Monday, November 5, 2018


میرانیسؔ کی عشقیہ شاعری
مجیب ظفرانوارحمیدی،پروفیسرڈاکٹر
میر انیس بہت پائے کے شاعر تھے.انہوں نے اپنا مشہور و معروف مرثیہ " جب قطع کی مسافت شب " ایک ہی رات میں لکھا تھا.جو کہ بیسیوں صفحات پر مشتمل ہے.اور ادب کا شہکار ہے.جس نے نہیں پڑھا وہ نہایت ہی بدقسمت انسان ہے.
میر انیس غزل گو شاعر تو نہ تھے مگر ان کے مراثی میں ہی وہ تغزل تھا کہ کوئی مرثیے کا شعر علیحدہ لکھ دیں تو پہچاننا مشکل کہ مرثیے کا ہے یا غزل کا.
حزیں تخلص رکھتے تھے.مگر بعد میں انیس کر لیا.لڑکپن میں باپ سے چھپ کر عشقیہ شاعری کیا کرتے.اور خوب غزلیں کہتے.ایک دن باپ نے غزلیں س
ن لی.اور ڈانٹا . کہ غزلیں اور عشقیہ اشعار کہہ کر کیوں وقت کا زیاں کرتے ہو.اس کی شاعری کرو جس کے صدقے کھاتے ہو.جس کے نام پہ جیتے ہو.
انیس کے دل کو یہ بات ایسی لگی کہ گویا پانی پانی کر گئی.فورا اپنی تمام غزلیں صحن کے حوض میں پھینک دی.اور اس کے بعد حسین ع کے ہو کر رہ گئے.
محققین کو ان کی پندرہ بیس غزلیں دستیاب ہوئی ہیں.اور وہ بھی اس قدر پائے کی ہیں کہ اگر میر انیس مرثیے کی بجائے غزل کے شاعر ہوتے تو میر تقی اور غالب سے ہزاروں گنا بلند مقام رکھتے.
غزل کا اک اک شعر انتخاب ہے.
انیسؔ دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
اس سے عمدہ خیال و انداز بیاں اور کیا ہو..
مثال ماہیٔ بے آب موج تڑپا کی
حباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے
پکارے کہتی تھی حسرت سے نعش عاشق کی
صنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے
...
مرثیے کی طرح غزل میں بھی بلا کی روانی ہے.
کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیں
مری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح
تمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیں
پڑا رہے یے سخن کان میں گہر کی طرح
انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیری
بڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح
....
ہزاروں اشعار میں بمشکل بیس تیس ایسے ہونگے جن میں اپنا نام استعمال کیا.مگر جب کیا تو کیا خوب کیا..مقطعے کا حق ادا کیا.
خاک سے ہے خاک کو الفت تڑپتا ہوں انیسؔ
کربلا کے واسطے میں کربلا میرے لیے
. ..
نزع میں ہوں مری مشکل کرو آساں یاروں
کھولو تعویذ شفا جلد مرے بازو سے
بعض جگہ شوخی کا عنصر بھی ملتا ہے مگر اس پر بھی ان کا شعری فن غالب اجاتا ہے.اور بس داد پیٹنے کو دل چاہتا ہے..
عاشق کو دیکھتے ہیں دوپٹے کو تان کر
دیتے ہیں ہم کو شربت دیدار چھان کرhttps://static.xx.fbcdn.net/images/emoji.php/v9/fd8/1.5/16/1f60a.png😊
یہ تمام اشعار بارہ تیرہ سالہ میر انیس کے ہیں..جب مرثیے کی طرف آگئے تو پھر غزل سے ناطہ توڑ لیا.مگر کم عمری میں ہی ہمیں چند اچھی غزلیں ضرور دے گئے ہیں


No comments:

Post a Comment