|
سورہٴ عنکبوت
پروفیسرڈاکٹرسیدمجیب ظفرانوارحمیدی
۱۰۳ مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ
بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ وَلَکِنَّ الَّذِینَ
کَفَرُوا یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ وَاٴَکْثَرُھُمْ لاَیَعْقِلُونَ
۱۰۴ وَإِذَا قِیلَ لَھُمْ
تَعَالَوْا إِلَی مَا اٴَنزَلَ اللهُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا
مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُھُمْ لاَیَعْلَمُونَ
شَیْئًا وَلاَیَھْتَدُونَ
ترجمہ:
۱۰۳۔ خدا نے کوئی ”بحیرہ“،
”سائبہ“، ”وصیلہ“، ”حام“ قرار نہیں دیا(۱) لیکن جو لوگ کافر ہوگئے انھوںنے خدا پر جھوٹ باندھا
اور اُن میں سے زیادہ تر تو سمجھتے نہیں ہیں ۔
۱۰۴۔ اور جس وقت ان سے کہا جائے
کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور پیغمبر کی طرف آؤ۔ تو وہ کہتے ہیں
کہ جو کچھ ہم نے اپنے آباؤاجداد سے پایا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے ۔ کیا ایسا
نہیں ہے کہ ان کے آباؤاجداد کچھ نہیں جانتے اور انھوں نے ہدایت حاصل نہیں کی تھی
۔
چار غیر مناسب ”بدعات“
آیت میں پہلے تو چار غیر
مناسب ”بدعات“ کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ جو زمانہ جاہلیت کے عربوں میں موجود تھیں،
اُنھوں نے کچھ جانوروں کے بارے میں کسی جہت سے علامت اور نشانی مقرر کررکھی تھی
اور ان کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا دودھ کا پینا،
اُون کاٹنا اور اُن پر سواری کرنا جائز شمار نہیں کرتے تھے ۔ بعض اوقات ان
جانوروں کو آزاد چھوڑدیتے تھے کہ جہاں چاہیں چلے جائیں اور کوئی شخص اُن سے
متعرض نہ ہوتا ۔ یعنی کلی طور پر اس جانور کو بے کار اور فضول چھوڑ دیتے تھے ۔
۱۔ یہ چار قسم کے گھریلو
جانور وں کی طرف اشارہ ہے، زمانہ جاہلیت میں ان سے استفادہ ممنوع سمجھا جاتا
تھا، اسلام نے اس بدعت کا خاتمہ کردی-
لہٰذا قرآن مجید کہتا ہے: خدا ان احکام میں سے کسی کو بھی قانونی طور پر قبول
نہیں کرتا نہ اس نے بحیرہ قرار دیا نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام
(مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ) ۔
باقی رہی ان چار قسم کے جانوروں کی تشریح اور وضاحت تو وہ یہ ہے:
۱۔ بحیرہ: اس جانور کو کہتے
ہیں کہ جس نے پانچ مرتبہ بچہ جنا ہو کہ جن میں پانچواں بچہ مادہ یا ایک روایت کے
مطابق نر ہو ۔ ایسے جانور کے کان میں ایک وسیع سوراخ کردیتے تھے اور اُسے اس کے
حال پر چھوڑدیتے تھے اور اسے ذبح یا قتل نہیں کرتے تھے ۔
”بحیرہ“ بحر کے مادہ سے وسعت اور پھیلاؤ کے معنی میں ہے ۔ عرب سمندر کو بحر اس
کی وسعت کی بناپر ہی کہتے ہیں اور بحیرہ کو جو اس نام سے پکارتے تھے تو یہ اُس
وسیع شگاف کی وجہ سے تھا جو اُس کے کان میں وہ کردیتے تھے ۔
۲۔ سائبہ وہ اونٹنی جس نے
بارہ یا ایک روایت کے مطابق دس بچے جنے ہوں اُسے آزاد چھوڑ دیتے تھے ۔ یہاں تک
کہ کوئی اس پر سوار نہیں ہوتا تھا اور وہ جس چراگاہ میں جاتی آزاد تھی اور جس
گھاٹ اور چشمے سے چاہتی پانی پیتی ۔ کوئی اُس سے مزاحمت کا حق نہیں رکھتا تھا ۔
کبھی کبھار صرف اس کا دودھ دوہ لیتے اور مہمان کو پلاتے (سائبہ سیب کے مادہ سے،
پانی جاری ہونے، اور چلنے میں آزادی کے معنی میں ہے) ۔
۳۔ وصیلہ اس گوسفند کو کہتے
تھے جس نے سات دفعہ بچہ جنا ہو اور ایک روایت کے مطابق اس گوسفند کو کہتے تھے جو
دو بچوں کو ایک ہی مرتبہ جنم دے (وصیلہ وصل کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے باہم
بستگی) ایسے جانور کو قتل کرنا بھی حرام سمجھتے تھے ۔
۴۔ حام: ”مادہ حمایت“ کا اسم
فاعل ہے، جو حمایت کرنے والے کے معنی میں ہے ۔ حام اُس نر جانور کو کہتے ہیں جس
سے مادہ جانوروں کی تلقیح اور جفتی میں استفادہ کیا جاتا ہے ۔ جب عرب دس مرتبہ
اس جانور سے جفتی میں استفادہ کرلیتے اور ہر دفعہ اس کے نطفہ سے بچے پیدا ہوجاتا
تو کہتے کہ اس جانور نے اپنی پشت کی حمایت کی ہے یعنی اب کوئی شخص اس پر سوار
ہونے کا حق نہیں رکھتا (ایک معنی اس کا ”حمی“ نگہداری، رکاوٹ اور ممنوعیت بھی
ہے) ۔
اُوپر والے چار عناوین کے معنی میں مفسّرین کے درمیان او راحادیث کے اندر دوسرے
احتمال بھی نظر آتے ہیں لیکن سب کی قدر مشترک یہ ہے کہ مراد ایسے جانور تھے
جنہوں نے حقیقت میں اپنے مالکوں کی زیادہ بار بار نتیجہ بخش طور پر خدمت کی ہو ۔
وہ بھی ان کی اس خدمت کے صلے میں ان جانوروں کے لئے ایک قسم کے احترام اور آزادی
کے قائل ہوجاتے تھے ۔
یہ صحیح ہے کہ ان تمام مواقع پر جانوروں کی خدمات کے بدلے میں شکر گزاری اور قدر
دانی کی روح کار فرما نظر آتی ہے اور اس لحاظ سے ان کا عمل قابل احترام تھا
چونکہ ان جانوروں کے بارے میں ان سے استفادہ نہ کرنا ایک ایسا احترام تھا جس کا
کوئی مفہوم نہ تھا علاوہ ازیں ایک قسم کا مال کا اتلاف، نعمات الٰہی کا ضیاع اور
انھیں معطل کرنا بھی شمار ہوتا تھا سب چیزوں کو چھوڑتے ہوئے یہ جانور اس احترام
کی وجہ سے جانکاہ تکالیف اور مصائب میں گرفتار ہوجاتے تھے کیونکہ عملی طور پر
بہت کم افراد اس کے لئے تیار ہوتے تھے کہ انھیں صحیح غذا مہیا کریں اور ان کی
حفاظت اور نگہداری کریں اور اگر اس چیز کو مد نظر رکھا جائے کہ یہ جانور بہت
زیادہ سِن کے ہوتے تھے تو مزید اندازہ ہوگا کہ وہ تکلیف دہ حالت میں بے پناہ
محرومیوں میں زندگی بسر کرتے تھے یہاںتک کہ مرجاتے، انہی وجوہ کی بناپر اسلام نے
سختی سے ان امور سے منع کیا ۔
ان سب باتوں کو چھوڑتے ہوئے کئی ایک روایات اور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ
لوگ ان سب چیزوں کو یا ان میں سے بعض کو بتوں کے لئے انجام دیتے تھے اور درحقیقت
انھیں بت کی نذر کرتے تھے، لہٰذا اس صورت میں اسلام کا اس کام سے مبارزہ بت
پرستی سے مقابلہ بھی تھا ۔
تعجب کی بات یہ ہے بعض روایات کے مطابق جب اُن میں سے بعض جانور طبعی موت مرجاتے
تو بعض اوقات اُن کے گوشت سے گویا بطور تبرک وتیمن استفادہ کرتے جو بذاتِ خود
ایک قبیح فعل تھا(۱)
اس کے بعد فرماتا ہے: کافر لوگ اور بت پرست ان چیزوں کی طرف نسبت دیتے تھے اور
کہتے تھے کہ یہ قانونِ الٰہی ہے (وَلَکِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یَفْتَرُونَ
عَلَی اللهِ الْکَذِبَ) اُن میں سے اکثر اس بارے میں تھوڑاسا بھی غور وفکر نہیں
کرتے تھے اور اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے تھے، بلکہ دوسروں کی اندھی تقلید کرتے
تھے(وَاٴَکْثَرُھُمْ لاَیَعْقِلُونَ)
بعد والی آیت میں ان کی بے تکی اور غیر مناسب تحریکوں کی دلیل ومنطق کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جب اُن سے یہ کہا جائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے
اس کی طرف اور پیغمبر کی طرف آؤ، تو وہ اس کام سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں
کہ ہمارے بڑوں کے رسم ورواج اور ان کے طریقے اور دستور کافی ہیں(وَإِذَا قِیلَ
لَھُمْ تَعَالَوْا إِلیٰ مَا اٴَنزَلَ اللهُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُوا
حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا) ۔
حقیقت میں ان کی غلط کاریاں اور بُت پرستیاں ایک دوسری قسم کی بت پرستی سے
پھوٹتی تھیں، وہ اپنے بزرگوں اور بڑے بوڑھوں کے بیہودہ رسم ورواج اور طور طریقوں
کوبلاقید وشرط اختیارکرتے تھے، گویا وہ صرف ”بوڑھوں“ اور ”آباؤاجداد“ سے نسبت کو
اپنے عقیدہ اور عادت ورسوم کی صحت ودرستی کے لئے کافی سمجھتے تھے ۔
قرآن صراحت سے انھیں جواب دیتا ہے: کیا ایسا نہیں کہ اُن کے آباؤاجداد صاحب علم
ودانش نہیں تھے اور انھیں ہدایت حاصل نہیں ہوئی تھی(اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُھُمْ
لاَیَعْلَمُونَ شَیْئًا وَلاَیَھْتَدُونَ ) ۔
یعنی اگر تمھارے وہ بڑے بوڑھے اور بزرگ جن پر تم اپنے عقیدہ اور اعمال کے لئے
تکیہ ہوئے ہو، ارباب علم ودانش اور ہدایت یافتہ ہوتے تو تمھارا ان کی پیروی کرنا
جاہل کا عالم کی تقلید کرنے کے زمرے میں شمار ہوتا، لیکن اس صورت میں جبکہ تم
خود بھی جانتے ہو کہ وہ کوئی چیز تم سے زیادہ نہیں جانتے تھے بلکہ شاید تم سے
بھی پیچھے تھے تواس حالت میں تو تمھارا معاملہ جاہل کا جاہل کی تقلید کرنے کا
واضح مصداق ہے، جوکہ عقل وخرد کے ترازو میں بہت ہی ناپسندیدہ فعل ہے ۔
چونکہ اُوپر والے جملے میں قرآن نے لفظ ”اکثر“ استعمال کیا ہے اس لئے اس سے یہ
نتیجہ نکلتا ہے کہ اس جہالت وتاریکی کے ماحول میں بھی ایک سمجھدار اقلیت اگرچہ
وہ کمزور تھی، موجود تھی، جو ایسے اعمال کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتی
تھی۔
..............
۱۔تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۴۸۶-
اپنے بزرگوں اور بڑوں کے نام کا
بت
منجملہ اُن امور کے جو زمانہ جاہلیت بڑی شدّت کے
ساتھ رائج تھے ایک اپنے بزرگوں اور بڑوں پر فخر کرنا اور پرستش کی حد تک بلاقید
وشرط ان کی شخصیات، افکار، عادات اور رسوم کا احترام کرنا تھا، قرآن نے بھی اس
امر کا مختلف آیات میں ذکر کیا ہے، نیز یہ امر زمانہ جاہلیت سے مخصوص نہیں تھا
بلکہ بہت سی اقوام وملل میں موجود ہے اور شاید یہ ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف
خرافات اور بیہودہ چیزیں پھیلنے اور منتقل ہونے کے اصلی عوامل میں سے ایک ہے،
گویا ”موت“ گزرے ہوئے لوگوں کے لئے ایک قسم کی مصئونیت اور تقدّس پیدا کردیتی ہے
اور انھیں احترام وتقویٰ کے حالے میں لے لیتی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قدردانی کی روح اور اصول انسانی کے احترام کا تقاضا یہی
ہے کہ آباؤاجداد اور اپنے بزرگوں کو محترم سمجھا جائے لیکن اس معنی میں نہیں کہ
معصوم عن الخطاء جان لیا جائے اور ان کے افکار وآداب پر تنقید، تحقیق اور تجسس
چھوڑ ہی دیا جائے اور ان کی بیہودہ باتوں کی بھی اندھی پیروی اور تقلید اختیار
کرلی جائے ۔
یہ عمل حقیقت میں ایک قسم کی بت پرستی اور جاہلانہ منطق ہے، بلکہ ضروری یہ ہے ان
کے حقوق اور مفید افکار وسنن کے احترام کے باوجود، ان کے غلط مراسم اور طور
طریقوں کو سختی سے کچلا جائے، خاص طور پر جبکہ آئندہ نسلیں زمانہ گزرنے کے ساتھ
علم ودانش کی ترقی اور زیادہ تجربات کی بناپر عام طور سے گذشتہ نسلوں کی نسبت
زیادہ دانا اور ہوشمند ہیں اور کوئی عقل وخرد گذشتہ لوگوں کی اندھی تقلید کی
اجازت نہیں دیتی۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض علماء یہاں تک کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو ہم دیکھتے
ہیں کہ وہ بھی اس کمزور منطق سے کنارہ کش نہیں ہوئے اور بعض اوقات بڑے ہی حیرت
انگیز طریقے سے مضحکہ خیز خرافات کو عملاً قبول کرلیتے ہیں مثلاً بعض اپنے آباؤ
اجداد کی تقلید میں سال کے آخر میں آگ کے اوپر کودتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح
اپنے بڑوں کی آتش پرستی کو زندہ رکھ سکیں اور درحقیقت ان کی یہ منطق زمانہٴ
جاہلیت کے بدووٴں کی سی منطق کے سوا اور کچھ نہیں ۔
بے دلیل تضاد
تفسیر المیزان میں تفسیر درّمنثور سے اہلِ سنت کے
علماء کے ایک گروہ سے منقول ہے کہ ابوالاحوص نامی ایک شخص سے مروی ہے، وہ کہتا
ہے: میں پیغمبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے
پُرانا اور بوسیدہ لباس پہن رکھا تھا، پیغمبر نے فرمایا: کیا تمھارے پاس مال
ودولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! پیغمبر نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے کہا:
ہر قسم کا مال میرے پاس موجود ہے؛ اونٹ، گوسفند، گھوڑے وغیرہ، پیغمبر نے فرمایا:
جب خدا تجھے کوئی چیز دے تو ضروری ہے کہ اُس کے آثار بھی تم میں دکھائی دیں (نہ
یہ کہ اپنی ثروت کو ایک طرف رکھ دو اور غریبوںمسکینوں کی طرح زندگی بسر کرو) ۔
اس کے بعد فرمایا: کیا تمھارے اونٹوں کے بچے پھٹے ہوئے کانوں کے ساتھ پیدا ہوئے
ہیں یا سالم کانوں کے ساتھ، میں نے کہا: یقینا صحیح وسالم کانوں کے ساتھ، کیا
ایسا ہوسکتا ہے کہ اوٹنی کٹے ہوئے کان والا بچہ جنے؟ تو آپ نے فرمایا:پھر تو
لازماً خود تم ہی تلوار ہاتھ میں لے کر اُن میں سے بعض کے کانوں کو چیرتے ہو اور
کہتے ہو کہ یہ ”بحر “ ہے اور کچھ دوسرں کے کانوں کو کاٹ کر کہتے ہو کہ یہ”صرم “
ہے ۔میں نے کہا: جی ہاں ایسا ہی کرتا ہوں ۔ فرمایا: ہرگز ایسا کام نہ کرو، جو
کچھ خدا نے تجھے دیا ہے، وہ تیرے لئے حلال ہے، اس کے بعد آپ نے (اس آیت کی)
تلاوت کی: (مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ)(المیزان،
ج۶، ص۱۷۲) ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک حصے کو معطل اور بے مصرف چھوڑ
دیتے تھے اور کنجوسی کرکے پھٹے پُرانے کپڑے پہنتے ۔در اصل یہ ایک بے دلیل تضاد
تھا ۔
۱۰۵ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ
آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا
اھْتَدَیْتُمْ إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا
کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ِ
ترجمہ:
۱۰۵۔اسے ایمان والو!اپنے اُوپر
نظررکھو،جب تمھیں ہدایت حاصل ہوجائے تو ان لوگوں کی گمراہی جو گمراہ ہوچکے ہیں
تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا نہیں سکے گی، تمام چیزوں کی بازگشت خدا کی طرف ہے
اور وہ تمھیں اس عمل سے جو تم کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا ۔
تفسیر
ہر شخص اپنے کام کا جواب دہ ہے
گذشتہ آیت میں زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی اپنے بڑوں کی
اندھی تقلید کے متعلق گفتگو تھی ۔ قرآن نے واضح طور پر انھیں ڈرایا کہ اس قسم کی
تقلید عقل و منطق کی رو سے درست نہیں ہے ۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ سوال ان کے
ذہن میں آتا تھا کہ اگر ہم ایسے مسائل میں اپنا معاملہ اپنے بزرگوں سے الگ کرلیں
تو پھر ان کی سرنوشت کیا ہوگی، علاوہ ازین اگر ہم اس قسم کی تقلید سے دست بردار
ہوجائیں تو ایسی ہی تقلید کرنے والے دیگر بہت سوں کے بارے میں کیا صورت ہوگی ۔
زیر نظر آیت اس قسم کے سوالات کے جواب میں کہتی ہے: اے ایمان لانے والو! تم اپنے
ہی جوابدہ ہو، اگر تم ہدایت یافتہ ہوگئے تو دوسروں کی گمراہی (چاہے، وہ تمھارے
اپنے بڑے ہوں یا ہم عصر دوست واحبات) تمھیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گی
(یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ
ضَلَّ إِذَا اھْتَدَیْتُم) ۔اس کے بعد قیامت، حساب کتاب اور ہر کسی کے اعمال کے
انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا
ہے اور تم میں سے ہر ایک کا حساب الگ ہوگا اور جو کچھ تم نے انجام دیا اس سے
تمھیں آگاہ کیا جائے گا ( إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ
بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ) ۔
ایک سوال کا جواب
اس آیت کے بارے میں بہت زیادہ آوازیں بلند ہوئی
ہیں، بعض نے یہ خیال کرلیا ہے کہ اس آیت کے درمیان اور ”امربمعروف“، ”و نہی از
منکر“ کے حکم کے درمیان کہ جو اسلام کا ایک قطعی اور مسلّم حکم ہے ایک قسم کا
تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ تم اپنے حالات کی طرف توجہ کرو
(اور اپنے ہی متعلق سوچ بچار کرو اور اپنی حالت میں مگن رہو) دوسروں کا انحراف
اور کجروی تمھاری حالت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی ۔
اتفاقاًروایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کا اشتباہ آیت کے نزول کے زمانے میں بھی
بعض کم علم لوگوں میں پایا جاتا تھا ۔
”جبیر ابن نفیل“ کہتے ہیں:
میں چند اصحاب پیغمبر کے حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور میں اُن میں سب سے زیادہ کم
سن تھا ۔ اُنہوں نے امربمعروف اور نہی از منکر کے متعلق گفتگو شروع کردی، میں ان
کی باتوں کے درمیان بول پڑا اور میں نے کہا کہ کیا خدا قرآن میں یہ نہیں کہتا:
(یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ
ضَلَّ إِذَا اھْتَدَیْتُم) اس بناپر امر بمعروف اور نہی از منکر کی کیا ضرورت
رہ جاتی ہے ۔ اچانک اُن سب نے مجھے سرزنش کی اور کہنے لگے: تم قرآن کی ایک آیت
کو اس کا معنی سمجھے بغیر الگ کررہے ہو ۔ میں اپنی گفتگو سے بہت ہی شرمندہ
ہوااور انھوںنے اپنا مباحثہ جاری رکھا، جب وہ وہاں سے مجلس برخاست کرکے اُٹھنے
لگے تومیری طرف رخ کرکے کہنے لگے: تُو کمسن جوان ہے اور تم نے قرآن کی ایک آیت
کو اس کا معنی سمجھے بغیر اُسے باقی سے الگ کرلیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ تم ایسے
زمانے کوپاؤ کہ تم یہ دیکھو کہ بخل لوگوں پر چھایا ہوا ہے اور ان پر اس کی
فرمانروائی ہے، ہواہوس لوگوں کا پیشوا ہے اور ہر شخص صرف اپنی ہی رائے پسند کرتا
ہے، ایسے زمانے میں تم صرف اپنی ہی خیر مناؤ، دوسروں کی گمراہی تمھیں کوئی نقصان
نہیں پہچائے گی (یعنی آیت ایسے زمانے کے ساتھ مربوط ہے) ۔
ہمارے زمانے کے بعض آرام پرست بھی جب دو عظیم خدائی فرائض امر بمعروف اور نہی از
منکر کی انجام دہی کی گفتگوہوتی ہے تو جوابدہی سے اپنے کندھوں کو خالی رکھنے کے
لئے اس آیت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے معنی میں تحریف کرتے ہیں حالانکہ تھوڑے
غور وفکر کے بعد یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان دو احکام کے درمیان کسی قسم کا
تضاد نہیں ہے؛
کیونکہ:
پہلی بات تو یہ ہے کہ محل بحث آیت کہتی ہے کہ ہر شخض کا حساب کتاب الگ الگ ہے
اور دوسروں کی گمراہی، مثلاً اپنے گزرے ہوئے بزرگوں یا غیروں کی گمراہی ہدایت
یافتہ لوگوں کی ہدایت پر کوئی ضرب نہیں لگاتی، یہاں تک کہ اگر وہ بھائی بھائی
بھی ہوں، یا باپ بیٹا ہوں لہٰذا تم ان لوگوں کی پیروی نہ کرو اور خود اپنے آپ کو
بچاؤ(غور کیجئے) ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ آیت اس موقع کی طرف اشارہ کرتی ہے جس وقت امربمعروف اور
نہی از منکر کارگر نہ ہوں، یا ان کی تاثیر کے حالات موجود نہ ہوں، بعض اوقات کچھ
لوگ ایسے موقع پر پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ تمھارے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ تم
نے اپنے فرض کی انجام دہی کردی ہے اور انھوں نے قبول نہیں کیا، یا ان میں قبول
کرنے والوںکی اہلیت اور اسباب موجود نہیں تھے، اس بناپر کوئی نقصان تمھیں نہیں
پہنچے گا ۔
یہی مفہوم اُس حدیث میں جو ہم اُوپر نقل کرچکے ہیں موجود ہے، اسی طرح بعض دوسری
احادیث میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے
فرمایا:
”اٴ یتمروا بالمعروف وتناہو عن المنکر فاذا راٴیت دنیاً موٴثرة وشحاً مطاعاً
وہوی متبعاً واعجاب کل راٴی برایہ فعلیک بخویصة نفسک وذر عوامہم“
”امر بمعروف ونہی از منکر کرو، لیکن جب دیکھو کہ لوگ دنیا پسند کو ترجیح دیتے
اور مقدم سمجھتے ہیں، بخل اور ہواوہوس ان پر حکمران ہے اور ہر شخص صرف اپنی ہی
رائے پسند کرتا ہے(اور ا س کے کان کسی دوسرے کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں)
تو اپنے آپ میں لگ جاؤ اور لوگوں کو چھوڑدو“(۱)
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ امر بمعروف اور نہی از منکر ارکانِ اسلام میں سے
اہم ترین مسئلہ ہے، جس کی جوابدہی سے کسی طرح بھی سبکدوشی ممکن نہیں، صرف ان
مواقع پر یہ دونوں فرائض ساقط ہوجاتے ہیں جب ان کے اثرانداز ہونے کی اُمید نہ ہو
اور لازمی وضروری شرائط ان میں موجود نہ ہوں(۲)
۱۰۶ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ
آمَنُوا شَھَادَةُ بَیْنِکُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ حِینَ
الْوَصِیَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ اٴَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ
إِنْ اٴَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَاٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةُ
الْمَوْتِ تَحْبِسُونَھُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلاَةِ فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ إِنْ
ارْتَبْتُمْ لاَنَشْتَرِی بِہِ ثَمَنًا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبیٰ وَلاَنَکْتُمُ
شَھَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِینَ
۱۰۷ فَإِنْ عُثِرَ عَلیٰ
اٴَنَّھُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ یَقُومَانِ مَقَامَھُمَا مِنْ
الَّذِینَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمْ الْاٴَوْلَیَانِ فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ
لَشَھَادَتُنَا اٴَحَقُّ مِنْ شَھَادَتِھِمَا وَمَا اعْتَدَیْنَا إِنَّا إِذًا
لَمِنَ الظَّالِمِینَ
۱۰۸ ذٰلِکَ اٴَدْنَی اٴَنْ
یَاٴْتُوا بِالشَّھَادَةِ عَلیٰ وَجْھِھَا اٴَوْ یَخَافُوا اٴَنْ تُرَدَّ
اٴَیْمَانٌ بَعْدَ اٴَیْمَانِھِمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا وَاللهُ
لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ
ترجمہ:
۱۰۶۔اے ایمان لانے والو! جب تم
سے کسی کی موت کا وقت آجائے تو وصیت کرتے وقت اپنے میں سے دوعادل افرادکو بلالو،
اگر تم سفرمیں ہو اور تمھیں موت آپہنچے(اور راستے میں تمھیں کوئی مسلمان نہ
ملے)تو اغیار میں سے دوفرد، اور اگر شہادت ادا کرتے وقت ان کے سچے ہونے میں شک
کرو تو انھیں نماز کے بعد روک رکھو تاکہ وہ یہ قسم کھائیں کہ ہم حق کو کسی چیز
کے بدلے فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، اگر چہ ہمارے رشتہ داروں کے بارے میں
ہو اور ہم خدائی شہادت کو نہیں چھپاتے کہ مبادا ہم گنہگاروں میں سے ہوجائیں ۔
۱۰۷۔اور اگر اطلاع حاصل ہوجائے
کہ وہ دونوں گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں( اور انہوں نے حق کو چھپایا ہے) تو دو اور
افراد کہ جن پر پہلے گواہوں نے ظلم کیا ہے ان کی جگہ قرار پائیں گے اور خدا کی
قسم کھائیں گے کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی کی نسبت حق کے زیادہ قریب ہے
اور ہم تجاوز و زیارتی کے مرتکب نہیں ہوئے اور اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم
ظالمین میں سے ہوں گے ۔
۱۰۸۔یہ کام زیادہ سبب بنے گا کہ
وہ حق کی گواہی دیں( اور خدا سے ڈریں) اور یا( لوگوں سے )ڈریںکہ (ان کا جھوٹ فاش
ہوجائے گا اور) ان کی قسموں کی جگہ دوسروں قسمیں لے لیں گی اور خدا (کی مخالفت)
سے ڈرو اور کان دھر کر بات سنو اور خدا فاسقین کی ہدایت نہیں کرتا ۔
شان نزول
مجمع البیان اور بعض دوسری
تفاسیر میں درج بالا آیات کی شان نزول کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ مسلمانوں میں
سے ”ابن ابی ماریہ“ نامی ایک شخص دو عرب عیسائیوں کی ہمراہی میں جن کے نام
”تمیم“ اور ”عدی“ تھے اور وہ دونوں بھائی تھے، تجارت کے ارادے سے مدینہ سے نکلا
۔ اثنائے راہ میں ”ابن ابی ماریہ“ جو مسلمان تھا بیمار ہوگیا اس نے وصیت نامہ
لکھا اور اُسے اپنے سامان میں چھپا دیا اور اپنا مال اپنے دو ہمسفر عیسائیوں کے
سپرد کرتے ہوئے وصیت کی کہ وہ اسے اس کے رشتہ داروں تک پہنچادیں وہ مرگیا ۔ اُس
کے ہمسفر دونوں افراد نے اس کا مال و اسباب کھولا اور اس میں سے گراں قیمت اور
زیادہ اہم چیزیں اٹھالیں اور باقی مال وارثوں کو پہنچادیا ۔ وارثوں نے جب سامان
کھولا تو انھیں اس میں اُن چیزوں میں سے جو ”ابن ابی ماریہ“ اپنے ساتھ لے گیا
تھا، کچھ چیزیں نہ ملیں ۔ اچانک اُن کی نظر وصیت نامے پر پڑی ۔ انہوں نے دیکھا
کہ تمام چوری شدہ مال کی تفصیل اس میں درج ہے ۔ انہوں نے اُن دو ہمسفر عیسائیوں
کے سامنے ماجرا پیش کیا ۔ انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ اُس نے ہمیں
دیا وہ ہم نے تمھارے سپرد کردیا ۔ مجبوراً انہوں نے پیغمبر سے شکایت کی توزیر
نظر آیات نازل ہوئیں جن میں اس سلسلے میں حکم بیان کیا گیا ۔
لیکن اس شان نزول سے کہ جو کتاب کافی میں بیان ہوئی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ
انہوں نے پہلے تو دوسرے مال و متاع کا انکار کیا اور معاملہ پیغمبر کی خدمت میں
لایا گیا ۔ پیغمبر کے پاس چونکہ ان دو افراد کے خلاف کوئی دلیل موجود نہیں تھی
تو اُنھیں قسم کھانے پر آمادہ کیا اور اُن سے قسم لینے کے بعد اُنھیں بَری
کردیا، لیکن کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ اُن دونوں آدمیوں کے پاس سے مالِ متنازعہ
میں سے کچھ مال مل گیا اور اس طرح سے اُن کا جھوٹ ثابت ہوگیا، ماجرا پیغمبر کی
خدمت میں عرض کیا گیا، پیغمبر انتظار میں ہی تھے کہ درج بالا آیات نازل ہوئیں ۔
اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ مرنے والے کے ورثا قسم کھائیں اور پھر آپ نے مال لے
کر ان کے سپُرد کردیا ۔
..............
۱۔تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۸۴-
۲۔اس سلسلے میں تفصیلی اسلامی
احکام جاننے کے لئے امام خمینیۺ کی توضیح المسائل کے امربالمعروف ونہی عن المنکر
کے باب کی طرف رجوع فرمائیں، نیز دیگر متعلق اسلامی کتب کا مطالعہ کریں(مترجم) ۔
اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے
ایک حفظِ حقوق
اسلام کے اہم ترین مسائل میں
سے ایک حفظِ حقوق اور لوگوں کے اموال اور مکمل عدالت اجتماعی کے اجراء کرنے کا
مسئلہ ہے ۔ اُوپر والی آیات اس حصہ سے مربوط احکام کا ایک گوشہ ہیں ۔
پہلے اس بناپر کہ وارثوں کے حقوق مرنے والے کے مال میں سے ضائع نہ ہوں اور
پسماندگان، یتیم اور چھوٹے بچوں کا حق پائمال نہ ہو، صاحب ایمان افراد کو حکم
دیتا ہے اور اُن سے یہ کہتا ہے: اے ایمان لانے والو! جب تم میں سے کسی کو موت
آگھیرے تو وصیت کرتے وقت دو عادل افراد کو گواہی کے لئے بلاؤ اور اپنا مال امانت
کے طور پر ورثا کے حوالے کرنے کے لئے ان کے سپرد کردو ( یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ
آمَنُوا شَھَادَةُ بَیْنِکُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ حِینَ
الْوَصِیَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ) ۔
یہاں عدل سے مراد وہی عدالت ہے جو گناہِ کبیرہ وغیرہ سے پرہیز کرنے کے معنی میں
ہے ۔ البتہ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ہے کہ عدالت سے مراد ”امور مالی میں
امانت“ اور ”عدم خیانت“ ہو مگر یہ کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہو کہ اس سے مزید
شرائط بھی اس سلسلے میں ضروری ہیں ۔
”منکم“ سے مراد یعنی تم مسلمانوں میں سے، غیر مسلم افراد کے مقابلے میں ہے کہ جس
کی طرف بعد والے جملے میں اشارہ ہوگا ۔
البتہ اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہاں عام شہادت کے متعلق بحث نہیں ہے، بلکہ
یہ وہ شہادت ہے جو وصیت کے ساتھ وابستہ ہے، یعنی یہ دونوں افراد وصی بھی ہیں اور
گواہ بھی ۔ باقی رہا یہ احتمال کہ یہاں پر دو گواہوں کے علاوہ ایک تیسرے شخص کا
وصی کے طور پر انتخاب بھی ضروری ہے تو وہ ظاہر آیت کے خلاف اور شانِ نزول کے
مخالف ہے، کیونکہ ہم شان نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ ابن ماریہ کے ہمسفر صرف دو
افراد تھے کہ جنھیں اُس نے اپنی میراث پر وصی اور گواہ اٹھہرایا تھا ۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے: اگر تم مسافرت میں ہو اور تم پر موت کی مصیت آپڑے (اور
مسلمانوں میں سے کوئی وصی اور شاہد تمھیں نہ مل سکے) تو اس مقصد کے لئے غیر
مسلمانوں میں سے دو افراد کا انتخاب کرلو (اٴَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ إِنْ
اٴَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَاٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةُ الْمَوْتِ ) ۔
اگرچہ اس آیت میں اس موضوع سے متعلق کوئی بات دکھائی نہیں دیتی کہ غیر مسلموں
میں سے وصی وشاہد کا انتخاب مسلمانوں میں سے کسی مسلمان کے نہ ملنے کے ساتھ
مشروط ہے البتہ یہ بات واضح ہے کہ مراد ایسی صورت میں ہی ہے جب مسلمان تک رسائی
نہ ہو اور مسافرت کی قید کا ذکر بھی اسی وجہ سے ہوا ہے ۔ اسی طرح کلمہ ”اٴو“
اگرچہ عام طور پر اختیار کے لئے آتا ہے لیکن یہاں بھی بہت سے دوسرے مواقع کی طرح
”ترتیب“ ہی منظور ہے، یعنی پہلے تومسلمانوں میں سے انتخاب ہونا چاہیے اور اگر یہ
ممکن نہ ہو تو پھر غیر مسلموں میں سے انتخاب کرو ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ غیر مسلموں سے یہاں صرف اہل کتاب یعنی یہود
ونصاریٰ ہی مراد ہیں کیونکہ اسلام مشرکوں اور بت پرستوں کی اہمیت کا کبھی قائل
نہیں ہوا ۔
پھر حکم دیتا ہے کہ اگر گواہی دینے کے وقت، رفعِ شک کی غرض سے، ان دونوں افراد
کو نماز کے بعد اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ الله کی قسم کھائیں
(تَحْبِسُونَھُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلاَةِ فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ إِنْ
ارْتَبْتُمْ) اور ان کی شہادت اس طرح سے ہونا چاہیے کہ وہ کہیں کہ: ہم اس بات پر
آمادہ نہیں ہیں کہ حق کو مادی منافع کی خاطر بیچ ڈالیں اور ناحق گواہی دیں اگرچہ
ہمارے رشتہ داروں اور عزیزوں کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو (لاَنَشْتَرِی بِہِ
ثَمَنًا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبیٰ ) اور ہم کبھی خدائی گواہی کو نہیں چھپائیں گے
کیونکہ اس طرح تو تم گنہگاروں میں سے ہوجائیں گے (وَلاَنَکْتُمُ شَھَادَةَ اللهِ
إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِینَ ) ۔
اس حقیقت پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ:
اوّلاً یہ تمام لوازمات شک وشبہ اور اتہام کی صورت میں ادائے شہادت کے سلسے میں
ہیں ۔
دوسرا یہ کہ حفاظت کے لئے ایک طرح کی محکم ضمانت ہے اور یہ بات شہادت عدلین کو
بغیر قسم کے قبول کرلینے کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ حکم عدم اتہام کے مواقع کے
ساتھ مربوط ہے، لہٰذا اس بناپر نہ تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی یہ
غیرمسلموں کے ساتھ مخصوص ہے (غور کیجیے) ۔
تیسرا یہ کہ نماز سے مراد غیر مسلموں کی صورت میں از روئے اصول وقاعدہ خود ان کی
ہی نماز ہونا چاہیے جو اُن میں توجّہ اور خوف خدا پیدا کرتی ہے، باقی رہا
مسلمانوں کے بارے میں تو ایک گروہ کا نظریہ تو یہ ہے کہ اس سے مراد خاص طور پر
نماز عصر ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی بعض روایات میں بھی اس بارے میں اشارہ
ہوا ہے لیکن آیت کا ظاہر مطلق ہے اور وہ ہر نماز کے لئے ہے، ہوسکتا ہے کہ ہماری
روایات میں خصوصیت کے ساتھ نماز عصر کا ذکر استحبابی پہلو رکھتا ہو کیونکہ نماز
عصر میں لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہوجاتے تھے ۔ علاوہ ازیں فیصلہ اور قضاوت کا
وقت بھی مسلمانوں کے نزدیک زیادہ تر یہی ہوتا تھا ۔
چوتھا یہ کہ شہادت کے لئے نماز کے وقت کا انتخاب اس بناپر تھا ہ کیونکہ اس موقع
پر انسان میں خدا خوفی کی روح بیدار ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے:
”اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ“(۱)
زمان ومکان کی حالت انسان کو حق کی طرف متوجہ کرتی ہے، یہاں تک کہ بعض فقہا نے
کہا ہے کہ اگر گواہی کے لئے مکہ میں ہوں تو بہتر ہے خصوصاًکعبہ کے پاس ”رکن“ و
”مقام“ کے درمیان کہ جو بہت ہی مقدس جگہ ہے اور اگر مدینہ میں ہوں تو پیغمبر کے
منبر کے پاس یہ شہادت ادا ہو ۔
بعد والی آیت میں ایسے مواقع کے متعلق گفتگو ہورہی ہے جب یہ ثابت ہوجائے کہ
دونوں گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے حق کے خلاف گواہی دی ہے جیسا
کہ آیت کی شان نزول میں بیان ہوا ہے ۔ ایسے موقع کے لئے حکم یہ ہے کہ: اگر یہ
معلوم ہوجائے کہ دونوں گواہ گناہ، جرم اور تعدی کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے
حق کو پامال کردیا ہے تو دوسرے دو آدمی اُن لوگوں میں سے لئے جائیں جب پر پہلے
گواہوں نے ظلم کیا ہے یعنی مرنے والے کے ورثا میں سے اور وہ اپنا حق ثابت کرنے
کے لئے گواہی دیں گے (فَإِنْ عُثِرَ عَلیٰ اٴَنَّھُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا
فَآخَرَانِ یَقُومَانِ مَقَامَھُمَا مِنْ الَّذِینَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمْ
الْاٴَوْلَیَانِ) ۔
مرحوم طبرسیۺ نے ”مجمع البیان“ میں کہا ہے کہ یہ آیت معنی اور اعراب کے لحاظ سے
پیچیدہ ترین اور مشکل ترین آیات قرآن میں سے ہے، لیکن دونکات کی طرف توجہ کرنے
سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ آیت اس قدر پیچیدہ بھی نہیں ہے ۔
پہلا نکتہ ہے کہ لفظ ”اثم“ (گناہ) کے قرینہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں
”اسْتَحَقَّ “سے مراد جرم اور دوسرے کے حق پر تجاوز ہے اور دوسرے یہ کہ ”اولیان“
یہاں ”اولان“ کے معنی میں ہے یعنی دو گواہ کہ جنھیں پہلے گواہی دینا چاہیے تھی
اور اب وہ راہ راست سے منحرف ہوگئے ہیں، بنابر یں آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ
اگر کوئی ایسی اطلاع مل جائے کہ پہلے والے دو گواہ غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں تو دوافراد
ان کی جگہ لے لیں گے یہ دو گواہ ان لوگوں میں ہوں گے کہ جن پر پہلے دو گواہوں نے
زیادتی اور تجاوز کیا ہے(۲)
آیت کے ذیل میں دوسرے دو گواہوں کی ذمہ داری یوں بیان کی گئی ہے: خدا کی قسم
کھائیں کہ ہماری گواہی پہلے دوافراد کی گواہی کی نسبت زیادہ صحیح اور حق کے
زیادہ قریب ہے اور تجاوز اور کسی ظلم وستم کے مرتکب نہیں ہوں گے اور اگر ہم ایسا
کریں گے تو ظالموں میں سے قرار پائیں گے (فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ لَشَھَادَتُنَا
اٴَحَقُّ مِنْ شَھَادَتِھِمَا وَمَا اعْتَدَیْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ
الظَّالِمِینَ) ۔
حقیقت میں مرنے والے کے اولیاء پہلے سے اس کے مال ومتاع کے بارے میں مسافرت کے
وقت یا مسافرت کے علاوہ جو کچھ جانتے ہیں اس کی بنیاد پر گواہی دیں گے کہ پہلے
دو گواہ ظلم وخیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ گواہی مشاہدہ وحس کی بناپر ہے نہ
کہ حدس وقرائن کی رو سے ۔
زیر بحث آیت کے آخر میں در حقیقت ان احکام کا فلسفہ بیان ہورہا ہے جو شہادت کے
سلسلے میں پہلی آیات میں گزر چکے ہیں کہ اگر اُوپر والے حکم کے مطابق عمل ہو
یعنی دونوں گواہوں کو نماز کے بعد جماعت کی موجودگی میں گواہی کے لئے طلب کریں
اور ان کی خیانت ظاہر ہونے کی صورت میں دوسرے افراد ورثاء میں سے ان کی جگہ لے
لیں اور حق کو واضح کریں تو یہ لائحہ عمل اس بات کا سبب بنے گا وہ گواہ گواہی کے
معاملے میں غور وخوض سے کام لیں گے اور خدا کے خوف یا خلق خدا کے ڈر سے واقع کے
مطابق گواہی دیں گے (ذٰلِکَ اٴَدْنَی اٴَنْ یَاٴْتُوا بِالشَّھَادَةِ عَلیٰ
وَجْھِھَا اٴَوْ یَخَافُوا اٴَنْ تُرَدَّ اٴَیْمَانٌ بَعْدَ اٴَیْمَانِھِمْ) ۔
در حقیقت یہ کام اس بات کا سبب بنے گا کہ اُن میں خدا کے سامنے یا بندگانِ خدا
کے سامنے زیادہ سے زیادہ بازپُرس کا خوف پیدا ہوجائے گا اور وہ حق کے مرکز سے
روگرداں نہ ہوں ۔
آیت کے آخر میں تمام گذشتہ احکام کی تاکید کے لئے ایک حکم دیا گیا ہے:
پرہیزگاری اختیار کرو اور فرمان خدا کان لگا کر سنو اور یہ جان لو کہ خدا فاسق
گروہ کو ہدایت نہیں کرتا (وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا وَاللهُ لاَیَھْدِی
الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ) ۔
..............
۱۔سورہٴ عنکبوت، آیت۴۵-
۲۔اس بناپر اعراب کے لحاظ سے
”آخران“ مبتدا ہے اور ”یَقُومَانِ مَقَامَھُمَا “ خبر ہے اور ”اولیان“ ”استحق“
کا فاعل ہے ”الَّذِینَ“ ورثاء کے معنی میں ہے جن پر ظلم ہوا ہے اور جارومجرور
”مِنَ الَّذِینَ “کا ”اخران“ کی صفت ہوگا (غور کیجیے)
|
No comments:
Post a Comment