرتے رہے۔ انہیں ہمارا خیال بالکل نہیں آیا۔یا تو اس بات کا جواب سوچ لیجیے یا بچوں کے لیے لکھنا شروع کر دیجیے۔یہ حقیقت ہے کہ معاشرے کی تشکیل، ترقی اورترویج کے لیے ادب نے ہمیشہ کلیدی کرداراداکیاہے۔ہر دورمیں انسان کی فلاح، خوشحالی اورترقی کی غرض سے نئی نسل کی اچھی تعلیم وتربیت ، تعمیر اورتشکیل کے لیے سائنسی ادب بے حد اہمیت کا حامل رہا ہے۔ سائنس ہمیں ترقی کی راہیں دکھاتی ہے اورادب ان راہوں کو سمجھنے میں مدددیتاہے۔ سائنس ہمیں علم سے روشناس کرتی ہے اورادب ہمیں اس علم سے استفادہ کرنے کا شعوردیتاہے۔ بچوں کوکس عمرمیں سائنس میں کیا پڑھا یا جائے ، کیوں اورکیسے پڑھایاجائے ؟ ہمارے معاشرے میں بچوں کے لیے سائنسی ادب کی کیا اہمیت ہے؟یہ بہت اہم سوالات ہیں اورعام طورپر ہمارے ہاں اس موضوع پر بات نہیں کی جاتی ۔اس بات کو مدنظررکھتے ہوئے اردو سائنس بورڈ، قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن نے اکادمی ادبیاتِ اطفال اورماہنامہ ’’پھول‘‘ کے اشتراک سے ’’بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت اوراہمیت‘‘ کے موضوع پر سیمینارمنعقدکیا۔سیمینارمیں بچوں کے لیے سائنسی ادب کے حوالے تفصیلی بحث کی گئی۔مقررین نے اس بات پر زوردیاکہ نئی نسل کو سائنس اورٹیکنالوجی بالخصوص کتب بینی کی طرف راغب کرنے کے لیے سائنسی ادب کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیمینارکے مہمان خصوصی معروف ادیب اورڈائریکٹرمجلس ترقی ادب ڈاکٹر تحسین فراقی تھے ۔ سیمینارکی صدارت ڈائریکٹرجنرل اردو سائنس بورڈ ڈاکٹرناصر عباس نیّر نے کی۔
اردو میں بچوں کا ادب اور غیرمسلم ادیب و شعرا:

زبان اظہار و بیان کا نام ہے، یہ ایک فطری قوت و نعمت ہے ، جو خالق کائنات نے انسان کو عطا کی ہے، ( الرحمٰن : ۴) انسانی فطری طور پر اپنے والدین اور آس پاس کی زبان سیکھ لیتا ہے، زبان کی پیدائش کی بنیاد ماحول اور سماج ہے، نہ کہ مذہب ۔ سماج میں جو زبان رائج ہوتی ہے، خالقِ کائنات اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے اسی زبان کا انتخاب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں پیغمبر بھیجے اور ان ہی کی زبان میں کتابِ ہدایت نازل کی۔ (ابراہیم :۴) اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، بلکہ مذہبی اور خدائی رہ نمائی کے لئے زبان کی ضرورت پیش آتی ہے، اور یہ معاملہ دنیا کی تمام قدیم زبانوں کے ساتھ پیش آیا ہے کہ مالکِ جہاں نے اپنے حیات بخش پیغام کے لئے دنیا میں رائج زبانوں کا انتخاب کیا ہے۔

اردو زبان اسلام کے آغاز کے ایک ہز ارسال بعد ہندوستان میں پیدا ہوئی ، یہ زبان ہندوستان میں مختلف قوموں کے اختلاط، میل جول، دوستانہ تعلقات، کاروباری ضروریات اور سماجی و سیاسی روابط کی بنا پر وجود میں آئی ، اور اس نے ہندوستان کی تمام زبانوں اور بولیوں کے عناصرکو اپنے دامنِ گل میں جگہ دی، گویا اردو زبان تمام ہندوستانی زبانوں کا عطرِ مجموعہ ہے، اتبداء میں اسے ہندی، ہندوی اور ریختہ کا نام دیا گیا، اور بعد میں اردو زبان کے نام سے مشہور ہوئی ۔
اردو کی ابتداء سے لے کر آج تک ہر مذہب و مکتب فکر کے افراد نے اسے عوامی زبان کی حیثیت سے اخیتار کیا، اور خلوصِ دل سے مادر مہربان زبان اردو کی آبیاری ، اور اس کی ترقی و نشوونما میں حصہ لیا، خیال چہ تاریخ ادب اردو کے ہر دور میں ہمیں ہر مذہب و مکتب کے اہل قلم ملتے ہیں، جنھوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج ہم بچوں کے ادب کے فروغ اور نشوونما میں ان غیرمسلم اصحابِ قلم کا ذکر کریں گے، جنھوں نے پورے خلوص ، دردمندی اور ذمہ داری کے ساتھ بچوں کی ذہنی و فکری تربیت کا مقدس فریضہ انجام دیا ہے۔
بچوں کے ادب کے ابتدائی دور میں ہمیں ماسٹر رام چندر، ماسٹر پیارے لال اور نہال چند لاہوری نظر آتے ہیں ، بچوں کے ادب کا دوسرا دور جو
۱۸۵۷ء ؁ سے ۱۹۴۷ء ؁ پر مشتمل ہے، اس دور میں پیارے لال آشوب ، چکبست، درگا سہائے سرورجہاں آبادی، منشی پریمچند، تلوک چند محروم اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی خدمات نمایاں ہیں۔
پیارے لال آشوب
۱۸۶۴ء ؁ میں پنجاب بک ڈپو کے کیوریڑ مقرر ہوئے ، محمد حسین آزاد کی طرح کرنل ہالرائڈ کی فرمائش پر’’ اردو کی تیسری کتاب ‘‘ اور ’’ اردو کی چوتھی کتاب‘‘ مرتب کیں ، اردو والوں میں یہ غلط فہمی رائج ہوگئی تھی کہ محمد حسین آزاد نے چاروں ریڈرس مرتب کی تھیں، جیسا کہ پروفیسر ممتاز حسین نے اردو کی پہلی کتاب ( مطبوعہ ترقی اردو بورڈ کراچی ۱۹۸۳ء) اور ڈاکٹر اسلم فرخی نے اپنے تحقیقی مقالہ : ’’ محمد حسین آزاد حیات اور تصانیف ‘‘ میں یہی خیال ظاہر کیا ہے، لیکن ڈاکٹر حسن اختر نے اپنے تحقیقی مضمون : ’’اردو کی پہلی کتاب ‘‘ ( ماہنامہ کتاب نما دہلی فروری ۱۹۸۴ء ) میں متعدد شواہد ودلائل سے ثابت کیا ہے کہ محمد حسین آزاد نے صرف اردو کی پہلی اور دوسری کتاب مرتب کی تھیں ، اور اردو کی تیسری اور چوتھی کتاب پیارے لال آشوب کی مرتب کردہ تھیں ۔ ( اردو میں بچوں کا ادب از ڈاکٹر خوشحال زیدی : ۱۷۶۔۱۷۷) اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کتابوں پر مرتب کا نام درج نہیں کیا جاتا تھا، پیارے لال کی مذکورہ دونوں کتابیں ۱۸۷۰ء کے آس پاس مرتب کی گئی تھیں ۔
پنڈت برج نارائن چکبست نے بہ طور خاص بچوں کے لئے علاحدہ مجموعہ کلام نہیں چھوڑا ، لیکن ان کے مجموعۂ کلام ’’ صبحِ وطن ‘‘ میں بہت سی نظمیں ایسی ہیں ، جو بچوں کی شاعری کا اٹوٹ حصہ ہیں ، جیسے : ہمارا وطن دل سے پیارا وطن ، خاکِ ہند، وطن کو ہم وطن ہم کو مبارک، گائے وغیرہ، انہوں نے حالیؔ کی ’’ مجالس النساء‘‘ کی طرح خاص طورپر بچیوں کے لئے بہت سی نظمیں لکھی ہیں ، جن میں پھول مالا، اور ’’ لڑکیوں سے خطاب ‘‘ بہ طور خاص قابل ذکر ہیں ، ایک نظم میں انہوں نے ڈرامائی انداز میں رام چندرجی کے بن باس جانے سے پہلے اپنی ماں سے رخصت ہونے کا منظر پیش کیا ہے۔
درگا سہائے سرورجہاں آبادی چکبستؔ کی طرح قومی و وطنی شاعری ، مناظر قدرت اور ہندوستانی فضا کی منظرنگاری کے لئے مشہور ہیں، مناظرِ فطرت کی رعنائی اور حبِ وطن سے سرشاران کی بہت سی نظمیں اپنے اسلوب ، زبان کی سادگی اور موضوع کے اعتبارسے بچوں کے ادب میں شامل کی جانے کی مستحق ہیں، جیسے : یاد بچِپن، یادِ طفلی، لالۂ صحرا، حبِ وطن، گلزارِ وطن، سرزمینِ وطن، خاکِ وطن، یادِ وطن، چشمِ وطن ، ایک جلا وطن محبِ قوم کا گیت ، گنگا جی، جمنا، نسیمِ سحر، شفقِ شام، بیر بہوٹی ، سارس کا جوڑا ، مرغابی ، کوئل ، جگنو، دمن اور ہنس اور بھونر سے کی بے قراری وغیرہ ۔
بچوں کے شاعر کی حیثیت سے تلوک چند محروم ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں، اسماعیل مرٹھی کے بعد وہ پہلے شاعر ہیں، جنھوں نے کیفیت و کمیت کے اعتبار سے اچھا شعری سرمایہ چھوڑا ہے، محروم عمر بھر درس و تدریس سے و ابستہ رہے، انہوں نے بچوں کی نفسیات ، پسند اور رجحان کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا تھا، ان کو بچوں سے والہانہ محبت تھی، انہوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی ذہنی و اخلاقی نشو و نما کے لئے صحت مند شعری ادب تحریر کیا ، انہوں نے بچوں کے لئے دو شعری مجموعے : ’’ بہارِ طفلی‘‘ اور ’’ بچوں کی دنیا‘‘ ترتیب دئیے ، ان کی بہت سی اخلاقی، قومی اور وطنی نظمیں مدارس کی نصابی کتب میں شامل رہی ہیں ، ان کی ایک نظم : ’’ برندابن کی صبح ‘‘ بہت اچھوتی ہے، جس میں جمنا کے خوب صورت مناظر کا نظارہ کرایا گیا ہے، ان کی نظموں میں اخلاقی تربیت کا پورا اہتمام نظر آتا ہے، اخلاقی نقطہء نظر سے انہیں بچوں کے ادب میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا، ان کی اخلاق نظموں میں سچائی ،وقت کی پابندی، محنت،سویرے اٹھنا ، اچھا آدمی ، جھوٹ ، جھوٹ بڑا پاپ ہے، اچھا بچہ، پہلے کام پیچھے آرام ، مہربانی کے چھوٹے چھوٹے کام اور بہت بولنا عیب ہے، بہت اہم اور لائقِ مطالعہ نظمیں ہیں۔(بحوالۂ:اُردومیں بچوں کاادب،آزادی کےبعد ازپروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی،مطبوعہ نیشنل بک فاؤنڈیشن،اسلام آباد2011)
ہندوستان کے دیہات ، مزدور اور کسان کے مسائل کو سب سے پہلے اپنے ناول و افسانہ میں جگہ دینے والے عظیم فن کار منشی پریم چند نے بچوں کے لئے بہت سی کہانیاں اور تاریخی افسانے لکھے ہیں ، وہ بنارس کے ایک دیہات میں شعبۂ تعلیم سے ایک عرصہ تک وابستہ رہے، وہ دیہات کے سادہ لوح بچوں کے جذبات واحساسات سے اچھی طرح وقف تھے، ان کو بچوں اور ان کے ادب سے محبت تھی، انہوں نے بچوں کی ضروریات ، مسائل ،ان کی ذہنی نشوونما اور بہتر نگہداشت کی طرف ایک مخصوص زاویہ سے نگاہ ڈالی ، بچوں کے لئے لکھے گئے ان کی کہانیوں میں نادان دوست عبرت ، عیدگاہ اور سچائی کا انعام بہت مقبول ہیں ، ان کی دوسری کہانیوں میں معصوم بچہ، اناتھ لڑکی ،گلی ڈنڈا، جگنو کی چمک، کشمیری سیب، ہولی کی چھٹی، نوک جھوک ، چیل ، شکار، آخری حیلہ ، دو بیل اور سوتیلی ماں وغیرہ قیمتی تحفہ ہیں ، انہوں نے دیہاتوں کے ماحول کی منظرکشی، کرداروں کی جذبات نگاری ، سماج کی پیچیدگی اور اخلاقی اقدار کی مؤثر تلقین جس قدر مؤثر، عام فہم اور دل نشیں اسلوب میں پیش کی ہے، وہ ان کا زندہ جاوید کارنامہ ہے۔
ممتاز مجاہد آزادی اور آزاد ہند وستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اردو کے اچھے انشاء پرداز اور مضمون نگار تھے، وہ اردو ہی میں مراسلت اور خط و کتابت کرتے تھے، سیاسی و انتظامی خطوط کے علاوہ انہوں نے اپنی لخت جگر اندرا پریہ درشنی کو وشوا بھارتی شانتی نکیتن میں تعلیم کے دوران جو خطوط لکھے ہیں ، وہ بچوں کے ادب کا قیمتی اثاثہ ہیں، یہ خطوط ’’ باپ کے خط بیٹی کے نام ‘‘ سے شائع ہو چکے ہیں، ان کے خطوط بچوں کی مختلف درسی کتب میں شامل کئے جاتے رہے ہیں ، مثلا ایک خط میں انہوں نے تہذیب سے متعلق مفید با تیں نہایت عام فہم انداز میں اپنی بیٹی کو ذہن نشیں کرائی ہیں ، خطوط کے علاوہ ان کے کئی مضامین اور کہانیاں ماہ نامہ ’’ پیام تعلیم ‘‘ نئی دہلی میں شائع ہوئی ہیں ، جیسے : دنیا کی سب سے جاندار اشیاء ( جنوری
۱۹۳۰ء ؁) دنیا کی تاریخ کیسے لکھی گئی ؟ (مارچ۱۹۳۰ء ؁) ہمارا ملک ( اکتوبر ۱۹۳۱ء ؁) اور ایک عقل مند آدمی ( نو مبر ۱۹۵۵ء ؁) وغیرہ ۔
بچوں کے ادب کے تیسرے دور میں جو آزادی کے بعد سے شروع ہو کر بیسویں صدی کے اختتام پر مشتمل ہے، غیر مسلم قلم کاروں میں بچوں کے اہم ناول نگار، کہانی نویس اور شاعر نظر آتے ہیں، اس دور میں سب سے باوقار اور قدآور شخصیت کرشن چندر کی ہے۔۔(بحوالۂ:اُردومیں بچوں کاادب،آزادی کےبعد ازپروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی،مطبوعہ نیشنل بک فاؤنڈیشن،اسلام آباد2011)
جدید سائنسی ، صنعتی اور سماجی تقاضوں کو اپنے فکشن میں کامیابی سے برتنے والے عظیم افسانہ نگار کرشن چندر نے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے کامیاب ادب تحریر کیا ہے، انہوں نے اپنی کہانیوں ، افسانے، ناول اور ڈرامے کے ذریعہ بچوں کی ہمہ جہت معلومات ، ذہنی و جسمانی نشو و نما اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، ان کا شعریت آمیز رومانوی انداز اور حسین مناظر کی تصویرکشی بچوں کو اپنی گرفت میں لئے رہتی ہے، انہوں نے بچوں کے لئے فنطاسیہ، مہماتی اور سائنس فکشن تحریر کیا ہے، ان کی زیادہ تر کہانیاں تمثیلی اور طنزیہ انداز میں ہیں، جن میں مزاح کی چاشنی سے مقصدیت کو خوشگوار انداز میں پیش کیا گیا ہے، انہوں نے اپنے ناول : ’’ ستاروں کی سیر ’’ میں بچوں کو نئے نئے جہانو ں کی سیر کرائی ہے، اور تفریح کے پردہ میں بچوں کو جدید سانئسی ایجادات اور کائنات کے اسرار سے روشناس کرایا ہے، چڑیوں کی الف لیلیٰ، بیوقوفوں کی کہانیاں ، سونے کی صندوقچی، سونے کا سیب، شیطان کا تحفہ اور الٹا درخت وغیرہ کرشن چندر کی مقبول کہانیاں ہیں ، الٹا درخت اردو میں بچوں کا بہترین فنطاسی ہے، جو اپنے دل کش اسلوب کے سبب بچوں اور بڑوں دونوں میں مقبول ہے، اس میں خودغرض اور مفاد پرست سماج پر زبردست طنز ہے، ان کے بیش تر فکشن میں انسانی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو اس خوب صورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ بچے فرضی کہانی کو بھی حقیقی زندگی کا جزو سمجھنے لگتے ہیں، انہوں نے عام بچوں کی زندگی کو بھی فن کارنہ مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے، جیسے :’’ بیوقوفوں کی کہانیاں ‘‘۔ یہ کہانیاں بچوں کی تفریح طبع کے لئے مزاحیہ پیرایہ میں لکھی گئی ہیں، ناول اور طویل کہانیوں کے علاوہ انہوں نے بہت سی مختصر کہانیاں اور ڈرامے بھی لکھے ہیں، کرشن بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتے ہیں، وہ اپنی تحریروں میں بچوں کی نفسیاتی پیچیدگیوں کا پورا خیال رکھتے ہیں ، ان کی زبان اور اسلوب بچوں کے مزاج اور مذاق سے ہم آہنگ ہے،غرض جدید سائنسی اور صنعتی دنیا کے پس منظر میں ان کی کہانیاں ، ناول اور ڈرامے اپنے شاعرانہ اوررومانوی طرز نگارش کی بنا پر لافا نی شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں ۔
رام لعل بچوں کے ادب میں ایک منفرد مقام کے حامل ہیں ، وہ اردو کہانی میں ایک معمار کی حیثیت ر کھتے ہیں ، انہوں نے بچوں کی کہانی کو جس انداز میں سنوارا، نکھارا اور جلا بخشی، اس کی مثال اردو ہی نہیں، ہندوستان کی دوسری زبان میں بھی نہیں ملتی ہے، ان کی کہانیو ں کے موضوعات بچوں کی روزمرہ زندگی کے مسائل کا آئینہ ہیں ، انہوں نے اپنی کہانیوں میں روزمرہ زندگی کے مسائل سے چھٹکارا پانے کا راستہ بھی دکھایا ہے، ان کی زیادہ تر کہانیاں ماہنامہ ’’ کلیاں ‘‘ ( لکھنؤ) کھلونا ( نئی دہلی ) اور پیام تعلیم ( نئی دہلی ) میں مسلسل شائع ہوتی رہی ہیں ، نیشنل بک ٹرسٹ ، ہزوبال پستکالیہ اور یوپی اردو اکادمی نے ان کی کہانیوں کے مصور ایڈیشن شائع کئے ہیں ، رام لعل بچوں کی نفسیات اور رجحانات سے بخوبی واقف ہیں، بچوں کی دل چسپیوں اور فطری مسائل پر ان کی گہری نگاہ ہے، وہ نہ تو بچوں کو نصیحت کر تے ہیں ، اور نہ درس دیتے ہیں، بلکہ ان کی تفریح طبع کے ساتھ ساتھ کچھ اس طرح اپنا مقصد پیش کر دیتے ہیں کہ بچے غیراختیاری طو رپر وہ سب کچھ محسوس کر جاتے ہیں ، جو رام لعل بچوں سے کہنا چا ہتے ہیں۔
بچوں کے شاعر تلوک چند محروم کے فرزندِرشید، ماہرِاقبالیات پروفیسر جگن ناتھ آزاد ( پ :
۱۹۱۸ء) نے بچوں کے لئے بھی چند کتابیں لکھی ہیں بچوں کے لئے ان کی شاعری کا مجموعہ ’’ بچوں کی نظمیں ‘‘ پہلی مرتبہ ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا ، سولہ نظموں پر مشتمل یہ مجموعہ ایسا گلد ستہ ہے، جس میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے پھول کھلے ہیں ، اور وطن کی محبت کے گل بوٹے سجے ہیں،بچوں کے لئے پورے ملک کی سیر ہے، غنائی فیچر اور گیت ہیں، ملاحظہ ہو نظم: تماشے والا ، کلکتہ میل ، کسانوں کا گیت ، عید ،دسہرہ، دیوالی اور دیس ہوا آزاد وغیرہ ۔ بچوں کے لئے ان کی دوسری کتاب : ’ ’اقبال کی کہانی ‘‘ ہے، یہ بچوں کے لئے اقبال کا مختصر اور جامع تعارف ہے، آپ نے بچوں کے لئے بے شمار ڈرامے اور مضامین تحریر کئے ہیں، آپ کے ڈراموں میں ، بچوں کے اقبال ، ہمارے تہوار اور بنگال کا جادو قابل ذکر ہیں۔۔(بحوالۂ:اُردومیں بچوں کاادب،آزادی کےبعد ازپروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی،مطبوعہ نیشنل بک فاؤنڈیشن،اسلام آباد2011)
معبتر محقق، سربرآوردہ نقاد اور ماہر لسانیات پروفیسر گوپی چند نارنگ بچوں کے ادب میں نصابی کتب کی ترتیب و تدوین میں یقیناً یاد رکھے جائیں گے،انہیں این سی ای آر ٹی کی نصابی کمیٹی کا صدر نشیں مقرر کیا گیا تھا، تا کہ اردو زبان و ادب کے نصاب کی از سرنو تدوین و ترتیب پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک کے لئے موجودہ تعلیمی ضروریات کے مطابق کی جائے ، آپ کی نگرانی میں بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں شروع کے گئے اس پروجیکٹ کے تحت اردو کی یہ بارہ نصابی کتابیں بڑی سائنٹفک انداز میں تیار کی گئیں ، اس کام کو معیار تک پہونچانے کے لئے نارنگ صاحب نے ملک گیر سطح پر اسکول ،کالج اور یونی ورسٹی کے منتخب اساتذۂ اردو اور ماہرین کا تعاون حاصل کیا، اور بطور ماڈل پہلی ، دوسری اور دسویں جماعت کی نصابی کتب خود تیار کیں، آپ کی سرکردگی میں تیار کی جانے والی ان کتابوں کی پاکستان میں بھی پذیرائی ہوئی، آپ نے پوری اردو دنیا کے بچوں میں الفاظ کے یکساں املاء اور تلفظ کی ادائیگی اور صحیح شناخت کے لئے ’’ املا نامہ ‘‘ مرتب کیا، پروفیسر نارنگ نے ساتویں دہائی میں ہندو اساطیری ادب پر مشتمل نیشنل بک ٹرسٹ نئی دہلی کے لئے ’’ پرانوں کی کہانیاں ‘‘ اردو میں مرتب کی تھیں ، جو ذاکر حسین سیریز کے تحت شائع ہوتی رہیں، اس میں پرانوں سے (
۲۲) کہانیاں لی گئی ہیں۔
محترمہ کرن شبنم ہندی ماہ نامہ ’’ چھاؤں ‘‘ کی مدیرہ ہیں، ہندی میں بڑوں کے لئے اور اردو میں بچوں کے لئے کہانیاں لکھتی ہیں ، آٹھویں اور نویں دہائیوں میں ان کی کہانیاں ’’ پیام تعلیم ‘‘ نئی دہلی میں شائع ہوئی ہیں،
۱۹۸۶ ؁میں ان کی اردو کہانیوں کا مجموعہ : پھلواری’’ شائع ہو ا ہے۔ انہوں نے سید ضیاءالرحمن غوثی مدیر ’’ مسرت ‘‘کے باہمی تعاون سے کہانیوں کا مجموعہ :’’ رادھا اور رفیق ‘‘ ۱۹۹۵ء ؁ میں شائع کیا، جو غالباً اردو میں پہلی اجتماعی کتاب ہے ’ ’ رادھا اور رفیق ‘‘ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ، آپسی اتحاد ، پیار، محبت ، خلوص، رنگارنگی اور کثرت میں وحدت کا پیغام ہے۔
کیدارناتھ کومل صاحب طالب علی کے ز مانہ (
۱۹۴۹ء ؁کے قبل) سے اردو اور ہندی میں نظمیں اور کہانیاں لکھ رہے ہیں، ان کے نزدیک اردو اور ہندی میں سوائے رسم الحظ کے کوئی فرق نہیں ہے، انہوں نے بچوں کے لئے ہندی کی نظموں اور کہانیوں کا ڈھیروں ترجمہ کیا ہے، انہوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ ذاتی طو رپر تنگ نظری سے دور ہوں ، زندگی کو زندگی سمجھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ نظم کو نظم ، بلامذہب یا زبان کے لحاظ سے پچھلے چالیس برسوں سے برابر لکھتا رہا ہوں ‘‘۔ ( دیباچہ : ننھے منے گیت)
۱۹۸۷ء میں ان کی نظموں کا ایک مجموعہ : ’’ ننھے منے گیت ‘‘ قومی کونسل برائے فروغ اردو زباں نئی دہلی نے شائع کیا ہے ، ان نظموں میں بچوں کا معصوم بچپن ہنستا ، کھیلتا اور چہکتا نظر آتا ہے، جہاں پیار، محبت، انسانیت اور ایکتا کی خوشبو چاروں طرف پھیلی رہتی ہے :
ہم ننھے منے بچے
کرتے ہیں جو سب سے پریت
ہم ننھے منے بچے
خوب نبھاتے پیار کی ریت
اسی طرح اس دور میں ان غیر مسلم اہل قلم کا ذکر ضروری ہے، جنھوں نے بچوں کے لئے دوسری زبانوں سے کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے، جیسے : پریم پال اشک ، جوگیندرپال اور نامی انصاری وغیرہ، مؤخرالذکر نے بچوں کی تین کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے: (
۱) ناول : آدتیہ (۲) گاندھی جی کی کہانی (۳) تینالی رمن کی کہانیاں ۔
اب ہم بچوں کے ادب کے چوتھے اور آخری دور میں آرہے ہیں، جو اکیسویں صدی کی ابتداء سے تاحال جاری ہے، اس دور میں اردو ذریعہ تعلیم سے غیر مسلموں کی دوری کے باوجود حیرت انگیز طو رپر بچوں کے لئے لکھنے والوں کا سلسلہ جاری ہے، ان میں فلمی دنیا کے گیت کار گلز ار، احدپرکاش ، نندکشور وکرم، آزاد سونی پتی ، کرشن پرویز ، ڈاکٹر بیتاب علی پوری ، رام آسراراز، شنکر، میری لن ہرش ، مدو ٹنڈن، پریم نارا ئن اور ڈاکٹر بھونداج بلوانی وغیرہ شامل ہیں ۔
گلزارنے ایک نئے انداز میں بچوں کے لئے سلسلہ وار کہانیاں لکھی ہیں :بوسکی کا پنج تنتر حصہ اول تا پنجم ، بوسکی کی گنتی ، بوسکی کا کوانامہ ، بوسکی کے گپیس اور بوسکی کے کپتان چاچا ۔
احد پرکاش بچوں کے ایک ابھرتے ہوئے شاعر و ادیب ہیں ، انہوں نے موضوعات کے انتخاب اور لفظیات کے استعمال میں بچوں کی دلچسپی ، رجحان اور تفریح کا خاص خیال رکھا ہے، انہوں نے اپنی نظموں اور کہانیوں میں خالص تفریح اور مزاح کے علاوہ بچوں کو نیک خصلت ، بہادر اور شوق سے تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے، انہوں نے زیادہ تر جانوروں اور پرندوں کے وسیلے سے بچوں کو ذہنی غذا فراہم کی ہے، بھالو جی ، گدھے لال ،پیاری مینا، جگنو، چیونٹی اور شیر کے بچے ان کی بڑی دلچسپ نظمیں اور کہانیاں ہیں ۔
رادھا کرشن آزاد سونی پتی کی نظمیں اور کہانیاں ماہ نامہ امنگ کے علاوہ ’’ چشم اردو ‘‘ چھتیں گڑھ میں شائع ہوتی ہیں، ان کی نظمیں اور کہانیاں بچوں کی تفریح کے ساتھ اتحاد حب الوطنی ، خدمتِ خلق ، تحصیل علم اور برائی سے بچنے کی ترغیب دیتی ہیں، بہ طور نمونہ ایک شعر ملاحظہ ہو :
ہر اک حال میں نیک اطوار
رہنا بروں کی برائی سے ہشیار
فخرِ ہریانہ، شاعری رتن ڈاکٹر رامانند بیتاب علی پوری کی پیدائش علی پور پاکستان میں ہوئی ،
۱۹۴۹ء میں وہ سونی پت ہریانہ منتقل ہو گئے، اور ۱۹۹۰ء سے روہنی دہلی میں قیام پذیر ہیں، ان کی تیرہ کتابوں میں بچوں کی شاعری پر ایک کتاب ’’ گلدستہء اطفال ‘‘ پہلے خود انہوں نے شائع کی، اب ہریانہ اردو اکیڈمی پنجکولہ نے شائع کیا ہے، ان کی نظموں کی زبان نہایت آسان ، ہلکی پھلکی اور واضح ہے، ان کی نظموں میں تعلیم ، تفریح، تحصیل آزادی، ملک کی ترقی ، قومی اور وطنی عناصر نمایاں ہیں۔
غرض اس مختصر جائزہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسری اصناف کی طرح بچوں کے ادب کے فروغ و ارتقاء میں بلا امیتاز مذہب تمام اہلِ قلم نے حصہ لیا ہے، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، آج نئی نسل میں دیگر زبانیں سیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، ضرورت ہے کہ ہم اردو کی شیرنی کو عام کرنے کے لئے متحرک ہو جائیں ، اور جو لوگ اس کی مٹھاس سے محروم ہیں، انہیں اس ذائقہ دار زبان کی لذت آشنا کرائیں
——
کتابیات
 اردو میں بچوں کا ادب ( ڈاکٹر خو شحال زیدی)
) 2۔بچوں کے ادب کی تاریخ ( ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلی
3۔اُردومیں بچوں کاادب(آزادی کےبعد)1947 تا 2003 ، (پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی)
) 4۔بچوں کا ادب اور اخلاق ( ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلی
 5۔ادب اِطفال کے معمار ( ڈاکٹرخو شحال زیدی)
) 6۔بہار میں بچوں کا ادب ( سید ضیاء الر حمن غوثی
——
ڈاکٹر سید مجیب ظفرانوارحمیدی
سابق:ایجوکیشن ایڈوائزر،وفاقی محکمۂ تعلیم، اسلام آباد
براے گریڈ :MP-I

No comments:

Post a Comment