بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کمپوزکاری:پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار
حمیدی
سُہانی رات تھی
اور پُرسکوں زمانہ تھا
اثر میں ڈوبا ہوا جذ ب ِعا شقانہ تھا
انہِیں تو عرش پر محبوب کو بُلا نا تھا
طلب تھی دِید کی
معراج کا بہانہ تھا
سرِ لامکاں سے طلب ہوئی
سُوئے مُنتہٰی وہ چلے نبیؐ
یہ کمال ِ حسن کا تھا معجزہ
کہ فراق حق بھی نہ سہہ سکا
شب ِ معراج لِیا عرش بریں پر بلوائے
عرصۂ ہجر
خدا سے بھی گوارا نہ ہوا
نہ ہوا
نہ ہوا
سرِ لا مکاں سے طلب ہوئی
سوئے منتہٰی وہ چلے نبؐی
کوئی حد ہے اُنؐ کے عروج کی
کوئی حد ہے اُنؐ کے عروج کی
سرِ لا مکا ں سے طلب ہوئی
سوئے منتہٰی وہ چلے نبیؐ
کوئی حد ہے ان ؐ کے عُروج کی
بلغ العلُی ٰ بکما
لہ
سر ِ لامکاں سے طلب
ہوئی
سوئے منتہیٰ وہ چلے
نبی *
کوئی حد ہے ان کے
عروج کی۔۔۔۔
اے ختم ِ رُسُل ،
کعبہ ٔ مقصود توئی
در صورتِ ہر چے ہست
موجود توئی
آیات ِ کمال ِ حق
ایاں نست بتو
آذات کے درپردہ
نہاں بود توئی
سہانی رات تھی
اور پُر سکوں زمانہ
تھا
اثر میں ڈوبا ہوا
جذب ِ عاشقانہ تھا
اُنہیں تو عرش پہ
محبوب کو بلانا تھا
طلب تھی دید کی
معراج کا بہانہ تھا
سر ِ لامکاں سے طلب
ہوئی
سوئے منتہیٰ وہ چلے
نبی *
یہ کمال ِ حُسن کا
معجزہ
کہ فراق حق بھی نہ
سہہ سکا
سر ِ لامکاں سے طلب
ہوئی
سوئے منتہیٰ وہ چلے
نبی *
شب ِ معراج لیا عرش
ِ بریں پر بلوائے
صدمہ ِ ہجر خدا سے
بھی گوارہ نہ ہوا
سر ِ لامکاں سے طلب
ہوئی
سوئے منتہیٰ وہ چلے
نبی *
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
بلغ العُلیٰ بکمالہ
سر ِ لامکاں سے طلب
ہوئی
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
خیر الوریٰ ، صدر
الدقیٰ ، نجم الھدیٰ ، نور العلیٰ
شمس الضحیٰ ، بدر
الدُجیٰ ، یعنی محمد مصطفیٰ *
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
خیر الوریٰ ، صدر
الدقیٰ ، نجم الھدیٰ ، نور العلیٰ
شمس الضحیٰ ، بدر
الدُجیٰ ، یعنی محمد مصطفیٰ *
آقا* روا سالار ِ
دیں ، یا رحمت اللعالمیں
آ مقتدیٰ ِ مُرسلیں
، آ پیشوائے انبیاء
جنت نشان ِ قوّئے تو
، والشمس ایماں روئے تو
واللیل وصف ِ لوئے
تو ، خوبی ِ رویت والضحیٰ
اسم ِ تو اسم ِ
اعظمی ، جسم ِ تو جان ِ عالمی
ذات ِ تو فخر آدمی
، شان ِ تو شان ِ کبریا
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
اوہو
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
کوئی حد ہے اُن* کے
عروج کی
*
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکشف الد جٰی بِجما لہ
حسنت جمیع و خِصالہ
صلوُا علیہ وآلہ
جو گیا ہے فرش سے عرش تک
وہ بُراق لے گیا بے دھڑک
طبقِ زمیں ورقِ فلک
گئے نیچے پا وں سے پُل سرک
لٹیں زُلف کی جو گئیں لٹک
تو جہان سارا گیا مہک
ہوِِِِِئیں مست بُلبلیں اس قدر
تو یہ غنچے بولے بولےچٹک چٹک
کوئی حد ہے اُن کی عروج کی
کوئی حد ہے اُن کے عروج کی
رُخ ِمصطفٰیؐ کی یہ روشنی یہ تجلیوں کی ہما ہمی
کہ ہر ایک چیز چمک اُٹھی
کشف الد جٰی بجمالہ
نہ فلک نہ چاند تارے نہ سحر،نہ رات ہوتی
نہ تیرا جمال ہوتا نہ یہ کا ئنا ت ہوتی
وہ سراپا رحمتِ کبریا کہ ہر اک پہ جس کا کرم ہوا
یہ قرانِ پاک ہے برملا
حسنت جمیع و خِصالہ
یہ کمالِ حقِ محمدیؐ کہ ہراک پہ چشمِ کرم رہی
سرِ حشر نعرۂ اُمتی
حسنت جمیعُ خصالہ
وہی حق نگر وہی حق نُما
رخِ مصطفٰیؐ ہے وہ آئینہ
کہ خدائےپاک نے خود کہا
صلو ا علیہ وآلہ
میرا دین عنبرِوارثی
بخدا ہے عشقِ محمدیؐ
میرا زکر و فکر ہے بس یہی
صلو ا علیہ و آلہ
صلوا علیہ و آلہ
صلوا علیہ و آلہٖ
سرِ لا مکاں سے طلب ہوئی سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی
اوہو
کوئی حد ہے ان کے عروج کی بلغ العلىٰ بكمالهِ
رُخ مصطفیٰ کی ہے روشی کہ تجیلوں کی ہما ہمی
کہ ہر ایک چیز چمک اٹھی کشف الدجیٰ بجمالہِ
وہ سراپا رحمت کبریا کہ ہر اِک پہ جس کا کرم ہوا
یہ قرآن پاک ہے برملا حسنت جمیع خصالہِ
یہ کمال حق محمدیؐ کہ ہر اِک پہ چشم کرم رہی
سر ِحشر نعرۂ امتی صلوا علیہ وآلہِ
وہی حق نگر وہی حق نُما
رخِ مصطفٰیؐ ہے وہ آئینہ
کہ خدائےپاک نے خود کہا
صلو ا علیہ وآلہ
میرا دین عنبرِوارثی
بخدا ہے عشقِ محمدیؐ
میرا ذِکر و فکر ہے بس یہی
صلو ا علیہ و آلہ
صلوا علیہ و آلہ
صلوا علیہ و آلہٖ
٭پروفیسرڈاکٹرسیّدمجیب ظفرانوارحمیدی٭
کوئی
حد نہ ان کے عروج کی
خاندانی
نام سیّد عنبر علی، شہرت عنبر شاہ وارثی اور تخلص عنبر ہے۔ 1906ء میں سلطان الہند
کی پریم نگری اجمیر شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد علامہ سیّد ظہور حسین چشتی
اجمیری معروف صوفی بزرگ اور عالم دین تھے۔ ابتدائی تعلیم والد کی زیر تربیت ہوئی۔
بعدازاں دارالعلوم معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف جیسی اعلیٰ درس گاہ اور علی گڑھ
یونیورسٹی سے بھی فیض حاصل کیا۔
عنبر
شاہ وارثی 13 سال کی عمر میں داخل سلسلہ وارثیہ ہوئے۔ بتوسط حیرت شاہ وارثی یہ
سعادت آپ کو حاصل ہوئی۔ حضرت خواجہ مقصود شاہ وارثی کے ہاتھوں 1947ء دیوہ شریف میں
آپ کی احرام پوشی ہوئی۔ فن شعر گوئی میں اختر مودودی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔
وارث
نگری کا عنبرؔ خوش نوا بروز پیر 5مئی 1993ء کو سحابِ اجل کی اوٹ میں چھپ گیا۔ آپ
کا مزار میوہ شاہ قبرستان جونا دھوبی گھاٹ کراچی میں مرجع خلائق ہے۔
٭پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی
No comments:
Post a Comment