Tuesday, April 9, 2019

بچوں کا اُردوادب اور سائبر اسپیس


بچوں کا اُردوادب اور سائبر اسپیس
ڈاکٹرسیّدمجیب ظفرانوارحمیدی
تحریک پاکستان کے دو بنیادی پہلو تھے ایک نظریاتی جذبۂ  لسانی جس کی بنا پر ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی گئی تھی اس لیے وہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اردو زبان نہ ہوتی تو پاکستان نہ بنتا اور اگر یہ نہ رہی تو ملک کے وجود کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اردو زبان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایک خوبصورت ترین زبان ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے لیکن افسوس آج ہمارے ملک میں بچوں سے کہا جاتا ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرو۔کانفرنس کی صدارت کے فرائض سینئر صحافی اور ممتاز مصنف محمود شام نے انجام دیے جبکہ دیگر نمایاں شخصیات میں ممتاز اسکالر اور مینجمنٹ ٹرینر سیدّ نصرتعلی،ٹیلی ویژن کی مشہور اداکارہ عذرا منصور،مشہور شاعرہ سبین سیف، اٹلانٹس پبلشرز کے سربراہ فاروق احمد اور تھیسپیان تھیٹر کے ڈائریکٹر و اداکار فیصل شامل تھے ،کانفرنس کا اہتمام یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسرز زرتاشہ عمران اور حسن آفتاب نے کیا تھا۔ماجو میں اردو کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر مجلس مذاکرہ کے علاوہ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسین منٹو کی شخصیت پر ایک تھیٹر بھی پیش کیا گیا جس کو حاضرین نے بے حد سراہا۔اس موقع پر یونیورسٹی کی راہداری میں اردو ادب کے نامور شعرا، ادیب، نقاد،افسانہ نگار اور دانشوروں کی پچاس کے قریب تصاویر آویزاں کی گئی تھیں جن پر ان کا مختصر تعارف بھی تحریر کیا گیا تھاجبکہ اردو کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر طلبہ کی جانب سے اردو میں کی جانے والی فن خطاطی کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔صدر مجلس محمود شام نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی نسل میں احساس زیاں پایا جاتا ہے کیونکہ ہماری نسل نے اردو زبان کی ترویج پر توجہ نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ اب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا دور ہے مگر ہم نے اس بھی فائدہ نہیں اٹھایا ہے انگریزی ادب سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر شیکسپئیر کو دنیا بھر میں جس طرح متعارف کرایا گیا ہے وہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک بہترین مثال ہے۔محمود شام نے کہا کہ اردو زبان کی ترویج کے لیے ویب سائٹ کی سہولت سے بھر پور استفادہ کیا جاسکتا ہے اردو زبان اب پاکستان ہی کی زبان نہیں ہے اب اس کی نئی نئی بستیاں امریکا،کنیڈا،جاپان، برطانیہ، آسٹریلیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں آباد ہو گئی ہیں جہاں تواتر کے ساتھ مشاعرے، ڈرامے، افسانے پڑھنے اور دیگر ادبی پروگراموں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
          سائبر اسپیس اور اردو تدریس:اکیسویں صدی کی یہ پہلی دہائی ہے لیکن اس برق رفتار دنیا میں سرعت سے بدلتی تہذیبی اور لسانی اقدار کو دیکھ کر اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اقتصاد اور طاقت و قوت کے دوش پر سوار مختلف اقوام اور ممالک کے لوگ اگر اپنی تہذیبی شناخت اورلسانی اقدار کو مضبوطی سے تھامے نہ رہیں تو عالمی نشیب وفراز کے ہلکے جھٹکے بھی انھیں گہری کھائی میں پہنچا دیں گے۔ایسے وقت میں جب تمام اقوام و ملل اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداںہیں وہاں زبان و ادب پر گفتگو چہ معنی دارد؟۔ مگر سچائی یہ ہے جی سی یونیورسٹی ،فیصل آباد نے اردو تحقیق وتنقید کو عالمی تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی سمت میں جو پہل کی ہے وہ قابل ستائش ہے کیونکہ صارفیت (Consumerism) کے اس دور میں دنیا نہ صرف ملٹی لنگول ہوتی جارہی ہے بلکہ علاقائی زبانوں کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے اور اردو کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے کسی علاقے سے جوڑ کر نہیں دیکھا جاسکتا ۔بر صغیر کی وادیوں سے نکل کر سمندر کے دوسرے کناروں پر بسے ممالک میں بھی اس زبان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔تقریباً تمام بر اعظموں میں اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ رسم خط جاننے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
          مگر مقام شکر ہے کہ زمانے کے تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اردو کے اہل نظر اور صاحب بصیرت ادیبوں اور مفکروں نے ایسے لوگوں کے لیے جو اردو لکھ پڑھ نہیں سکتے ، مگر سمجھ اور بول سکتے ہیں ،جن کاذہنی معیار بہت بلند ہوتا ہے اور ان میں قوت اخذ بھی زیادہ ہوتی ہے ،اُن کے لیے جدید سائنسی اصولوں کے تحت بیش قیمت کتابیں لکھی ہیں۔مگر جس طرح دنیا کی کوئی چیز اپنے آپ میں مکمل نہیں، اسی طرح یہ کتابیں بھی کمی کا احساس دلاتی ہیں۔باوجود اس کے وہ اس ضرورت کو کسی نہ کسی طرح پوری کر رہی ہیں۔اس لیے ان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔لیکن کتابو ں کے حوالے سے اس مقالے میں بحث نہیں کی گئی ہے۔
          یہاں میں علم کے اس سمندر کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو زمین میں نہیں خلاؤں میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔یہ سمندر آج کی دنیا کی ایسی ضرورت بن گیا ہے کہ اگر اس کی موجوں کے تلاطم سے کوئی تہذیب ،خطہ، ملک یاقوم آشنا نہ ہوئی تو اس گلوبل ولیج میں شاید اس کی حصہ داری نہ رہے۔جی ہاں! سٹیلائٹ کے نظام پر مبنی تیزی سے گامزن دنیا کی تمام تر معلومات اور تمام تر امکانات اسی سمندر کی گہرائیوں میں پنہاں ہیں ۔ اس سمندر سے موتی وہی چُن کر لائیں گے جو غوّاص اور شناور ہوں گے ہیں ۔عہد حاضر کی تمام ترقی اورتنزلی اسی سے منسوب ہے ۔لیکن گھبرانے کی بھی کوئی بات نہیں کیونکہ اس مضطرب اور تلاطم خیز سمندر تک رسائی آپ کی Finger Tips(انگشت کی پوروں) سے ہوسکتی ہے۔ کمپیوٹر کے Key Board پر انگشت رکھ کر دنیا اور دنیا کے تمام علوم و فنون اور ممکنہ معلومات آپ گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہی سائبر اسپیس ہے اور یہی خلاؤں میں علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمند ر ہے۔سائبر اسپیس کی جو تعریف کی گئی ہے وہ کچھ اس طرح ہے:
"Cyberspace" is a term coined by a science fiction writer to describe the place where data is stored, transformed and communicated. Its meaning has broadened to include the full array of computer-mediated communications and interactions."  
یعنی سائبراسپیس عہد حاضر کا وہ خزانہ ہے جہاں علوم و فنون اورمعلومات کا ذخیر ہ پنہاں ہے۔یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس سے ہم آہنگی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔لیکن اردو زبان اور اہل زبان کے حوالے سے اگر سائبر اسپیس کا جائزہ لیں تو بر وقت یہ شعر یاد آتا ہے:
اے موج بلا ہلکے سے ذرا ،دو چار تھپیڑے ان کو بھی
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
 جی ہاں!ہم نے سائبر اسپیس کے امکانات کو خاطر میں نہیں لایا اسی لیے اردو تدریس کے حوالے سے جب کسی ایسے ویب سائٹ کی تلاش کرتے ہیں جو اردو زبان سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں پورے طور پر معاون ہو توبڑی مایوسی ہوتی ہے۔(میں ان ویب سائٹس کی بات کر رہا ہوں جن کا Free access ہے )البتہ کئی Paid sitesضرور موجود ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ حروف تہجی کی شناخت ، لفظوں اور جملوں کی ساخت، قواعد اور فرہنگ سب کچھ انھوں نے مہیا کرایا ہے۔ مگر میں نے ان سائٹس کواس مطالعے میں شامل نہیں کیا ہے۔کیونکہ اردو زبان کی ترویج اور فروغ کے نام پر دنیا بھر میں کئی ایسے ادارے موجود ہیں جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس سمت میں کام کر رہے ہوں گے،یا کر لینا چاہیے تھا ۔مگر ایسا نہیں ہے۔ ہندستان میں انجمن ترقی اردو ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان وغیرہ قومی سطح کے ادارے ہیں اور صوبائی سطح پر مختلف اردو اکیڈمیاں موجود ہیں مگر انھوں نے اس سمت میں کوئی کوشش نہیں کی ۔ ان کے ویب سائٹس تو موجود ہیں مگر اکثر تو ایسے ہیں جو مہینوں تک Update بھی نہیں ہوتے۔پاکستان میں البتہ اس سمت میں قابلِ قدرکوششیں ہوئی ہیں اور کئی ایسے سائٹس ہیں جو اردو سکھانے میں ابتدائی سطح پر معاون ہیں ،لیکن یہ بھی بہت دور تک طالب علموں کا ساتھ نہیں دے پاتے۔محض چند اسباق اور حروف تہجی کی شناخت تک محدود ہیں۔
          بی بی سی کاخود مختار ادارہ جو خبر رسانی کے سبب پوری دنیا میں اپنی شناخت اور اہمیت رکھتا ہے ، اس کے سائٹس پر بھی Urdu learning کی سہولت موجود ہے لیکن یہاں بھی روز مرہ ضرورتوں کے مد نظر محدود مکالمے اور حروف تہجی کی شناخت کے سوا اگر کچھ ہے تو Link Sites ہیں ۔لیکن اس سائٹس پر تجزیاتی گفتگو سے قبل بی بی سی کے Home Page پر جو چند جملے اردو زبان کے حوالے سے لکھے گئے ہیں اُن پر غور خوض کرنا زیادہ مناسب ہے تاکہ ہم اپنی زبان ،اردو زبان کی وسعت کا اندازہ بھی کرسکیں۔ملاحظہ فرمائیں:
Why learn Urdu?
               1 " It is a living language spoken by 490 million             people around the world.
              2 " The Urdu community in the UK numbers                     about one million speakers.
    3 " It is not just a practical language spoken on a                        daily basis, but one that produced  scholarships and         poetry.     
         
          پہلے جملے میں بی بی سی نے جو اعداد و شماردی ہے ،وہ قابل غور ہے کیونکہ ہر طرف اور کم از کم ہندستا ن میں باربار یہ بات کہی جاتی ہے کہ اردو زبان ختم ہو رہی ہے اور اس کا مستقبل بہت روشن نہیں ۔آپ سب جانتے ہیں کہ زبان کے زندہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس کے بولنے والے کتنے ہیں ۔ہم اردو بولنے والے جب بھی اعداد و شمار کی بات کرتے ہیں تب یا تو سرحدوں کی لکیروں میں کھو جاتے ہیں یا اپنے ملک کے محدودرواج اور حکومت کی بے بنیاداعداد و شمار پر صبر وسکون کر لیتے ہیں۔حالانکہ حقیقت بالکل اس کے بر عکس ہے۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیامیں انگریزی کے بعد جس زبان نے وسیع علاقوں میں ہجرت کی ہے وہ اردو ہے ۔یعنی عالمی سطح پر اردو کو اس اعتبار سے دوسرا مقام حاصل ہے۔اب ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ بی بی سی کے مطابق ارود بولنے والوں کی تعداداگر 490 million ہے تو اس میں سے ایک ڈیڑھ سو ملین ایسے ضرور ہوں گے جو رسم خط سے واقف نہیں ہیں ۔ایسے لوگوں کی تعداد ہندستان میں اور مغربی اور یوروپی ممالک میں زیادہ ہیں ۔پاکستان کے بارے میں مجھے علم نہیں۔لیکن مغربی اور یوروپی ممالک میں نئی نسل کی ایک بڑی تعداد ہے جو اردو تو بولتی ہے مگر پڑھ لکھ نہیں سکتی۔یہ طبقہ جدید طرز تعلیم سے ہم آہنگ ہے ۔معمولی معلومات کے لیے بھی نئی نسل کے بچے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں ۔انٹرنیٹ ان کے تدریسی نظام کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔اس صورت حال کو ذہن میں رکھیں اور سائبر اسپیس کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے انٹرنیٹ پر اردو Learningکے لیے عربی فارسیLearning سائٹ کے مقابلے کا بھی کوئی سائٹ نہیں ہے۔ Google searchکے ذریعے جتنے سائٹ ہمیں ملے ہیں ، انہی بنیادوں پر میں یہ بات کہہ رہاہوں اور ان کی فہرست بھی مضمون کے آخر میں شامل ہے۔فہرست اگرچہ طویل ہے مگر زیادہ تر سائٹس Similarہیں ۔یا Link Sites ہیں۔ Google search میں جب آپ جائیں گے تو حیرت انگیز طور پر اکتالیس لاکھ سائٹ ملیں گے۔ ان تمام سائٹس کو ایک ایک کر کے دیکھنا ایک مشکل کام ہے ۔ لیکن TRPمیں جوسائٹس اچھے ہیں۔انہی کو بنیاد بنا کر ہم نے یہ مطالعہ کیا ہے اور Ranmomly بعض ایسے سائٹس بھی دیکھے ہیں جو Rating میں بہت نیچے ہیں۔ یہاں چند اہم سائٹس پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔
 :bbc.co.uk/languages/other/guide/urduاس سائٹ پر حروف تہجی کو Audio support اور رومن اسکرپٹ کے ذریعے درج کیا گیا ہے ۔لیکن صرف مفرد حرف کو بتایا گیا ، مرب حروف کا ذکر تک نہیں ہے۔(1a)اس کے بعد Listen & learn: Urdu Key Phrsesکے تحت روزمرہ ضرورت میں پیش آنے والے جملے درج ہیں ان جملوں کو رومن رسم خط میں لکھنے کے ساتھ ان کا انگریزی میں متبادل بھی درج کیا گیا ہے(1b)۔
:userskynet.be یہ ایک ٹرائی لینگول سائٹ ہے جو Self learning اصول کے تحتDevelop کیا گیا ہے۔ اس میں پہلے حروف تہجی درج ہیں(2a) ۔ حروف کی مختلف شکلوں کو, Medial,Initial, , Finalاور Detachedکی درجہ بندی کرتے ہوئے وضاحت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔( 2b)بعد ازاں الگ الگ حروف کو جوڑ کر لفظ بنانے کی ترکیب بتائی گئی ہے(2c) اور تلفظ کو ہندی ،انگلش میں بھی بتایا گیا ہے۔  اس کے بعدshort vowel, long vowelاور Special sign جیسے جزم ، ساکن ، ہمزہ وغیرہ کو بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔اور اس کے بعد اسباق بھی دیے گئے ہیں ۔پہلے سبق میں چار خانوں کے تحت جملے بنانے کی ترکیب اور اس کا مفہوم انگلش میں دیا گیا ہے جسے سُن کر بھی سمجھااور پڑھا جا سکتا ہے۔جملے بنانے کی ترکیب ایسی ہے جو غیر اردو داں کے لیے بھی مفید ہے۔ سائٹ کی تیاری میں جدید تکنیک کا استعمال اس طرح کیا گیا ہے کہ تمام جملے اردو میں لکھے گئے ہیں لیکن جب کسی جملے پر کرسر رکھتے ہیں تو وہاں رومن اسکرپٹ میں وہی جملہ نظر آتا ہے اور اس کا ترجمہ کچھ اس انداز سے کیا گیا ہے جملے کی ساخت میں اسمائ،افعال،اور ضمائر کا استعمال آسانی سے سمجھ میں آجائے مثلاً:(2d)
1.      آداب عرض جناب۔                  Greeting Sir! Hello Sir!     
2.      میں یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں Universty/in/Professor/am    I/
 I am Professor in the University           
 باقی اسباق ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں ۔ بہر کیف اگر یہ سائٹ اسی Sprit کے ساتھ Upload ہو گیا تو یہ بہت بہتر سائٹ ہوگا۔
ukindia.com : اس سائٹ میں پینٹ برش کی مدد سے حروف جس طرح لکھے گئے ہیں وہ ذوق جمال کو مجروح کرتے ہیں ضمیمہ نمبر۳(3a)۔اس کے علاوہ حروف میں یکسانیت نہیں آپائی ہے۔اعراب کا اہتمام اور مختلف حروف سے لفظوں کی ساخت بہت بہتر طور پر نہیں سمجھائے گئے ہیںاور نہ ہی Audio supportکے ذریعے ان آوازوں سے آشنا کرانے کا اہتمام ہے۔قابل توجہ امر یہ ہے کہ لفظوں کے لکھنے میں بھی غلطیاں راہ پا گئی ہیں۔ مثلاً فیئر کو فئر لکھا گیا ہے(3b) اس میں شوشہ غائب ہے اور ہاف کو شوشہ کے ساتھ لکھا گیا ہے (4c)۔یہ ایک مثال ہے مگر ایسی کئی غلطیاں موجود ہیں ۔اسی طرح تحریرمیں حروف کی Placingکا بھی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔) 4d)اور جہاں بڑے جملے لکھے گئے ہیں وہاں رومن حروف کو بھی اُلٹا لکھا گیا ہے(4e)۔مثال ملاحظہ فرمائیں:
وکّی               سوچ             د                 وِڈیو       اون
i.k.k.i.v  ch.i.v.s     the           o.y.d.io  n.o
آپ غور کریں کہ یہاں جو متبادل دیے گئے ہیں وہ کیسے ان حروف کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔بہر کیف یہ ایک کوشش تو ضرور ہے مگر کیا ایسی کوششیں مثبت ہیں ؟ اس سوال اس کانفرنس کے لیے چھوڑتا ہوں۔بہر کیف یہ سائٹ کئی اسباق پر مشتمل ہے جن کو Zipped format کے تحت رکھا گیا ہے۔
pakdata.com : یہ سائٹ اس اعتبار سے بہت بہتر ہے کہ اس میں نستعلیق کا استعمال ہوا ہے ۔ نستعلیق کا فونٹ کمپیوٹر کی اردو تحریر کے لیے سب سے دلکش ہے۔pakdataکے service providerحالانکہ اردو نستعلیق اور اردو سافٹ وئیر میں Poineer ہیں۔ ان کے پاس یہ صلاحیتیں موجود ہیں کہ وہ بہتر سے بہتر اردو Learning سائٹ بنا سکتے ہیں۔انھوں نے جو Accessable link رکھا ہے وہ بہت جدید طرز اور پُر کشش نستعلیق رسم خط میں موجود ہے ۔ تمام حروف تہجی کو خوبصورت اور مزین طریقہ سے Home page پر رکھا گیا ہے ضمیمہ نمبر۴ اور کسی بھی حرف پر کلک کرنے سے وہ حرف بلیک بورڈ پر لکھتے ہوئے دکھائی دے گا ۔(4a) اس عمل سے نو آموز کو آسانی ہوتی ہے وہ حروف کو لکھنے کے صحیح طریقے سے واقف بھی ہو جاتا ہے۔اوراسی صفحے پر دوسری جانب تصویر کی مدد سے لفظ اور معنی کو سمجھانے کو کامیاب کو شش کی گئی ہے۔لیکن اس کے آگے Free access اسباق نہیں ہیں ۔ البتہ ان کے سائٹ پر قواعد اور لغت کے سافٹ ورژن موجود ہیں جنھیں خرید کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
 :www.languageshome.com یہ سائٹ مختلف زبانوں کے حوالے سے بنایا گیا ۔اس سائٹ میں کئی ہندستانی زبانیں شامل ہیں۔ Learn Urdu کے حوالے سے جو پہلا صفحہ ہے، اس کی جانب خصوصی توجہ چاہتا ہوں ، اس صفحے پر English Urdu ضمیمہ نمبر۵کے عنوان سے رومن اسکرپٹ میں انگلش کے الفاظ اور جملے لکھے گئے ہیں اور دوسری جانب اس کے معانی دیے گئے ہیں ۔اس سائٹ کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اغلاط سے بھر پور ہے۔چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
         اردو ترجمہ                                          انگلش کا جملہ
He eats an apple     Woh sev khaatein hai                   
 Woh khaa chukhey     He has eaten       
صرف ان دو جملوں کو دیکھیں تو پہلے جملے میں اردو کے ” وہ “ کو ہندی کے ”وَہ “ کا تلفظ دیا گیا ہے۔اور ہندی ہی کی طرح ’ سیب ‘ کو ” سیو “ لکھا گیا ہے اور ’چُکے ‘ کو ’چھکے ‘ لکھا گیا ہے اور مثالیں دیکھیں) (5a۔
          ان کے علاوہ کچھ اسلامی سائٹ ہیں جو عربی ، اردو سیکھنے اور سکھانے کے اعتبار سے اہم ہیں ۔مگر ان کی بھی لیمیٹشن ہیں۔مختصریہ کہ اردو Learning کے بہت سے سائٹ ہیں ،جن کی تعداد ہزاروں میں ہیں مگر زیادہ تر سائٹ محض حرف اور زبان کی بات کر کے سرسری گزر جاتے ہیں*یا وہ Group chat کے سائٹ ہیں یا معمولی انفارمیشن کو Carry کرتے ہیں ۔ جدیدتر ٹکنالوجی کا استعمال اور انٹرنیٹ کے ذریعے اردو زبان کے سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں جو تساہلی برتی جارہی ہے وہ باعث تشویش ہے۔ میں فارسی زبان سیکھنے کے لیے بنائے گئے ایک سائٹ کی مثال دینا چاہوں گا۔easypersian.com کے نام کا سائٹ ۵۷ اسباق پر مشتمل ہے اور Free access ہے ، جو انگریزی زبان کے ذریعے فارسی سیکھنے کا بہترین سائٹ ہے ۔ اس میں Audioکی مدد سے تلفظ اور ادائیگی پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔اس سائٹ کو اسباق کے لحاظ سے ہفتوں میں تقسیم کیا گیاہے۔زبان سیکھنے میں جو بھی عناصر معاون ہوتے ہیں حتی الامکان ان کا خیال رکھا گیاہے۔اردو میں بھی اس طرح کے سائٹ بنانے کی ضرورت ہے۔ایسے سائٹ کی موجودگی سے نئی نسل کی بڑی آبادی اس سے مستفید ہوسکے گی۔
امکانات اور تجاویز:
اس وسیلے کو اردو ادب اور زبان دونوں حوالوں سے استعمال کرنے کی بہت زیادہ گنجائشیں موجود ہیں ۔ادب کے حوالے سے تو جو کام اب تک کیے گئے ہیں یا جو کچھ سائبر اسپیس میں موجود ہیں وہ تشفی بخش ہیں۔اردو ادب کی Digital library ، ادبی و تہذیبی رسالے ، اخبارات اور کتابیں وغیرہ کے مختلف سائٹس موجود ہیں ۔
لیکن اسے آخری منزل نہ تصور کیاجائے کیونکہ:
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ ترے زمان و مکاں اور بھی ہیں
علامہ اقبال کی دور بینی ملاحظہ فرمائیں کہ جب انھوں نے یہ کہا تھا کہ” تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں “ تو ان کے سامنے کیا تصورات رہے ہوں گے ۔( اس وقت تو انسان چاند پہ بھی نہیں پہنچ سکا تھا) لیکن اگر آج وہ ہوتے تو یقینا فضا و
¿ں کی جگہ خلائیں کہتے ۔اب اگر ہمیں رو بہ عروج رہنا ہے تو خلاو ¿ں کی سیر توضروری ہی مگر اس بھی زیادہ اس کا مطالعہ اور اس کی تحقیق ضروری ہے۔ اس لیے اس سمت میں مستقل کام کرنے کی ضرورت تاکہ اردو ہر میڈیم سے ہم آہنگ رہے۔

           زبان کی تدریس کے لیے سائبر اسپیس کے استعمال کی جہاں تک بات ہے تو یہاں وسائل بے شمار ہیں اور طریقے بھی ہزار ہیں ۔آڈیو ، ویڈیو اور ڈیجیٹل تکنیک کی مدد سے ہم ان مسائل پر بھی قابو پاسکتے ہیں جو عام طور پر نو آموز طلبا کو پڑھانے میں پیش آتے ہیں۔ ان میں سے دو مسائل بہت ہی اہم ہیں۔
۱۔       تلفظ کا مسئلہ
۲۔      رسم خط کا مسئلہ

* سرسری تم جہان سے گذرے  ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
تلفظ کا مسئلہ :یوں تو ہر نئے سیکھنے والے کے لیے رسم خط ایک مسئلہ ہوتا ہے مگر اردو رسم خط کے جو مسائل ہیں ان کی نوعیت جداگانہ ہے ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر زبان کی اپنی مخصوص آوازیں ہوتی ہیں اور یہی آوازیں لفظ بن کر مخصوص تہذیب کی نمائندگی کرتی ہیں۔جن طالب علموں کو ذہن میں رکھ کر تلفظ کے مسئلے کا ذکر کر رہا ہوں وہ بہت حد تک اس مخصوص تہذیب اور اس زبان کی آوازوں سے واقف ہوتے ہیں البتہ چند آوازیں ایسی ہیں جن میں تمیز کرنا ان کے لیے بہت مشکل ہے ۔جن کی کئی وجہیں ہوسکتی ہیں ۔
۱۔       ایسے طالب علم عام طور پر ج اور ز کی آوازوں کو تو ضرو ر جانتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان کی ادائیگی وہ صحیح طور پر نہیں کر پاتے یا ان میں تمیز نہیں کر سکتے ۔لیکن یہ دشواری تمام طالب علموںکے ساتھ نہیں کیونکہ ان میں سے تقریباًسبھی ایسے ہوتے ہیں جو انگریزی جانتے ہیں ۔اس لیے J اور Z کے فرق کو محسوس تو کرتے ہیں مگر اسے اپنی گفتگو میں کس قدر برتتے ہیں یہ الگ مسئلہ ہے ۔ اردو رسم خط میں Z کی آواز کے لیے بالترتیب ذ ۔ ز۔ ض۔ظ چار حروف ہیں ۔ یہ آوازیں ان کے لیے کیوں کر پریشان کن ہوتی ہیں اس پہلو پر غور فرمائیں ۔ ان چاروں آوازوں (ذ ۔ ز۔ ض۔ظ) کے فرق کو ہم اور آپ بخوبی اپنی تحریروں میں ملحوظ رکھتے ہیں مگر کیا بول چال کی زبان میںخود اردو والے (جن کی مادری زبان اردو ہے) ان آوازں کے فرق کو نمایاں کر پاتے ہیں ؟۔میں قطعی طور پرنفی یا اثبات میں کچھ نہیں کہتا مگر آپ کسی ایسے جملے کو لیں جس میں یہ مختلف آوازیں شامل ہوں مثلاً ” استادا گر اپنی ذمہ داریوں اور اپنے فرائض کو سمجھےں تو مجال ہے کہ کوئی نظر بھی اُٹھا سکے یا باز پرسی کی ہمت کرے۔“ آپ خود اس جملے کو دُہرائیں ۔اس جملے میں ذ ، ز، ض ، ظ ،اور ج یہ پانچوں آوازیں موجود ہیں مگر بیشتر حضرات کے تلفظ سے سوائے ج اور ز کے کوئی فرق نمایاں نہیںہوگا۔
 ۲۔     اسی طرح ع کی آواز کو دیکھیں جب ہم جمعہ ، وعدہ ،طبیعت ، جمع وغیرہ بولتے ہیں تو کیا ع کی آواز کو پورے طور پر واضح کر پاتے ہیں ۔
۳۔      یا خطاب ، خطا ، خط ، اور تماشہ ،تمام ، تاریک وغیرہ میں تلفظ کے لحاظ سے ط اور ت میں کیا فرق کرتے ہیں ؟ نئے سیکھنے والوں کے لیے یہی پریشانی کا سبب ہوتا ہے کیونکہ جو چیزیں Practice میں ہوتی ہیں ان کا سیکھنا اور سکھانا آسان ہے لیکن جو Practiceمیں نہیں ہیں ان کا سیکھنا سکھانا دونوں مشکل ہے ۔اسی لیے نو خواندہ اور نو آموز طلبہ اکثر پوچھتے ہیں کہ ایک ہی حرف کے لیے اتنے حروف کی کیا ضرورت ہے ؟انھیں مطمئن کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب تک اُن کو اِن آوازوں کے طریقِ ادائیگی اور مخارج کی باریکیوں سے آپ بخوبی واقف نہ کرائیں گے وہ مطمئن نہیں ہوں گے اور یہی باریکیاں اردو کی نزاکتیں بھی ہیں اور حُسن بھی لہٰذا یہ مسئلہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے ۔اگر ہم اردو میں بھی انگریزی کی طرح Spelling کے طریقے کو رائج کر سکیں تو مناسب ہوگا جس طرح انگریزی پڑھتے وقت طالب علم stationاور Passion کے سلسلے میں اساتذہ سے یہ سوال نہیں کرتے tionبھی اور ssion بھی ”شن “ کیسے پڑھا جاتا ہے۔اگر اردو میں یہ رواج مستحکم ہو گئی تو یہاں بھی سوالات کم ہونے لگیں گے۔ انٹر نیٹ پر بھی ابتدا میں ہی اس بات کی وضاحت کر دی جائے تو طلبا کا ذہن شروع سے بن جائے گا۔ساتھ ہی سمعی اور بصر ی امدا د کا استعمال کرنے سے خفیف سے خفیف فرق کو بخوبی سمجھا یاجاسکتا ہے۔اور اگر نقشے یا تصویر کی مدد سے مخارج کی بھی نشاندہی کی جائے توتلفظ کا مسئلہ بہت حد تک کم ہو سکتا ہے۔
رسم خط کا مسئلہ: اردو رسمِ خط کے سلسلے میں بھی اسی طرح کی پریشانیا ں سامنے آتی ہیں مثلاً زبا ن کی تدریس میں بولنے ، سننے اور پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا عمل بھی نہایت اہم ہے جس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے ۔اردو چونکہ مختلف طریقوں سے لکھی جاتی ہے مثلاً خط ِ نسخ ، خط ِ شکستہ اور نستعلیق وغیرہ ساتھ ہی کتاب کی تحریر اور ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میں بھی کافی فرق ہوتا ہے جو طلبہ کے لیے پریشانی کا سبب ہوتا ہے ۔
۱۔       اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ الفاظ کی شناخت کا بھی ہے کیونکہ وہ جس رسم ِ خط کو جانتے ہیں میری مراد ہندی اور انگریزی سے ہے ، یہاں الفاظ جداگانہ طور پر بآسانی پڑھے جا سکتے ہیں کیونکہ ہندی میں ایک لفظ کے مختلف حروف کے اوپر ایک لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔ اس طرح ایک لفظ دوسرے لفظ سے واضح طور پر الگ ہو جاتا ہے اور انگریزی میں ایک لفظ اور دوسرے لفظ کے درمیان مناسب فاصلہ ہوتا ہے اور ایک لفظ کے تمام حروف باہم مربوط ہوتے ہیں ۔اردو میں بھی اگرچہ اس طرح کا اہتمام ہے مگر بہت واضح نہیں بالخصوص مرکب الفاظ میں اور بعض اوقات ہم شکل حروف و الفاظ میں قرات کی پریشانی تو بہر حال ہوتی ہے مثلاً ” یہ منزل دورودرازاور بہت کٹھن ہے ۔“ اس جملے میں ”دورودرازاور “ کو پڑھنے میں نئے طالب علموں کو کئی طرح کی پریشانی ہوتی ہے ۔ اول تو یہ کہ کون سے حروف ایک دوسرے سے مل کر پڑھے جائیں گے اور کون سے حروف مصوتے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر اصل مقصد تو اس طرح کے مسائل کا حل پیش کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں اگر مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے تواس طرح کے مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔
۲۔      ابتدائی سطح کے اسباق کی تیاری میںیہ خاص اہتمام کیا جائے کہ ایک لفظ سے دوسرے لفظ کے درمیان مناسب فاصلہ ہو ۔
۳۔      اعراب یعنی مختلف آوازوں کے لیے جو علامتیں مخصوص ہیںان کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جائے ۔ اور ابتدائی سطح کے کم ازکم بیس اسباق ایسے ہوں کہ ان میں اعراب کا اہتمام کیاگیا ہو ۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ان کے پاس الفاظ کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہو جائے گااور وہ الفاظ ان کو ازبر بھی ہو جائیں گے اس کے بعد اگر ان کے سامنے ایسی تحریرآئے گی جن میں اعراب کا استعمال کم سے کم بھی ہو تو اسے پڑھنے میںنو آموز طلبہ کو اتنی پریشانی نہیں ہو گی ۔
۴۔      اردو کی ایسی آوازیں جو ان کے لیے بالکل نئی ہیں اور جن کی ادائیگی میں بھی خفیف فرق موجود ہے اسے سکھانے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کی آوازوں پر مشتمل الفاظ کی زیادہ سے زیادہ مشقیں تیار کرائی جائےں۔ تاکہ ان کی ہجے انھیں یادہو جائیں اور اس طرح کے الفاظ کی شکلیں ان کے ذہن نشیں ہو جائیں۔
          ان نکات کو ذہن میں رکھ کر اگر Urdu Learning کے سائٹ بنائے جائیں تو شاید بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔ ماہرین ِ لسانیات،تکنیکی ماہرین اور سوفٹ وئیر انجینئرس کی خدمات حاصل کر کے اردو زبان سیکھنے کے بہترین سائٹس بنائے جا سکتے ہیں۔
                                                                         

  
          کتابیں اور اردو تدریس:بالغوں کے لیے ابتدائی سطح پر اردو زبان کی تعلیم کے حوالے سے وہی کتابیں میرے پیش نظر ہیں جو ہندستان میں لکھی گئی ہیں۔ہندستان کی اگر بات کریں تو یہ دلچسپ حقیقت بھی عیاں ہوگی کہ گذشتہ دو تین دہائیوں سے یہاں اردو زبان سیکھنے کا چلن اور فیشن عام ہوا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں۔
۱۔       ہندی فلموں میں بیشتر مکالمے اور نغمے اردو کے ہوتے ہیں۔
۲۔      کچھ غزل سراو
¿ں نے جب سے غالب اور میر کی غزلیں گائی ہیںتب سے نئی نسل میں اردو سیکھنے کا ایک         فیشن چل پڑا ہے ۔

۳۔      Elite کلاس کے لوگ اردو میں صحیح تلفظ کے ساتھ بات کرنے کو اپنا امتیاز سمجھتے ہیں۔
۴۔      ایسے طالب علم جو پروفیشنل تعلیم کے ساتھ اردو جاننے والے بھی ہوں ان کا میڈیا میں بہت جلد تقرر     ہو جاتا ہے۔
۵۔      ہندستانی میڈیا کی زبان اردو سے بہت قریب ہے۔
یہ تو وہ وجوہات ہیں جن کے سبب نئی نسل اس جانب متوجہ ہورہی ہے۔ لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب ہندستان کے بہت سے سرکاری اسکولوں میں اردو تعلیم کا نظام نہیں رہا اور پبلک اسکولوں میں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔آزادی کے بعد دو نسلوں تک تو کسی طرح کام چلتا رہا۔اب عدم سہولت کے سبب بچوں کی اردو تعلیم کے لیے ایسی کتابوں کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔پھر ایسا ہوا کہ اردو سیکھنے کے لیے کتاب لکھنے کا فیشن عام ہو گیا۔چنانچہ” دس دن میں اردو،دو ہفتے میں اردو، ایک مہینے میں اردو، خود اردو سیکھیں “ جیسی کتابیں ہر طرف بازار میں ملنے لگیں۔ مگر طالب علموں کے معیار کو ذہن میں رکھ کر کم ہی کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ایسی کتابوں کی بھی اگر فہرست سازی کی جائے تو کافی طویل فہرست ہوگی۔مگر میں یہاں چند کتابوں کے نام جو اہم ہیں ۔ ان کا ذکر کروں گااور مجموعی طور پر
بچوں کی ایک نظم "بندربھائی"ملاحظہ فرمائیے،شاعرنامعلوم:
بندر بھائی کیلے لے کر آئے بیٹھے ریل میں
کیلے کھا کر چھلکے فرش پہ پھیکے کھیل ہی کھیل میں
بھالو چاچو پھسل گئے اور ہڈی ان کی ٹوٹی
بندر بھائی کی تو مانو جیسے قسمت پھوٹی
تھانیدار نے آ کر دیکھا اور بہت غرایا
بندر بھائی کو پھر اس نے تھانے میں پہنچایا
ریختہ ڈوٹ او آر جی (http://rekhta.org) اردو زبان و ادب کے حوالے سے کی گئی ایک منفرد کوشش ہے جس نے بہت ہی کم وقت میں سائبر اسپیس پر ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ یہ کام حکومتی اداروں کا تھا کہ وہ اردو زبان و ادب کی نشانیوں کو محفوظ کریں ۔
اردو زبان و ادب کو برصغیر ہند و پاک کی مشترکہ شناخت کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اپنے وطن سے دور دونوں ممالک کے لوگ میر و غالب اور اقبال اور فیض کے کلام کی ڈور میں بندھے ہوتے ہیں اور جب ادبی محفلوں میں کوئی اچھا شعر سنایا جاتا ہے تو سرحدیں اپنا وجود کھوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔  بد قسمتی اس زبان کی تقسیم ہند ہے جس نے اسے دربہ در ہونے پر مجبور کر دیا۔ جہاں ہندوستان میں یہ زبان اپنے وجود کو بچائے رکھنے کے لیے کوشاں ہے وہیں پاکستان میں بھی اسے کوئی اپنا کہنے کے لیے تیار نہیں ہےلیکن اپنے ملک سے دور ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں  اردو زبان و ادب کے لیے محبت  بتدریج بڑھ رہی ہے اور وہ اس زبان کو بچائے رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں ۔ انٹرنیٹ پر اردو کا ابتدائی دور ان ہی غریب الوطن اردو والوں کی عطا تھی ۔ اب ہندوستان اور پاستان میں بھی نوجوان کسی حد تک اردو سے جدید ٹکنالوجی کے ذریعے قریب آ رہے ہیں اور اس ضمن میں ان کی کوششیں بھی لگاتار دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بازگشت ڈاٹ کوم بھی ان ہی کوششوں میں سے ایک کوشش ہے۔ اس ویب سائٹ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اردو زبان کا مسئلہ اب محض رسم الخط نہیں ہے بلکہ تلفظ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، شاید رسم الخط سے بھی بڑا۔ ان ہی خطوط کو سامنے رکھ کر اسے ایک آڈیو۔ویڈیو مجلہ کے طور پر شروع کیا گیا ہے جس میں متن رسم الخط میں نہ ہو گر آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں ہوگا۔ خدا کرے یہ کوشش کامیات ہو اور اسے دن دونی رات چوگنی ترقی ملے۔
٭ پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی                   


No comments:

Post a Comment