پاکستان کا پانی کہاں گیا؟؟
تحقیق وتحریر:ڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی
اللہ تعالی' نے عرض پاک کو بہت سی نعمتوں سے
منور کررکھا ہے جن میں سے ایک آبی وسائل کی فراوانی ہے۔ اس ارض پاک کو پانچ دریاوں
کی نعمت سے مالا مال کر رکھا ہے، جن میں بارشوں اور گلیشیرز سے پگھلی برف کا پانی
تواتر سے چلتا رہتا ہے۔ قدرتی وسائل کے بہتر استعمال کے لئے ہمارے ملک میں آبی
وسائل کو استعمال کرنے کی خاطر "ڈیمز" اور "بیراج" بنائے گئے
ہیں۔ مگر یہ ذرائع بہت حد تک ناکافی ہیں جو کہ ملکی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ حالیہ
اعداد و شمار(2018عیسوی) کے پیشِ نظر عرضِ پاک کو شدید پانی کے بحران جو کہ گھریلو،
زرعی، صنعتی اعتبار سے قابل افسوس ہوگا، کا سامنا ہے۔ اقوام عالم کے پیشِ نظر
پاکستان کا نمبر 17ہے جو کہ پانی کے شدید
بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق زمینی پانی کے ذخائر روزبروز،
زوال کی طرف جا رہے ہیں جو کہ اگلےنویا دس سالوں میں شدت اختیار کر جائیں گے اور
پاکستان اِس بحران کا شکار ہو جائے گا۔
اس بحران کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ اس
بحران کا واحد مو جب ہم بذاتِ خود ہیں۔ گھریلو استعمال میں پانی کی زیادتی، زرعی
مقاصد میں فضول استعمال، سروس سٹیشنز، جانوروں کے نہلانے میں اور سب سے زیادہ صنعت
میں بے جا استعمالات، یہ سب وہ وجوہات ہیں جن کی بدولت ہم اس نہج پر ہیں کہ پانی
کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ جب تربیلا، منگلا، وارسک یا اس قسم کے منصوبہ جات
بنائے گئے تو اس وقت آبادی کے پیشِ نظر جمع شدہ پانی بھی کافی تھا جو، اِن ضروریات
کیلئے استعمال ہونا تھا۔ مگر اب یہ حالت یکسر مختلف اور بہت گمبھیر ہے۔ پاکستان کی
آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے جو کہ 32205 ملین خاندانوں پر محیط ہے۔ اس
آبادی کو نا صرف گھریلو استعمال کا پانی ضرورت ہے بلکہ زرعی مقاصد کےلئے اِتنی ہی
اہمیت کا حامل پانی درکار ہو گا جو کہ غذائی ضروریات کو پورا کرےگا۔ "تربیلا"،
"منگلا"، "وارسک" ،" غازی بروتھا"یا اس قسم کے
منصوبہ جات ہماری موجودہ ضرورت کےلئے نا کافی ہیں۔ یہ پانی کے ذخائر آہستہ آہستہ
اپنی ساخت اور کمیت میں کمی لاتے جا رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں اسلام آباد، کراچی، لاہور جیسے
بڑے شہروں میں پانی کی فراہمی بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ شاہ پور ڈیم، راول ڈیم،
سملی ڈیم اور کراچی کے پانی کے منصوبہ جات بہت حد تک پانی کی فراہمی میں شدید
مشکلات کا شکار ہیں۔ بارشوں میں کمی کے باعث ان ذخائر سے روزانہ کی طلب میں کمی
کردی گئی ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر صارف کی یہ ذمہ داری ہے کہ گھریلو استعمال میں
پانی کو "ہیرا" سمجھ کر استعمال کرے، صنعتی صارف سونا سمجھ کر استعمال
کرے اور زرعی صارف چاندی سمجھ کر استعمال کرے۔ اور حکومتِ وقت بے جااستعمال پر
پابندی لگائے اور پانی کے ذرائع کو مزید بہتر اور نئے منصوبے جن میں کالا باغ، میرانی
و دیگر سرِ فہرست ہیں کو بنانے میں اجتماعی سوچ کا عملی نمونہ پیش کرے۔ چھوٹے
چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر و ترویج، پانی کے بہتر استعمال، زرعی شعبہ کی ترقی میں
سرکاری محکمہ جات جن میں ایجنسی فا ربارانی ایریاز ڈویلپمنٹ 150آباد، سوائیل کنزرویشن
اور اس قسم کے ادارہ جات کو خصوصی طور پر توجہ کا محور بنائے۔ ہم اِن وسائل کو
بہتر طریقے سے نہ صرف استعمال کر سکتے ہیں بلکہ اِن سے بھرپور استعفا دہ حا صل کر
کے اپنے اور ملکی معیشت میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں کیونکہ پانی ہے تو فراوانی
ہے۔ پانی بحران کے خاتمے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،پانی ایک نعمت
ہے اس نعمت کو نعمت سمجھ کر استعمال کریں۔
برطانوی نشر یاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق
بھارت نے پاکستان کے خدشات کے باوجود مغربی دریائوں کا کے پانی زیادہ سے زیادہ
استعمال کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں ۔ تین دریا سند ھ ، چناب اورجہلم مقبوضہ کشمیر
میں سے گزر تے ہیں جبکہ ان کا زیادہ تر پانی سندھ طاس معاہدے کی روسے پاکستان کی
ملکیت ہے ۔ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے سندھ بیسن میں دو ہا ئیڈروپاور پراجیکٹ کی تعمیر پر انڈیا سے
شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے ، پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ یہ پریشان کن امر
ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی رو سے تعین کردہ مقدار سے زیادہ پانی روک سکتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے مودی سرکار نے بھارت میں اقتدارسنبھالا ہے اس نے پاکستان
دشمنی کے جذبات کو ابھارنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، بھارتی سر زمین میں
پٹاخہ بھی پھوٹتا ہے تو بھارتی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا آسمان سر پر
اٹھا تے ہوئے بنا کسی ثبوت کے الزام پاکستان پر لگا نے میں ایک لمحہ ضائع نہیں
کرتے ، حال ہی میں بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے دھمکی دی ہے کہ وہ سندھ ،
چہلم اور چناب کے پانی کو روک کر پاکستان کو بوند بوند پانی سے محروم کردے گا ۔ کیونکہ
بقول مودی کے اس پانی پر بھارتی کسانوں کا حق ہے ، حالانکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے
کہ ان دریائو ں کا پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا حق ہے جبکہ راوی ، ستلج
اور بیاس کا پانی بھارت کی ملکیت قرار دیا جا چکا ہے اور وہ اپنے حصے کے دریائو ں
کے پانی سے بھر پوراستفادہ کرتے ہوئے بھی پاکستان آنے والے دریائو ں کے پانی کو
روکنے کی نہ صرف دھمکیاں دے رہاہے بلکہ سندھ بیسن پر دو ہائیڈروپاور پراجیکٹس تعمیر
کر کے پانی ذخیرہ کرنے میں مصروف ہے اور اب وہ مزید پانی کو اپنے استعمال میں لانے
کے لئے ان دریائوں کے پانی کا رخ تبدیل کرنے کے لئے نئی نہریں نکالنے کی کوشش کر
رہا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی بلکہ آبی جارحیت کے سوا کچھ نہیں،
پاکستان کو اپنے دریائوں سے محروم کرنے کے علاوہ وہ افغانستان میں بھی دریائے کابل
پر ڈیم تعمیر کر کے صوبہ خیبر پختونخوا جبکہ قندھار کی جانب بلوچستان میں آنے والے
پانی کو بھی بند باندھ کر پاکستان کو پانی کی جارحیت کا شکار کرنا چاہتا ہے ۔ جبکہ
پاکستان میں متعلقہ وزارت اور ادارے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے تدابیر اختیار کر
رہے ہیں۔ اس بارے میں عوام کے خدشات دور کرنے کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آرہی
ہے جو یقینا قابل تشویش امر ہے ۔
پاکستان میں پانی کی کمی کا ذمہ دار مختلف
عوامل کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سب سے بنیادی وجہ
حکمرانوں کی کوتاہ بینی ہے جو مسئلہ پنپتا دیکھ کر بھی سدباب کے لیے کچھ نہ کر
سکے۔
الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بھارتی
آبی جارحیت کو ہی پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت کیا جاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں
کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے لیکن اس سارے بیانیے
میں پاکستانی قیادت اپنی ناکامیوں اور غلطیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔
1980عیسوی میں فی کس دستیاب پانی تین ہزار کیوبک سے کم ہوکر 1200 کیوبک
میٹر رہ گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ صورتحال یہی رہی تو آئندہ 30 برسوں میں
پانی کی دستیابی فی کس 500 کیوبک میٹر رہ جائے گی۔ بیرونی دنیا سے ادھار لی گئی
عقل یا دوسروں کے اعدادوشمار کو حرف آخر سمجھنے والے ماہرین ایسے بھی ہیں جو
آبادی کی زیادتی کو پانی کی کمی قرار دیتے ہیں لیکن اسے وجہ کہنے والے ملکی قیادت
کے تذبذب کا شکار ہونے ، اداروں کی نااہلی اور کرپشن سمیت فرسودہ نظام زراعت سے
آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
1999عیسوی میں نیلم جہلم پروجیکٹ کی لاگت ایک بلین ڈالر تھی جسے
پانچ سے چھ برس میں مکمل ہونا تھا حکومت اور واپڈا کی نااہلی سے منصوبہ چار بلین
ڈالر میں 20 سال کے عرصے میں مکمل ہوا، یہ ابھی تک مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکا۔
بھارتی منصوبہ سازوں کو اس تاخیر میں اپنے ڈیم
بنانے کا موقع مل گیا، ڈیم بنانے سے بھی ذیادہ اہم واٹر مینجمنٹ سسٹم میں اصلاحات
لانا ضروری ہیں جو کہیں ترجیح ہی نہیں۔ ماہرین واضح کرتے ہیں کہ پانی کو بہتر طور
پر استعمال میں لانے اور محفوظ کرنے کے معاملات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق بھارت کے مقابلے میں پاکستانی
گنے اور چاول کی کاشت میں 50 فیصد زائد پانی استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں کم پانی
کو استعمال میں لاکر مہنگی فصلیں اگائی جاسکتی ہیں۔ گنے کو ملک میں کاشت کرنے کے
بجائے کیوبا سے سستی چینی درآمد کی جاسکتی ہے۔
یہی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ نہری نظام کو
بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ کاشت کاری کے جدید آلات کو استعمال میں
لاکرپانی کی بچت اور بہتر نقدآور فصلیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔
زیرزمین پانی کا مسئلہ:
پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ زیرزمین پانی
کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے، آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے پانی زخیرہ
کرنے لیے ہنگامی بنیادوں پر ڈیمز نہ بنائے تو ملک کو خشک سالی کے مستقل بحران کا
سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لاہور میں پینے کے صاف پانی کی سطح ہر سال دو
میٹر سے زائد نیچے گرنے لگی ہے جس کےبعد ماہرین نے دس سال تک شہر میں پانی کے
ذخائرختم ہونے کی وارننگ دے دی۔
کراچی میں پانی کا مسئلہ:
حب ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی کم ہو گئی،
آئندہ چند دنوں میں کراچی کے شہریوں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ واٹربورڈحکام کے
مطابق حب ڈیم سے کراچی کو 20 ملین گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے اور 70 ملین گیلن
پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
حب ڈیم میں پانی کی سطح تین فٹ رہ گئی ہے،
پانی کی سطح کم ہونے سے ضلع غربی اور وسطی کو پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں پانی کے مصنوعی بحران
نے شہریوں کو شدید گرمی میں ہائیڈرنٹ کے چکر لگانے اور ٹینکر مافیا کے پیچھے
بھاگنے پر مجبور کیا ہواہے۔
شدید دھوپ میں پانی کے حصول کے لئے سوال کرنے
والی 80 سالہ مختاراں مائی سرجانی ٹاؤن کے قریب واقع خدا کی بستی کی رہائشی ہے۔
بچے کام پر نکلے تو مختاراں مائی پانی کے حصول کے لئے سخی حسن ہائیڈرنٹ پہنچ گئی لیکن
واٹر بورڈ کا عملہ ایک ہزار روپے میں ٹینکر دینے کو تیار نہیں۔
واٹر بورڈ نے سنگل ٹینکر کی قیمت 800 مقرر کی
ہے لیکن واٹر ٹینکر مافیا شہریوں کو 1200 روپے میں سنگل ٹینکر بیچ رہا ہے، اسی
لحاظ سے ڈبل ٹینکر کی سرکاری قیمت 1400 روپے ہے لیکن منہ مانگی قیمت 2000 وصول کی
جا رہی ہے۔
پانی سے لبریز ٹینکرز کو سرکاری ہائیڈرنٹ سے
نکلتا دیکھ کر شہری یہی سوال کرتے ہیں کہ واٹر بورڈ ہائیڈرنٹ پر موجود پانی ان کے
گھروں تک سپلائی کیوں نہی کیا جاسکتا؟
کراچی کو یومیہ 1100 ایم جی ڈی پانی کی ضرورت
ہے لیکن صرف 500 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے ، پہلے شہریوں کے حصے کا پانی
چوری کر کے انہیں بیچا جاتا تھا اور اب قلت آب کا مصنوعی بحران پیدا کر کے ان کی
جیبوں پر ڈکیتی ماری جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں پانی بحران:
وفاقی دارالحکومت ہونے کے باوجود اسلام آباد
کے مکین بھی پانی کہ نہ ہونے یا کمی سے اتنے ہی متاثر ہیں جتنے ملک کے کسی اور
علاقے کے مکین۔
21 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل
اسلام آباد کی یومیہ پانی کی ضرورت 120 ملین گیلن ہے جب کہ فراہم کیا جانے والا
پانی اس کے نصف سے بھی کم 61 ملین گیلن ہے۔ انتظامی ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ اس
وقت 194 ٹیوب ویلز میں سے 160 اور 34 ٹینکروں میں سے 22 ٹینکرز پورے شہر کو پانی
فراہم کر رہے ہیں۔
انتظامی سطح پر فراہم کیے گئے اعدادوشمار
بتاتے ہیں کہ آبادی کے تناسب سے ایک ٹینکر ایک لاکھ اور ایک ٹیوب ویل 13 ہزار ایک
سو 25 افراد کی پانی کی کمی پوری کرنے کی ناکام سعی کر رہا ہے۔
انتظامیہ کا طویل عرصہ سے دعوی ہے کہ تربیلہ
ڈیم سے یومیہ 100 ملین گیلن پانی اسلام آباد کو فراہم کرنے کے منصوبہ پر کام کیا
جائے گا لیکن تاحال ایسا ہونے کا کوئی امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔
بلوچستان میں پانی بحران:
گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی کوئٹہ شہر میں پانی
کا بحران سنگین شکل اختیار کر چکا ہے ۔30 لاکھ کی آبادی والے اس شہر کو روزانہ کے
بنیاد پر 50 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے – جبکہ محکمہ واسا کے پاس اس وقت شہریوں کے لیے
28 سے 30 ملین گیلن پانی میسر ہے۔
لوگ 1000سے لیکر 1500 روپے تک ایک
ٹینکر پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
حکومت کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں مین430 ٹیوب ویل نصب ہیں
جس میں سے 52 خشک ہو چکے ہی۔ واسا کے منیجنگ ڈایریکٹر اسلم مگسی کا کہنا یے کہ
انکے پاس وسائل کی سخت کمی ہے۔
حکومت کا دعوی ہے کہ کویٹہ شہر مہں پانی کے
بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے ہیں جس
میں سے ایک منگی ڈیم ہے، اس کی تعمیر سے
کوئٹہ شہر میں پانی کا مسلہ حل ہو جائے
گا۔
بلوچستان کے کئی اضلاع کو خشک سالی اور قحط
کے خطرے کے سامنا ہے۔ اس صوبے کی 80 فیصد آبادی کا زراعت پر انحصار ہے لیکن اس
شعبے کی اہم خوراک پانی کی حفاظت کیسے کی جائے اس جانب کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے۔
صوبے میں موجود 114 ڈیمز ضروریات پوری کرنے
کے لیے ناکافی ہیں، 2001 سے 2013 تک ٹیوب ویلز کی تعداد 29 ہزار سے بڑھ کر 42 ہزار
ہو چکی ہے۔
خوراک کی فراہمی میں لورا لائی کا اہم حصہ ہے
لیکن یہاں 95 فیصد زیرزمین پانی کے ذرائع خشک ہو گئے ہیں۔ بلوچستان کے 32 میں سے
30 اضلاع خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
وزارت آبی وسائل کی شاہ خرچیاں:
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں پانی و بجلی کا
بحران 211 ارب روپے کی غیر قانونی ادائیگیوں سے پیدا ہوا ہے۔ ہم نیوز کو موصول
ہونے والی دستاویزات کے مطابق وزارت آبی وسائل نے غیر قانونی ادائیگیاں کیں جس سے
قومی خزانے کو 211 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ 66 ارب غیرقانونی اخراجات کی مد میں
ضائع کیے گئے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ (2017)میں کہا گیا ہے کہ
27 ارب روپے بے قاعدگیوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی بھینٹ چڑھ گئے، بیوروکریسی کی
نااہلی کی وجہ سے خزانے کو 25 ارب روپے کا نقصان ہوا، ایک ارب روپے خود ساختہ
حادثوں اور غفلت کی نذر ہوئے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ
مختلف منصوبوں میں 2 ارب روپے کی چوری اور فراڈ ہوا، دستاویزات میں کرپشن کے ذمہ
دارمتعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
پاکستان میں خشک کیوں ہو رہا ہے؟
پانی کی سخت قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کی
عالمی فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے۔ سن 2025 تک پاکستان میں پانی کی کم
یابی کا مسئلہ سنگین تر ہو سکتا ہے۔ بقولِ
ماہرین، اس صورتحال میں حکام کو فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک تازہ
رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر
پر ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستانی کونسل
برائے تحقیق (پی سی آر ڈبلیو آر) نے خبردار کیا ہے کہ سن دو ہزار پچیس تک یہ جنوب
ایشیائی ملک پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ
کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نیل بوہنے کے مطابق پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان
کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا۔
محققین نے ایسے اندازے بھی لگائے ہیں کہ سن
دو ہزار چالیس تک شہریوں کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان شدید
مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کئی عالمی اداروں نے پہلی مرتبہ
پاکستانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن نہ لیا
گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ کئی ماہرین نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ
پاکستان میں پانی کا بحران دہشت گردی سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی اور ماحولیاتی تبدیلیاں:
ماہرین کے مطابق پاکستان میں تیزی سے بڑھتی
ہوئی آبادی اور شہری علاقوں میں وسعت پانی کے بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے
ساتھ ماحولیاتی تبدیلیاں، پانی کی ناقص منیجمنٹ اور سیاسی عزم کی کمی نے اس معاملے
کو زیادہ شدید کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر حدت میں
اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں مئی کے مہینے میں گرمی کی لہر
کے باعث 65 افراد مارے گئے تھے۔
پاکستان میں ماہر ماحولیات میاں احمد سلیم
ملک نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’پاکستان میں گرمی کی لہروں اور قحطوں کی وجہ
ماحولیاتی تبدیلیاں ہی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے مون سون کے
موسم کی پیشن گوئی مشکل ہو گئی ہے جبکہ ملک کے کئی علاقوں میں موسم سرما مختصر ہو
گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بارش کے پانی کو ذخیرہ
نہیں کر سکتا۔ احمد سلیم ملک کے مطابق پاکستان کو پانی کی ذخائر تعمیر کرنے کے لیے
سرمایا کاری کرنا ہو گی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق رواں ماہ کے دوران
پاکستان میں پانی کے دو بڑے ذخائر منگلہ اور تربیلا ڈیموں میں پانی کی سطح انتہائی
خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ ان خبروں پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے لیکن حکام نے
اس نئے بحران سے نمٹنے کی خاطر ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا ہے۔ انڈس ریور سسٹم
اتھارٹی (IRSA) کے
ترجمان محمد خالد رانا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ہے کہ پاکستان کے دو بڑے آبی ذخائر
(منگلہ اور تربیلا ڈیموں) میں پانی صرف تیس دن کی ضرورت کے لیے ہی ذخیرہ کیا جا
سکتا ہے جبکہ بھارت ایک سو نوے دنوں تک کے استعمال کے لیے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت
رکھتا ہے اور امریکا تو نو سو دنوں تک پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔
انسانوں کا پیدا کردہ بحران:
جنوبی ایشیائی امور کے ماہر میشائل کوگلمان
کے مطابق پاکستان میں پانی کا بحران جزوی طور پر انسانوں کی طرف سے ہی پیدا ہوا
ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کی خاطر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت
ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی رہنماؤں اور تمام فریقین کو اس چیلنج سے نمٹنے کی
خاطر ذمہ داری اٹھانا ہو گی اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ کوگلمان نے اصرار
کیا کہ اس بحران کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے سے اسے حل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں پانی کے ذخائر قائم کرنے کے ساتھ
ساتھ پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت بھی ہے۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی
(ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عابد سلہری نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں زور دیا
کہ پاکستان میں پانی کا غلط استعمال ہر سطح پر ہو رہا ہے۔
پاکستان میں پانی کے بحران میں شدت دیکھے
جانے کے بعد کئی عالمی سفارتکاروں نے سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی شروع کی، جس میں
عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پانی کے بے دریغ استعمال سے گریز کریں۔ ان میں
پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر بھی شامل تھے، جنہوں نے ٹوئٹر پر اپنی ایک
تصویر کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی کہ کئی طریقوں سے پانی کے زیاں سے بچا جا سکتا
ہے۔
رواں برس اپریل میں ہی حکومت نے پاکستان کی
پہلی قومی واٹر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں پانی کے
بحران پر قابو پانے کی خاطر پہلے سے جاری کوششوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم
ماہرین، حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے ان اعلانات پر کچھ شائق نظر آتے ہیں۔ پاکستان
میں اس وقت نگران حکومت قائم ہے جبکہ پچیس جولائی کو عام انتخابات کا انعقاد کیا
جا رہا ہے۔ پانی کے بحران کے حل کی کوششوں کے سلسلے میں نہ تو نگران حکومت کی کوئی
ترجیح دکھائی دے رہی ہے اور پانی کی قلت کا معاملہ نہ ہی ان انتخابات میں حصہ لینے
والی اہم سیاسی پارٹیوں کے منشور کا حصہ ہے۔
پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر آنے
والی ایک رپورٹ کے بعد حال ہی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس
لیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر فوری شروع
کی جائے اور اسی سلسلے میں انھوں نے عوام سے چندے کی اپیل بھی کی۔
اس مقصد کے لیے چیف جسٹس نے فنڈ بنانے کا حکم
دیا اور ’دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ 2018‘ کے نام سے قائم کیے گئے بینک
اکاؤنٹ میں خود دس لاکھ روپے دیے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے
سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے 15 لاکھ روپے اس فنڈ میں ڈال دیے۔ پاک افواج کے
شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی اعلان کیا کہ فوج کے افسران
دو دن اور سپاہی ایک دن کی تنخواہ اس ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں گے۔
اسی بارے میں پاکستان کے دریا خشک کیوں ہو
رہے ہیں؟
کھربوں روپے مالیت کا پانی ضائع:
اس کے علاوہ خیبرپختونخواہ کے سرکاری افسران
نے تین دن جبکہ پمز ہسپتال، سٹیٹ بینک وزارتِ خارجہ اور واپڈا کے اہلکاروں نے بھی
اپنی تنخواہوں سے رقم اس فنڈ میں جمع کروانے کا اعلان کیا۔
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر چندے کی تفصیلات میں
دیکھا جا سکتا ہے کہ 11 جولائی کی شام تک تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی رقم جمع ہو
چکی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا چندہ جمع کر کے کوئی ڈیم بنایا گیا ہے یا ایسا ممکن
بھی ہے؟
دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم:
دیامیر بھاشا ڈیم کے قیام کا منصوبہ فوجی آمر
اور صدر، جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا جو کہ پاکستان کے شمالی علاقہ
جات، گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر تعمیر ہونا ہے۔
لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے
باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم ابھی تک صرف ابتدائی مراحل میں ہے۔
4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ڈیم
کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین
کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت 18 سے 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ دریاؤں کے تحفظ کی عالمی تنظیم
انٹرنیشنل ریورز کے مطابق دنیا بھر میں بڑے ڈیم بنانے کا رجحان کم سے کم ہوتا جا
رہا ہے اور اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ ڈیم کی تعمیر کے لیے لگائے گئے
ابتدائی تخمینے میں مسلسل اضافہ ہونا ہے۔
حکومت پاکستان کو بھی دیامیر بھاشا ڈیم کی
تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایے کی رہی جس کے لیے انھوں نے مختلف عالمی مالیاتی
ادارے جیسے ورلڈ بینک، ایشین ڈیویلپمینٹ بینک، آغا خان فاؤنڈیشن وغیرہ شامل ہیں لیکن
ان تمام اداروں نے سرمایہ دینے سے معذرت کر لی اور اس کی وجہ ڈیم کی متنازع علاقے
میں موجودگی بتائی۔
یاد رہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم پاکستان کے گلگت
بلتستان علاقے میں ہے لیکن انڈیا اسے ابھی بھی اپنا حصہ سمجھتا ہے۔
گذشتہ سال پاکستان نے کوشش کی کہ پاک چین
اقتصادی راہدراری کے مختلف منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم کو بھی شامل کر لیں لیکن چین
کی جانب سے رکھی گئی شرائط کی سختی کو دیکھتے ہوئے اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔
اس سال مارچ میں وفاقی حکومت نے اصولی طور پر
اس ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں سے 370
ارب روپے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کیے جائیں گے جبکہ واپڈا تقریباً 116 ارب
روپے اپنے ذرائع سے جمع کرے گا۔ بقیہ 163 ارب روپے بینکوں سے قرضوں کی مد میں لیے
جائیں گے۔
حکومتی اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں دیامیر
بھاشا ڈیم کے صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر کام ہوگا جبکہ بجلی بنانے والے سیکشن
کی تعمیر میں مزید 744 ارب روپے درکار ہوں گے اور کل منصوبے کی تعمیر پر 1.4 کھرب
روپے کی لاگت آسکتی ہے۔
ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے اور
آبادکاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اب تک حکومت 58 ارب
روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ مزید 138 ارب روپے اسی سلسلے میں مختص کیے گئے ہیں۔
مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ:
یہ ڈیم قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دریائے
سوات پر بنایا جائے گا۔ واپڈا کی دی گئی معلومات کے مطابق اس ڈیم کی تعمیر 2012 میں
شروع ہونا تھی اور اسے 2016 میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک صرف پی سی ون ہی مکمل
ہوا ہے۔
اس ڈیم کی تعمیر سے 800 میگا واٹ بجلی پیدا
ہو گی اور 12 لاکھ ایکٹر سے زائد پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔
ڈیم کی پی سی ون کی لاگت 93 کروڑ روپے تھی جس
میں امدادی ادارہ بھی رقم دے گا۔
کیا چندے سے ڈیم بن سکتا ہے؟
اس فنڈ کے تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ
کوئی ایسا ڈیم جس کی تعمیر کا تخمینہ کم از کم 18 سے 20 ارب ڈالر کا ہو اور تعمیر
کا دورانیہ 12 سے 14 سال ہو، کیا وہ محض چندے کی رقم سے بن سکتا ہے؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے چیف
جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے شروع کیے گئے دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے لیے
قائم کیے گئے اس فنڈ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی افادیت پر سوال
اٹھائے۔
کالم نویس اور لندن کے کنگز کالج سے وابستہ
دانش مصطفیٰ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے اس فنڈ نے انھیں نوے
کی دہائی میں نواز شریف حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سکیم ’قرض اتارو ملک سنوارو‘
کی یاد دلا دی ہے۔
’دنیا میں کسی ملک نے ایسے منصوبے پر
کام شروع نہیں کیا جس کی مالیت اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً دس فیصد
حصے کے برابر ہو۔‘
پانی کے امور کے ماہر حسن عباس نے بھی بی بی
سی سے گفتگو میں کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق دنیا میں کہیں بھی اتنا بڑا منصوبہ
چندے کی مدد سے تعمیر نہیں کیا گیا ہے اور ان منصوبوں کے لیے عالمی مالیاتی اداروں
سے قرضے لیے جاتے ہیں۔
’دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے کے لیے
اگر آپ پاکستان کے تمام شہری، بشمول نوزائیدہ بچے، اگر اس فنڈ کے لیے 30000 روپے دیں
تو شاید کچھ بات بنے۔ لیکن کیا ہمارے ملک میں اوسط تنخواہ اتنی ہے؟ اس فنڈ بنانے
کا خیال ناقابلِ عمل لگتا ہے۔‘
ماحولیاتی امور کے ماہر وکیل رافع عالم نے بھی
بی بی سی کو بتایا کہ ان کی معلومات میں پاکستان میں آج تک ایسا کوئی ڈیم تعمیر نہیں
ہوا ہے جس کے لیے عوام سے چندہ لیا گیا ہو۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے
میں کہا تھا کہ لوگوں نے سپریم کورٹ کے عزم پر سوالات اٹھائے تھے اور امید کا
اظہار کیا کہ قوم اسی فراخدلی کا مظاہرہ کرے گی جیسے 1965 کی جنگ کے موقع پر کیا
تھا۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ممکن ہے کہ اس فنڈ میں ضرورت سے زیادہ رقم آجائے۔‘
لیکن حصار فاؤنڈیشن سے وابستہ ماہر معاشیات
ڈاکٹر پرویز عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے فنڈ
سے ڈیمز کی تعمیر کی کل لاگت کا بمشکل پانچ فیصد حصہ جمع ہو سکتا ہے۔
ساتھ ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ اگر سپریم
کورٹ بونڈ جاری کر دے تو مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر فنانشل منصوبہ بنایا جا
سکتا ہے اور اس کی مدد سے زیادہ رقم حاصل ہو سکتی ہے۔
’عوام سے چندے کی اپیل کرنا جذباتی فیصلہ
لگتا ہے، نہ کہ کوئی سنجیدہ مشورہ۔‘
پانی ذخیرہ کرنے کے اہلیت اور پانی کا ضیاع:
پاکستان میں 15 میٹر سے زیادہ بلند ڈیموں کی
تعداد 150 ہے جس میں تربیلا اور منگلا سب سے پرانے ہیں جو کہ بالترتیب 1974 اور
1967 میں مکمل ہوئے تھے۔
حال ہی میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی
جانب سے کہا گیا تھا کہ تربیلا ڈیم ’ڈیڈ لیول‘ پر پہنچ گیا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں
اب صرف آٹھ لاکھ ایکڑ فیٹ پانی رہ گیا ہے۔ ارسا نے مزید کہا کہ اگر ملک میں مون
سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا۔
دوسری جانب آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر
اداروں کی اسی سال آنے والی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا
بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک
بن سکتا ہے۔
پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال
کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے اور پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے
کے صرف دو بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔
ارسا کے مطابق پاکستان میں بارشوں سے ہر سال
تقریباً 145 ملین ایکڑ فِٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ
سے صرف 13.7 ملین ایکڑ فِٹ پانی بچایا جا سکتا ہے۔
گذشتہ سال ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ
پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی
ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے
حجم جتنے تین اور ڈیم کی ضرورت ہوگی۔
اس کے علاوہ پانی کے ضیاع کی چند بڑی وجوہات
میں موسمی حالات کی تبدیلی اور بارشوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی
بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ
استعمال سے بھی بڑی تعداد میں پانی کا ضیاع ہوتا ہے۔
خالق کائنات کی ان گنت نعمتیں ہیں ،جس کو
انسان شمار بھی نہیں کرسکتا،اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں ایک اہم ترین نعمت
پانی بھی ہے ،جس پر انسان کی بقا اور حیات موقوف ہے ۔پانی بہت بڑی ہے نعمت ہے
،انسان کو ا س کی اہمیت اور ضرورت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب پیاس کی شدت اس کو بے
چین و بے قرار کردے ،تب اسے ایک گھونٹ پانی کی قدر کا احساس ہوگا اور سمجھ میں آئے
گا کہ یہ اللہ تعالی کی کیسی عظیم الشان نعمت ہے۔اس خوبصورت اور حسین زمین کو %71
پانی نے ڈھانپ رکھا ہے ،جس میں%96.5 سمندر اور دریائوں کا پانی ہے، %1.7 پانی زیرِ
زمین پایا جاتا ہے، %1.7 گلیشیر کی صورت میں موجود ہے۔ %0.001 پانی نمی کے طور پر
ہوا میں بھی پایا جاتا ہے۔%2.5 پانی صاف ستھرا یعنی کسی حد تک پینے کے قابل ہے۔
مگر المناک بات یہ کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بارشیں کم ہورہی ہیں، جس کی وجہ سے ڈیموں
میں ذخیرہ پانی کا استعمال زیادہ اور آب کی آمد کم ہے۔ دوسری بڑی وجہ پانی کا بے
دریغ استعمال ہے۔
2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک
ترقی پذیر ممالک میں پانی کی طلب %50 بڑھ جائے گی۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق 2025 تک
آدھے سے زائد دنیا پانی کی شارٹیج اور کسی حد تک خشک سالی کا شکار ہوجا ئے گی، اس
کا مطلب ہے کہ آدھی سے زائد دنیا پانی سے محروم ہو جائے گی۔ کیپ ٹاؤن جو دنیا کا
پہلا ڈے زیرو شہر بننے کے دوراہے پر تھا، وہاں حکومت اور لوگوں کی سمجھداری کی وجہ
سے ڈے زیرو کی لٹکتی تلوار اگلے سال تک ٹل گئی ہے۔ البتہ پانی کی شدید کمی کے شکار
ممالک کی روز بروز طویل ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ پاکستان
میں منگلا اور تربیلا ڈیم خشک ہو رہے ہیں، تربیلا ڈیم میں اس وقت 2لاکھ ایکڑ پانی
موجود ہے اور پانی کا اخراج 40 ہزار کیوسک ہے۔ اس وقت پنجاب اور سندھ کو %70 پانی
کی قلت کا سامنا ہے۔ اس وقت دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ 31 ہزار کیوسک اور
اخراج 68 ہزار کیوسک ہے یعنی اس برس بھی ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کا سارا پانی
سمندر برد ہو جائے گا مطلب پانی ضائع ہو جائے گا۔ پھر ہم وہی رونا رویا جائے گا کہ
ملک شدید پانی کے بحران سے دو چار ہے اور حکومت اس بحران سے نمٹنے کی کوشش نہیں
کررہی۔
بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی دنیا میں پانی کے
بحران کا شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ
ان واٹر ریسورسز نے بھی اپنی رپورٹ میں پیشنگوئی کی ہے کہ اگر حکومت نے آبی وسائل
کو محفوظ بنانے کے لئے کو خاطر خواہ انتظام نہ کیے تو پاکستان 2025 تک شدید خشک
سالی کا شکار ہو جائے گا۔ زمین سے حاصل کردہ پانی مزید نیچے چلا جائے گا اور بور
سے حاصل کردہ پانی بھی ختم ہو جائے گا۔ یقیناَ دہشت گردی پاکستان میں ایک بڑا خطرہ
ہے مگر پانی کا بحران کسی دہشت گردی کے خطرہ سے کم نہیں۔ آدھا ملک تو ہو ویسے ہی
پانی خرید کر پینے پر مجبور ہے۔ غور کیجئے کہ اگر تمام پاکستان کے لوگ خرید کر پانی
پیئے گے تو کیا ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ 2025 میں آنے والے پانی کے شدید بحران اور ملک
میں خشک سالی سے کیسے بچا جائے؟ حکومتی سطح پر پانی کے بحران پر بہت کام کی ضرورت
ہے۔ ہنگامی طور پر ڈیم تعمیر کیے جائیں اور کم ازکم تین چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر پانی
کو سٹور کرنے کی حکمت عملی مرتب کی جائے۔
"واٹر سٹریس" سے بچنے کے لئے آبی ایمرجنسی لگائی جائے یعنی
پانی کی ترسیل کا کام راشن کارڈ کے ذریعے کیا جائے اور فی گھر پانی دینے کا نظام
متعارف کرایا جائے۔ فلٹریشن پلانٹس زیادہ سے زیادہ نصب کیے جائیں۔ انفرادی سطح پر
پانی کے بچاؤ کے لئے عوام کو بھی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایک اندازے کے
مطابق ہمارے ہاں جس طرح کپڑوں کو دھونے کا نظام ہے اس سے ہم تقریباً 116 لیٹر پانی
کا ضیاع کرتے ہیں۔ اگر عوام سمجھداری کا مظاہرہ کریں تو بالٹی کا استعمال کرتے
ہوئے کپڑے دھو سکتے ہیں، ایسا کرنے سے ہم 36 لیٹر میں بھی یہ کام مکمل کر سکتے ہیں
جو 116لیٹر میں ہم ہر دوسرے روز کرتے ہیں۔ اس علاوہ ہم جدید ٹوئلٹ اور نہانے کے
لئے شاور کا استعمال کرتے ہیں اور اس طرح ہم دن بھر میں تقریباً 20 لیٹر پانی صرف
فلش کرنے میں ضائع کردیتے ہیں۔ اگر بالٹی کا استعمال ہو تو 6 لیٹر پانی استعمال
ہوگا یعنی 14 لیٹر پانی اس خوبصورت عمل سے بچایا جا سکتا ہے۔ شاور میں نہانے سے
تقریباً 100 لیٹر پانی کا ضیاع ہوتا ہے، اگر بالٹی کا استعمال ہو تو 6 لیٹر پانی
استعمال ہو یعنی 94 لیٹر پانی ہم انفرادی سطح پر بچا سکتے ہیں۔
اکثر ہمارے یہاں مرد حضرات شیو کی غرض سے پانی
کا نل کھلا چھوڑ دیتے ہیں جس سے تقریبا 5 لیٹر پانی کا ضیاع ہوتا ہے، شیو کے لئے
مَگ کا استعمال کیا جائے تو 0۔ 5 لیٹر میں بھی شیو کی جا سکتی ہے۔ صبح اٹھ کر منہ
دھونے اور دانت صاف کرنے میں ہم نل کھلا رکھتے ہیں، اس سارے عمل میں ہم ہر روز تقریبا
5 لیٹر پانی کا ضیاع کرتے ہیں اگر ضرورت کے تحت نل کھولیں، کفایت شعاری سے پانی
استعمال کریں تو 0.75 لیٹر پانی استعمال ہو۔ گاڑی دھونا ہمارے ہاں معمولی کا عمل
ہے، پاکستان میں گاڑی دھونے عوام سو لیٹر پانی ضائع کرتے ہیں، بالٹی کا استعمال کیا
جائے تو 2 سے 3 بالٹیوں میں بھی ہم گاڑی دھو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب کہ ہم اس طرح 94
لیٹر تک پانی بچا سکتے ہیں۔
ہم وہ عظیم قوم ہیں، جو لنڈا بازار سے کپڑے
خرید کر ایک سوٹ کو دو سے تین بار واش کرتے ہیں۔ ایک لمحے کو سوچیں کہ ہم کسی دن نیند
سے اٹھیں اور خبر ملے کہ شہر بھر میں پانی ختم ہوگیا ہے۔ زمین بنجر ہو گئی ہے اور
پانی کے ذخائر بھی ختم ہوگئے، اب پوری زندگی ہی پانی کے بغیر گزارنی ہے تو کیسا
محسوس ہوگا؟ کھان کھائے بغیر تو انسان کسی نہ کسی طرح زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے
بغیر زندہ رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ان باتوں کا خیال
رکھیں، اپنی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بچائیں۔ پاکستان میں پانی کے بحران
کے حوالے سے آج کل ہر روز خبریں آرہی ہیں، کہا جارہا ہے کہ اس سال پانی کی کمی
پچاس فیصد سے زائد ہوگی۔ پانی کے بحران کے حوالے سے سرکاری سطح پر اجلاس بھی ہورہے
ہیں، ایمرجنسی اقدامات بھی کیے جارہے ہیں، لیکن میڈیا پر پانی کے بحران کے حوالے
سے آگاہی اور شعور فراہم نہیں کیا جارہا، اس لئے ضروری ہے کہ پانی کے بحران کے
حوالے سے نیوز چینلز اور اخبارات میں اشتہارات چلائے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی
آگاہی اور شعور ان کے گھر میں میسر ہو۔
المناک صورتحال یہ ہے کہ انڈس ریور سسٹم
اتھارٹی نے تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت آبی زخائر میں
دو لاکھ بیس ہزار کیوسک پانی رہ گیا ہے۔ نہروں میں صرف پنتیس فیصد پانی مہیا ہے۔
ارسا کے مطابق گلیشیئرز کا جلد پگھلاؤ نہ ہوا، اور مون سون کی غیر معمولی بارشیں
نہ ہوئی تو حالات بدترین ہو جائیں گے۔ ارسا کی رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول
تک پہنچ گیا ہے۔ کلائیمیٹ چینج منسٹری کے مطابق شمالی علاقہ جات میں گلیشیرز جس تیزی
سے پگھل رہے ہیں، اس سے پانچ ہزار نئی جھیلیں بن چکی ہیں جو کہ اب پھٹنے کو تیار ہیں۔
تھوڑی سی مزید گرمی بڑھی تو اگلے بیس روز میں سیلاب آسکتا ہے۔ سیلاب کا مطلب ہے
کہ پانی ضائع ہوگا اور جانی و مالی نقصان بھی ہوگا، پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے
بھی تو کوئی سائینٹیفک سسٹم موجود نہیں ہے۔
حال ہی میں نیشنل واٹر پالیسی کا اعلان کیا گیا
ہے۔ سنا ہے اس پالیسی میں اہم اقدامات کو نظر ا انداز کیا گیا ہے۔ چالیس فیصد پانی
جو دستیاب ہے صرف اس لئے ضائع ہورہا ہے کہ نہروں اور کھالوں کی لائینگ نہیں ہوئی۔
پاکستان 1990میں آبی قلت کے دور میں داخل ہوا تھا، 2005 میں اس ملک نے آبی قحط کی
لائن عبور کی، اور اب یہ صورتحال ہے کہ ضرورت کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ پاکستان کے
ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ پانی کے مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیتی،
وہ مسئلہ جس کے بارے میں دنیا کے ریسرچ پیپرز میں یہ کہا جارہا ہے کہ اب پانی کے
مسئلے پر جنگ ہوں گی۔ وہ ملک جو دنیا کے ان پانچ ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں پانی
کا شدید بحرا ن وہاں کی حکومتیں پانی کے مسئلے کو مسئلہ ہی نہیں سمجھ رہی ہیں۔ امید
ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے بعد آنے والی حکومت پانی کے بحران کے حوالے سے مربوط پالیسی
اپنائے گی۔ عوام سے صرف اتنی اپیل ہے کہ وہ انفرادی سطح پر اقدامات اٹھائیں۔
عظیم سائنسدان" اسٹیفن ہاکنگ" نے
کہا تھا :"میں جو دنیا چھوڑ کے جا رہا ہوں ، اس کے تین مسائل ہیں ۔ پہلا پانی
دوسرا دنیاکو خوراک کی فراہمی اور تیسرا گلوبل وارمنگ ، اس کے علاوہ جو مسائل ہیں
، وہ ثانوی ہیں" ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو انسان ان مسائل کو نہیں دیکھے گا دنیا
کو محفوظ رکھنے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوگا ۔
کئی دہائیوں سے سنتے چلے آرہے تھے کہ آیندہ
جنگیں پانی پر ہوں گی یہ جس نے بھی کہا تھا، وقت نے اس بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے لاکھوں سال سے موجود کرہ ارض کے فطری نظاموں کو تہس نہس کر کے
رکھ دیا ہے۔ سائنس دانوں اورماہرین ماحولیات کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ اس کے ذمے
دار بھی کرہ ارض کے باسی ہیں ۔
موسمیاتی تبدیلیاں کرہ ارض کے فطری نظاموں کے
لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں اور صاف پانی کے سب سے بڑے ذخائر جو گلیشرز کی شکل میں
موجود ہیں، اس کے براہ راست نشانے پر ہیں۔ پانی کے دیگر قدرتی ذخائر جن میں دریا ، ندی نالے ،آبشار ، جھیلیں ہیں
وہ تیزی سے آلودہ ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ اقوام متحدہ سے لے کر دنیا کی حکومتیں اس حوالے
سے شدید تشویش میں مبتلا ہونے کے ساتھ
اپنے صاف پانی کے ذخیروںکومحفوظ کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں ۔
عالمی اقتصادی فورم کے جائزوں کے مطابق کرہ
ارض پر موجودصاف پانی میںسے 70فیصد پانی زراعت کے لیے استعمال ہوتاہے ، 16فیصد
توانائی اور صنعتوںجب کہ صرف 14فیصد صاف پانی گھریلو مقاصد کے لیے استعمال میں لایا
جاتا ہے ۔ عالمی فورم کے مطابق اگر ہم نے پانی استعمال کرنے کے موجودہ طریقہ
کارکوتبدیل نہیںکیا تو پانی کی عالمی ضرورت میں2030 تک 40 فیصدکمی کا سامنا ہوسکتا
ہے جب کہ دنیاکے بہت سے ممالک تیزی سے زیر زمین پانی بھی نکال رہے ہیں۔
صورتحال مزید سنگین اس لیے بھی ہوجاتی ہے کہ
اس وقت دنیا کے 70فیصد سے زائد دریاایسے ہیں جن کا پانی سمندر میںنہیں گرتا کیونکہ
ان کے پانی کارخ مختلف سمتوں میں انسانی استعمال کے لیے موڑ دیاگیا ہے۔
فورم کے مطابق اگریہی صورتحال برقرار رہتی ہے
تو 2030تک پانی کی کمی میںہونے والے اضافے کی وجہ سے عالمی سطح پر استعمال ہونے
والے اجناس کی مقدار میں30 فیصدکمی واقع ہوسکتی ہے۔اندازہ یہ بھی لگایاگیا ہے کہ
2025 تک دنیا کے ایک ارب اسی کروڑ افراد ایسے علاقوںمیں رہائش پذیر ہوںگے جہاںپانی
کی کمی ہوگی جب کہ دوتہائی آبادی ایسے علاقوں میںموجود ہوگی جہاںصاف میسرنہیں
ہوگا۔ واضح رہے کہ اس وقت دنیا کے 780ملین افرادصاف پانی سے محروم ہیں۔
پانی کی قلت کامسئلہ پاکستان میں بھی ہرگزرتے
دن کے ساتھ سنگین ترہوتا چلا جا رہا ہے۔ بد قسمتی ہماری یہ ہے کہ پانی ہمارے ملک میں
سیاست زدہ ہوگیا ہے۔کوئی حکومت کوئی ادارہ پانی کے حوالے سے دلیرانہ فیصلہ لینے سے
قاصر ہے ۔ ملک کے معروف آبی ماہر اور پاکستان واٹر پارٹنر شپ کے سربراہ سردارطارق
کہتے ہیںکہ اس وقت ہمارا سب سے بڑامسئلہ پانی ہے، سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں
ہماری بقا کیسے ہوگی جب کہ ہمارے دشمن کی بھرپور کوشش ہے کہ پانی کے حوالے سے ہماری
موجودہ صورتحال برقرار رہے۔
ہمارا 85 فیصد پانی انڈین کشمیر اور افغانستان
سے آتا ہے۔ ہندوستان نے ڈیم بنانا شروع کردیے ہیں جب کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت
اس کو اس بات کی اجازت نہیں ہے اور وہ افغانستان میں دریائے کابل پر بنائے جانے
والے ڈیم میں بھی سرمایہ لگا رہا ہے ۔ ہندوستان کا ہمیشہ یہ موقف ہوتا ہے کہ
پاکستان اپنا پانی ضایع کرتا ہے ۔
سردار طارق کہتے ہیںکہ پاکستان میں پانی کا
بحران سنگین صورتحال کوجنم دے سکتا ہے ہمارے دریاؤں میں پانی کم ہوچکا ہے ، رواں
سال پانی اوربھی کم دستیاب ہوگا ، اگریہی صورتحال جاری رہی تو قومی سلامتی کے ساتھ
ہماری فوڈ سیکیورٹی کوبھی شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے ۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں
ہے جس کی واٹر پالیسی موجود نہ ہو لیکن ہم70سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود
اپنی واٹر پالیسی کااعلان نہیں کرسکے ۔
انھوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان کاکوئی حصہ ایسا
نہیں ہے جہاں صاف پانی میسر ہو جب کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمارے گلیشرز پگھل
رہے ہیں ، بارشوں کے طریقہ کار میں تبدیلی ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ہماری زراعت
بھی مکمل طور پر تبدیل ہوجائے گی ۔ انھوںنے بتایاکہ 2010,11,14 کے سیلابوں میں ہم
نے112 بلین ڈالرکا پانی ضایع کیا ایک ملین ایکٹر فٹ پانی ایک ارب ڈالر کے برابر
ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ڈیم کو سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا ہے ۔ ہمیں جس طرح بھی ممکن ہو
ہمیں اپنے پانی کو محفوظ کرنا ہوگا۔
اس حوالے سے معروف ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر پرویز
امیر کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے پاس 750ملین ایکٹر فٹ پانی ہے جس میں سے اس نے 287
ملین ایکٹر فٹ پانی کو محفوظ کرلیا ہے جب کہ پاکستان کے پاس تقریبا 140ملین ایکٹر
فٹ پانی ہے۔
سرکاری اعداد وشمارکے مطابق 12.6ملین ایکٹر
فٹ پانی ہم نے محفوظ کیا ہے جس سے میں اتفاق نہیں کرتا ،اس طرح ہم 7فیصد پانی
کومحفوظ کرپائے ہیں، دوسری جانب ہندوستان نے اپنے 30 فیصد پانی کونہ صرف محفوظ کرلیا
ہے بلکہ وہ مزید500 ڈیم تعمیر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے 50 فیصد پانی کو
محفوظ کرے گا ۔
ڈاکٹر پرویز امیرکہتے ہیں کہ رواں سال پورے
ملک کو38 فیصد پانی کم ملے گا ۔ انھوں نے بتایاکہ ہمارا90 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے ہمیں وہیں
سے اپنے لیے پانی حاصل کرنا ہوگا، جس کے لیے ضروری ہے ہم اپنی گندم اورگنے کی
فصلوں پر نظرثانی کریں۔
ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں
پانی کی قلت اوراس حوالے کیے جانے والے فیصلے بہت دور نظرآتے ہیں ۔ رواںسال پانی
کی قلت میںمزید اضافہ ہوگا اور ہم سب اداروں سمیت ایک دوسرے کومورد الزام ٹہرا رہے
ہوںگے۔پاکستان میں اگر حقیقی معنوں میںسیاسی استحکام ہوتا تواس کے کم ازکم دوشعبوں
میںغیر معمولی فوائد حاصل کیے جاسکتے تھے۔ سب سے پہلا فائدہ معیشت کوہوتا ۔ اس کی
تیز رفتار ترقی سے روزگارپیدا ہوتا اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوتا ۔
حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوتا جس سے تعلیم
، صحت سمیت سماجی اور اقتصادی شعبوں میںبھی ترقی ہوتی اور ملک اگر عدم استحکام کا
شکار نہ ہوتا تو اس کا دوسرا سب سے بڑافائدہ ماحول کو پہنچتا، لوگوں کو بجلی اورگیس
کی بنیادی سہولت میسرآتی اور ابندھن کے لیے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ ختم ہو جاتا
۔ معاشی ترقی سے متبادل توانائی کے شعبے میں پیش رفت ہوتی ۔ اس سے فضائی اورآبی
آلودگی میں بڑی کمی واقع ہوتی ۔
پیداواری عمل میں جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی
متعارف ہوتی اور اس سے قدرتی ماحول کوتحفظ حاصل ہوتا ، تعلیم عام ہوتی اور لوگوں میں
جنگلی حیات کے بارے میں مثبت رویے پیدا ہونے سے بہت سے انواع معدومی کے خطرات سے
دوچار نہ ہوتیں ۔ سیاسی اور معاشی استحکام کے باعث پانی جیسے بنیادی مسئلے کو حل
کرنے میں مدد ملتی ۔ الغرض، یہ بات فراموش نہیںکرنی چاہیے کہ پانی کے سنگین مسئلے
، قدرتی ماحول میں بہتری اور پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں
۔ ہم پائیدارجمہوری نظام کے ذریعے ملک میں سیاسی استحکام لانے میںکامیاب نہیں
ہوسکے ہیں جس کا خمیازہ ہمیں ان مسائل کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔
پاکستان کے پانی بحران پر خطرے کی گھنٹیاں تیز
ہوتی جا رہی ہیں، اور یہ بلاوجہ نہیں ہے۔ ہمیں جس پانی بحران کا سامنا ہے اسے نظر
انداز کرنا ناممکن ہے، چاہے وہ پھر شہروں میں پینے کے پانی کی قلت کی صورت میں ہو یا
زراعت میں کم پیداوار، کئی علاقوں میں آبی وسائل کے زہر آلود ہونے کی یا کسی
خطرناک شکل میں ہو۔
گزشتہ 3 ماہ کے دوران میں ہمیں قومی میڈیا
اور سوشل میڈیا پر حکومت کی اس مسئلے پر کسی قسم کی منصوبہ بندی نہ ہونے اور
لاپرواہی اور نہروں اور ڈیموں کی کمی کے حوالے سے گرم جوش بحث و مباحثہ دیکھنے کو
ملا۔ فیصلہ سازوں کو بالآخر ہوش آگیا۔ ہمیں یہ رد عمل مشترکہ مفادات کونسل کے
آخری اجلاس میں نظر آیا جس میں 3 صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے شرکت کی، یہ دیکھنا کسی
حیرت سے کم نہ تھا کہ، قومی اہمیت کے ایک مسئلے پر نہ صرف قلیل وقت میں بلکہ صوبے
اور وفاق باہمی اتفاق سے ایک نکتے پر راضی ہوئے۔
جہاں یہ ایک اچھی بات ہے کہ بالآخر تمام
افراد اقدامات کرنے پر راضی ہوئے وہیں مجوزہ حل کے طور پر ایک بار پھر بہتر بنیادی
ڈھانچے، ڈیموں، ندیوں، نہروں، آبی پلانٹس وغیرہ کی بات کی گئی۔ بالخصوص کالا باغ
ڈیم کے حوالے سے راتوں رات پرجوش بحث و مباحثے شروع ہوگئے۔
بہت تھوڑی سی بات رویوں میں تبدیلی، پانی کے
استعمال میں کمی، مقامی سطحوں پر حل تلاش کرنے اور دوبارہ تقسیم کاری جیسے مشکل
موضوع پر بھی ہوئی۔ لیکن یہ دیکھ کر افسوس اور حیرت ہوتی ہے پانی اور ماحولیاتی
ماہرین میں سے کسی نے بھی اس پانی بحران کے مسئلے کو آبادی کے اعداد کے تناظر میں
نہیں دیکھا، کیونکہ اگر ہم کو یہ جاننا ہے کہ ہمارے پاس فی کس کے حساب سے کتنا پانی
دستیاب ہے اس کے لیے آبادی کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
پانی کے بحران کی شدت کا اندازہ لگانے کا ایک
سب سے سیدھا اور شاید بہت ہی آسان طریقہ یہ ہے کہ پانی کی دستیاب مقدار کو آبادی
پر تقسیم کر کے جائزہ لیں۔ فی کس آمدن کی طرح ہم پانی میں اضافے کی تو توقع نہیں
کرسکتے، البتہ ذخیرے کے نظاموں کے طریقوں میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ بلکہ حالیہ
بارشوں کے اوقات میں تبدیلی، اور دریائے سندھ کے بالائی حصوں پر ہندوستان میں ڈیموں
کی تعمیر سے دستیاب پانی میں مزید قلت واقع ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں کل
آبادی میں دگنا اضافہ ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ دیگر ملکوں میں شرح پیدائش کو اس
حد تک رکھا جاتا کہ جس سے کل آبادی کے اعداد کا توازن برقرار رہے۔
1981عیسوی تک بھی ہمارے پاس پانی وافر مقدار میں، یعنی فی کس 2123
مکعب میٹر موجود تھا۔ 1998 کی مردم شماری تک ہماری آبادی 13 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ
چکی تھی جبکہ شرحِ اضافہ 2.6 فیصد تھی۔ پانی کی دستیابی اب تناؤ کا شکار ہوتے ہوئے
1351 مکعب میٹر تک پہنچ گئی تھی۔
پاکستان کو بڑھتی آبادی سے پانی کی کمی کا سامنا ہے؟؟؟
ہم نے یہ مان لیا کہ آبادی میں اضافے کی شرح
کم ہونی شروع ہو گئی ہے مگر 2000 کے بعد دور میں بچوں کی پیدائش اور آبادی میں
اضافے کی شرح میں کم ہی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ 2013 پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ
سروے میں دکھایا گیا کہ پاکستان میں شرحِ پیدائش 3.8 پر ہی رکی ہوئی تھی جبکہ
دوسرے ممالک میں اس میں ریکارڈ کمی ہو رہی تھی اور وہ 2.2 کی شرح تک پہنچ رہے تھے۔
اور 2017 میں نئی مردم شماری نے اشارہ دیا کہ وہ تباہ کن پیشگوئی سچ ثابت ہوئی ہے:
ہم پانی کی کمی کا شکار ہیں اور ہمارے پاس فی بندہ صرف 861 مکعب میٹر پانی دستیاب
ہے۔ اگر بہترین پالیسی کے تحت ہماری شرحِ پیدائش 1.6 فیصد ہوتی تو ہم 1000 مکعب میٹر
پر ہوتے۔
مگر کبھی کبھار ہلکی پھلکی گفتگو کے علاوہ جب
بھی پانی کے بحران پر بات آتی ہے تو ہماری تیز رفتار شرحِ پیدائش کا مسئلہ بھلا دیا
جاتا ہے جو کہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اس چیز کو مانے رکھنا اور اس سے جو
مسائل ہمارے عوام کے لیے پیدا ہوتے ہیں، یہ نئے نہیں ہیں۔
جب 2017 کی مردم شماری کے ابتدائی اعداد و
شمار سامنے آئے تھے تو پریشان کن خبر یہ تھی کہ ہماری تعداد 20 کروڑ 70 لاکھ تھی،
یعنی اس سے کئی ملین زیادہ جس کا اندازہ 2010 میں شرحِ پیدائش میں کمی کے محتاط
اندازوں کے ذریعے لگایا گیا تھا۔ آبادی میں اس پریشان کن اضافے کو سیاستدانوں، میڈیا
اور منصوبہ سازوں نے اتنی آسانی سے ہضم کر لیا جیسے کہ اس کا ملک کے حال اور
مستقبل کی ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیاستدانوں اور میڈیا کی توجہ فوراً ہی
نشستوں کی تعداد، محصولات کے شیئرز، اور صوبوں کو حاصل فوائد کی جانب مڑ گئی۔ اس
بات پر بمشکل ہی کوئی تشویش تھی کہ تعلیم، صحت، گھر، اور پانی کی فراہمی کے ساتھ
20 کروڑ 70 لاکھ کے اس شماریے کا کیا تعلق ہے۔
سکڑتے ہوئے آبی وسائل اور بڑھتی ہوئی آبادی
کی وجہ سے پاکستان میں فی کس پانی کی فراہمی کم ہوتی جائے گی جس سے ہر چیز پر اثر
پڑے گا، یہاں تک کہ عوام کی صحت پر بھی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر شخص کو
روزانہ کم از کم 7.5 لیٹر پانی چاہیے ہوتا ہے تاکہ صفائی اور صحت برقرار رکھی جا
سکے۔ دوسری جانب ہر سال لاکھوں بے چاہے بچوں کی پیدائش روک کر شرحِ پیدائش میں کمی
لائی جائے، تو پاکستان میں فی کس پانی کی فراہمی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اس تعلق پر پہلے روشنی نہیں
ڈالی گئی ہے۔ ماضی میں بہبودِ آبادی کی پالیسیوں میں کئی منظرناموں کی نشاندہی کی
گئی تھی جن کا ہمیں آنے والی دہائیوں میں سامنا ہو سکتا تھا۔ 2002 کی پاپولیشن
پالیسی میں اس بات کو تسلیم کیا گیا تھا کہ ہمیں شرحِ آبادی میں تیزی سے کمی لانی
ہوگی تاکہ دوسرے ممالک کے برابر آیا جا سکے۔ پانی سے متعلق 1980 کی دہائی میں بھی
جب ہمارے پاس تیزی سے بڑھتی آبادی کے باوجود وافر مقدار میں پانی دستیاب تھا، اس
وقت ایوب قطب نے قومی حکمتِ عملی برائے بچت کو دستاویزی صورت دیتے ہوئے خبردار کیا
تھا کہ پانی ہمیشہ وافر مقدار میں نہیں رہے گا۔ 2013 میں پاپولیشن کونسل اور
اقوامِ متحد کے پاپولیشن فنڈ نے پاکستان بھر کی سیاسی جماعتوں اور میڈیا شخصیات کو
نشاندہی کی تھی کہ پاکستانی جوڑے کم بچے چاہتے ہیں اور ہمیں اس اہم موقع کا فائدہ
اٹھاتے ہوئے شرحِ پیدائش میں کمی لانی چاہیے تاکہ ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کیا
جا سکے۔ جہاں سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا اور اپنے منشور میں پیدائش میں
وقفے کی سہولیات تک بہتر رسائی شامل کرنے کا وعدہ بھی کیا، مگر پھر بھی یہ چیز وہ
توجہ برقرار نہیں رکھ پائی جس کی یہ مستحق ہے۔
اب جبکہ سیاستدان اگلے چند ہفتوں میں
انتخابات میں جانے والے ہیں تو کچھ بنیادی حقائق پر روشنی ڈالنی ضروری ہے۔ سادہ ترین
بات یہ ہے کہ ہم پانی کے بحران کو آبادی میں برق رفتار اور غیر پائیدار اضافے سے
الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے، بالکل اسی طرح جس طرح ہم اسکول نہ جانے والی ایک بڑی
تعداد کو آبادی میں برق رفتار اضافے سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے، یا پھر غذائی
قلت کو بلند شرحِ زرخیزی سے۔
ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے سب سے بڑے قومی
چیلنج کا سامنا کیے بغیر پانی کے بحران پر، تمام بچوں کے لیے بنیادی تعلیم کی
فراہمی نہ ہونے پر اور تمام تر مشکلات پر روتے رہیں۔
ہمیں ایکشن لینے سے کوئی چیز مانع نہیں ہونی
چاہیے ایسے وقت میں جب مذہبی رہنما اور شدید قدامت پسند عناصر بھی مان رہے ہیں کہ
پیدائش میں وقفہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے ایک مثبت اقدام ہے۔
حل نہایت سادہ ہے، اس کی قیمت بھی عین قابلِ
برداشت ہے، اور پہلے سے کہیں زیادہ لوگ تبدیلی کے لیے بے تاب بھی ہیں اور تیار بھی۔
بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری
ہے ، پاکستان کے حصے کے پانی پر قبضہ کرنے کا مذموم منصوبہ بنا لیا ۔
بنگلور میں بھارتی وزیر برائے آبی وسائل کا
کہنا تھا کہ بھارتی پنجاب ، ہریانہ اور راجھستان کی ریاستوں کو پاکستان جانے والے
دریاؤں سے پانی فراہم کیا جائے گا۔
بھارت اس سلسلے میں ڈیمز بھی بنائے گا جس کے
لئے بڑے پیمانے پر بجٹ بھی رکھنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔
امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد
سعید نے کہا تھا کہ پاکستان خطرات کی زد میں ہے ان حالات میں ہمیں یکسو اور متحد
ہونا ہے۔ کشمیر کے مسئلہ کو حقیقی اہمیت دینی ہوگی۔بھارت پاکستان کے دریائوں پر ڈیم
بنا رہا ہے اور پاکستان کا پانی روک رہا ہے ۔70فیصد پانی پر بھارت قبضہ کر چکا ہے
اس پر دنیا خاموش ہے،ہمارے حکمران بھی خاموش ہیں۔نواز شریف کو فوج اور عدلیہ سے
تکلیف ہے جس پر انہوں نے ممبئی حملوں والا الزام پاکستان پر لگایا۔ان خیالات کا
اظہار انہوں نے ملتان کے مقامی ہوٹل میں سینئر صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ دفاعی حوالے سے سب سے اہم
مسئلہ کشمیر ہے جو ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔بھارت کشمیر میں ڈیم بنارہا
ہے۔ سندھ طاس معاہدے میں جن دریاؤں کی ذمہ داری دنیا نے لی کسی نے بھارت کو نہیں
روکا۔ پاکستان خود اس حوالہ سے خامو ش رہا۔بھارتی وزیر اعظم مودی نے ڈیم کا افتتاح
کیا۔ مزید دو ڈیم دریائے سندھ کے پانی پر لداخ کے مقام پر تیار کررہا ہے۔ ہمارے70
فیصد پانی پر بھارت قبضہ کرچکا ہے۔ صرف 30 فیصد پانی پاکستان کو مل رہا ہے۔ انہوں
نے کہا کہ مانتا ہوں سی پیک بہت اہم ہے۔سی پیک کی طرح پانی کا مسئلہ بھی پاکستان
کے لیے بہت اہم ہے۔اس پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔پانی کے مسئلہ کوہر حال میں
حل کرنا ہے۔ انڈیا آگے بڑھ رہا ہے اور ہم غفلت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ
کشمیر میں تحریک جاری ہے۔ جس نے انڈین کا پراپیگنڈا ناکام بنا دیا کہ کشمیری کچھ
نہیں چاہتے۔ خود مختار کشمیر کا نعرہ دم توڑ چکا ہے۔ سب پاکستان زندہ باد کے نعرے
لگا رہے ہیں۔کشمیری شہادتیں پیش کرکے اپنا حق ادا کررہے ہیں۔ پاکستان کو انڈیا کی
مصنوعات کی منڈی بنانے کی فکر ہے لیکن کشمیر کی فکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ
افغانستا ن میں اپنی شکست کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتا ہے۔امریکہ پاکستان کو سزا
دینے کے لیے شام سے داعش کو افغانستان میں لاچکا ہے۔ آج انڈیا کو امریکہ نے فری ہینڈ
دے دیا ہے۔ انڈیا اور اسرائیل نے پاکستان کے خلاف معاہدے کیئے ہیں جن میں سرجیکل
سٹرائیک بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا دفاع سب سے اہم مسئلہ ہے۔ اگر ملک
محفوظ ہے تو سب کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے مشرق اور مغرب کی سرحدوں پر انڈیا و امریکہ
بیٹھے ہیں۔ ہمیں زیادہ خطرہ مغربی بارڈر سے ہے۔ موجودہ صورتحال میںپوری قوم کو فکری
و عملی طور پر اکٹھاکرنا ضروری ہے۔
خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ریاست بنگلور میں
بھارتی وزیر برائے آبی وسائل کا کہنا تھا کہ بھارتی پنجاب ، ہریانہ اور راجھستان کی
ریاستوں کو پاکستان جانے والے دریاؤں سے پانی فراہم کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق بھارت اس سلسلے میں ڈیمز بھی
بنائے گا جس کے لئے بڑے پیمانے پر بجٹ بھی رکھنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔
تحریر:پروفیسرڈاکٹرسیّدمجیب ظفرانوارحمیدی
نزد:بن ہاشم شاپنگ مال، مین سُپرہائی وے،کراچی
www.facebook.com/proffhameedi
e mail:mujeebzafar35@gmail.com
No comments:
Post a Comment