نام کتاب:"اُردوکےہراول افسانے"
مرتبہ:پروفیسرمجیب ظفرانوارحمیدی
مرکزاُردو(لندن)
سالِ اشاعت: اگست 1987عیسوی
دوزخی عصمت چغتائی جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے
فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات
بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا
ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑایا کہ نہ جانے کتنی
کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں اور سب سے زیادہ بیکار کتابیں
جو نظر آئیں وہ عظیم بیگ چغتائی کی تھیں۔ گھر کی مرغی دال برابر والا مضمون۔ گھر
کے ہر کونے میں ان کی کتابیں رلتی پھرتیں۔ مگر سوائے اماں اور دو ایک پرانے فیشن
کی بھابیوں کے کسی نے اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ یہی خیال ہوتا بھلا ان میں ہو گا ہی
کیا۔ یہ ادب نہیں پھکڑ، مذاق، پرانے عشق کے سڑیل قصے اور جی جلانے والی باتیں ہوں
گی۔ یعنی بے پڑھے رائے قائم، مجھے خود یقین نہیں آیا کہ میں نے عظیم بھائی کی
کتابیں کیوں نہ پڑھیں۔ شاید اس میں تھوڑا سا غرور بھی شامل تھا اور خود ستائی بھی۔
یہ خیال ہوتا تھا یہ پرانے ہیں ہم نئے۔ ایک دن یونہی لیٹے لیٹے ان کا ایک مضمون
’یکہ‘ نظر آیا میں اور رحیم پڑھنے لگے۔ نہ جانے کس دھن میں تھے کہ ہنسی آنے لگی
اور اس قدر آئی کہ پڑھنا دشوار ہو گیا ہم پڑھ ہی رہے تھے کہ عظیم بھائی آ گئے اور
اپنی کتاب پڑھتے دیکھ کر کھل گئے مگر ہم جیسے چڑ گئے اور منہ بنانے لگے وہ ایک
ہوشیار تھے بولے لاؤ میں تمہیں سناؤں۔ اور یہ کہہ کر دو ایک مضمون جو ہمیں سنائے
تو صحیح معنوں میں ہم زمین پر لوٹنے لگے۔ ساری بناوٹ غائب ہو گئی۔ ایک تو ان کے
مضمون اور پھر ان کی زبانی۔ معلوم ہوتا تھا ہنسی کی چنگاریاں اڑ رہی ہیں۔ جب وہ
خوب احمق بنا چکے تو بولے۔ تم لوگ تو کہتے ہو میرے مضمونوں میں کچھ نہیں۔ اور
انہوں نے چھیڑا ۔ لو ہمارے منہ اتر کر ذرا ذرا سے نکل آئے اور بے طرح چڑ گئے۔ جھنجلا
کر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے۔ جی جل گیا اور پھر اس کے بعد اور بھی ان کی کتابوں
سے نفرت ہو گئی۔ میں نے ان کے مضامین کی ان کی زندگی میں کبھی تعریف نہ کی۔
حالانکہ وہ میرے مضمون دیکھ کر ایسے خوش ہوتے تھے کہ بیان نہیں۔ اس قدر پیار سے
تعریف کرتے تھے مگر یہاں تو ان کی ہر بات سے چڑنے کی عادت تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ
وہ میرا مذاق اڑاتے ہیں اور بخدا وہ شخص جب کسی کا مذاق اڑاتا تھا تو جی چاہتا تھا
بچوں کی طرح زمین پر مچل جائیں اور روئیں۔ کس قدر طنز، کیسی کڑوی مسکراہٹ اور کٹتے
ہوئے جملے۔ میں تو ہر وقت ڈرتی تھی کہ میرا مذاق اڑایا اور میں نے بدزبانی کی۔
کبھی کہتے تھے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم مجھ سے اچھا نہ لکھنے لگو۔ اور میں
نے صرف چند مضمون لکھے تھے اس لیے جی جلتا تھا کہ یہ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کے
انتقال کے بعد نہ جانے کیوں مرنے والے کی چیزیں پیاری ہو گئیں۔ ان کا ایک ایک لفظ
چبھنے لگا اور میں نے عمر میں پہلی دفعہ ان کی کتابیں دل لگا کر پڑھیں۔ دل لگا کر
پڑھنے کی بھی خوب رہی۔ گویا دل لگانے کی بھی ضرورت تھی! دل خود بخود کھنچنے لگا۔
افوہ! تو یہ کچھ لکھا ہے ان کی رلنے والی کتابوں میں ۔ ایک ایک لفظ پر ان کی تصویر
آنکھوں میں کھنچ جاتی اور پل بھر میں وہ غم اور دکھ میں ڈوبی ہوئی مسکرانے کی کوشش
کرتی ہوئی آنکھیں وہ اندوہناک سیاہ گھٹاؤں کی طرح مرجھائے ہوئے چہرے پر پڑے ہوئے
گھنے بال، وہ پیلی نیلاہٹ لیے ہوئے بلند پیشانی، پژمردہ اودے ہونٹ جن کے اندر قبل
از وقت توڑے ہوئے ناہموار دانت اور لاغر سوکھے سوکھے ہاتھ اور عورتوں جیسے نازک،
دواؤں میں بسی ہوئی لمبی انگلیوں والے ہاتھ اور پھر ان ہاتھوں پر ورم آگیا تھا۔
پتلی پتلی کھیچی جیسی ٹانگیں جن کے سر پر ورم جیسے سوجے ہوئے بد وضع پیر جن کے
دیکھنے کے ڈر کی وجہ سے ہم لوگ ان کے سرہانے ہی کی طرف جایا کرتے تھے اور سوکھے
ہوئے پنجرے جیسے سینے پر دھونکنی کا شبہ ہوتا تھا۔ کلیجے پر ہزاروں، کپڑوں،
بنیانوں کی تہیں اور اس سینے میں ایسا پھڑکتا ہوا چلبلا دل! یا اللہ یہ شخص کیوں
کر ہنستا تھا، معلوم ہوتا تھا کوئی بھوت ہے یا جن جو ہر خدائی طاقت سے کشتی لڑ رہا
ہے ، نہیں مانتا مسکرائے جاتا ہے خدا جبار و قہار چڑھ چڑھ کر کھانسی اور دمہ کا
عذاب نازل کر رہا ہے اور یہ دل قہقہے نہیں چھوڑتا۔کون سا دنیا و دین کا دکھ تھا جو
قدرت نے بچا رکھا تھا مگر پھر بھی نہ رلا سکا۔ اس دکھ میں جلن، ہنستے نہیں ہنساتے
رہنا، کسی انسان کا کام نہیں۔ ماموں کہتے تھے: زندہ لاش، خدا یا اگر لاشیں بھی اس
قدر جان دار ، بے چیں اور پھڑکنے والی ہوتی ہیں تو پھر دنیا ایک لاش کیوں نہیں بن
جاتی۔ میں ایک بہن کی حیثیت سے نہیں ایک عورت بن کر ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی
تو دل لرز اٹھتا تھا۔ کس قدر ڈھیٹ تھا ان کا دل۔ اس میں کتنی جان تھی۔ منہ پر گوشت
نام کو نہ تھا۔ مگر کچھ دن پہلے چہرے پر ورم آ جانے سے چہرہ خوبصورت ہو گیا تھا۔
کنپٹیاں بھر گئی تھیں۔ پچکے ہوئے گال دبیز ہو گئے تھے۔ ۔ ایک موت کی سی جلا چہرہ
پر آئی تھی اور رنگت میں کچھ عجیب طلسمی سبزی سی آ گئی تھی۔ جیسے حنوط کی ہوئی
ممی، مگر آنکھیں معلوم ہوتا تھا کسی بچے کی شریر آنکھیں جو ذرا سی بات پر ناچ
اٹھتی تھیں اور پھر کبھی ان میں نوجوان لڑکوں کی سی شوخی جاگ اٹھتی تھی اور یہی
آنکھیں کبھی دورے کی شدت سے گھبرا کر چیخ اٹھتیں۔ ان کی صاف شفاف نیلی سطح گدلی
زرد ہو جاتی اور بے کس ہاتھ لرزنے لگتے۔ سینہ پھٹنے پر آ جاتا۔ دورہ ختم ہوا کہ
پھر وہی روشنی، پھر وہی رقص پھر وہی چمک۔ ابھی چند دن ہوئے میں نے پہلی مرتبہ خانم
پڑھی، ہیرو وہ خود نہیں۔ ان میں اتنی جان ہی کب تھی مگر وہ ہیرو ان کے تخیل کا
ہیرو ہے۔ وہ ان کے دبے ہوئے جذبات کا تخیلی مجسمہ ہے جیسے ایک لنگڑا خوابوں میں
ناچتا کودتا ، دوڑتا ہوا دیکھتا ہے ایسے ہی وہ مرض میں گرفتار نڈھال پڑے اپنے
ہمزاد کو شرارتیں کرتا دیکھتے تھے۔ کاش ایک دفعہ اور صرف ایک دفعہ ان کی خانم اس
ہیرو کو دیکھ لیتی۔ شاید اوروں کے لیے خانم کچھ بھی نہیں۔ لیکن سوائے لکھنے والے
کے اور باقی سارے کیرکٹر درست اور زندہ ہیں بھائی صاحب، بھائی جان، نانی اماں،
شیخانی، والد صاحب، بھتیجے، بھنگی بہشتی یہ سب کے سب ہیں اور رہیں گے۔ یہی ہوتا
تھا بالکل یہی اور اب بھی سب گھروں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کم از کم میرے گھر میں تو
تھا اور ایک ایک لفظ گھر کی سچی تصویر ہے۔ جب عظیم بیگ لکھتے تھے تو سارا گھر اور
ہم ان کے لیے ایکٹنگ کیا کرتے تھے۔ ہم ہلتے جلتے کھلونے تھے اور وہ ایک نقاش جس نے
بالکل اصل کی نقل کر دی۔ جتنی دفعہ خانم کو پڑھتی ہوں یہی معلوم ہوتا ہے کہ خاندان
کا گروپ دیکھتی ہوں۔ وہ بھابھی جان اور خانم جھگڑ رہی ہیں۔ وہ بھائی صاحب شرارتیں
ایجاد کر رہے ہیں اور مصنف خود؟ سر جھکائے خاموش تصویر کشی میں مشغول ہے۔ کھرپا
بہادر جس کا پہلا ٹکڑا روح لطافت میں چھپا ہے یہ سب تخیلی ہے لاچار و مجبور انسان
اپنے ہمزاد سے دنیا جہان کی شرارتیں کروا لیتا ہے۔ وہ خود تو دو قدم نہیں چل سکتا۔
لیکن ہمزاد چوریاں کرتا، شرارتیں کرتا ہے۔ خود تو ایک انگلی کا بوجھ نہیں سہار
سکتا، مگر ہمزاد جی بھر کر مار کھاتا ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ مصنف کو ارمان
تھا کہ کاش وہ بھی اتنا مضبوط ہوتا کہ دوسرے بھائیوں کی طرح ڈیڑھ ڈیڑھ سو جوتے کھا
کر کمر جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا۔ تندرست لوگ کیا جانیں ایک بیمار کے دل میں کیا کیا
ارمان ہوتے ہیں۔ پرکٹا پرندہ ویسے نہیں تو خوابوں میں تو دنیا بھر کی سیر کر آتا
ہے۔ یہی حال ان کا تھا۔ وہ جو کچھ نہ تھے افسانہ میں وہی بن کر دل کی آگ بجھا لیتے
تھے۔ کچھ تو چاہیے نا جینے کے لیے ! شروع ہی سے روتے دھوتے پیدا ہوئے۔ روئی کے
گالوں پر رکھ کر پالے گئے۔ کمزور دیکھ کر ہر ایک معاف کر دیتا۔ قوی ہیکل بھائی سر
جھکا کر پٹ لیتے۔ کچھ بھی کریں والد صاحب کمزور جان کر معاف کر دیتے۔ ہر ایک دل
جوئی میں لگا رہتا۔ مگر بیمار کو بیمار کہو تو اسے خوشی کب ہو گی؟ ان مہربانیوں سے
احساس کمزوری اور بڑھتا ۔ بغاوت اور بڑھتی ۔ غصہ بڑھتا مگر بے بس، سب نے ان کے
ساتھ گاندھی جی والی نان وائلنس شروع کر دی تھی۔ وہ چاہتے تھے کوئی تو انہیں بھی
انسان سمجھے۔ انہیں بھی کوئی ڈانٹے انہیں بھی کوئی زندہ لوگوں میں شمار کرے۔ لہذا
ایک ترکیب نکالی اور وہ یہ کہ فسادی بن گئے۔ جہاں چاہا دو آدمیوں کو لڑا دیا۔ اللہ
نے دماغ دیا تھا اور پھر اس کے ساتھ بلا کا تخیل اور تیز زبان، چٹخارے لے لے کر
کچھ ایسی ترکیبیں چلتے کہ جھگڑا ضرور ہوتا۔ بہن بھائی، ماں باپ سب کو نفرت ہو گئی۔
اچھا خاصا گھر میدان جنگ بن گیا۔ اور سب مصیبتوں کے ذمہ دار خود، بس ساری خود
پرستی کے جذبات مطمئن ہو گئے اور کمزور و لاچار، ہر دم کا روگی، تھیٹر کا ولین
ہیرو بن گیا۔ اور کیا چاہیے؟ ساری کمزوریاں ہتھیار بن گئیں زبان بد سے بدتر ہو
گئی۔ دنیا میں ہر کوئی نفرت کرنے لگا۔ صورت سے جی متلانے لگا۔ ہنستے بولتے لوگوں
کو دم بھر میں دشمن بنا لینا بائیں ہاتھ کا کام ہو گیا۔ لیکن مقصد تو یہ نہ تھا کہ
واقعی دنیا انہیں چھوڑ دے۔ گھر والوں نے جتنا ان سے کھنچنا شروع کیا اتنا ہی وہ
لپٹے۔ آخر میں خدا معاف کرے ان کی صورت دیکھ کر نفرت آتی تھی۔ وہ لاکھ کہتے مگر
دشمن نظر آتے تھے۔ بیوی شوہر نہ سمجھتی بچے باپ نہ سمجھتے، بہن نے کہہ دیا تم میرے
بھائی نہیں اور بھائی آوازسن کر نفرت سے منہ موڑ لیتے۔ ماں کہتی سانپ جنا تھا میں
نے! مرنے سے پہلے قابل رحم حالت تھی بہن ہو کر نہیں انسان بن کر کہتی ہوں جی چاہتا
تھا کہ جلدی سے مر چکیں۔ آنکھوں میں دم ہے مگر دل دکھانے سے نہیں چوکتے۔ عذاب دوزخ
بن گئے۔ ہزاروں کہانیوں اور افسانوں کا ہیرو ایک ولین بن کر مطمئن ہو چکا تھا۔ وہ
چاہتا تھا اب بھی اسے کوئی پیار کرے، بیوی پوجا کرے، بچے محبت سے دیکھیں، بہنیں
واری جائیں اور ماں کلیجہ سے لگائے۔ ماں نے تو واقعی کلیجہ سے لگا لیا۔ بھولا
بھٹکا راستہ پر آن لگا۔ آخر کو ماں تھی۔ مگر اوروں کے دل سے نفرت نہ گئی۔ یہاں تک
کہ پھیپھڑے ختم ہو گئے۔ ورم بڑھ گیا۔ آنکھیں چندھیا گئیں اور اندھوں کی طرح ٹٹولنے
پر بھی راستہ نہ ملا۔ ہیرو بن کر بھی ہار ان کی ہی رہی۔ جو چاہا نہ ملا۔ اس کے
بدلے نفرت، حقارت، کراہت ملی، انسان کس قدر پر ہوس ہوتا ہے۔ اتنی شہرت اور نام
ہونے کے باوجود حقارت کی ٹھوکریں کھا کر جان دی۔ صبح چار بجے، آج سے ۴۲ برس پہلے جو ننھا
سا کمزور بچہ پیدا ہوا تھا۔ وہ زندگی کا ناٹک کھیل چکا تھا۔ ۲۰ اگست کو صبح شمیم
نے آ کر کہا۔ منے بھائی ختم ہو رہے ہیں اٹھو۔ وہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔ بیکار مجھے
جگا رہے ہو۔ میں نے بگڑ کر صبح کی ٹھنڈی ہوا میں پھر سوجانے کا ارادہ کیا۔ ارے
کمبخت تجھے یاد کر رہے ہیں۔ شمیم نے کچھ پریشان ہو کر ہلایا۔ ان سے کہہ دو اب حشر
کے دن ملیں گے۔ ارے شمیم وہ کبھی نہیں مر سکتے۔ میں نے وثوق سے کہا۔ مگر جب میں
نیچے آئی تو ان کی زبان بند ہو چکی تھی۔ کمرہ سامان سے خالی کر دیا گیا تھا۔ سارا
کوڑا کرکٹ ، کتابیں ہٹا دی گئی تھیں۔ دوا کی بوتلیں، لاچاری کی تصویر بنی لڑھک رہی
تھیں۔ دو ننھے بچے پریشان ہو ہو کر دروازے کو تک رہے تھے۔ بھابھی انہیں زبردستی
چائے پلا رہی تھیں۔ ماں پلنگ کی چادر بدل رہی تھی۔ سوکھی سوکھی آہیں ان کے کلیجہ
سے نکل رہی تھیں۔ آنسو بند تھے۔ منے بھائی میں نے ان پر جھک کر کہا۔ ایک لمحہ کو
آنکھیں اپنے محور پر رکیں، ہونٹ سکڑے اور پھر وہی نزع کی حالت طاری ہو گڑی۔ ہم سب
باہر بیٹھ کر چار گھنٹے تک سوکھے بے جاں ہاتھوں کی جنگ دیکھتے رہے۔ معلوم ہوتا تھا
عزرائیل بھی پست ہو رہے ہیں۔ جنگ تھی کہ ختم ہی نہ ہوتی تھی۔ ختم ہو گئے منے
بھائی۔ نہ جانے کس نے کہا: وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ مجھے خیال آیا۔ اور آج میں
ان کی کتابیں دیکھ کر کہتی ہوں ناممکن وہ کبھی نہیں مر سکتے۔ ان کی جنگ اب بھی
جاری ہے مرنے سے کیا ہوتا ہے میرے لیے تو وہ مر کر ہی جیے اور نہ جانے کتنوں کے
لیے وہ مرنے کے بعد پیدا ہوں گے۔ اور برابر پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان کا پیغام دکھ سے
لڑو، نفرت سے لڑو، اور مر کر بھی لڑتے رہو، یہ کبھی نہ مر سکے گا۔ ان کی باغیانہ
روح کو کوئی نہیں مار سکتا۔ وہ نیک نہیں تھے۔ پارسا نہ ہوتے اگر ان کی صحت اچھی
ہوتی۔ وہ جھوٹے تھے۔ ان کی زندگی جھوٹی تھی۔ سب سے بڑا جھوٹ تھی ان کا رونا جھوٹا،
ہنسنا جھوٹا، لوگ کہتے ہیں ماں باپ کو دکھ دیا، بچوں کو دکھ دیا، اور سارے جگ کو
دکھ دیا۔ وہ ایک عفریت تھے جو عذاب دنیا بن کر نازل ہوئے اور اب دوزخ کے سوا ان کا
کہیں ٹھکانہ نہیں۔ اگر دوزخ ایسے لوگوں کا ٹھکانا ہے تو ایک بار ضرور دوزخ میں
جانا پڑے گا۔ صرف یہ دیکھنے کہ جس شخص نے دنیا کی دوزخ میں یوں ہنس ہنس کر تیر
کھائے اور تیر اندازوں کو کڑوے تیل میں تلا وہ دوزخ میں عذاب نازل کرنے والوں کو
کیا کچھ نہ چڑا چڑا کر ہنس رہا ہو گا۔ بس میں وہ تلخ طنز بھری ہنسی دیکھنا چاہتی
ہوں جسے دیکھ کر دوزخ کا داروغہ بھی جل اٹھتا ہو گا۔ مجھے یقین ہے وہ اب بھی ہنس
رہا ہو گا۔ کیڑے اس کی کھال کو کھا رہے ہوں گے۔ ہڈیاں مٹی میں مل رہی ہوں گی۔
ملاؤں کے فتووں سے اس کی گردن دب رہی ہو گی۔ آروں سے اس کا جسم چیرہ جا رہا ہو گا۔
مگر وہ ہنس رہا ہو گا۔ آنکھیں شرارت سے ناچ رہی ہوں گی۔ نیلے مردہ ہونٹ تلخی سے ہل
رہے ہوں گے۔ مگر کوئی اسے رلا نہیں سکتا۔ وہ شخص جس کے پھیپھڑوں میں ناسور، ٹانگیں
عرصہ سے اکڑی ہوئی۔ باہیں انجکشنوں سے گدی ہوئی کولھے میں امرود برابر پھوڑا، آخری
دم اور چیونٹیاں جسم میں لگنا شروع ہو گئیں۔ کیا ہنس کر کہتا ہے یہ چیونٹی صاحبہ
بھی کس قدر بے صبر ہیں۔ یعنی قبل از وقت اپنا حصہ لینے آن پہنچیں۔ یہ مرنے سے دو
دن پہلے کہا۔ دل چاہیے، پتھر کا کلیجہ ہو مرتے وقت جملے کسنے کے لیے ۔ ان کا ایک
جملہ ہو تو لکھا جائے۔ ایک لفظ ہو جو یاد آئے۔ پوری کی پوری کتابیں ایسے ایسے
چٹکلوں سے بھری پڑی ہیں دماغ تھا کہ انجن بنا آگ پانی کے ہر وقت چلتا رہتا تھا اور
زبان کی قینچی اس قدر نپے تلے چملے نکالتی تھی کہ جم کر رہ جاتے تھے۔ نئے لکھنے
والوں کے آگے ان کی گاڑی نہیں چلی۔ دنیا بدل گئی ہے خیالات بدل گئے ہیں ہم لوگ بد
زبان ہیں اور منہ پھٹ ہمارا دل دکھتا ہے تو رو دیتے ہیں سرمایہ داری سوشلزم
اور بیکاری نے ہم لوگوں کو جھلسا دیا ہے۔ ہم جو کچھ لکھتے ہیں دانت پیس پیس کر
لکھتے ہیں۔ اپنے پوشیدہ دکھوں ، کچلے ہوئے جذبات کو زہر بنا کر اگلتے ہیں۔ وہ بھی
دکھی تھے۔ نادار ، بیمار اور مفلس تھے۔ سرمایہ داری سے عاجز ، مگر پھر بھی اتنی
ہمت تھی کہ زندگی کا منہ چڑا دیتے تھے۔ دکھ میں ٹھٹھا لگا لیتے تھے۔ وہ افسانوں ہی
میں نہیں ہنستے تھے زندگی کے ہر معاملے میں دکھ کر ہنس کر نیچا کر دیتے تھے۔ باتوں
کے اس قدر شوقین کہ دنیا کا کوئی انسان ہو اس سے دوستی، کھرپا بہادر میں جو شاہ
لنکر ان کے حالات ہیں وہ ایک میراثن سے معلوم ہوئے۔ اس سے ایسی دوستی تھی کہ بس
بیٹھے ہیں اور گھنٹوں بکواس ہو رہی ہے۔ لوگ متحیر ہیں کہ یا اللہ یہ بڑھیا میراثن
سے کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ مگر جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اسی میراثن نے بتایا ہے۔
اور تو اور بھنگن، بہشتن، راہ چلتوں کو روک کر باتیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ کچھ دن
ہسپتال میں رہے وہاں رات کو جب خاموشی ہو جاتی آپ چپکے سے سارے مریضوں کو سمیٹ کر
گپیں اڑایا کرتے۔ ہزاروں قصے سنتے اور سناتے، وہی قصے “سوانہ کی روحیں” مہارانی کا
خواب، چمکی اور تریڑے بن گئے۔ وہ ہر چیز زندگی سے لیتے تھے اور زندگی میں کتنے جھوٹے
ہیں۔ یہی بات ہے کہ ان کی کہانیوں میں بہت سی ، بعید از قیاس معلوم ہوتی ہیں۔ چوں
کہ ان کا شاعرانہ تخیل ہر بات کو یقین کرتا تھا۔ ان کی ناولیں بعض جگہ واہیات ہیں۔
فضول سی خصوصاً کولتار تو بالکل ردی ہے مگر اس میں بھی حقیقت کو اصلی رنگ میں گڑ
بڑ کر کے لکھ دیا ہے۔ شریر بیوی تو بالکل فضول ہے مگر اپنے زمانے میں بڑی چلتی
ہوئی چیز تھی۔ چمکی ایک دہکتا ہوا شعلہ ہے یقین نہیں آتا کہ اس قدر سوکھا مارا
انسان جس نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا، تخیل میں کس
قدر عیاش بن جاتا ہے ۔ افوہ! وہ چمکی کی خاموش نگاہوں کے پیغام۔ وہ ہیرو کا ان کی
حرکتوں سے مسحور ہو جانا اور پھر خود مصنف کی زندگی۔ کس قدر مکمل جھوٹ ۔ یہ عظیم
بھائی نہیں ان کے ہمزاد ہوتا تھا جو ان کے جسم سے دور ہو کر حسن و عشق کی عیاشیاں
کراتا ہے۔ عظیم بھائی کی مقبولیت یوں بھی موجودہ ادب میں یعنی بالکل نئے ادب میں
نہ تھی کہ وہ کھلی باتیں نہ لکھتے تھے۔ وہ عورت کا حسن دیکھتے تھے مگر اس کا جسم
بہت کم دیکھتے تھے۔ جسم کی بناوٹ کی داستانیں پرانی مثنویوں گل بکاؤلی زہرہ عشق
وغیرہ میں بہت نمایاں تھیں اور پھر انہیں پرانی کہہ دیا گیا۔ لیکن اب یہ فیشن نکلا
ہے کہ وہی پرانا سینہ کا اتار چڑھاؤ پنڈلیوں کی گاودی ، رانوں کا گداز نیا ادب بن
گیا ہے۔ وہ اسے عریانی سمجھتے تھے اور عریانی سے ڈرتے تھے گو جذبات کی عریانی ان
کے یہاں عام ہے۔ اور بہت غلیظ باتیں بھی لکھنے میں نہیں جھجکتے تھے وہ عورت کے
جذبات تو عریاں دیکھتے تھے مگر خود اسے کپڑے پہنے دیکھتے تھے وہ زیادہ بے تکلفی سے
مجھ سے بات نہیں کرتے تھے اور بہت بچہ سمجھتے تھے کبھی کسی جنسی مسئلہ پر تو وہ
کسی سے بحث کرتے ہی نہ تھے۔ ایک دوست سے صرف اتنا کہا کہ نئے ادیب بڑے جوشیلے ہیں
لیکن بھوکے ہیں اور اوپر سے ان پر جنسی اثر بہت ہے جو کچھ لکھتے ہیں اماں کھانا
معلوم ہوتا ہے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ہندوستانی ادب میں ہر زمانہ میں جنس بہت
نمایاں رہتی ہے یہاں کے لوگ جنس سے بہت متاثر ہیں۔ ہماری شاعری ، مصوری، قدیم
پرستش سے بھی جنسی بھوک کا پتہ چلتا ہے۔ اگر ذرا دیر عشق و محبت کو بھول جائیں تو
مقبول عام نہیں رہ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت جلد ادب میں ان کا رنگ غائب ہو کر وہی
الف لیلہ کا رنگ غالب آگیا۔ انہیں حجاب امتیاز علی سے خاص لگاؤ تھا۔ ( میں محترمہ
سے معافی مانگ کر کہوں گی کہ مرنے والے کا راز ہے) کہا کرتے تھے ۔ یہ عورت بہت
پیارے جھوٹ بولتی ہے۔ انہیں شکایت تھی کہ میں بہت الٹے سیدھے جھوٹ بولتی ہوں۔ میرے
جھوٹ بھوکے کی پکار ہیں! اور ان کے جھوٹ بھوکے کی مسکراہٹیں۔ اللہ جانے ان کا کیا
مطلب ہوتا تھا۔ ہم ان کے افسانوں کو عموماً جھوٹ کہا کرتے تھے۔ جہاں انہوں نے کوئی
بات شروع کی اور والد صاحب مرحوم ہنسے، پھر قصر صحرا لکھنے لگے۔ وہ ان کی گپوں کو
قصر صحرا کہتے تھے۔ عظیم بھائی کہتے۔ سرکار دنیا میں جھوٹ بغیر کوئی رنگینی نہیں!
بات کو دلچسپ بنانا چاہو تو جھوٹ اس میں ملا دو۔ وہ یہ بھی کہتے کہ جنت اور دوزخ
کا بیان بھی تو قصر صحرا ہے۔ اس پر ماموں کہتے: ارے زندہ لاشوں کو منع کرو یہ کفر
ہے۔ اس پر وہ ماموں کے توہم پرست سسرال والوں کا تمسخر اڑاتے تھے۔ انہیں پیری
مریدی ڈھونگ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن کہتے تھے دنیا کا ہر ڈھونگ ایک مزیدار جھوٹ ہے
اور جھوٹ ہی مزیدار ہے۔ کہتے تھے میری صحت اجازت دیتی تو میں اپنے باپ کی قبر پجوا
دیتا۔ بس دو سال قوالی کرا دیتا اور چادر چڑھاتا۔ مزے سے آدمنی ہوتی۔ انہیں دھوکہ
باز اور مکار آدمی سے مل کر بڑی خوشی ہوتی تھی۔ کہتے تھے دھوکہ اور مکاری مذاق
نہیں عقل چاہیے ان چیزوں کے لیے۔ انہیں ناچ گانے سے بڑا شوق تھا مگر کس ناچ سے؟ یہ
جو فقیر بچے آتے ہیں ان کا عموماً پیسے دے کر ڈھول میں ناچتے ہوئے فقیروں کو اس
شوق سے دیکھا کرتے تھے کہ ان کا انہماک دیکھ کر رشک آتا تھا۔ نہ جانے انہیں اس
ننگے بھوکے ناچ میں کیا کچھ نظر آتا تھا۔ میں نے انہیں کبھی نماز پڑھتے نہ دیکھا ۔
قرآن شریف لیٹ کر پڑھتے تھے اور بے ادبی سے، اس کے ساتھ ساتھ سو جاتے تھے۔ لوگوں
نے ملامت کی تو اس پر کاغذ چڑھا کر کہہ دیا کرتے تھے کچھ نہیں قانونی کتاب ہے۔
جھوٹ تو خوب نبھاتے تھے۔ حدیث بہت پڑھتے تھے اور لوگوں سے بحث کرنے کے لیے عجیب
عجیب حدیثیں ڈھونڈ کر حفظ کر لیتے تھے اور سنا کر لڑا کرتے تھے۔ ان کی حدیثوں سے
لوگ بڑے عاجز تھے۔ قرآن کی آیات بھی یاد تھیں اور بے تکان حوالہ دیتے تھے۔ شک کرو
تو سرہانے سے قرآن نکال کر دکھا دیتے تھے۔ یزید کے بڑے مداح تھے اور امام حسینؑ کی
شان میں بکواس کیا کرتے تھے۔ لوگوں سے گھنٹوں بحث ہوتی تھی۔ کہتے تھے ’’میں نے
خواب میں دیکھا کہ حضرت امام حسینؑ کھڑے ہیں، ادھر سے یزید لعین آیا، آپ کے پیر
پکڑ لیے، گڑگڑایا، ہاتھ جوڑے تو آپ کا خون جوش مارنے لگا اور اسے اٹھا کر سینے سے
لگا لیا۔ بس میں نے بھی اس دن سے یزید کی عزت شروع کر دی۔ جنت میں تو ان کا ملاپ
بھی ہو گیا، پھر ہم کیوں لڑیں۔‘‘ سیاست سے کم دلچسپی تھی۔ کہتے تھے ’’بابا ہم لیڈر
بن نہیں سکتے تو پھر کیا کہیں، لوگ کہیں گے تم ہی کچھ کر کے دکھاؤ اور یہاں کمبخت
کھانسی اور دمہ نہیں چھوڑتا۔‘‘بہت سال ہوئے کچھ مضامین ’’ریاست‘‘ میں سیاسیات
اوراکنامکس پر لکھے تھے وہ نہ جانے کیا ہوئے۔ مذہب کا جنون سا تھا۔ مگر آخر میں
بحث کم کر دی تھی اور کہتے تھے:۔ ’’بھئی تم لوگ تو ہٹے کٹے ہو اور میں مرنے والا
ہوں اور جو کہیں دوزخ جنت سب نکل آئیں تو کیا کروں گا۔ لہٰذا چپ ہی رہو۔‘‘ پردہ کے
خلاف تو کبھی سے تھے مگر آخر میں کہتے تھے۔ ’’یہ پرانی بات ہو گئی اب پردہ رو کے
نہیں رک سکتا۔ اس معاملہ میں ہم کر چکے۔ اب تو نئی پریشانیاں ہیں۔‘‘ لوگ کہتے تھے
دوزخ میں جاؤ گے، تو فرماتے، ’’ یہاں کون سی اللہ میاں نے جنت دے دی جو وہاں دوزخ
کی دھمکیاں ہیں۔ کچھ پرواہ نہیں ہم تو عادی ہیں۔ اللہ میاں اگر ہمیں دوزخ میں
جلائیں گے تو ان کی لکڑی اور کوئلہ بیکار جائے گا۔ کیونکہ ہم تو ہر عذاب کے عادی
ہیں۔‘‘کبھی کہتے ’’اگر دوزخ میں رہے تو ہمارے جراثیم تو مر جائیں گے۔ جنت میں تو
ہم سارے مولویوں کو دق میں لپیٹ لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سب انہیں باغی اور دوزخی
کہتے ہیں۔ وہ کہیں پر بھی جائیں۔ میں یہ دیکھنا چاہتی ہوں کیا وہاں بھی ان ان کی
وہی قینچی جیسی زبان چل رہی ہے؟ کیا وہاں وہ حوروں سے عشق لڑا رہے ہیں یا دوزخ کے
فرشتوں کو جلا کر مسکرا رہے ہیں۔ مولویوں سے الجھ رہے ہیں یا دوزخ کے بھڑکتے شعلوں
میں ان کی کھانسی گونج رہی ہے۔پھیپھڑے پھول رہے ہیں اور فرشتے ان کے انجکشن گھونپ
رہے ہیں۔فرق ہی کیا ایک دوزخ سے دوسری دوزخ میں۔’’ دوزخی‘‘ کا کیا ٹھکانہ۔
نیلی نوٹ بُک ( عمانویل کزا کیویچ ) مترجم: ڈاکٹر انور
سجاد عمانویل کزا کیویچ 1913 میں یوکرین میں پیدا ہوا ۔1932 میں اسکی نظموں کا
پہلا مجموعہ “ ستارہ ” کے نام سے شائع ہوا جس نے اسے پوری دنیا سے متعارف کروایا۔
بعد ازاں اس کی لکھی کتابیں ، اودر کی بہار، دل دوست، اسٹیپ میں، چوک میں ایک
گھر، اور دن کی روشنی میں، منظر عام پر آیئں ۔ “ نیلی نوٹ بک ” اسکا آخری
ناولٹ تھا۔ عمانویل کے ہم عصر، فیودر دوستووسکی کے مطابق کزا کیو ایچ ایک زبردست
سیاح، شکاری، پارٹی کا روح رواں، فطرتا ہنس مکھ لیکن بہت ہی جرات مند سپاھی تھا۔ ڈاکٹر
انور سجاد : 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کے
بعد انہوں نے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا۔ نور سجاد کی شخصیت
پہلو دار ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ نظریاتی وابستگی انہیں سیاست
تک لے آئی۔سٹیج اور ٹیلی ویژن کی قوت اظہار سے خوب واقف ہیں اور جدید اردو افسانے
کا ایک معتبر نام ہیں۔ رقص کے بھی ماہر ہیں۔ انکی شخصیت کے تمام پہلو ان کی افسانہ
نگاری میں کسی نہ کسی طور ظاہر ہیں۔ رگ ِ سنگ، آج، استعارے، پہلی کہانیاں،
چوراہا، خوشیوں کا باغ ان کی نمایاں تخلیقات ہیں۔ قسط 6 یمیلیا نوف اس
نوجوان کو جھونپڑی کے اندر لے آیا۔ دونوں میز کے قریب بیٹھ گئے۔ لینن اندر کی
کوٹھڑی مین سوکھی گھاس پر لیٹ کر بڑی دلچسپی سے ان کی باتیں سننے لگا۔ یمیلی نوف
نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور نوجوان سے پوچھا “ ہاں تو الیکسی، فیکٹری میں کیا
صورت حال ہے ؟ ” “ صورت حال ؟ ” الیکسی بولا، “ بہت بری ہے۔ انہوں نے ہمیں با لکل
نکر سے لگا دیا ہے۔ نکلنے کا کوئی رستہ نہیں۔ بہتر یہی لگتا ہے کہ بھاگ جایں کہیں
بھی ۔ ” “ لیکن کیوں ؟ ” “ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں ؟ وہ شکاری کتوں کی طرح خون کے
پیاسے ہمارے تعاقب میں ہیں۔ ۔۔۔۔ جرمن جاسوس ۔۔۔۔ ولہم کے گماشتے ۔۔۔۔ سب کچھ بھاڑ
میں گیا ۔۔۔ ” “ یہ تو قدرتی امر ہے۔ ” یمیلیا نوف نے بولا کر پہلو بدلا۔ “
پرولتاریہ کے دشمنوں سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ ” “ دشمن ؟ کاش یہ بات دشمنوں
تک محدود ہوتی۔ اب تو یہ بات سب میں پھیل چکی ہے کہ بھاگ جاو۔ فرار ہو جاو۔ ” “
بھاگ جاو ۔ فرار ہو جاو۔ محض اس لئے کہ لوگ گلیوں میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ ہوں
۔۔۔ تم تو ہمت ہار گئے۔ ” “ آپ جانتے ہیں ، وہ لینن کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
گلیوں کے لوگ تو ایک طرف رہے، اپنے دیرینہ انقلابی ساتھی بھی ؟ یہ لوگ تو بکواس
نہیں کر سکتے ؟ ” “ اور تم یہ سب خرافات مانتے ہو ؟ احمق ۔ بس بس اتنا ہی کافی ہے۔
آو چلیں ۔” “ جی یہ نہیں کہ مجھے ان لوگوں نے قائل کر لیا ہے ، لیکن آپ نے اور میں
نے لینن کے دل میں اتر کر نہیں دیکھا نا۔ اسے کون جانتا ہے۔ ہم کمین لوگ، چھوٹے
درجے کے کارکن اور وہ ساری عمر بیرون ملک رہا ہے۔ آپ ہر وقت اسکے ساتھ۔ رہے ہیں۔
آپ جانیں۔ آسئیف اور الیسنوفسکی پر بھی تو لوگ ایمان لائے تھے۔ ————- مالینیوفسکی
تو بالشویک تھا اور مرکزی کمیٹی کا ممبر بھی۔ کیا بتاوں جی۔ تشکیک نے تو میری
نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اور لینن ؟ کہاں ہے ؟ وہ چھپتا پھررہا ہے۔ اگر وہ پیش ہو
کر مقدمہ چلنے دے اور اپنا دفاع کرے تو صورت حال بدل جائے۔ پر سنا ہے وہ تو جرمنی
بھاگ گیا ہے۔ ” یمیلیا نوف کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ اس کا دل بے طرح دھڑکنے لگا
تھا۔ وہ لینن کی طرف سے آتی کسی بھی آواز کے لیے ہمہ تن گوش تھا۔ اس نے الیکسی کی
باتیں کچھ سنیں کچھ نہ سنیں۔باہر مرغ نے اذانیں دینا شروع کیں تو کتا بھی بھونکنے
لگا۔ یمیلیا نوف دعایئں مانگنے لگا کہ کتا مسلسل بھونکتا رہے اور مرغ زور زور سے
اذانیں دیتا رہے تاکہ الیکسی کی باتیں برساتی تک نہ پہنچ سکیں۔ وہ یکدم اٹھ کھڑا
ہوا اور اس نے دانت بھینچ کر کہا، “ میرا خیال تھا کہ تم مرد ہو لیکن ۔۔۔ چھوڑو،
دفع کرو ۔۔۔۔ آو چلیں۔ ” آپ ناراض نہ ہوں، الیکساندرووچ، “ الیکسی نے کہا، ’
ناراضگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے آپ کو اپنا ساتھی جان کر آپ کے سامنے اپنے دل
کا درد بیان کیا ہے۔ ” “ ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے ۔ چلو ” الیکسی خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
پھر اس نے پلٹ کر پوچھا، “ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ ” “ ہاں ۔۔۔۔ چلو ۔ ” وہ
جھونپڑی سے باہر چلے گئے۔ الیکسی نے بہت بے ڈھنگے پن سے سر ہلایا اور چلا گیا۔
یمیلیا نوف چند لمحوں کے لئے ساکت کھڑا رہا، پھر، دبے پاوں آہستہ آہستہ چلتا ہوا
جھونپڑی کے پاس جا کے رکا اور ہمہ تن گوش ہو گیا۔ کوئی آواز نہیں۔ اس کا جسم سنسنا
گیا۔ اس نے اپنی قمیص کو نیچے کھینچ کر درست کیا اور برساتی کو جاتی سیڑھیوں چڑھنے
لگا۔ لینن میز کے سامنے بیٹھا لکھنے میں مصروف تھا۔ جب یمیلیا نوف کا سر ، فرش میں
بنے دروازے سے ابھرا تو لینن نے چند لمحے تیز چبھتی نظروں سے اسے دیکھا، پھر یکلخت
شگفتگی سے کہا “ تو میرے بزرگ، تم نے پیغام بری کے لئے اچھا انتخاب کیا۔ واقعی۔ پر
کوئی بات نہیں۔ خوش قسمتی سے محنت کشوں کے طبقے میں سب ایک جیسے نہیں۔ "
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا فرشی دروازے کے پاس آ کر پنجوں کے بل بیٹھ گیا اور اس نے
یمیلیا نوف کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ” فکر کی کوئی بات نہیں ۔ “ یمیلیا نوف پر
روشنی چھا گئی۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا اور لمحہ بھر بعد احساس ندامت سے کہا، ”
لگتا ہے میں مردم شناس نہیں ہوں۔ “ ” کوئی بات نہیں۔ “ لینن نے بڑی شفقت سے کہا
اور دوسرے ہی لمحے اپنے خیالوں میں کھو گیا۔ اسی شام جب وہ گھر کے احاطے کے
قریب چھوٹی سی جھیل کنارے بنی یمیلیا نوف کی غسل گاہ میں بیٹھا، اپنے مضمون، ”
سیاسی صورت حال “ پر کام کر رہا تھا، اسے دن کا یہ واقعہ خوامخواہ یاد آگیا۔ وہ
خود بھی اداس ہو گیا۔ وہ نوجوان انتہائی پر خلوص اور شائستہ تھا۔ وہ پڑھا کھا جان
پڑتا تھا۔ اور لگتا تھا کہ وہ پیڑو گراڈ کے بہترین کارکنوں میں سے ہے۔ جب وہ
وہاں سے گیا تھا تو لینن کو اسکی چال ڈھال پسند نہیں آئی تھی۔ اسکے کندھے جھکے جھکے
تھے اور اس کی پیٹھ گوشت سے بھری بھری تھی۔ پھر لینن کو احساس ہوا کہ دراصل نا
پسندیدگی کی وجہ اسکی چال ڈھال نہیں بلکہ اس کی گفتگو ہے جو اس نے جھونپڑی میں
بیٹھے سنی تھی۔ غسل گاہ صاف ستھری اور ٹھنڈی ٹھنڈی تھی۔ وہاں شام کے دھندلکے میں
بیٹھا لینن بہت اداس ہو گیا۔ اس نے میز پر رکھے اپنے ہاتھ اٹھائے اور پھر ان سے
ماتھا تھام لیا۔ اسکی یہ کیفیت غیر معمولی تھی۔ پہلے صرف دو بار اسکے اعصاب ایسے
بوجھل ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ جب وہ سوٹزرلینڈ میں تھا اور دوسری مرتبہ جب وہ کرا کاو
کے قریب جلا وطنی کے دن گزار رہا تھا۔ تب اسے اپنا کام چھوڑ کر پہاڑ پر جانا پڑا
تھا کہ اسکی اعصابی تھکن جسمانی تھکاوٹ میں چور چور ہو جائے۔ اب یہاں سے نکلنا نا
ممکن تھا۔ یہاں وہ خواب گاہ یا غسل خانے یا برساتی سے بندھا تھا۔ بلکہ یہ کہنا
زیادہ مناسب ہو گا کہ یہاں بیٹھا وہ پیٹروگراڈ کے واقعات اور اخباروں کے کالموں سے
بندھا تھا جو اسکی کردار کشی کے واسطے سے محنت کشوں اور فوج کے جوانوں کے ذہنوں
میں انتشار پھیلاتے تھے۔ اور یوں بالشویک پارٹی کو ان کی نظروں میں گرانے کی کوشش
کرتے تھے۔ لینن نے سر اٹھایا۔ اس کے سامنے میز پر اخبار پھیلے تھے۔ ہر لفظ زہریلا
نشتر۔ آیئنی جمہوری پرٹی کا اخبار ’ ریچ ’ آیئنی جمہوری پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ
آزادی اور روس کے تحفظ کی خاطر لینن اور اسکے ساتھیوں کو فورا گرفتار کیا جائے
تاکہ ملک کو بچایا جا سکے۔ یہ لوگ صرف شر پسند نہیں بلکہ اس سے بھی بد تر ہین۔ ان
کی تخریب کاریوں نے انہیں رضاکارانہ طور پر قیصر ولہم دوئم کا آلہ کار بنا دیا ہے۔
عوام حکومت سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ روسی جمہوریہ کا تحفظ کرے
اور لینن کی مصروفیات کی تفتیش کرے۔ ہم بالشویکوں کی تخریب کاریوں کے بارے میں
عوام کو آگاہ کرتے رہیں گے۔ ولادی میر پرستیف نے یوں تحریر کیا تھا حضرات۔ ہم جب
ان لوگوں کی آوازیں سنتے ہیں جو جرمنی کے توسط سے آئے ہیں اور ان کی تخریبی
سرگرمیوں پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ طویل
مدت سے ان لوگوں کا رابطہ جرمنی کے ساتھ ہے۔ ان کا ذہن جرمن ہے، اس میں کوئی بات روسی
نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ساوچ کی تقریر تھی۔ بل کو پوف کی تقریر ۔۔۔۔۔ لینن کے نام کے
ساتھ جتنے بھی مقدمے وابستہ ہیں ان کے سلسلے میں مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ اسے
گرفتار کرو۔ اسے گرفتار کرو۔ اسے گرفتار کرو۔ فرسٹ کیڈٹ کور کے ہال میں ، داخلہ
گرجے کی طرف ہے ۔ جناب ایس اے کلیونسکی ، ممبر، کمیٹی سوویت و فوجی اراکین ، خطاب
فرمایئں گے۔ موضوع ہے، انقلابی یا انقلاب دشمن ؟ لینن پر کڑی تنقید۔ شرح داخلہ ۔ 30
کوپک۔ لینن کی آنکھیں نفرت سے سکڑ گیئں۔ دنیا میں ایسی
کوئی برائی نہیں جس کے پہلو میں اچھائی نہ ہو۔ اس نے غسلگاہ کی چھوٹی سی کھڑکی سے
باہر سرمئی جھیل پر نظریں جما لیں۔ نام نہاد آیئنی جمہوریت پسند اور کیرنسکی جام
سے باہر ہو رہے تھے۔لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والے بورژوا اخباروں کے ذریعے
بالشویکوں کو ہر طرح سے بدنام کیا جا رہا تھا جس سے رائے عامہ متاثر ہو رہی تھی۔
اگر عوام کسی طور اس الجھاو کی تہہ میں کہیں پہنچ جایئں تو آیئنی جمہوریت پسندوں
اور کیرنسکی کا بستر گول ہو جائے۔ سوژلسٹ انقلابی اور مینشویک اپنے پیٹی بورژوا
فطری کردار کے مطابق گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے تھے۔ کبھی لینن کی کردار کشی کے
خلاف، لینن کی حمایت میں بیان دیتے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لینن نظریاتی اصولوں کی بنیاد پر
پراپیگنڈے کے ذریعے انتہائی شاندار کام سر انجام دے رہا ہے۔ تسریتلی خود اپنی زبان
سے کہتا ہے ۔ اس پر لینن کیس کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی جاتی ہے اور
دوسرے ہی روز اس کمیٹی کو خود ہی توڑ کر کردار کشی کی مہم کی حمایت کرنے لگتے۔
لینن کو گرفتار کر کے بورژوا عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتے۔
ذرا ہور اوپر ( واجدہ تبسم ) نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے
جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔
اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ
معطر ہو گیا…. پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے ہی خطرہ محسوس کیا۔
اگلے ہی لمحے وہ نواب صاحب کے پاس پہنچ چکی تھیں …. سراپا انگارہ بنی ہوئی۔ ’’سچی
سچی بول دیو، آپ کاں سے آرئیں …. جھوٹ بولنے کی کوشش نکو کرو….‘‘ نواب صاحب ایک
شاندار ہنسی ہنسے۔ ’’ہمنا جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ جو تمے سمجھے وہ ہیچ سچ
ہے۔‘‘ ’’گل بدن کے پاس سے آرئیں نا آپ؟‘‘ ’’معلوم ہے تو پھر پوچھنا کائے کو؟‘‘
جیسے آگ کو کسی نے بارود دکھا دی ہو۔ پاشا دولہن نے دھنا دھن پہلے تو تکیہ کوٹ
ڈالا، پھر ایک ایک چیز اٹھا اٹھا کر کمرے میں پھینکنی شروع کر دی، ساتھ ہی ساتھ ان
کی زبان بھی چلتی جا رہی تھی۔ ’’اجاڑ انے ابا جان اور امنی جان کیسے مردوئے کے
حوالے میرے کو دیئے غیرت شرم تو چھوکر بھی نئیں گئی۔ دنیا کے مردوئے ادھر ادھر
تانک جھانک کرتے نہیں کیا، پر انے تو میرے سامنے کے سامنے اودھم مچائے رہئیں۔ ہور
اجاگری تو دیکھو، کتے مزے سے بولتیں ، معلوم ہے تو پھر پوچھنا کائے کو؟ میں
بولتیوں اجاڑ یہ آگ ہے کیسی کی بجھتی اچ نئیں۔ کتے عورتوں انے ایک مردوئے کو ہونا
جی‘‘…. اب وہ ساتھ ساتھ پھپھک پھپھک کر رونے بھی لگی تھیں …. ’’اجاڑ میرے کو یہ
زندگی نکو۔ اپنا راج محل تمچ سنبھالو…. میرے کو آجچ طلاخ دے دیو، میں ایسی کال
کونڈی میں نئیں رہنے والی….‘‘ مگر جو پیاسا زور کی پیاس میں پانی چھوڑ شراب پی کر
آیا ہو، وہ بھلا کہیں اتنی دیر تک جاگتا ہے؟ اور عورت کی گرمی ملے تو یوں بھی اچھا
بھلا مرد پٹ کر کے سو جاتا ہے…. نواب صاحب بھی اس وقت اس تمام ہنگامے سے بے خبر
گہری نیند سو چکے تھے۔ کیسی زندگی پاشا دولہن گزار رہی تھیں۔ بیاہ کر آئیں تو بیس
سے ادھر ہی تھیں۔ اچھے برے کی اتنی بھی تمیز نہ تھی کہ میاں کے پیر دکھیں تو رات
بے رات خود ہی دبا دیں۔ جوانی کی نیند یوں بھی کیسی ہوتی ہے کہ کوئی گھر لوٹ کر لے
جائے اور آنکھ تک نہ پھڑکے۔ جب بھی راتوں میں نواب صاحب نے درد کی شکایت کی، انہوں
نے ایک کروٹ لے کر اپنے ساتھ آئی باندیوں میں سے ایک آدھ کو میاں کی پائنتی بٹھا
دیا اور اسے ہدایت کر دی، ’’لے ذرا سرکار کے پاؤں دبا دے، میرے کو تو نیند آرئی۔‘‘
صبح کو یہ خود بھی خوش باش اٹھتیں اور نواب صاحب بھی…. کبھی کبھار نواب صاحب لگاوٹ
سے شکایت بھی کرتے۔ ’’بیگم آپ بھی تو ہمارے پاواں دبا دیو، آپ کے ہاتھاں میں جو
لذت ملے گی، وہ انے حرام زادیاں کاں سے لائیں گے۔‘‘ مگر یہ بلبلا جاتیں …. ’’ہور
یہ ایک نوی بات سنو، میں بھلا پاواں دبانے کے لاخ ہوں کیا، اس واسطے تو امنی جان
باندیاں کی ایک فوج میرے ساتھ کر کو دیئے کہ بیٹی کو تخلیف نئیں ہونا بول کے۔‘‘
اور نواب صاحب دل میں بولتے…. خدا کرے تمے ہور گہری نیند سو…. تمہارے سوتے
اچ ہمارے واسطے تو جنت کے دروازے کھل جا تئیں۔ مگر دھیرے دھیرے پاشا دولہن پر یہ بھید
یوں کھلا کہ نواب صاحب نئی نویلی دولہن سے ایک سر بے گانہ ہوتے چلے گئے…. اب بیاہی
بھری تھیں اتنا تو معلوم ہی تھا کہ جس طرح پیٹ کی ایک بھوک ہوتی ہے اور بھوک لگنے
پر کھانا کھایا جاتا ہے اسی طرح جسم کی ایک بھوک ہوتی ہے اور اس بھوک کو بھی
بہرطور مٹایا ہی جاتا ہے۔ پھر نواب صاحب ایسے کیسے مرد تھے کہ برابر میں خوشبوؤں
میں بسی دولہن ہوتی اور وہ ہاتھ تک نہ لگاتے…. اور اب تو یہ بھی ہونے لگا تھا کہ
رات بے رات کبھی ان کی آنکھ کھلتی…. تو دیکھتیں کہ نواب صاحب مسہری سے غائب ہیں ….
اب غائب ہیں تو کہاں ڈھونڈیں ؟ حویلی بھی تو کوئی ایسی ویسی حویلی نہ تھی۔
حیدرآباد کن کے مشہور نواب ریاست یار جنگ کی حویلی تھی کہ پوری حویلی کا ایک ہی
چکر لگانے بیٹھو تو موئی ٹانگیں ٹوٹ کے چورا ہو جائیں۔ پھر رفتہ رفتہ آنکھیں کھلنی
شروع ہوئیں۔ کچھ ساتھ کی بیاہی سہیلیوں کے تجربوں سے پتہ چلا کہ مرد پندرہ پندرہ
بیس بیس دن ہاتھ تک نہ لگائے، راتوں کو مسہری سے غائب ہو جائے تو دراصل معاملہ کیا
ہوتا ہے…. لیکن یہ ایسی بات تھی کہ کسی سے کچھ بولتے بنتی نہ بتاتے…. مشورہ بھی
کرتیں تو کس سے؟ اور کرتیں بھی تو کیا کہہ کر؟ کیا یہ کہہ کر میرا میاں عورتوں کے
پھیر میں پڑ گیا ہے، اسے بچاؤں کیسے؟ اور صاف سیدھی بات تو یہ تھی کہ مرد وہی
بھٹکتے ہیں جن کی بیویوں میں انہیں اپنے گھٹنے سے باندھ کر رکھنے کا سلیقہ نہیں
ہوتا…. وہ بھی تو آخر مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنی ادھیڑ ادھیڑ عمر کی بیویوں سے گوند
کی طرح چپکے رہتے ہیں۔ غرض ہر طرف سے اپنی ہاری اپنی ماری تھی، لیکن کر بھی کیا
سکتی تھیں ؟ خود میاں سے بولنے کی تو کبھی ہمت ہی نہ پڑی۔ مرد جب تک چوری چھپے منہ
کالا کرتا ہے، ڈرا سہما ہی رہتا ہے اور جہاں بات کھل گئی وہیں اس کا منہ بھی کھل
گیا۔ پھر تو ڈنکے کی چوٹ کچھ کرتے نہیں ڈرتا۔ لیکن ضبط کی بھی ایک حد ہوتی ہے….
ایک دن آدھی رات کو یہ تاک میں بیٹھی ہوئی تھیں ، آخر شادی کے اتنے سال گزار چکی
تھیں ، دو تین بچوں کی ماں بھی بن چکی تھیں ، اتنا حق تو رکھتی ہی تھیں ، اور عقل
بھی کہ آدھی رات کو جب مرد کہیں سے آئے اور یوں آئے کہ چہرے پر یہاں وہاں کالک ہو
تو وہ سوا پرائی عورت کے کاجل کے اور کاہے کی کالک ہو سکتی ہے؟ کیونکہ بہرحال دنیا
میں اب تک یہ تو نہیں ہوا ہے کہ کسی کے گناہوں سے منہ کالا ہو جائے۔ جیسے ہی نواب
صاحب کمرے میں داخل ہوئے کہ چیل کی طرح جھپٹیں اور ان کے چہرے کے سامنے انگلیاں
نچا کر بولیں ، ’’یہ کالک کاں سے تھوپ کو لائے؟ اور نواب صاحب بھی آخر نواب ہی
تھے، کسی حرام کا تخم تو تھے نہیں ، اپنے ہی باپ کی عقد خوانی کے بعد والی حلال کی
اولاد تھے، ڈرتا ان کا جوتا۔ بڑے رسان سے بولے ’’یہ مہرو کم بخت بہت کاجل بھرتی ہے
اپنے آنکھاں میں ، لگ گیا ہوئیں گا، اسی کا….‘‘ ایسے تہئے سے تو پاشا دولہن اٹھی
تھیں مگر یہ سن کر وہیں ڈھیر ہو گئیں …. اگر مرد ذرا بھی آناکانی کرے تو عورت کو
گالیاں دینے کا موقع مل جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو صاف سیدھی طرح انہوں نے گویا اعلان
کر دیا کہ…. ’’ہاں ، ہاں …. میں نے بھاڑ جھونکا…. اب بولو….!‘‘ پاشا دولہن کچھ بول
ہی نہ سکیں ، بولنے کو تھا بھی کیا؟ جو چپکی ہوئیں تو بس چپ ہی لگ گئی۔ اب محل کے
سارے ہنگامے، ساری چہل پہل، ساری دھوم دھام ان کے لئے بے معنی تھی۔ ورنہ وہی پاشا
دولہن تھیں کہ ہر کام میں گھسی پڑتی تھیں …. پہلے تو دل میں آیا کہ جتنی بھی یہ
جوان جوان حرام خورنیاں ہیں انہیں سب کو ایک سرے سے برطرف کر دیں ، لیکن روایت سے
اتنی بڑی بغاوت کر بھی کیسے سکتی تھیں ؟ پھر اپنے مقابل کی حیثیت والیوں میں یہ
مشہور ہو جاتا کہ اللہ مارے کیسے نواباں ہیں کہ کام کاج کو چھوکریاں نہیں رکھے۔ بس
ہر طرف سے ہار ہی ہار تھی۔ دل پر دکھ کی مار پڑی تو جیسے ڈھیر ہی ہو گئیں۔ نئی نئی
بیماریاں بھی سر اٹھانے لگیں ، کمر میں درد، سر میں درد، پیروں میں درد، ایک
اینٹھن تھی کہ جان لئے ڈالتی۔ حکیم صاحب بلوائے گئے، اس زمانے کے حیدرآباد میں
مجال نہ تھی کہ حکیم صاحب محل والیوں کی جھپک تک دیکھ سکیں۔ بس پردے کے پیچھے سے
ہاتھ دکھا دیا جاتا۔ پھر ساتھ میں ایک بی بی ہوتیں جو حکیمن اماں کہلاتی تھیں ….
وہ سارے معائنے کرتیں اور یوں دوا تجویز ہوتی بس حکیم صاحب نبض دیکھنے کے گناہگار
ہوتے۔ پاشا دولہن کی کیفیت سن کر حکیم صاحب کچھ دیر کے لئے خاموش رہ گئے انہوں نے
بظاہر غیر متعلق سی باتیں پوچھیں جس کا دراصل اس بیماری سے بڑا گہرا تعلق تھا۔
’’نواب صاحب کہاں سوتے ہیں ؟‘‘ حکیمن اماں نے پاشا دولہن سے پوچھ کر بات آگے
بڑھائی…. ’’جی انوں تو مردانے میں اچ سوتے ہیں۔‘‘ اب حکیم صاحب بالکل خاموش رہ
گئے۔ سوئے ادب! کچھ کہتے تو مشکل نہ کہتے تو مشکل۔ بہرحال ایک تیل مالش کے لئے دے
گئے۔ پاشا دلہن کو ان کم بخت باندیوں سے نفرت ہو گئی تھی۔ بس نہ چلتا کہ سامنے
آتیں اور یہ کچا چبا جاتیں۔ باندیوں میں سے کسی کو انہوں نے اپنے کام کے لئے نہ
چنا۔ حویلی کا ہی پالا ہوا چھوٹا سا چھوکرا تھا۔انہوں نے طے کر لیا کہ مالش اسی سے
کرائیں گے۔ چودہ پندرہ برس کے چھوکرے سے کیا شرم؟ اسی بیچ میں دو تین بار نواب
صاحب اور دولہن پاشا کی خوب زور دار لڑائی ہوئی۔ شکر ہے کہ جو نوبت طلاق تک نہ
پہنچی۔ اب تو نواب صاحب کھلم کھلا کہتے تھے…. ہاں میں آج اس کے ساتھ رات گزارا۔ اس
کے ساتھ مستی کیا، تم نا کچھ بولنا ہے؟‘‘ پاشا دولہن بھی جی کھول کر کوستیں
کاٹتیں۔ ایک دن دبے الفاظ میں جب انہوں نے اپنی ’’بھوک‘‘ کا ذکر کیا تو نواب صاحب
ذرا حیرت سے انہیں دیکھ کر بولے، ’’دیکھو اللہ میاں کو معلوم تھا کہ مرد کو کچھ
زیادہ ہونا پڑتا اس واسطے اچ اللہ میاں مردوں چار، چار شادیوں کی اجازت دیا۔ ایسا
ہوتا تو عورتاں کو کیوں نئیں دے دیتا تھا۔‘‘ یہ ایک ایسا نکتہ نواب صاحب نے پکڑا
کہ پاشا دولہن تو بالکل ہی لاجواب ہو کر رہ گئیں اور یوں رہی سہی جو بھی پردہ داری
تھی بالکل ہی ختم ہو کر رہ گئی۔ اس صبح ہی کی بات تھی کہ انہوں نے سر میں تیل
ڈالنے کو چنبیلی کے تیل کی شیشی اٹھائی اور وہ کم بخت ہاتھ سے ایسی چھوٹی کہ ندی
سی بہہ اٹھی۔ گھبرا کر انہوں نے پاس کھڑی گل بدن کو پکارا ’’بیکار بہہ کو جارا تو
اچ اپنے سر میں چپڑ لے۔‘‘ اور رات کو وہ ساری خوشبو نواب صاحب کے بدن میں منتقل ہو
گئی، جس کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے انہیں ذرا سی جھجک یا شرم محسوس نہیں ہوئی۔
پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں جو کہتے ہیں عورت بیسی اور گھیسی۔ عورت تو تیس کی ہو کر
کچھ اور ہی چیز ہو جاتی ہے۔ ان دنوں کوئی پاشا دولہن کا روپ دیکھتا۔ چڑھتے چاند کی
سی جوانی، پور پور چٹخا پڑتا۔ برسات کی راتوں میں ان کے جسم میں وہ تناؤ پیدا ہو
جاتا جو کسی استاد کے کسے ہوئے ستار میں کیا ہو گا۔ اتنا سا چھوکرا کیا اور اس کی
بساط کیا۔ سر اور کمر سے نپٹ کر وہ پیروں کے پاس آ کر بیٹھتا تو اس کے ہاتھ دکھ
دکھ جاتے۔ پنڈلیوں کو جتنی زور سے دباتا، وہ یہی کہے جاتی۔ ’’کتے! ہلو ہلو دباتا
رے تو…. ذرا تو طاقت لگا۔‘‘ چودہ پندرہ سال کا چھوکرا، ڈر ڈر کے سہم سہم کر دبائے
جاتا کہ کہیں زور سے دبا دینے پر پاشا ڈانٹ نہ دیں ، اتنی بڑی حویلی کی مالک جو
تھیں۔ حویلی میں ان دنوں خواتین میں کلی دار کرتوں پر چوڑی دار پاجامے پہننے کا
رواج تھا۔ لڑکیاں بالیاں غرارے بھی پہن لیتیں …. اور بڑے ہنگاموں کے بعد اب ساڑھی
کا بھی نزول ہوا تھا، مگر بہت ہی کم پیمانے پر…. چوڑی دار پاجامے میں پنڈلیاں صرف
دبائی جا سکتی تھیں ، تیل مالش کیا خاک ہوتی؟ پاشا دولہن نے ماما کو بلوا کر اپنے
پاس کھڑا کیا، یہ حویلی کے کسی بھی نوکر کے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ پھر پاشا
بولیں۔ ’’دیکھو یہ انے چھوکرا رحمت ہے نا؟ اس کو کھانے پینے کو اچھا اچھا دیو….
ناشتے میں اصلی گھی کے پراٹھے بھی دیو۔ انے میرے پیراں کی مالش کرتا، مگر ذرا بھی
اس میں طاخت نئیں۔ اب میں جتا کو دی۔‘‘ پھر خود انہوں نے غرارہ پہننا شروع کر دیا
تاکہ پنڈلیوں کی اچھی طرح مالش ہو سکے اور انہیں درد سے نجات ملے۔ اب جو دوپہر کو
مالش شروع ہوتی تو ایک ہی مکالمے کی گردان رحمت کے کانوں سے ٹکراتی۔ ’’ذرا ہور
اوپر!‘‘ وہ سہم سہم کر مالش کرتا، ڈر ڈر کر پاشا کا منہ تکتا۔ تیل میں انگلیاں چپڑ
کر وہ غرارہ ڈرتے ڈرتے ذرا اوپر کھسکاتا کہ کہیں سجر، اطلاس یا کمخواب کے غرارے کو
تیل کے دھبے بدنما نہ بنا دیں۔ چم چماتی پنڈلیاں تیل کی مالش سے آئینہ بنتی جا رہی
تھیں۔ رحمت غور سے دیکھتے دیکھتے گھبرا گھبرا کر اٹھتا کہ کہیں ان میں اس کا چہرہ
نہ دکھائی دے جائے۔ ایک رات دولہن پاشا کے پیروں میں کچھ زیادہ ہی درد اور اینٹھن
تھی۔ رحمت مالش کرنے بیٹھا تو سہمتے سہمتے اس نے پنڈلیوں تک غرارہ کھسکایا۔ ’’ذرا
ہور اوپر‘‘ دولہن پاشا کسمسا کر بولیں ، ’’آج اجاڑ اتا درد ہو ریا کہ میرے کو بخار
جیسا لگ ریا۔ گھنٹوں تک مالش کر ذرا، تو تو خالی بس پنڈلیاں اچ دبا ریا۔‘‘ رحمت نے
بخار کی سی کیفیت اپنے اندر محسوس کی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے غرارہ اور ’’اوپر‘‘
کھسکایا اور ایک دم ناریل کی طرح چکنے چکنے اور سفید مدور گھٹنے دیکھ کر بوکھلا سا
گیا۔ ترتراتے گھی کے پراٹھوں ، دن رات کے میوؤں اور مرغن کھانوں نے اسے وقت سے
پہلے ہی اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا، جہاں نیند کی بجائے جاگتے میں ایسے ویسے خواب
دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس نے ہڑبڑا کر غرارہ ٹخنوں تک کھینچ دیا تو اونگھتی ہوئی
پاشا دولہن بھنا گئیں۔ ’’ہورے، میں کیا بول رئی ہو، تو کیا کر ریا؟‘‘ انہوں نے ذرا
سر اٹھا کر غصے سے کہا…. وہاں ان کے سرہانے سنسناتا ہوا، جوان ہوتا ہوا، وہ چھوکرا
بیٹھا تھا جسے انہوں نے اس لئے چنا تھا کہ انہیں چھوکریوں سے از حد نفرت ہو گئی
تھی کہ…. کم بختیں ان کے میاں کو ہتھیا ہتھیا لیتی تھیں۔ انہوں نے غور سے اسے
دیکھا۔ اسے نے بھی ڈرتے ڈرتے سہمی، مگر ذرا غور سے انہیں دیکھا اور اک دم سر جھکا
لیا۔ ٹھیک اسی وقت نواب صاحب کمرے میں داخل ہو گئے۔ جانے کون سا نشہ چڑھا کر آئے
تھے کہ جھولے ہی جا رہے تھے۔ آنکھیں چڑھی پڑ رہی تھیں۔ مگر اتنے نشے میں بھی بیگم
کے قدموں میں اسے بیٹھا دیکھ کر چونک اٹھے۔ ’’یہ انے حرام زادہ مسٹنڈا یہاں کیا
کرنے کو آیا بول کے؟‘‘ رحمت تو نواب صاحب کو دیکھتے ہی دم دبا کر بھاگ گیا مگر
پاشا دولہن بڑی رعونت سے بولیں ، ’’آپ کو میرے بیچ میں بولنے کا کیا حخ ہے؟‘‘
’’حخ؟ وہ گھور کر بولے، ’’تمہارا دھگڑا ہوں ، کوئی پالکڑا نئیں ، سمجھے۔ رہی
حخ کی بات، سو یہ حخ اللہ اور اس کا رسول دیا…. کون تھا وہ مردود؟‘‘ ’’آپ اتنے
سالاں ہو گئے، آپ ایکو ایک چھوکری سے پاواں دبائے رئیں ، ہور اللہ معلوم ہور کیا
کیا تماشے کر لے رئیں ، وہ سب کچھ نئیں ، ہور میں کبھی دکھ میں ، بیماری میں مالش
کرانے ایک آدھ چھوکرے کو بٹھا لی تو اتے حساباں کائے کو؟‘‘ ’’اس واسطے کی مرد بولے
تو دالان میں بچھا خالین ہوتا کہ کتے بھی پاواں اس پہ پڑے تو کچھ فرخ نئیں پڑتا۔
ہور عورت بولے تو عزت کی سفید چدر ہوتی کہ ذرا بھی دھبا پڑا تو سب کی نظر پڑ
جاتی….‘‘ دولہن پاشا بلبلا کر بولیں ، ’’ائی اماں ، بڑی تمہاری عزت جی، ہور تمہاری
بڑی شان، اپنے دامن میں اتے داغاں رکھ کو دوسرے کو کیا نام رکھتے جی تمے، ہور کچھ
نئیں تو اتے سے پوٹے کے اپر اتا واویلا کر لیتے بیٹھیں۔‘‘ اک دم نواب صاحب چلائے،
تمنا وہ پوٹا اتا اتا سا دکھتا؟ ارے آج اس کی شادی کرو نو مہینے میں باپ بن کر
دکھا دیں گا۔ میں جتا دیا آج سے اس کا پاؤں نئیں دکھنا تمہارے کمرے میں ….‘‘ پاشا
دولہن تن کر بولیں ، ’’ہور دکھا تو؟‘‘ ’’دکھا تو طلاخ….‘‘ وہ آخری فیصلہ سناتے
ہوئے بولے۔ ’’ابھی کھڑے کھڑے دے دیو۔‘‘ پاشا دولہن اسی تہئے سے بولیں۔ ایک دم نواب
صاحب سٹ پٹا کر رہ گئے۔ بارہ تیرہ سال میں کتنی بار تو تو، میں میں ہوئی، کتنے
رگڑے جھگڑے ہوئے…. با عزت، با وقار دو خاندانوں کے معزز میاں بیوی، جو پہلے ایک
دوسرے کو آپ، آپ کہتے نہ تھکتے تھے اب تم تمار تک آ گئے تھے…. مگر یہ نوبت تو کبھی
نہ آئی تھی، خود پاشا دولہن نے ہی کئی بار یہ پیشکش کی کہ ایسی زندگی سے تو اجاڑ
میرے کو طلاخ دے دیو…. لیکن یہ کبھی نہ ہوا تھا کہ خود نواب صاحب نے یہ فال بدمنہ
سے نکالی ہو…. اور اب منہ سے نکالی بھی تو یہ کہاں سوچا تھا کہ وہ کہیں گی کہ
’’ہاں …. ابھی کھڑے کھڑے دے دیو!!‘‘ مگر پاشا دولہن کی بات پوری نہیں ہوئی تھی۔
ایک ایک لفظ پہ زور دیتے ہوئے وہ تمتماتے چہرے کے ساتھ بولیں …. ’’ہور طلاخ لئے
بعد سارے حیدرآباد کو سناتی پھروں گی کہ تمے عورت کے لائخ مرد نئیں تھے۔ یہ بچے
تمہارے نئیں۔ اب چھوڑو میرے کو…. ہور دیو میرے کو طلاخ!‘‘ یہ عورت چاہتی کیا ہے
آخر؟…. نواب صاحب نے سر پکڑ لیا…. انہوں نے ذرا شک بھری نظروں سے بی بی کو دیکھا….
کہیں دماغی حالت مشتبہ تو نہیں وہ سنا رہی تھیں۔ ’’اس حویلی میں دکھ اٹھائی نا میں
…. تمہارے ہوتے اب سکھ میں بھی اٹھاؤں گی…. تمہارے اچ ہوتے سن لیو۔‘‘ دوسری رات
پاشا دولہن نے سرسراتی ریشمی ساڑھی اور لہنگا پہنا۔ خود بھی تو ریشم کی بنی ہوئی
تھیں۔ اپنے آپ میں پھسلی پڑ رہی تھیں۔ پھر جب رحمت مالش کرنے بیٹھا تو بس بیٹھا ہی
رہ گیا۔ دیکھتا کیا ہے رے؟ ہاتھوں میں دم نئیں کیا؟ اس نے سرسراتا لہنگا ڈرتے ڈرتے
ذرا اوپر کیا۔ اس کو مالش بولتے کیا رے نکمے! ان کی ڈانٹ میں لگاوٹ بھی تھی۔ رحمت
نے سرخ ہوتی کانوں سے پھر اور سنا…. ’’ذرا ہور اوپر۔‘‘ ’’ذرا ہور اوپر….‘‘ گہرے
اودے رنگ کا لہنگا اور گہرے رنگ کی ساڑھی ذرا اوپر ہوئی اور جیسے بادلوں میں بجلیاں
کوندیں۔ ’’ذرا ہور اوپر….‘‘ ’’ذرا ہور اوپر….‘‘ ’’ذرا ہور اوپر….‘‘ ’’ذرا ہور
اوپر….‘‘ تلملا کر صندل کے تیل سے بھری کٹوری اٹھا کر رحمت نے دور پھینک دی، اور
اس ’’بلندی‘‘ پر پہنچ گیا جہاں تک ایک مرد پہنچ سکتا ہے اور جس کے بعد ’’ذرا ہور
اوپر‘‘ کہنے سننے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ دوسرے دن پاشا دولہن پھول کی طرح
کھلی ہوئی تھیں۔ صندل ان کی من پسند خوشبو تھی۔ صندل کی مہک سے ان کا جسم لدا ہوا
تھا…. نواب صاحب نے رحمت سے پانی مانگا تو وہ بڑے ادب سے چاندی کی طشتری میں چاندی
کا گلاس رکھ کر لایا…. جھک کر پانی پیش کیا تو نہیں ایسا لگا کہ وہ صندل کی خوشبو
میں ڈوبے جا رہے ہیں۔ گلاس اٹھاتے اٹھاتے انہوں نے مڑ کر بیگم کو دیکھا جو ریشمی
گدگدے بستر میں اپنے بالوں کا سیاہ آبشار پھیلائے کھلی جا رہی تھیں …. ایک فاتح
مسکراہٹ ان کے چہرے پر تھی۔ وہ انہیں سنانے کو رحمت کی طرف دیکھتے ہوئے زور سے
بولے ’’کل تیرے کو گاؤں جانے کا ہے، وہاں پر ایک منشی کی ضرورت ہے بول کے۔‘‘ رحمت
نے سر جھکا کر کہا، ’’جو حکم سرکار….‘‘ نواب صاحب نے پاشا دولہن کی طرف مسکرا کر
دیکھا…. ایک فاتح کی مسکراہٹ۔ دو گھنٹے بعد پاشا دولہن اپنی شاندار حویلی کے بے
پناہ شان دار باورچی خانے میں کھڑی ماما کو ہدایت دے رہی تھیں۔ ’’دیکھو ماما بی،
انے یہ اپنی زبیدہ کا چھوکرا ہے نا شرفو…. اس کو ذرا اچھا کھانا دیا کرنا…. آج سے
یہ میرے پاواں دبایا کریں گا…. مالش کرنے کو ذرا ہاتھاں پاواں میں دم ہونے کو ہونا
نا؟‘‘ ’’بروبر بولتے بی پاشا آپ۔‘‘ ماما بی نے اصلی گھی ٹپکتا انڈوں کا حلوہ شرفو
کے سامنے رکھتے ہوئے پاشا دولہن کے حکم کی تعمیل اسی گھڑی سے شروع کر دی۔
کُھلی اکھ دا سُفنا ( مقصود ثاقب ) حامد نوں اسپتال آیاں کوئی
ڈیڑھ دو سال ہو گئے سن پر حیرانی دی گل سی دن رات اوتھے کوئی مہینہ سوا مہینہ
لنگھا ے وی اوہنوں نہ تے کسے نرس دی شکل چیتے رہی سی تے نہ کسے ڈاکٹر سرجن دی۔
حالاں دن رات اوہ اوہناں نوں ویکھدا رہندا سی۔ اودوں اوہ سوچدا سی، ایہہ شکلاں
جیوین اوہدے جیون وچ آیئاں نیں اوہنوں قیامت تیک نہیں بھلن لگیاں۔ ایہناں وچ کجھ
لیڈی داکٹران وی سن، جیہڑیاں سوہنیاں وی لگیاں سن پر ہسپتانوں گھر اون دی دیر سی،
مجال اے جے دونہہ چونہہ دناں بعد اوہنوں کوئی نُہار چیتے آئی ہووے۔ اوہ بتھیرا جتن
کردا کسے نہ کسے نوں چیتے کرن دا پر اوہ ساریاں شکلاں تے انج سن جیویں اوہدے چت دی
پٹی تون پھکے رنگاں واکن اپنے آپ ای اڈ گیاں ہوون، ہاں اوہنان ساریاں شکلاں نوں
چتاردیاں اوہنوں اک شکل ای وکھالی دیندی ۔ کالے جیہے رنگ دے اک لمے جیہے چھور دی،
موٹیان کالیاں اکھان شاہ کالے بھونڈاں ورگیاں، وچوں چِلیاں ۔۔۔۔ جھاتی ماردیاں۔
اوہنوں کوئی چیتا نہ اوندا بئی ایہہ کون اے تے ہسپتال دے لوکاں نوں چیتے کردیاں
ایہدا چتر کیوں اوہدیاں اکھاں اچ اگھڑ اوندا اے۔ جھٹ کر کے اوہدے ول ٹکٹکی لا کے
ویکھدا۔ اوہ اوہنوں مٹان لئی کئی پاسے اپنا دھیان لاندا اے۔ حیاتی دیاں چنگیاں
بھیڑیاں کیئں گلاں چیتے کردا اے پر اوہ چتر اوہ شکل اوہدیاں اکھاں وچوں جان دا ناں
ای نہیں لیندی۔ واہوا چر رہ کے پھیر حامد نوں پتہ وی نہ لگدا تے اوہ شکل اوہدیاں
اکھاں وچوں خبرے کیویں آپ ہی الوپ ہو جاندی۔ اوہنوں اوہدے انج چھپ جان تے بڑا ای
اچنبھا ہوندا۔ حامد سوچدا، ایس شکل دا سر پیر ہسپتال دے لوکاں نال کوئی سانگا اے۔
کیونجو ایہہ ابھر دی وی اودوں ای اے جدوں ہسپتال دے عملے دیاں کڑیاں زنانیاں تے
بندیاں نوں چیتے کرناں۔ شکلاں تے بھانویں مینوں چیتے نہیں آوندیاں پر نرساں،
ڈاکٹراں سرجناں تے صفائی ستھرائی والے لوکاں دے ہوون دا تے اندازہ ہے ای مینوں۔
پھیر ایہہ بندہ کیہڑا ہویا۔ حامد پھیر گویڑاں وچ بُڈ جاندا۔ اک دن دو پہریں اوہ
سوں کے اٹھیا تے اوہدیاں اکھاں وچ اجے تیک اک سُفنا چھاں کیتی بیٹھا سی۔ ہسپتال دا
اوہو ای کمرہ سی جیہدی باری تھانیوں نیوز چینل دا اک وڈا اچا پوسٹر وکھالی دیندا
سی جیہدے اتے سارا دن کدی لالیاں کدی طوطے ، چڑیاں تے کدی کاں آوندے رہندے سن تے
بتی جان تے جدوں ہسپتال دا جنریٹر بھاری گڑھک نال چلدا سی تاں پوسٹر دیاں ایہہ
لراں اک واری سکھنیاں ہو جاندیاں سن۔ پکھو رولا پاندے آسے پاسے اڈ جاندے سن۔اوس
ویلے اوہنوں نیلے دھوتے اسمان اتے اڈدے چٹے کبوتر انج ای دکھائی دیندے جیویں کسے
جہاز نے پرچیاں سٹیاں ہون۔ حامد نوں کوئی جھاولا جیہا پیا خبرے کوئی ڈاکٹر سی۔
اوہدے بھترئے نوں بوہے دے نیڑے لے کے کھلوتا۔ کوئی کھُسر پھُسر پئی ہوندی سی۔ اوہ
کوئی عجیب جیہاں سینتاں وی پیا کردا سی۔ حامد ادھ جاگیاں اکھاں نال ایہہ سُفنا
ویکھی آوندا سی۔ او دونویں باہر ٹر گئے۔ حامد دا بھتریا آیا نال اوہدے کوئی چھوہر
سی۔ کوئی ساوے جیہے کپڑے پائے ہوئے سن اوس۔ موڈھے اتے تولیہ، اک صندوقڑی دا کنڈا
اوہنے دوویں ہتھاں نال پھڑیا ہویا صندوقڑی نوں پٹاں نال لا کے۔ حامد اوہدی شکل
ویکھن لگا تے اگے زاہد آ گیا، حامد دا بھتریا۔ ہن اوہدی حامد ول کند سی تے اوہ بیڈ
دی پواندی تھوڑا پرانہہ کندھ نال دھرے میز اتے کجھ چیزاں پیا دھردا سی۔ حامد اچن
چیت تپ کھلوتا، “ زاہد ایہہ کون اے تیرے نال ؟ ” زاہد میمنے واکن ممیایا، چنگا
بھلا جوان بندہ ہو کے حامد دے غصے اگے، “ باواجی، تہاڈی شیو تے حجامت لئی بندہ
لیایاں۔ تساں بس اپنی تھاں لمیاں پیا رہنا ئے۔ کوئی ہلنا جلنا نہیں پینا تہانوں ۔
” حامد نوں کجھ چر پہلاں کمرے دے بوہے کول زاہد نال کھلونا جھاولا چیتے آ گیا۔
اوہدیاں سینتاں اشارتاں دا پول وی کھل گیا اوہدے اتے۔ اوہنوں سمجھ آ گئی زاہد ایہہ
سارا کم اوس جھاولے دی پاروں کردا پیا اے۔ “ باوا جی۔ ایہہ تھلے ای ہوندا ئے،
پارکنگ دے بوہے نال ایہنے میز کرسی دھری ہوئی اے ۔” حامد چیکیا، “ لے جا
ایہنوں اوتھے ای جتھوں کتوں وی لیایا ایں۔ توں وی اپنی مرضی کرن لگ پیا ایں۔ ”
اوہدے کجھن دی وی کوئی حد نہیں سی رہی۔ خبرے دوواں دا ساڑ سی یاں لمے پئے منک دیاں
بوتلاں توں نلکیاں سویئاں راہیں خوراک لیندیاں اختگی اگئی ہوئی سی اوہنوں۔ ۔۔۔۔ “
بس لے جا ایہنوں ” اوہ حامد نوں دسدا نہیں سی پیا۔ زاہد دے اوہلے کھلوتا کسے آہرے
لگا ہویا سی۔ حامد نوں اوہ رچھانی وچوں رچھ کڈھ کے میز تے لاندا جپیا۔ “ او باربر
شاپ۔ ۔۔۔۔ ٹر جا ایتھون" اوس ویلے اوہنے زاہد دے موڈھیاں توں دھون
بھواں کے حامد ول ویکھیا ۔۔۔۔۔ پر حامد نے اوہدے اتے کوئی دھیان نہ دتا۔ زاہد
اوہنوں لے کے باہر ٹر گیا۔ تھوڑے چر مگروں زاہد آیا تے معافی منگن لگا، ” میں کسے
دے آکھن تے نہیں ساں لیایاں اوہنوں۔ پارکنگ اچوں نکلدیاں میں اوہنوں ویکھیا، واہوا
صاف ستھرا لگا مینوں تے تاں میں لے کے آیا ساں۔ انج وی باجی نے مینوں آکھیا ہویا
سی۔ “ زاہد بولدا پیا سی تے حامد اکھاں میٹی سرہانے اتے سر ٹکائی سن دا پیا سی۔
پھیر اوہنے جیویں جُھردیاں ہویاں آکھیا، ” لے آ سُو “ زاہد کول اوہدا منبر سی
اوہنے فون کیتا۔ کجھ چر مگروں بوہے تے ٹھکور ہوئی۔ زاہد نے بوہا کھولیا، ” آ جا
صدیق، آ جا میرا بھرا “ صدیق دا ہتھ بڑا ای ہولا سی۔ تھوڑے چر وچ ای اوہنے حامد دا
مونہہ سر کڈھ دتا۔ وڈا سارا شیشہ پھڑ کے، حامد دے پچھے کھلو کے اوہنوں وکھان لگ
پیا۔ صدیق، حامد نوں آپ وی شیشے وچ ویکھدا سی پیا بڑیاں ٹھریاں اکھاں نال۔ حامد نے
شیشہ پرانہہ کر دتا۔ اپنی رچھانی پھڑ کے اوہ زاہد دے اگے جاندا جاندا پچھانہہ پرت
کے آیا تے حامد دیاں اکھاں وچ اکھاں پا کے بولیا، ” با با جی۔ بیماری نال وی بندے
وچ ہُون آ جاندی جے ۔۔۔ “ حامد نوں چیتے آ گیا۔ جیہڑی شکل اوہدے ساہمنے آ جاندی اے
ہسپتال دیاں شکلاں چیتے کردیاں اوہ تے اصل وچ صدیق دی شکل اے۔ کالیاں بھونڈاں
جیڈیاں موٹیاں اکھاں ڈیلیاں دی چٹیائی نوں ہور وی چٹیاں کر دیاں ۔۔۔۔۔
اوہدی ہُوں نوں تاڑ دیاں۔
نیلا دروازہ (انور جمال) نیلا دروازہ ,,,,,,, گلی میں دو دروازے
بالکل آمنے سامنے تھے ,ایک کا رنگ نیلا تھا, دوسرے کا سبز ,,,, یہ دونوں دروازے
اکثر ایک دوسرے سے رنگ تبدیل کیا کرتے .کبھی نیلا سبز ہو جاتا اور کبھی سبز نیلا
یا کبھی دونوں ہی نیلے یا دونوں ہی سبز ,, جب میں رات کو دو یا تین بجے گھر لوٹتا
تو بڑی دقت پیش آتی کہ کس دروازے کو بجاؤں … یہ تو اچھی طرح معلوم تھا کہ میرے گھر
کا دروازہ سبز رنگ کا ہے لیکن جب دونوں ہی نیلے یا سبز ہو چکے ہوں تو کوئی کیسے
تمیز کرے ۔ نیلے دروازے کے پیچھے ایک کرائے دار خاتون نئی نئی محلے میں آئی تھیں
جن کا شوہر رات کو ڈیوٹی پر ہوتا تھا ۔ مجھے خوف ہوتا کہ اگر میں نے غلط فہمی میں
کسی دن نیلے دروازے پر دستک دے دی تو کہرام مچ جائے گا لوگ دھڑا دھڑ دروازے
کھڑکیاں کھول کر باہر نکل آئیں گے اور مجھے بد کردار اور بدچلن ثابت کرتے ہوئے
میری بیوی کے آگے پیش کردیں گے ۔ بیوی کے سامنے اس طرح سے پیش ہونا کتنا بھیانک
ہوتا ہے یہ تو معلوم ہی ہو گا آپ کو اس لیے میں کبھی کبھی گلی میں پڑے پڑے صبح کر
دیتا ہوں مگر اپنے گھر نہیں جاتا ..صبح میری بیوی خود ہی آکر نیم غنودگی یا بے
ہوشی کے عالم میں مجھے اٹھا کر گھر لے جاتی ….اسے معلوم ہے کہ سر پہ آنے والی چوٹ
کے باعث آج کل میں غائب دماغ رہنے لگا ہوں ..مجھے دن میں تارے نظر آتے ہیں,,,,
کبھی کبھی میں دیکھتا ہوں کہ چاند آسمان کا گول گول چکر کاٹ رہا ہےاور پھر وہ
دھیرے دھیرے زمین کی طرف آنے لگا ہے,,, قریب اور قریب اور قریب ,,, یہاں تک کہ وہ
میری گلی میں اتر کر بالکل سامنے آن کھڑا ہے پھر دیکھتے ہی دیکھتے پتہ نہیں کہاں
سے اس کے ہاتھ میں ایک جھاڑو آجاتا ہے اور وہ نیلے دروازے کے سامنے جھک جھک کر
کچرا سمیٹنے لگتا ہے اور تب جھکنے کے سبب اس کا دودھیا چاندنی کا سا گریبان جھلکنے
لگتا ہے ,, ایکدم سے میں اپنے سر پر ہاتھ مار کر پلکیں جھپکاتا ہوں تو پتہ چلتا ہے
کہ یہ تو وہی کرایے دار خاتون ہے… جانے مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے.. میں پریشان ہو
جاتا ہوں اور اپنے سبز دروازے کو جلدی سے بند کر کے کسی کمرے میں گھس جاتا ہوں…
کبھی کبھی میں اس کمرے سے ہفتوں باہر نہیں آتا.. ہاں میرے رونے کی آوازیں ضرور
باہر آتی ہیں…. پھر مجھے کسی طرح کھینچ کھانچ کر باہر نکالا جاتا ہے اور بتایا
جاتا ہے کہ یہ تمہارا نہیں دراصل تمہاری بھابھی کا کمرا ہے… محلے کی بڑی بوڑھیاں
میری اس حالت پر افسوس کرنے آیا کرتیں… ہائے ہائے کتنا ذہین اور پڑھا لکھا لڑکا
تھا. بے چارے کے ساتھ بہت برا ہوا.. اللہ کرے اس شخص کے ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں جس کے
غنڈوں نے اس کی پھینٹی لگائی تھی… ارے مارنا تھا تو کم از کم سر پہ تو نہ مارتے…….
وہ ہمدردی سے باتیں کرتیں اور میری بیوی کے آنسو نکال کر چلی جاتیں.. یہی سب دیکھ
کر میں زیادہ سے زیادہ گھر سے باہر رہنے لگا ہوں ۔ ۔ ۔ ایک دن یونہی کسی جگہ بیٹھا
ہوا تھا کہ ایک پیاری سی صنف نازک اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہاتھوں میں یاتھ ڈالے
جاتی نظر آئی..مجھے یاد آیا کہ میرا بھی ایک ایسی ہی لڑکی کے ساتھ تعلق تھا.. وہ
مجھے پسند کرتی تھی اور میں اسے…مگر وہ پوچھا کرتی تم بڑے آدمی کب بنو گے ؟ میں سے
بتاتا کہ میں کافی بڑا ہوں.. چھپا رستم ہوں.. اپنی ذات میں بند ہوں.. دنیا کے
سامنے نہیں آسکا اب تک.. تو وہ ہنستی نادان تھی وہ.. اسے معلوم نہیں تھا کہ بڑے
لوگ ہماری وجہ سے ہی بڑے کہلاتے ہیں.. وہ بلا شرکت غیرے اتنے بڑے نہیں ہوتے.. وہ
ایک گلوکار پہ مرتی تھی.. ہر وقت اس کے گانے سنتی رہتی اور خود بھی اس کی طرح گانے
کی کوشش کر کر کے میرے کان کھاتی رہتی.. کہتی.. ہائے کتنا رومینٹک ہے وہ.. اس کے
گانوں کے بول دیکھو.. جیسے ایک ایک لفظ موتی میں پرویا ہو… جادوگر ہے وہ جادوگر…
اس کی تعریفیں ناقابل برداشت ہوتی جارہی تھیں یہاں تک کہ ایک دن میں پھٹ پڑا اور
یہ انکشاف کرنے لگا کہ اس نوجوان گلوکار کی آواز بڑی اچھی ہے.. اس میں کوئی شک
نہیں.. لیکن اس کے سارے ہٹ گانے میرے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہوتے ہیں ..اگر میں لکھنا بند
کردوں تو وہ فٹ پاتھ پہ آجائے.. جانے میرا یہ انکشاف کس قدر بلند وبانگ تھا کہ شہر
میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں.. پھر جانے کہاں سے ایک اخباری رپورٹر میرا سب سے بڑا
ہمدرد بن کر سامنے آگیا.. اپنی کسی چیز کو دوسرے کی ملکیت ہوتے دیکھنا کتنا کربناک
ہوتا ہے اس بارے اسے پہلے ہی معلوم تھا جبھی وہ ہاں ہاں میں سر ہلاتا رہا اور
لکھتا رہا.. میں نے لکھوایا کہ دنیا والو.. بتاؤ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک شخص
تو شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے مگر دوسرا خود کو گمنامی کے اندھیروں میں چھپائے
رکھے.. اگلے دن گلوکار مجھ پر چیخ رہا تھا ..کمینے آدمی تجھے پے منٹ کردی تھی میں
نے… پھر منہ کیوں کھولا… دو ٹکے کے نالی کے کیڑے… اور پھر اس نے طیش کے عالم میں
کوئی بھاری چیز میرے سر پہ دے ماری…. میں کسی جگہ بیٹھا یہی سب سوچ رہا تھا..
سوچتے سوچتے رات ہو گئی.. اپنی گلی میں داخل ہوا تو ایک بار پھر دونوں دروازوں کی
سازش کا شکار ہوگیا.. دونوں ہی نیلے رنگ کے ہوچکے تھے.. فرق صرف اتنا تھا کہ ایک
تھوڑا سا کھلا ہوا تھا اور دوسرا سختی سے بند…. ادھ کھلے دروازے کو ٹرائی کرنے کا
فیصلہ کرتے ہوئے میں اندر داخل ہوا… چپکے چپکے چوروں کی طرح چلتے ہوئے اور ادھر
ادھر دیکھتے ہوئے اپنے گھر کو پہچاننے کی کوشش کی اور پہچاننے میں کامیاب ہو گیا..
میرا ہی گھر تھا یہ اور یہ میرا ہی کمرا تھا مگر یہ کیا.. کمرے کا دروازہ کھولتے
ہی مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا ..بیڈ پر وہی سامنے والی کراے دار سورہی تھی.. وہی
چاند سا مکھڑا.. وہی نازک نازک ہاتھ.. وہی سفیدی چھلکاتا ہوا گریبان.. پھر اس سے
پہلے کہ میں الٹے قدموں واپس آتا کسی شیطان نے جھاڑو سے مجھ پر وار کیا اور دھکا
دے کر اس کے اوپر پھینک دیا… صبح آنکھ کھلی تو سب سے پہلے میں یہ دیکھنے دوڑا کہ
دروازہ نیلا ہے یا سبز….. پیچھے سے آواز آئی.. کہاں جا رہے ہیں ناشتہ تو کرلیں…….
دروازہ نیلا تھا… یعنی ایک تو بدکاری اوپر سے ناشتہ بھی.. میں اپنے سبز دروازے کی
طرف لپکا.. بدقسمتی سے میری بیوی دروازے سے جھانک رہی تھی.. اس نے مجھے سامنے والے
مکان سے نکلتے دیکھ لیا تھا.. کہنے لگی.. یہاں کیوں آرہے ہو…. جاؤ جاؤ.. وہیں
جاؤ….. میں نے ہاتھ جوڑ دیے.. آئی ایم سوری.. رات کو غلط فہمی ہو گئی تھی.. کوئی
غلط فہمی نہیں ہوئی… وہی تمہارا گھر ہے.. مجھے خوشی ہے کہ تم وہاں گئے.. اس نے
کہا… یقیناً وہ طنز کر رہی تھی.. میں زبردستی اندر گھس گیا اور اپنا کمرا تلاش
کرنے لگا.. کمرا کہیں نہیں ملا تو اس کے پاؤں پڑ گیا.. پلیز مجھے کمرے میں لے
چلو.. مجھے کچھ ہورہا ہے… حقیقت یہ تھی کہ میں حواس باختہ ہو رہا تھا.. مجھے خود
کو ایک کمرے میں بند کر لینے کی سخت ضرورت آن پڑی تھی.. آخر اس نے مجھے ایک کمرے
میں دھکیل دیا گیا.. میں نے جلدی سے کنڈی لگا کر خود کو محفوظ کیا اور کمبل اوڑھ
کر ایک جگہ دبک گیا… پھر شاید میری آنکھ لگ گئی یا بے ہوش ہوگیا.. ہوش آیا تو شام
کے پانچ بج رہے تھے اب میں خود کو کافی بہتر محسوس کر رہا تھا.. یہی وجہ تھی کہ
آنکھ کھلتے ہی میں نے جان لیا کہ یہ میرا نہیں بھابھی کا کمرا ہے… کیونکہ ان کا
تمام تر فرنیچر شیشم کی لکڑی کا تھا.. خود کو برا بھلا کہتے ہوئے آئینے میں اپنا
سراپا دیکھا…تو مزید مایوسی ہوئی.. کیسا تھا میں اور کیسا ہو گیا ہوں.. کمرے سے
نکلا تو بھائی اور بھابھی کو لونگ روم میں ہنستے ہنساتے پایا.. آئیے آئیے مہاراج…
سو کے اٹھ گئے؟ بھائی کے لہجے میں طنز تھا.. اس نے صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ..بھوک
لگ رہی ہوگی.. بھابھی نے تشویش ظاہر کی.. میں پوچھتا ہوں کہ جب تم پر غائب دماغی
کا دورہ پڑتا ہے تو میرے ہی کمرے میں کیوں آکر بند ہوتے ہو؟ بھائی نے شکوہ کیا…
مجھے نہیں پتہ…. میں ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا.. یہ بتائیں میرے سر پر چوٹ آئی
کیسے ؟ تمہیں کوئی چوٹ نہیں آئی ..اس طرح کی باتیں تم نے خود مشہور کی ہیں اپنے
نشے کی لت کو چھپانے کے لیے..خدا کے لیے اب نشہ چھوڑ دو.. مانا تمہارے پاس بہت
پیسہ ہے اور یہ مکان بھی تمہی نے خرید کر دیا ہے ہمیں. مگر وہ پیسہ کب تک چلے گا.
ایسا نہ ہو ایک دن تمہیں بھی میری طرح رات رات بھر ڈیوٹی کرنی پڑے… اب وہ دن دور
نہیں.. بھابھی نے کہا ..اس کے پاس جتنا پیسہ تھا سب ختم ہوگیا.. ایک عرصے سے اس کا
کوئی گانا ہٹ نہیں ہوا.. لوگ اسے بھولتے جارہے ہیں ..بھابھی نے چرکا لگاتے ہوئے
میری یاداشت لوٹا دی.. تب یاد آیا کہ نیلے دروازے کے پیچھے چاند چہرے والی چاندنی
ہی دراصل میری بیوی ہے اور سبز رنگ کا دروازہ میرے بھائی کے گھر کا ہے.. مجھے سب
یاد آگیا تھا.وہ گلوکار بھی میں ہی تھا جس کے گانے کبھی ٹاپ ٹین لسٹ میں ہوتے اور
ہر چینل پہ چلتے تھے.. میں صوفے سے اٹھا.. بھائی میں ناشتہ کر کے آتا ہوں.. یہ
کہتے ہوئے باہر نکل گیا.. نیلا دروازہ اور چاندنی دونوں میرے منتظر تھے.. چاندنی
کو بھی میں نے یہی باور کرایا تھا کہ سر کے چوٹ کی بدولت میری دماغی حالت درست
نہیں آجکل… مگر امید ہے کہ جلد ٹھیک ہو جاؤں گا… شاور اور ناشتے کے بعد حسب معمول
میں باہر نکل گیا.. گلیوں اور بازاروں میں لوگ آ جا رہے تھے.. ہر طرف گہما گہمی
تھی تاہم دکانوں میں رکھے ہوئے میوزک پلیئر خاموش تھے.. انہیں انتظار تھا کسی سپر
ہٹ البم کا جو میں انہیں دے نہیں پا رہا تھا اور یہی میرا سب سے بڑا دکھ تھا..
میرے پاس صرف ایک گلا تھا. گیت یا نغموں کے بول نہیں تھے.. شدید دکھ اور محرومی کے
احساس نے مجھے گھیر لیا.. کیا مجھے دولت اور شہرت اب کبھی نہیں ملنے والی.. کیا
میں ایک بار پھر گمنامی کے اندھیروں میں غائب ہونے والا ہوں؟ انہی سب سوالوں نے
میری یاداشت ایک بار پھر چھین لی.. بس اتنا یاد تھا کہ میں پی رہا ہوں ..پیے جا
رہا ہوں.. رات آدھی سے زیادہ بیت گئی تو میں اپنی گلی میں لوٹ آیا اور پہچاننے کی
کوشش کرنے لگا کہ میرا گھر کونسا ہے..آج بھی دونوں دروازوں نے اپنے اپنے رنگ تبدیل
کیے ہوئے تھے..میں نے دونوں پر لعنت بھیجی اور چبوترے پر لیٹ کر اپنے اچھے دنوں کو
یاد کرتے کرتے سو گیا.. امید تھی کہ میری بیوی کسی وقت آ کر لے جائے گی.. کافی دیر
بعد کسی نے میرے گالوں پر بوسہ دیا.. آنکھ کھولی تو سامنے بھابھی کو پایا.. جلدی
سے اٹھ بیٹھا.. وہ افسوس کرتے ہوئے بولی.. چچ چچ.. اس طرح تو تم مر جاؤ گے..تم
گلوکار ہو مگر اپنے گانے کا ایک مصرع بھی خود سے نہیں لکھ سکتے.. کسی اور سے
لکھواتے ہو تو وہ اتنا اچھا نہیں ہوتا..صرف میرے ہی لکھے ہوئے گانے تمہیں آسمان کی
بلندیوں پر لے گئے تھے…کب تک دور رہو گے.. مان لو کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے
لازم و ملزوم ہیں.. تم میرے بغیر کچھ نہیں اور میں تمہارے بغیر … …دیکھو کتنا
چاہتی ہوں تمہیں.. مگر تم سنگدل ہو .. محبت کا اظہار کرتی ہوں تو مارنے لگتے ہو
..ہاتھ اٹھا دیتے ہو مجھ پر…. پچھلی بار تم نے پتھر اٹھا کر میرے سر پر مار دیا
تھا.. ..مگر کوئی بات نہیں ..چاہو تو مجھے جان سے مار دو….یہ جان بھی تمہاری ہے..
مجھے پتہ تھا اب وہ بولتی چلی جائے گی ..اور آخر میں رونا بھی شروع کر دے گی.. میں
نے ہاتھ اٹھانے کی بجائے آہستگی سے ہاتھ چھڑایا اور نیلے دروازے کو سامنے پا کر چپ
چاپ چلا گیا..چاندنی سو رہی تھی… میں اس کے پہلو میں جا کر لیٹ گیا..اور دل ہی دل
میں عہد کیا کہ اب اپنی چاندنی سے کبھی بے وفائی نہیں کروں گا…. کتنی اچھی تھی
وہ.. کتنا بھروسہ کرتی تھی مجھ پر…. بس اس میں ایک ہی کمی تھی کہ اسے شاعری نہیں
آتی تھی.. کاش میری چاندنی ہی مجھے اچھے اچھے نغمے لکھ کر دیا کرتی …بہرحال اس رات
میں مطمئن ہو کر سویا… آج ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں تھا..مگر صبح پانچ بجے آنکھ کھلی
تو دل دھک دھک کرنے لگا ….. اف… کمرے کا فرنیچر, الماری, سنگھار میز ,شو کیس سب
شیشم کی لکڑی کا تھا.. اٹھو…. جلدی نکلو……. صبح ہونے والی ہے.. میں نے اسے زور زور
سے ہلایا…. اونہوں… سونے دو ناں… اس نے لپٹنے کی کوشش کی… میں نے دھکا دے کر دور
کیا .. جیسے تیسے اسے کمرے سے نکال کر کنڈی چڑھائی اور کمبل اوڑھ کر ایک جگہ دبک
گیا
.. ————————————
رات کلہنی ( حبیب جالب )
دنیا بھر دے کالے چٹے چور سوچیں پے گئے - کی ہویا رات جے مکّ گئی جے دھرتی دے
کامیاں اگے گردن جھکّ گئی کی ہووےگا ؟ رات نوں روکو روشنیاں دے ہڑ دے اگے اچیاں
اچیاں کندھاں چقو رات نوں روکو ہڑ دی گونج تے گھوکر سن کے تاجاں تے تختاں دی دنیاں
کمب اٹھی اے اک مٹھی اے جدوں ایہناں دی لٹکھسٹّ نوں خطرہ پیندا ربّ رسول نوں خطرے
دے وچ پا دیندے نے ربّ رسول دے حکم نال ایہہ رہن نہیں لگے خونی قاتل چور لٹیرے
کالے بگے ‘جالب’ بھاویں لکھ اکٹھے ہو ہو بہون نہیں ہن رہنی رات کلہنی نہیں ہن رہنی
رات کلہنی
روزنامچہ ( کشور ناہید ) میرے ہر آج کو گذشتہ بنانے والوں نے
اپنے نام کے سامنے اوصاف اور میرے نام کے سامنے دشنام لکھی میری تاریخ کو زنجیر
پہنانے والوں نے میرے گھر کے سامنے سلاخیں اور اپنے گھر کے سامنے عشق پیچاں کی بیل
سجا لی ہے میری گویائی کو تصویر بنانے والوں نے اپنے لیے لونگ پلے اور میرے لیے
کنویں بنا لیے ہیں سروں کے ڈول سے گویائی کی رسی باندھ کر سچائی کا پانی بھرنے
پنہارنیں کب آیئں گی کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں مرد کم ہو گئے تھے تو
عورتوں نے چمنی چمنی دھویئں کے بادلوں سے خوشحالی کا مینہہ برسایا تھا امن کا میگھ
خوشحالی کا مینہہ اندھی اور دیکھنے والی آنکھوں سے نکلتے آنسو با لکل ایک جیسے
ہوتے ہیں ان ہاتھوں کو بلند رکھو کہ نیچے آئے تو بریدہ ہوں گے ان ہونٹوں کو مصروف
گفتار رلکھو کہ خاموش ہوئے تو سی دیے جایئں گے سنو آگ کو آگ نہیں بجھا سکتی
عمر بھر کی کمائی ( جاوید شاہین ) خوابوں سے بھری ہوئی ایک شاخ
میں نے کھڑکی میں رکھی اور اسے بند کر دیا اس سے بہتر کمائی کیا ہوگی اپنی نیند
سووں گا جب چاہوں گا کوئی سا خواب آنکھوں میں سجا لوں گا اور موسموں کی محتاجی سے
بچ جاوں گا لیکن میں بھول گیا تھا کہ میری کھڑکی کے باہر جھوٹی صبحیں طلوع ہوتی
ہیں میرے گھر کی منڈیر پر بھوکے پرندوں کا شور ہے اور ہوا میری دیوار سے لگی ساری
رات روتی رہتی ہے بستر میں لیٹبے لگتا ہوں تو مجھ سے پہلے تاریکی وہاں لیٹ جاتی ہے
اور ہم بستری پر مجبور کرتی ہے گھبرا کر کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں اور کھڑکی میں پڑی
ہوئی ساری عمر کی کمائی کو پتی پتی بکھرتے دیکھتا رہتا ہوں
• محبت کی پہلی سالگرہ • ( صدف مرزا ) یہی وہ رتیں تھیں ، یہی تھیں فضائیں
یہی تھا وہ موسم ، یہی تھیں ہوائیں ملے تھے یہیں ہم سے پہلے پہل وہ یہیں پر لٹائی
تھیں دل نے وفائیں یہی دن تھے ہارا تھا دل ہم نے اپنا یہیں پر ملن کی تھیں مانگی
دعائیں یہیں ہم نے سونپا تھا دل ان کو اپنا یہیں وصل کی دل نے سیکھیں ادائیں یہی
تھے وہ کوچے، یہی تھیں وہ گلیاں یہیں اب بھی دیتے ہیں ان کو صدائیں یہیں ساتھ ان
کے گزارے تھے وہ دن تھیں پیروں تلے اپنے جب کہکشائیں یہیں بوئے گل ہم سے کرتی تھی
شوخی یہیں چھیڑتی تھیں ہمیں یہ ہوائیں• صدف ؔ آؤ چل کر اُنہیں ہم منائیں
Gabriel José de la
Concordia García Márquez was a Colombian novelist, short-story writer,
screenwriter and journalist. He is considered one of the most significant
authors of the 20th century and one of the best in the Spanish language.
He was awarded the Neustadt International Prize for literature in 1972 and
Nobel Prize in literature in 1982 ایسے ہی کسی دن (
گارسیا مارکیز ) مترجم: عامر صدیقی اس پیر کی صبح، گرم اور بنا بارش کے نمودار
ہوئی۔ صبح سویرے جاگنے والے او لیور ایسکوار نے، جو دانتوں کا ایک بغیر ڈگری والا
ڈاکٹر تھا، اپنا کلینک چھ بجے ہی کھول دیا۔ اس نے شیشے کی الماری سے نقلی دانت
نکالے، جو اب بھی بھربھری مٹی کے سانچے میں جڑے ہوئے تھے، اورپھر مٹھی بھر اوزاروں
کو، ان کے سائز کے حساب سے میز پر یوں سجا کے رکھا، جیسے ان کی نمائش کی جا رہی
ہو۔ اس نے بغیر کالر والی ایک دھاری دار قمیض پہن رکھی تھی، جس کے بند گلے پر
سنہری بٹن تھا اور اس کی پتلون گیل لس سے بندھی ہوئی تھی۔ وہ دبلا پتلا سا انسان
تھا، جس کی نگاہ کبھی کبھار ہی حالات کے مطابق ہو پاتی تھی، جیسا کہ بہرے لوگوں کی
نگاہوں کے معاملے میں ہوتا ہے۔ اوزاروں کو میز پر ترتیب دینے کے بعد، وہ ڈرل کو
کرسی کے پاس کھینچ لایا اور نقلی دانتوں کو چمکانے بیٹھ گیا۔ وہ اپنے کام کے بارے
میں دھیان دیتا، دکھائی نہیں دے رہا تھا، بلکہ ڈرل کو اپنے پاؤں کی مدد سے چلاتے
ہوئے، وہ مسلسل اسے چلائے جا رہا تھا،اس وقت بھی جبکہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
آٹھ بجے کے بعد کھڑکی سے آسمان کو دیکھنے کے ارادے سے، وہ تھوڑی دیر کے لئے رکا
اور اس نے دیکھا کہ دو وچار بے فکرے ،پاس کے مکان کے شہتیر پر دھوپ سینک رہے تھے۔
وہ اس خیال کے ساتھ دوبارہ کام میں لگ گیا کہ دوپہر کے کھانے سے پہلے دوبارہ بارش
ہوگی۔پھر اچانک اپنے گیارہ سالہ بیٹے کی تیز آواز سے اس کادھیان بھٹکا۔ ”پاپا۔”
”کیا ہے؟” ”میئر پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ ان کا دانت نکال دیں گے۔” ”اسکو بتا دو کہ
میں یہاں نہیں ہوں۔” وہ ایک سونے کا دانت چمکا رہا تھا۔ ہاتھ بھر کی دوری پر لے
جاکر اس نے آنکھیں بھینچ کر دانت کوپرکھا۔ مختصرسے ویٹنگ روم سے پھر اس کا بیٹا
چلایا۔ ”وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ یہیں ہیں اور یہ بھی کہ وہ آپ کی آواز سن سکتے ہیں۔”
ڈاکٹر نے دانت کی جانچ پڑتال جاری رکھی۔ پھراس دانت کو میز پر چمکائے جا چکے باقی
دانتوں کے ساتھ رکھنے کے بعد ہی وہ بولا ”اچھا ہے،سننے دو اسے۔” وہ پھر سے ڈرل
چلانے لگا۔ اس نے گتے کے ڈبے سے، جس میں وہ ایسی چیزیں رکھتا تھا ،جن پر کام کرنا
ابھی باقی ہوتاتھا، کچھ مزید دانت نکالے اور اسکے سونے کو چمکانے میں لگ گیا۔
”پاپا۔” ”کیا ہے؟” اس نے اب بھی اپنا انداز نہیں بدلا تھا۔ ”وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر
آپ ان کا دانت نہیں نکالیں گے، تو وہ آپ کو گولی مار دیں گے۔” بغیر کسی گھبراہٹ کے
، بہت ہی مستحکم رفتار سے اس نے ڈرل کو پیڈل مارنا بند کیا، اسے کرسی سے پرے
دھکیلا اور میز کی نچلی دراز کو کھینچ کراسے پورا باہر نکالا۔ اس میں ایک ریوالور
پڑا تھا۔ ”ٹھیک ہے” اس نے کہا۔ ”اس سے کہو کہ آکر مجھے گولی مار دے۔” اس نے کرسی
گھما کر دروازے کے سامنے کر لی، اس کا ہاتھ دراز کے سرے پر ٹکا ہوا تھا۔ میئر
دروازے پر نظر آیا۔ اس نے اپنے چہرے کے بائیں طرف تو شیو بنائی ہوئی تھی، لیکن
دوسری طرف، سوجن اور درد کی وجہ سے پانچ دن کی بڑھی ہوئی شیو موجود تھی۔ ڈاکٹر نے
اس کی مایوس آنکھوں میں کئی راتوں کی ناامیدی دیکھی۔ اس نے اپنی انگلی کے پوروں سے
دراز کو بند کرکے آہستہ سے کہا۔ ”بیٹھ جاؤ۔” ”گڈ مارننگ” میئر نے کہا۔ ”مارننگ ”
اس نے جواب دیا۔ جس دوران اوزار ابل رہے تھے، میئر نے اپنا سر کرسی کے سرہانے پر
ٹکا دیا اور کچھ بہتر سا محسوس کرنے لگا۔ اس کی سانسیں سرد تھیں۔ یہ ایک انتہائی
گھٹیا کلینک تھا۔ ایک پرانی لکڑی کی کرسی، پاؤں سے چلنے والی ایک ڈرل، مٹی کی
شیشیوں سے بھری ایک شیشے کی الماری۔ کرسی کے سامنے ایک کھڑکی تھی جس پر کندھوں کی
اونچائی تک کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ جب اس نے دانتوں کے ڈاکٹرکو آتا ہوا محسوس کیا،
تو اس نے اپنی ایڑی کو زمین میں گڑا کر اپنے منہ کو کھول دیا۔ او لیور ایسکوار نے
اپنا سر روشنی کی سمت میں گھما لیا۔ متاثرہ دانت کے معائنے کے بعد اس نے نرم
انگلیوں کے دباؤ سے میئر کا جبڑا بند کر دیا۔ ”یہ کام بنا دیر کئے بغیر ہی کرنا
پڑے گا” اس نے کہا۔ ”کیوں؟” ”کیونکہ اندر ایک زخم ہے۔” میئر نے اس کی آنکھوں میں
دیکھا۔ ”ٹھیک ہے” اس نے کہا اور مسکرانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر جواب میں نہیں مسکرایا۔
اب بھی بغیر کسی عجلت کے وہ اس عمل میں درکار بنیادی اوزاروں کو کام
کرنے کی میز تک لے آیا اور ان کو ایک ٹھنڈی چمٹی کی مدد سے پانی سے باہر نکالا۔
پھر اس نے پیکدان کو جوتے کی نوک سے دھکیلا اور واش بیسن میں ہاتھ دھونے کے لئے
گیا۔ یہ سب اس نے میئر کی طرف دیکھے بغیر ہی کیا۔ لیکن میئر نے اس پر سے اپنی
نظریں نہیں ہٹائیں۔ زخم عقل داڑھ کے نچلے حصے میں تھا۔ ڈاکٹر نے اپنے پاؤں پھیلا
کر گرم پلاس سے دانت کو پکڑ لیا۔ میئر نے کرسی کے ہتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا،
اپنی پوری طاقت سے پیروں کو سخت کر لیا اور اپنے گردوں میں ایک برفیلا خالی پن
محسوس کیا ،مگر کوئی آواز نہیں نکالی۔ڈاکٹر نے صرف اپنی کلائی کو حرکت دی۔ بغیر کسی
سمجھوتے کے، بلکہ ایک تلخ نرمی کے ساتھ، اس نے کہا۔ ”اب تم ہمارے بیس مارے گئے
لوگوں کی قیمت ادا کرو گے۔” میئر نے اپنے جبڑے میں ہڈیوں کی چرمراہٹ محسوس کی، اور
اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ لیکن اس نے اس وقت تک سانس نہیں لی، جب تک کہ
اسے دانت نکلنے کا احساس نہ ہو گیا۔ پھر اس نے اپنے آنسوؤں کے درمیان سے اسے
دیکھا۔ اس کے درد کی وجہ سے وہ اتنا پرایا نظر آ رہا تھا کہ وہ اپنی پچھلی پانچ
راتوں کا تشدد سمجھنے میں ناکام رہا۔ پیکدان پر جھکے، پسینے سے تر، ہانپتے ہوئے اس
نے اپنی جیکٹ کے بٹن کھولے اور پتلون کی جیب سے رومال نکا لنا چاہا۔ ڈاکٹر نے اسے
ایک صاف کپڑا دیا۔ ”اپنے آنسو پونچھ لو” اس نے کہا۔ میئر نے ایسا ہی کیا۔ وہ کانپ
رہا تھا۔ جب ڈاکٹراپنے ہاتھ دھو رہا تھا، اس نے ٹوٹی پھوٹی چھت اور دھول سے اٹے،
مکڑی کے انڈوں اور مردہ کیڑے مکوڑوں سے بھرے مکڑی کے جالوں کی طرف دیکھا۔ اپنے
ہاتھ پونچھتے ہوئے ڈاکٹر واپس لوٹا۔ ”جاکر سو جاؤ” اس نے کہا ”اور نمک کے پانی سے
غرارہ کر لینا۔” میئر اٹھ کھڑا ہوا اور ایک غیر رسمی فوجی سلامی کے ساتھ رخصت لے
کر، جیکٹ کے بٹن بند کئے بغیر ہی، اپنے پاؤں پھیلاتے، دروازے کی طرف بڑھ
چلا۔ ”بل بھیج دینا” اس نے کہا۔ ” تمہیں یا شہر کے نام؟” میئر نے اس کی طرف نہیں
دیکھا۔ اس نے دروازہ بند کر دیا اور پردے کے پیچھے سے کہا۔ ”ایک ہی بات ہے
تراحم میں لپٹا نان کباب ( سمیع آہوجہ ) سمے
انتہائی بھیانک اور المناکی سوانگ دھارے پُورے پنجاب پرچھایا ہوا تھا ۔ اسی دہشت
ناکی میں موسیٰ نے سیلاب کی منہ زوری سے تباہ حال اینٹوں کے بھٹے کی آدھی گری چھت
والی تنہابچی کوٹھری میں جنم لیا، موسیٰ کے باپ کا نام تو کبھی خیر دین رکھا گیا
تھا مگر وہ نجانے کِس کھیت کی مٹی میں گُم ہوا بس ہونٹوں کا چھجا بنے چارلمبے لمبے
چوڑے دانتوں کی بدولت خیرو دوندل بنا اور پھر وقت کی چاشنی چوستے لمحوں میں گِھس
گِھسا کرصرف دوندل رہ گیا۔ دوندل اور اُس کی بیوی دونوں ہی رنج و الم میں رنگے
ہوئے تھے۔شادی کے آٹھ سال خزاں زدگی کی زد میں آئی اپنی گود پر بہار کِھلنے کی آس
امید میں بندھے، درگاہوں کی چوکھٹ چومتے،منتوں میں رنگے، تاگے باندھتے ،گڑگڑاتے،
ناک رگڑتے بڑی دعاﺅں منتوں کے بعداک لمبی آس لگائی مدت میں موسیٰ اُن کی زندگی میں
آیا ، مگر کیسی زندگی ؟کم از کم اُن کی اپنی تو نہ تھی ،جونہ نظر آتی زنجیروں کی
جکڑبندی، دوندل اور اُس کی بیوی دونوں ہی کے وجود میں آتے جاتے سانس بھی بِک بِکا
کر، غیر محسوس طریقے سے غلامی کا طوق اُن کے گلے میں آپڑا،جو دونوں ہی نے آمناً
صدقناً کہتے قبول کر لیا، اور کیوں نہ کرتے ! مجبوری تھی ،دوندل کے بزرگوں کی جو
چھوٹی سی کشاورزی کی زمین تھی وہ بڑوں کی موت فوت اوردو بہنوں کی شادی بیاہ کے لین
دین کی بدولت ساہوکار کے پاس رہن رکھنی پڑگئی تھی اور لی ہوئی رقم کے ہندسے سُود
در سُودکی بدولت اصل سے بھی اونچے نکل گئے ،اب آڑا اُڑی تو آتی نہ تھی، نہ ہی لیتے
وقت امضاءکیا ، انگوٹھے بھی نہ کٹے، بس نیلم نیلی روشنائی میں بِھیگے ضرور ۔ اورلی
ہوئی پہاڑ رقم تو ایک طرف ،سودبھی چُکایا نہ جاسکا ۔ اسی عدم ادائیگی کی بدولت وہ
زمین ہاتھ سے نکل گئی ۔اور راوی کے منہ زور سیلاب میں بہہ جانے والے مکان کا
بچاکیا؟ صرف سفیدہ!تووہ بھی واہی بیجی کی زمین کے ساتھ ہی ساہوکار کے پاس رہن رکھا
ہوا تھا۔مگر پانچ سال کی دن رات کی محنت مزدوری کے باوجودصرف مکان پر لیا قرض اور
اس کے سود کی رقم بھی نہ نمٹائی جاسکی ،بلکہ دن بدن کمر پرلدا کُب،اپنے دن بدن
بڑھتے بوجھ سے کوہان میں بدل گیا پھر پتہ تو اُس روز لگا جب وہ کوہان سارے بدن سے
بھی بھاری،اُٹھائے نہیں اُٹھتا تھا ۔ راوی کے تندسیلابی ریلے اور لگاتار بارش سے
نہ صرف دونوں میاں بیوی گرسنگی کی لپیٹ میں آئے ،بلکہ گاﺅں کی مجموعی آبادی
بھی لُٹ پُٹ گئی ،اور تو اور ۔۔؟ بھٹہ مالک۔۔؟ جو اُن دونوں کا بھی کبھی آقا
بناتھالیکن کب۔۔؟؟ اُس کی آنکھوں میں انا اور غرورکا ملمع چڑھا قہرہواﺅں سے آنکھیں لڑانے
میں مگن رہتا ۔مگر جب بھی کسی،گردن کی اکڑاہٹ کے باوجود، دوجے کے لیے زمین کا قبضہ
چھڑانا مقصود ہوتا تو،گردن کی اکڑاہٹ کے باوجود، زدو کوب کرنے کا حُکم صادر کرتے
وہی قہر! آبشار بن کر گرتا ۔۔ ! سمے کے پھونکے جاتے صور کے جلال میں غربت کی
عریانی ۔۔؟ اُس کی امارت اور غرورسے لپٹ کر سب کچھ چاٹ گئی ۔۔ راوی کی منہ زوری نے
آگ لگے بھٹے اور اس میں پکنے کےلیے جمائی گئی اینٹیں گھنٹہ بھر میں ہی برابر
کردیں۔اور جب بھٹے میں آگ لگائی جائے تو مالک کا بال بال قرضے میں جکڑا جاتا ہے
،لیکن اس قرضے سے نہال توتب ہی ہوتا ہے جب اینٹوں بھری پہلی کرانچی بھٹے سے نکلے
اورکیسہ سکّوں کی جھنکار سے چھلکنے لگے،لیکن دوندل کے مالک کی تباہی اور اس میں
قرضے سے لگائی گئی آگ! اپنی لپٹوں میں اُسے ہی سوخت کر گئی،باقی جو بچا تھا وہ تند
کانگ سب کچھ سمیٹ کر لے گئی،ورنہ۔؟ ورنہ پہلے بھٹے کے بننے سے قبل اُس کی آبائی
کشاورزی کی تھوڑی بہت زمین دوسرے چھوٹے کسانوں جیسی تھی ،جس سے اُس مشکل وقت میں
پیٹ روٹی چل سکتی تھی مگر ۔۔؟ مگرباپ دادا کی لُوٹ مار کی تمکنت بھی اُس کے روئیں
میں ایسی بسی ہوئی تھی ،چلتے پھرتے، اکڑ فوں میں کندھوں پر تھوکتے نکلتا،اپنی
آبائی زمین پر واہی بیجی کو وہ کمّی کمینوں کا کام سمجھتے ،روزِ اول سے ہی
مُستاجری پرچڑھا دی تھی ۔جس سے چلت اور شکم سیری کا بہت بڑا آسرا بنا رہا ،اور
سننے میں تو یہ بات نجانے کب سے نصیحت آمیزی میں محنت مزدوری کی تلقین کرتی کہ
جُوا ؟نہ ہوا کسی کا ،مگر اپنے یاروں کی شہ پر وہ لالچ میں بندھ گیا،اور اپنے آپے
کوقسم میں باندھتے ٹھٹھا مارا ۔ ہار جیت کی تو بات ہی نہیں ،پانسے کی سواری ہو یا
گُھڑ سواری،دونوں میں سورما ہی گرتے ہیں ۔چسکے کے لیے پہلی اور آخری بار ،وہ بھی
تم سب کا دل رکھنے کی خاطر ،ورنہ بدماشی کے اور بھی تو شطرنجی خانے ہیں ،کیا وہ
کافی نہیں ۔۔! اور پھر آنکھیں زورسے مِیچتے جو کچھ بھی مُستاجری سے ملا ،بلا سوچے
سمجھے اُس نے ٹِگڑی پر پاسہ پھینکنے پر لگا دی ،لگا تار اُنیس ہاتھ پانسہ پھینکنے
پر بھی اُس پر چڑھا رنگ بھرپور جولانی بخش گیا،آخر کار مقابل کے سارے جواری خالی
کپڑے جھاڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے تواس کے سارے جوشیلے پن کی حدِ نگاہ تو دیکھیے کہ
ٹگڑی کی نال نکل جانے کے باوجودجھنکار سے بھرے پانچ بھاری تَوڑے بھی ساتھ ہی
کرانچی میں لدوا کرہی گاﺅں میں لوٹا،اور راہ میں اُس کی اور باپ دادا کی سورمائی کی
بدولت کوئی ڈاکا بھی نہ پڑا ،مگر۔۔؟ یہ سب کچھ تو بہت ہی پہلے کی بات ہے۔ دوندل
اور اُس کی بیوی رہن زمین پر ساہوکارکے قرض تلے دبے ،چند اناج کی بوریوں کے بدلے
واہی بیجی کرتے ،جس سے دو وقت کے صرف چندلقمے ہی شکم میں اُتار سکتے تھے۔سِیر شکمی
کا تصور تو محال ہوچکا تھا ۔مگر ساہوکار سے لیے قرض کی ادائیگی تو دور کی بات ہے
وہ دونوں مل کر بھی سود کی رقم کا بوجھ کبھی ہلکا نہ کرسکے ،اور زمین تو وہ
بالآخرساہوکار کی ہوگئی اور رہن مکان ۔؟ تو وہ رہنے کے لیے ،مستقل واہی بیجی کرنے
کی بدولت مل گیا ،مگر ملکیت ۔۔؟ دونوں کے وجود میں گُھٹی سسکیاں ۔! اور صبر شکر
کرتے اُن سسکیوں کووہ دونوں ہی اپنا خون پلاتے رہ گئے ۔۔ بَھٹے کا بھانبھڑ اُس وقت
اُس کے دماغ میں بھڑک اُٹھا جب اُٹھائی گیر یاروں کے سنگ دُور کے اک گاﺅں میں گشت کرتے،سن
ڈاکا مارنے کے لےے ھدف ڈھونڈتے،اک سرسری نظر ایسی اک بھٹے پرپڑی کہ خواہشوں میں
لِپٹی اُس کے اندردھواں نکالتی چمنی جمی کی جمی رہ گئی اور پھربھٹے کے لمبے مال سے
جوئے کی بُوٹوں سے اکٹھی ہوتی رقم سے نکلی نال سے ٹگڑی چلتے دیکھ کر ایسی چٹک لگی
،کہ سارا وجود بھٹہ بن کر اندر ہی اندر اینٹیں پکانے لگا۔ بھٹے کی دیکھ بھال کی
اونچ نیچ دیکھتے،نوک پلک اور صلا ح کار یاروں نے گُڈ ی چڑھا دی ۔ بس پھر کیا تھا!
اِس پیچواں صلاح کاری سے کشاورزی کی زمین۔۔ ؟ تو وہ زرعی زمین گئی بھاڑ میں ،بھٹے
اینٹوں کا کام کھرے سونے کے برابر وزنی ہے ،کچے کوٹھے کی رہائشی زمین پر پوری دیکھ
بھال سے بھٹے کا پلان بنا ڈالا ،جوئے والی بھاری تھیلیوں کی رقم اور مستاجری والی
زمین کو بیچ باچ اور باقی ماندہ تھوڑا بہت جواریوں سے منافع پر قرضے کی لکھت کی
بدولت ،سیانوں کی سُوجھ بُوجھ اور نوک پلک کی دیکھ بھال سے ،اُس زمانے کے ،متوسط
سائزکے بھٹے نے سر نکالا ،اور چمنی دھواں اُگلنے لگی،مگروافر کمائی کی بجائے ایک
ہاتھ آگے اور ایک پیچھے تنگی میں ہی پھنسا رہ گیا ،اور مٹی گوندھاتے آپ مٹی و مٹی
، اور ہر با ر بھٹے کو آگ دکھانے کے بعد ،اینٹوں کی بھری بھری کرانچیاں نکلنے کے
باوجود ،چھوٹے چھوٹے قرضوں کے سُود کی رقم ، کار کی نا تجربے کی بدولت ،کار یگروں
اور مزدوروں کی مزدوری دے دِلا کرپلّے کیا رہ جاتا وہی نون پیاز،اسی لیے دوجے
بھٹوں کے مالکان پر نظراُن کا سبق پڑھنے کو ٹِک گئی اور بھٹہ مزدوروں کو اُن کا
غلام بنے دیکھ کراُس کے اندر بھی غلام بنانے کی خواہش بیدار ہوگئی ۔لیکن اگلی راہ
۔۔؟ قرضے کی رقم سے گردن میں پڑتا شکنجہ۔۔؟ اُس کے لیے ۔۔؟ ؟ اس کے لیے کِھیسے کا
منہ بھاڑ کھلا اور جھنکار سے گونجتا رہے تو ہی ۔۔! مگرہر لمحے سوچ بچار کا کزدم ڈنکتا،اور
اس کی زہریلی کڑھن سے پھوٹتی بیزاری اپنی انتہا پر پہنچنے والی تھی کہ چھاونی کی
بیرکس کےلیے اینٹوں کی ڈونڈی پِٹ گئی ،اور اُن کا تعمیراتی گماشتہ ٹھیکے دار ،ملکہ
کے کراﺅن کندھوں پر سجائے
فوجی گورے کی ہم رکابی میںچل کر آیا اور ہلا شیری دے کر ایڈوانس کی رقم کا توڑا،
چھنک کی گونج سے بھراپھینکا گیا ،جو اس کی کمر پر گرا اور اُس کی جھنکار نے اُسے
اپنے بوجھ تلے داب لیا، وہ کوئی چُوں چراں کیےے بنا سر پھینک اینٹوںکی سپلائی پر
جُت گیا ۔ سال بھر میں ہی قرضوں کی تمسک پر چڑھی اصل رقم کے علاو ہ سود کی پائی
پائی ادا ہوتے ہی وہ پھر سے پھیل گیامگر قدرتی عذاب کا رُخ کون موڑ سکتا ہے ۔تیجے
سال ہی ساون کی تیز و تند بارشیں اور راوی کا منہ زور سیلاب، نہ صرف ڈھلوان پر بسی
دہی آبادی کو بہا لے گیا ، بلکہ لوگوں کی کھڑی فصلوں کا تنکا تنکا بہہ جانے سے وہ
سب کوفاقوں میں باندھ گیا۔۔جانور تو صرف چند لوگوں کے بچے ،جواُس ہڑ کی منہ زوری
کے وقت سب کچھ ہی بھول کر بچوں اورجانوروں کو ہی بچاتے چٹیل ٹیلے پرچڑھ گئے۔ اور
اُ س کا بھٹہ۔۔؟ اُس کے شملے کو مائع سے اکڑاتے ، سر اونچا کرکے غروربھری چال
بخشنے لگا تھا۔اُس بھٹے کی زمین بھی نشیب میں تھی ، بھٹہ سیلاب میں ایسا خُرد بُرد
ہوا کہ صرف ایک رہائشی کوٹھری بچی وہ بھی کیچڑ بھری ،ٹوٹ پھوٹ کے ہاتھوں آدھی
پانیوں کے شکم میں ہی غائب ہو گئی ،اسی کوٹھڑی میں موسیٰ کے ماں باپ کو پناہ ملی
۔اور اُس کے اندر پلتا ، غلام پالنے کا احساس تو بیدار ہوا ،مگر وہ وقت کے خونخوار
دانتوں میں بھنچا خود اس وقت اک شکارتھا۔ بس وہ سارے جنون کا وِس اُس سمے گُوٹتا
گھولتا رہ گیا ۔ بھٹہ مالک دوجوں کو وقت پڑے پراسی عذاب میں قریب الدم دیکھ کر،اُن
ہی کو لُوٹ لینے کے پیچواں راستے سے پیچھے نہیں ہٹا،وہ اپنی غربت کی برستی آگ کی
تپش کو بھی بھول گیا ،کہ سیلاب میں تباہ ہوجانے والے بھٹے نے تو اُسے ہاتھ میں
کشکول پکڑا کر بڑے فوجی صاحب کے در پر بھیک کا سوالی بنا کر گِڑگڑانے کے لیے چھوڑ
دیا تھا،اور وہ دربدر خانہ بسر،اپنے آپ سے لڑتا ،کبھی ساہوکار کی حویلی لُوٹنے کے
لیے آوارہ سورماﺅں کا دستہ بنا کر پِل پڑنے کا نقشہ بناتا اور کبھی گورے صاحب کی
چوکھٹ پکڑنے کے لیے ڈھے جاتا ،اور کافی کشمکش کے دوران ہی اک ہیولہ سا اُس کی
سوچوں کے بیچ سے پھوٹ پڑا، گورے صاحب کی چوکھٹ نے دُھتکارہ نہیں بس پچکارا ، اسی
پچکار کا پلو تھامے وہ جا گِرابوٹوں کی دھمک بیچ،بھیک کی پہلی صدا لگانے سے پہلے
ہی ،باہوں سے پکڑ کر سیدھاکھڑا کیا گیا، بھیک کےلیے اُٹھا کشکول بھر دیا گیا۔بھٹے
کی تباہی اُسے مال و مال کرگئی۔ گوری فوجی سرکار نے اپنی ضرورت کے تحت اُسے بھٹے
کے لیے زمین بھی دی اور معاشی طورپراتنا نوازا کہ وہ سال بھرمیں دو بھٹوں کا مالک
بن گیا ۔مگرخون میں جد کی لوٹ مار کی خونخواری سرد نہ ہوئی، اپنی گزری لاچارگی اور
بےچارگی کو اتناگہرا دفن کیاکہ باقی جوکچھ اس کے دماغ میں بچا رہا وہ۔۔؟ وہ انتہا
درجے کی،بے درد ،سرتا پا بے حسی بخشتی درندگی تھی ۔۔! پچھواڑے کے گاﺅں کی نصف آبادی دو
تین سال میں موسی کے ماں باپ کی طرح پیٹ پر پٹی باندھ کر اپنی واہی بیجی کی زمینیں
صاف کرکے مانگے تانگے کے ہل اور جانوروں سے زمین جوت کر سبزہ زار بنانے میں لگے
رہے ۔پیٹ روٹی تو جیسے تیسے چل پڑی مگرزمینوںکو رہن رکھ کر،لےے ہوئے قرضے میں
پھنسی تقریباً پونی سے زیادہ آبادی۔۔؟ بھٹہ مالک اورساہوکاروں سے اپنی زمینیں واپس
نہ چھڑا سکے ۔ تباہ ہوابھٹہ،دوجے بھٹوں کے لےے لکڑیوں کا گودام بن چُکا تھا ۔
دوندل کا جدی مکان تو کب کا ساہوکار کی ملکیت بن چُکا تھا اور سفیدہ اب اُن کے کس
کام کا ۔۔! جو تھوڑا بہت سامان تھا وہ راوی کے اُسی منہ زور سیلاب میں بہہ گیا ۔
ایک چھوٹے کسان کا آنہ ٹکاجوڑ جوڑ کر بنائی گئی، گھریلو ضرورتوں کے نِک شُک کے
علاوہ اور ہوتا ہی کیا ہے !جب وہ ہی نہ رہا تو پھر واویلا کرنے کا سبب بھی ہاتھ
میں نہ رہ سکا۔سر پر اب چھت کیسی !تنی نیلی چھتری ،سونے بیٹھنے کو بے بہائی مفت کی
کھلی زمین ۔ وہ کچھ عرصہ ایسے ہی کاٹ کرکوئی دوجا آسرا ضرور ڈھونڈ ہی لیتے مگر
دوندل ایسے سمے میں بیوی کو ساتھ لیے لیےنہیں پھر سکتا تھا ۔دونوں اک دوجے کے
مشوروں سے بھٹہ مالک کے قدموں میں جا گرے ۔ اور بڑی لجاجت اور گریہ زاری پر بھٹہ
مالک نے ننگے آسمان کے گِرتے قہر سے آدھ گِری چھت والی کوٹھڑی میں جگہ دے دی۔رہنے
بیٹھنے کے لیے آدھی چھت والی کوٹھری مِل تو گئی ۔مگر آدھی گری چھت کا بقایا ڈھے
جانے کے خوفناک الجھاﺅسے خود بخود ہی سلجھاﺅ بھی پھوٹ پڑا، کرم کرنے والے کی برکت سے ایک
نیا زمین دوز مکمل تحفظ یوں نکل آیا ،کہ نئے بھٹے پر دونوں کو مٹی گوندھتے اور
پکائی کے لیے سانچے سے نکلی کچی اینٹوں کی پال بنانے کے بعد جو وقت بھی بچتا ، وہ
دونوںدل لگا کر کوٹھری کی صفائی میں جِت جاتے ،آخر آنے والے موسیٰ کے لیے جگہ تو
صاف ستھری ہونی چاہیے ،اسی صفائی اور کونوں کھدروں کوکُھرچتے کھرچاتے اک دیوارکی
بغل میں اونچائی پر اک گندے طاق کو صاف کرتے جھٹکا لگا ،اک چُھپاہوا ہینڈل نمودار
ہوگیا ،اُسے دیوار سے نکالنے کے لیے دوندل نے پورا زور لگا کر کھینچا تو دیوار نے
اپنا شکم کھول دیا ۔دیوار میں اک پوشیدہ دروازہ اور نیچے اُترتے زینے ،نیچے اچھا
خاصہ بڑا،زیرِ زمین ،پرانے رہائشی مکان کے نیچے اک خفیہ تہہ خانہ ، وہ بھی ایسا
ہتھے لگاکہ جس کی مالک کوبھی خبر نہ تھی ۔گاﺅں کے دارے میں گھومتی چُہل بازی اور پرانے
قصوں میں یہ رنگ بھی بکھرا ہواتھا کہ بھٹے کے مالک کے دادا پڑ دادا نامی گرامی
ڈاکو تھے اور سرکار سے آئے دن ٹکر لیتے رہتے ،لُوٹ میں جو مال ہتھے چڑھتا وہ بول
بانٹ کے بعدبقیہ بچت زیر زمینی خفیہ تہہ خانے کے شِکم میں پوشیدہ اُتار ڈالتے۔گروہ
کے علاوہ کسی کو اُس کی ہوا تک نہ لگتی ۔گروہ کی تلاش میں سرگرداں دو سرکاری دستوں
کی جھپٹ میں گروہ کے دو ایک ساتھیوں کے علاوہ کوئی نہ باقی بچا ،سب نے بڑی جگر
دوزی سے مقابلے میں اپنی اپنی موت کو چوم لیا۔ بس اُس کے بعدتہہ خانے اور اُس میں
پڑے خزانے کی سُو میں کافی لوگوں نے تگ و دوبھی کی ،مگر۔۔؟ بسیار تلاش کے باوجود
کسی کھوجی کے بھی ہتھے اُس ہتھی کا نشان نہ لگ سکا ۔ تہہ خانے سے موسیٰ کے ما ں باپ
کے ہاتھ ایک چھدام بھی نہ لگ سکا ،دوندل کا خیال تھا کہ وہ ڈاکوﺅں کے بچے کُھچے
ساتھی ہی نکال کر لے گئے ،اب اُس تہہ خانے میں کیا رکھا تھا ،سوائے کاٹھ کباڑ کے
،جو میاں بیوی کی نظر میں مال غنیمت سے کم نہیں تھا،جس کا سب کچھ ہی لُٹ گیا ہو ،
وہ کاٹھ کباڑ بھی ضرورتوں کے لیے نِک شُک ،اور اسی کے بل بوتے کسی ڈھارے پر ،ہتھ
پُرانے کھسوسڑے بسنتے ہو روں کی ذاتی کوٹھری بنانے کا آسرا بن جاتاہے ۔بھٹہ مالک
کے جوان ہونے پر اُسے بھی مال و دولت کی جہان بانی کا قصہ ترشح کرتے،اُسے اشرفیوں
کی لالچ میں نہلاتے، ساہوکاروں کے مال و دولت کے قصوں سے چٹخارہ چٹاتے تلاش کی
دعوتیں بھی دی گئیں ۔ مگر اُس نے ایک کان سے سُنی اور دوجے سے نکال دی ۔وہ تو حاضر
گھوڑے پر زین کَسنے کو تیار بیٹھا رہتا ، مگر خواب میں سرپٹ دوڑتے گھوڑے پرکوڑے کی
مزید ایک اور ضرب سے ہی چند ثانیوں میں دوگنی رفتار ،اور وہ گھوڑے پر سوار ، دوجے
ساتھیوں کی لالچ کی پھینکی گئی کوڑیوں کی جانب نگاہ ڈالے بنا نظروں سے اوجھل ۔
موسیٰ عمر کے چوتھے سال کے وسط سے ماں کا مٹی گوندھنے میں ہاتھ بٹانے لگا ۔ پھر
مٹی گوندھتے، سانچے نکالتے آٹھویں سال کے شروع سے ہی محنت اور اُٹھتی نو عمری کے
ممیرے نے آنکھوں کی چمک دو بالا کردی ۔ ہاتھ پیرکی بڑھوتی نے اس کی عمر کو معدوم
کر ڈالا۔اُن ہی دنوں، اماوس کی ایک رات میں ہڑ بونگ مچ گئی ۔آوے کی بیرونی گرتی
دیوار میں گورا صاحب کی بگی کا پہیہ پھنس گیا ،وہ دونوںہڑبڑا کر اُٹھے اورنیم
خوابیدہ موسیٰ کو بستر پر ہی چھوڑ کر گھوڑوں کی ہنہناہٹ کی جانب لپکے،موسیٰ بھی
ہڑبڑا اُن کے پیچھے دوڑ پڑا ۔ قریب پہنچنے پر بگی کو نکالنے کی سعی کرتے ہاتھ رک
گئے ۔سائیس، بچوں کی آیا ، میم صاحب کے ساتھ کوئی اورجوان لڑکی ،جو شاید دونوں میں
سے کسی ایک کی بہن تھی اور بذات خود گورا صاحب،اُن تینوں کے دوڑتے قدموں کی چاپ
سنتے ہی وہ یک دم بگی کے آگے پیچھے چھپنے لگے ۔ گورا صاحب لپکتا ہوا آیا اور دوندل
اور اُس کی بیوی کے قدموں میں گِر کر گِڑگڑانے لگا ۔ مین ہمیں بچالو، تمھیں اپنے
ماننے والے خدا رسول ، رام سیتا اور جِیززکا واسطہ، بچالو۔۔ ہمیں بچالو۔۔ جنایت
کاروں کا مرڈرر غنڈہ لوگ ،ہمارے پیچھے لگا ہواہے ۔۔ مین ہم تمھیں انعام دلائے
گابرٹش سرکار سے ہم کو بچالو، وہ کسی وقت بھی ۔۔ ابھی اُس کے ہونٹوں کی تھرتھراہٹ
نے جملہ مکمل نہیں کیا تھا کہ دور سے روشن مشعلیں لےے درندگی سے اَٹے شور مچاتے
انبوہ کی غضبناک غراہٹیں اُن کے کانوں پر جھپٹ کر اندر چیرتی اُتریں تو گورے صاحب
کے ہم جولی ،اُسے پکارتے بھاگنے لگے ۔ موسیٰ کے باپ دوندل نے فوری انہیں آوازیں دے
کر روکا ۔ تم لوگ چاہے جتنابھی تیزی سے بھاگو گے ، وہ تمھیں پکڑ ہی لیں گے ،جلدی
کرو ہمارے چوکیدار بھی جاگ جائیں ،پہلے اس بگی کا پہیہ نکالو۔سب نے مل کر زور
لگایا تو بگّی نکل آئی ،سائیس نے بگی پر چڑھ کر اپنی نشست پر بیٹھتے ہی،گھوڑوں کی
لگامیں کھنچیں،صاحب کی سُنی ان سُنی کرتے، چھاونی سے کمک آنے تک وہیں چُھپے رہنے
کی تاکید کی تو دوندل نے بغیر کسی تاخیر کے بیوی کو ان سب کو تہہ خانے میں اُتارنے
کا اشارہ دیا۔ موسیٰ کی ماں تہہ خانے میں انہیں موسیٰ سمیت اُتار کر،بلا آواز پڑے
رہنے کی ہدا یات دیتے ،نجانے کیا سوچ بچار کرتی پلٹی ۔ گھوڑوں پر چابک برسنے کی
آوازوں کے ساتھ ہی ،سائیس کی دوجی ضرب سے گھوڑے، بگّی سمیت بگٹٹ بھاگ نکلے ، مگر
بھٹے کا عصا بردار چوکیدار،نیند سے اپنا آپا چھڑاتا، آنکھیں ملتا ،خبردار، ہوشیار
کی آوازیں بلند کرتا،بگّی کے موہوم تاریکی کو سمیٹتے ،بکھیرتے تیزی سے دور ہوتے
ہیولے کوتکتے ، اُن کی طرف لپکا ۔۔ خبر دار خبردارکی آوازوں سنگ اُبلتا تحکمی
استفساری لہجہ۔۔! کون تھے ۔۔؟ یہ سارا شور غوغا کیا ہے۔۔؟؟ لیکن جب تک آنے والوں
نے بگّی کے تقریباً معدوم ہوتے اُبھرتے ہیولیٰ کوتکتے اُن تینوں کا گھراﺅ کرلیا ۔بھٹے کے
چوکیدار کو اُس لمحے تک کچھ بھی پتہ نہ چلا اور نہ ہی آنے والوں کی سوالیہ غراہٹوں
سے معاملے کی تہہ سے کوئی لُوٹی گئی گِنّی ہاتھ لگی ، مگرگھراﺅ کرتے ہجوم کی
جھنجھلائی باتوں کی درزوں سے تھوڑی بہت ہوشیاری ٹپک پڑی،اور اُسے اپنی جان بھی
پھنستی محسوس ہوئی تو وہ یک دم چِلّا اُٹھا ۔ ان دونوں کو ان کی کوٹھری میں لے
جاکر پوچھ گچھ کرو۔۔ اُن کے تعاقب میں کوٹھری کی جانب اُٹھتے قدموں سے بنتے دائرے
نے اندر گُھستے ہی اُن تینوں کو بیچ میں کھینچ لیا،اور ساتھ ہی کئی ایک نے تلواریں
نکال لیں۔سوالوں کا گولہ اُن کے سروں پر پھٹنے سے پہلے ہی چوکیدار فوراََ بلبلا
اُٹھا ۔۔ میں بھٹوں کا چوکیدار ہوں م م میر۔۔ میرا ان دونوں سے کوئی تعلق نہیں،میں
توچوکیدار ہوں بھٹوں کا ، پچھلے دونوں بھٹوں کا چکر لگا کر لوٹا ہوں۔اصل مجرم تو
یہ ہیں، انہوں نے ہی گوروں کو بیرکوں کی جانب فرار کروایا ہوگا۔مجھے تو بالکل بھی
کچھ پتا نہیں،یہ دونوں مجرم ،سازشی گوروں کے ساتھ مِلے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ پُوچھ
گچھ کی گھڑی میں اٹکتی لرزیدہ آوازیں ، مبہم سے جوابوں نے گھراﺅ کرنے والوں کو
بھڑکا دیا، ترکھے نوجوان کماندارنے تلوار کھینچی اوراندھے سوال جواب کی لڑکھڑاہٹ
بھول بھلیوں میں خود جا چُھپی تو۔۔؟ اس نے اس الجھاﺅ کو ختم کرنے کے لےے
دونوں کا جھٹکا۔۔؟ پلک جھپک میں ایک ہی وار سے دونوں کی گردنیں کَٹ گئیں۔ ۔ اُن کو
تلاش کرنے کی بجائے، ان خنگ بھیک منگوں کی فضول باتوں میں کیوں وقت کھوٹی
کریں،چلو،سب نکلو ۔ ہلکی سی چیخ نما سسکاری دونوں میں سے کسی کے ہونٹوں سے پھوٹی
اور اُن سب کے بھاگتے دور ہوتے قدموں کی ہڑبونگ میں نیچے کے پناہ گیر اک دوجے سے
چمٹے ، منہ پر تالہ لگائے ، اوپر سے آتی موہوم آوازوں پر کان لگائے رہے ،اور چراغ
کی مدہم لو میں پہلے تو موسیٰ پنجرے میں اسیر شیر کی طرح جھنجھلایاادھر اُدھر قدم
مارتا پھرتا رہا ، لیکن دور ہوتے قدموں میں وہ تلملاتے ایکا ایکی رُکا اور پھر
زینوں کی طرف لپکا ، مگر پاﺅں ایسا رپٹا کہ آخری سیڑھی سے وہ لڑکھڑاتا ،بارہ فُٹ نیچے پکے
فرش پراُلٹے کندھے اور گردن کے بل آگرا ،چوٹ ایسی شدید تھی کہ وہ زور سے چیختے بے
ہوش ہوگیا۔ بھٹے سے نکل کر اینٹوں سے لدی کرانچیوں کی قطاریں پکی سڑک پر چڑھیں اور
رُخ موسیٰ کے زیر تعمیر تین تین مرلہ کے چھوٹے چھوٹے رہائشی مکانوں کی جانب ،
کرانچیوں کی رفتار، وہی گلے میں پڑے ٹَل بجاتے جھومتے بیلوں کی جوڑی کی سی،تیز
رفتاری تو۔۔ ؟ مگر۔۔! یہ آج کی تازہ نسل کو کیا خبر کہ اینٹوں سے لدی کرانچی کیا
ہوتی ہے۔ ان سب نے تو اینٹوں سے لدے ٹرک ٹرالیاں دیکھی ہیں۔ دور نزدیک بھٹوں سے
آتی اینٹوں سے بھری کرانچیاں باباموسیٰ جو اُس وقت جوانی کی دہلیزچھونے کے قریب
پہنچا تھا کہ مشن اور میم صاحبہ نے چھوٹے مکانوں کی تعمیر اور اُس کا اپنا مکان
بنتے ہوئے نظر رکھنے کی ساری فہم اُس کے اندر اُتار ڈالی ،جب بھی وہ چرچ سے دلہن
کے ساتھ نکلتا ،تو وہ دلہن کو لیے لیےکہاں پھرتا ،وہ اسی تکمیل شدھ دومنزلہ مکان
ہی میں پہلا قدم رکھتی، اور چھوٹے چھوٹے مکانات گرمی سردی میں گھر کے اخراجات کے
لیے ، کرائے سے آتی لگی بندھی رقوم۔ کسی چیز کی کمی کا احساس دل میں کیسے جاگزیں
ہوسکے گا۔بس اُسی لمحے وہ تعمیرات کے محلِ وقوع پر موجود ۔سورج کی تپش سے بچاﺅ کے لیے ایک بڑی
چھتری کے نیچے! اور اس کی ایک نظرسڑک پر آتی کرانچیوں کی اینٹوں سے لدی قطاروں کے
ساتھ سڑک کنارے کی ڈھلوان سے اُتر کر گلی کی نکڑ سے ہوتے ،تعمیر ہونے والے گھروں
کے باہر ،اینٹیں اُترتے اور ردّے جُڑتے ،اور تپتی دھوپ میںچھاتے کے زیر سایہ کھڑے
اینٹوں سے زقند بھرتیں،اور روز موز کے مزدوروں، کاری گروں سے ہوتیں گھروں کی بلند
ہوتی دیواروں کے اوپر چڑھ کر واپس چھلانگ لگاتی ،اورگھریلو ملازم رحمت خاں پر
لپکتیں جو اینٹوں کی لگتی پالوں کو گنتے ،منشی کو اینٹوں کی تفصیل لکھوا رہا تھا ۔
یہ اُس زمان کی بات ہے جب پنجاب کے مقبوضہ بن جانے کے بعد نہروں کی کھدائی شروع
ہوئی اور جا بہ جا مختلف شہروں میں چھاونیوں کے پڑاﺅکو مستقل کرنے کے
لیے بیرکس بننے لگیں عمر کے مختلف زمان کی تصاویربڑی ہی صاف ،بابا موسیٰ کی آنکھوں
میں تیرتے ہچکولے کھاتے،جھلملاتے آنسوﺅںسے ڈھانپے پردے پر رقصاں اور۔ یاداشتوں کی
ایک ایک حرکات وسکنات کے کھلے تھان کے تھان لپٹتے اور چاہت اور آرزوﺅں اور منہ زور
خواہشوں میں پھر سے کُھلتے۔۔! موجودہ میاں میر ریلوے پھاٹک کے پار کیولری کا علاقہ
پنجاب کے مقبوضہ بن جانے کے فوری بعد چھولداریوں کی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا
اور چھولداریوں کا جنگل مجروح زمین نے کلّر کی کرواہٹ نمک میں سفید ہوتے ،ہوا میں
پھیلی تعمیراتی بدبو متلی میں پیچ و تاب کھاتے جو کچھ اُگلی تھی وہ تعمیراتی بُو
میں تلخی گھولتے،موسم کی شدت سے پناہ لینے کے لےے کیو لری میں بیرکس کی تعمیر کے
لےے نزدیک اور دور اینٹوں کے بھٹے اینٹیں اگلنے لگے ،جو انگریزی سرکار کے مرا ت
یافتہ جوتے چاٹ بدقماش چہیتوں کے نام لکھے گئے ،اور سرکاری گود میں آسودگی کا دودھ
چُسرتے چھوٹے بڑے ٹھکیداروں نے پورے زور شور سے تعمیر ہوتی بیرکس اور بے حسابی سے
بٹورا جاتا مال ۔؟یہ جو موجودہ میاں میر کا پُل ہے نا ،اس جگہ ریلوے کا ٹریک بچھا
،بچھانے والے ما ہرِ تعمیرات نے قرب و دور کی تمام خستہ حال عمارات کو مسمار کرتے
اس ٹریک کے نیچے اینٹوں کا ہی ملبہ بچھایا تھا،اسی جگہ پہلے ریلوے پھاٹک بنایا
گیاجو ٹرینوں کی آمدو رفت کے وقت بند کر دیا جاتا اور دونوں طرف تانگوں بگیوں،بیل
گاڑیوں ،بوجھ لدے گدھوں،اونٹوں اورخچر گاڑیوں اور گھڑ سواروں کے علاوہ پیدل پینڈا
مارنے والوں کے علاوہ گائے بھینسوں ،اور بکریوں دنبوں کا انبوہ ۔۔ بھورے بھائی
کمال الدین سوڈا واٹروالے کے بند شو روم کے آگے ،بندوق والے کا اونچا چبوترہ ،اس
تکونی فٹ پاتھ پر جمی چوسر کی بازی،اس چوکڑی کو دیکھنے کی خواہش اتنی زور آور کہ
پھنکارتی،لپکتی،سینگ جھکائے ،راہ میں سَد اُسارنے والی تمام مجبوریوں کا شکم چاک
کرنے کو بیتاب ، جو اندر کے کھولتے لاوے سے سینہ خالی کرنے کی تمنا ،دوجے کے کانوں
میں ٹہلتے ہوئے باتیں انڈیلنا تو کھولتے لاوے کے باہر نکالنے کی راہ بنانے کے
مترادف،مگر منمناتی آوازمیں تمناﺅں کا اظہارتو بدن پر چھاتی سُستی کاہلی دور
کرنے کی لٹک چھٹک میں ٹانگیں سیدھی کرنااک بہانا تھا۔ باباموسیٰ اپنے ملازم رحمت
خان کے سنگ مسلمان کرائے داروں کے لیے محلے میں اپنی ہی تعمیر کردہ مسجد سے عشاءکی
نماز ختم ہونے پر اُس کے لگے کانوں میں پڑتی بھنک سے ہی ٹانگیں سیدھی کرنے کے بول
بچن کے نام چڑھاواچڑھاتے، اپنی آبنوسی ،سانپ بل کھاتی چھڑی کی آہنی نوک کو ہر دوجے
قدم پر پہلے دباﺅ سے اُٹھا کر داہنے پاﺅں کے پنجے سے کوئی چھ گرہ ِآگے پختہ سڑک پر
رکھ کر سارے کانگڑی کھنگر وجود کاسہج دباتا بوجھ ڈالتے جھولتے ہوئے ، داہنا ہاتھ
جو رحموں کے کمندہاتھ میں نہایت غیر محسوس گرفت میں جکڑا کھنچتے ہوئے وہ پختہ سڑک
پر اُترتا،لیکن رحموں کی آس پاس کی نظارگی میں پھنستی آنکھوں کی بدولت ،اُس کی
بھٹکتی سوچ سے جنبش میں اکڑاﺅ اُبھرتا تو وہ زور سے چلا اُٹھتا ،اوئے کھوتے دے پُترا ،تیرے
تے کوئی چَھٹ تے نہیں لدی ، تو وہ سنبھل کرمختلف باتوں میں ملفوف خبر وں کی الجھی
ڈور سُلجھاتے ، اُس کے آٹھوں پہر باتوں کے پیاس سے جلتے کانوں کی لپک سے پھر پیچ
ڈال دیتا ،اورچوک کی اوٹ میں شیو جی کے مندر کے باہر بیٹھے گامش کی طرف نگاہ اٹھتے
ہی سیڑھیوں پر بھجن گاتی ٹولی کی تال سنگ اُٹھتے قدموں سے تال ملاتے ،بھجن گنگناتے
، رحموں دیکھ کچھ شرم کر یہ ٹولی وقت بے وقت اپنے گلیارے میں ہُن برسانے کی خواہش
دابے بیٹھے ہیں ،اور اک تُو ہے جِسے چرچ نے پال پوس کر بڑا کیا ،تیری شادی کی ،اور
میرے جیسے مالک کے پلے باندھا۔ مگر، تُو۔! تو اُس کا سوالیہ تمسخر جاگ اُٹھتا۔۔؟
توپھر بابا آپ ۔۔؟؟ اوئے کھوتے دے کُھرا ،میرا کیا ہے ۔۔! میں مہینے پندرہ دن کے
بعد اتوار کی سروس میں بھی شامل ہو جاتا ہوں،دراصل۔۔؟ چرچ والوں سے تو رشتہ ہی ٹوٹ
چکا ہے ،جب سے اُسے امریکا ۔۔! اور پھر اک لمبی چُپ اور دھیرج سے اُٹھتے قدم۔۔ اور
خان بابا کبابےے پر نظر پڑتے ہی اپنے آپ کو الجھاﺅ سے کھینچتے تیز تیز بڑھنے کی کوشش کرنے
لگتا،مگر رفتار تو اُس کی وہی تھی ،وہ اُس کی طرف بڑھنے لگتا،تاکہ فرائی تکوں اور
کبابوں کا رات کی شکم سیری کے لےے آڈر دے ڈالے ،تاکہ بنوانے میں جو بھی وقت لگے ،
وہ چوسر بازی کی چال کے لےے چال والے کے گرتے دانوں کی گنتی پر فقرے مار سکے۔اُس
روز بھی وہ حسبِ معمول اسی سبب سے نکلا،مگرصدر بازار چوک پر شیوا جی مندر کی
سیڑھیوں سے بھجن کی تال ملاتے جیسے ہی مُڑا اُس کی ٹانگیں ٹھٹک کر رُک گئیں ،خان
بابا کبابیے کے روبرو، سڑک کے کنارے بنی سرخ اینٹوں والی فٹ پاتھ پر لوگوں
کابھنبھناتا ، آہستہ آہستہ رام ،استغفار پڑھتا،کراس کھینچتا انبوہ کانوں میں
اُترتا اور آنکھوں میں مصوری رنگ روپ سنگ اُتر کر اُسے غم و اندوہ سے حلق تک بھر
گیا ۔اور چند ہی ثانیوں میں بھٹکتی متلاشی سوالوں سے لدی پھندی آنکھیں لوٹیں،یہ
جمگھٹاکیسا ہے ۔؟سوال کی چھمک پڑتے ہی وہ بے تابی میں بیدار ،ٹھٹکے، رُکے قدموں تک
چلنے کا اشارہ بجلی کی رو میں پیر گیا ،رحموں تو اس کے اشارے کا منتظر تھا ۔موسیٰ
بابا کی ایک کڑک سے ہجوم پھٹا اور اینٹوں کے فٹ پاتھ پر اک بے سُدہ نوجوان پڑا تھا
،بابا یہ تو وہی ہے جو چوبارے کے ایک کمرے میں تین چار دن پہلے آبسا ہے ! ہاں ہاں
دیکھو جیتا ہے یا ؟ نبض اور رگوں کو ٹٹولتے ہی وہ چِلایا ،بابا یہ جیتا ہے ،مگرہے
تو بے ہوش، مگر نبض کی رفتار بڑی ہی کمزور ہے ،اوئے تو پھر اس پر پانی کے چھینٹے
مار،ہاتھ پاﺅں کی تلیاں ملو ،اور دو چار نوجوانوں کی سعی سے وہ اُٹھ بیٹھا
،پانی کا ایک پور ا گلاس چڑھانے کے بعد وہ سب کا شکریہ ادا کرتے اُٹھا توکبابوں کی
خوشبو اُس سے لِپٹ گئی ، اُس کا پورا وجود گھوما ،اور آنکھیں خان بابا کے کبابوں
پرجا بیٹھیں،اس نے دہن بھرے پانی کو حلق میں اُتارا ، اور جانا ہی چاہتا تھا بابا
نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے ٹھہرایا۔اور خان کبابے نے چار کباب اور ایک
نان لپیٹ کر اُس کی طرف بڑھا دیا ۔لیکن وہ بِلبلا اُٹھا نہیں نہیں میں اس کی قیمت
نہیں چُکا سکتا ،اور بابا نے وہ بندھا ہوا نان کباب کھولا اور پلیٹ میں رکھ کر
اُسے کھانے کی طرف متوجہ کیا تو ا س کی بھرائی ہوئی،ملتجی آواز میں کراہتی لہریے
لیتی ہوا میں ڈولتی کٹی پتنگ ۔۔؟ بابا میں ان کی قیمت دینے سے معذور ہوں۔۔ مگر
نظریں پلیٹ میں جمی، نان کباب کی خوشبو سے بوجھل ،اوپر نہ اُٹھ سکیں۔۔ بابا ۔۔!
وظیفے کے پیسے دوچار دن میں آجائیں گے تو یہ سب کچھ مجھ پر حلال ہوگا۔۔! وہ بات کے
خاتمے سے پہلے ہی تہہ تک جا پہنچا ،اُس نے کھال میں مَڑا ہڈیوں بھرا ہاتھ اُس کے
سر پر پھیرا، بابا بھی کہتے ہو اور قیمت کی بات کرتے ہو ،کھاﺅ اورپیٹ بھر کر کھاﺅ ، تمھارا باباابھی
زندہ ہے ، آنسوﺅں کی لڑی پروتے ،کباب اور نان ختم ہونے کے قریب ہی تھے کہ موسیٰ
بابا کی اپنی آنکھیںاُس کی بھوک کی گرج چمک سے آنسوﺅں سے بھیگ گئیں ۔
اُن میں ایک آٹھ نو سالہ بچے کا دو دن کابھوکا پیاسالرزتاخونخوارہیولہ ،کباب کو
دیکھتے ،شکار پر لپکتا بھیڑیا،خان بابا کے باپ کے روبرو نان کباب کے لیے بلبلاتا
چیختا ،خان بابا کی گالیوں بھری دُھتکار میں ،بھوک سے مجبور جب اُترے کبابوں کی
گاہکوں طرف جاتی پلیٹ میں سے اُس نے جھپٹ کر ایک کباب مٹھی میں بھنچ کر گرم گرم ہی
منہ میں ڈال لےا تو اسی کبابی خان کے باپ نے اپنے ٹھیے سے اُتر کراُسے اپنے بھاری
بھرکم ہاتھ سے ایک ایسا تھپڑ مارا کہ وہ چکرا کر گر پڑا ،کبابی ئے نے اُسے بالوں
سے پکڑ کر اُٹھایا اور مارنے کے لےے دوسرا تھپڑ اُٹھایا ہی تھا کہ اُس کا گھومتا
بازو کلائی سے پکڑا گیا،کیوں بچے کو مارتا ؟ صاحب یہ چور ہے، پیسے کے بغیر کباب
مانگتا ہے، نہیں دیا تو چوری کرکے بھاگ رہا تھا ۔اتنے میں وہ بچہ کباب حلق سے
اُتار چُکا تھا،اسی گورا صاحب نے لہریے لیتے ہیولہ بچے سے پوچھا ،کباب اور مانگتا
؟،اور جیسے ہی اُس نے اثبات میں سر ہلایاتوچار کباب سیخ سے اُتر کراُس کے سامنے
رکھی پلیٹ میں نان سمیت اُتر آئے ، جب شکم سِیر ہوچکا تو پیسے ادا کرنے کے بعد وہ
اُسے بازو سے پکڑ کر پردہ پڑی ٹم ٹم کے پاس لایا،پردہ اُٹھا کر پوچھا کہ کیا یہ
وہی بچہ ہے ۔؟ موسیٰ لانے والے گورے کو تو نہیں پہچان پایا،ناہی یہ آواز ہسپتال
جاتے وقت کی بے سُدھ ہوتے کانوں میں پڑی آواز سے مشابہت رکھتی تھی ،مگراُن تینوں
کو دیکھتے ہی دل کی کلی کِھل گئی ششدر آنکھوں سے تینوں کی پہچان اندراُترکر اُس سے
لِپٹ گئی ،اور آیا کا تمتماتا چہرہ تہہ خانے کا جوش مارتاپیار اُسے شرابور کرنے کو
بیتاب ، مگر وہ سارے جذبہ کو اندر ہی سمیٹے چُپکا رہا ،کہ پہچان کی کرن اُن کو جگا
گئی تو نجانے یہ پہچان اک نئے عذاب کاکیسادردناک دروازہ کھول دے ۔بند پر ہونے والا
تشدد اُس کے اندر سے پہچان اورمحبت کے تمام تر رس کو نچوڑ کر نفرت میں حلول کر
چُکا تھا ۔فیصلہ تواُسے بس’ اک چُپ سو سُکھ‘ کے کُھونٹے کے ٹھور ٹکانے پر باندھ
گیا۔ گورے کا سوال نامہ پھر سے کُھل گیا ۔ بتاﺅ نا ،کیا یہ وہی بچہ ہے ۔؟ تو میم صاحب نے سر
اثبات میں ہلاتے آیا کی طرف چہرہ گھماتے پوچھا۔۔ ہم کو لگتا، وہی، سَیم چائلڈ ،تم
کیا بولتابائی۔۔؟ ہاں میم صاحب بچہ تو وہی ہے ،بالکل اپنی ماں کی تصویر! بس تو پھر
گرفتار مٹی کھودنے والوں کے ڈونکی کنٹریکٹر سردارسے بھی شناخت پوچھنا مانگتا۔ یک
دم آیا کوموسیٰ اپنے ہاتھوں کی مضبوط جمی گرفت سے کھسکتا ہوا محسوس ہوا ، اُس نے
تو جھپٹ کر کلائی دبوچی تھی مگر وہ بھی مٹھی سے نکلتی، چُھٹتی، کِھسکتی ریت لگی ،
بچے کے لےے اُمنڈے پیارپر باغی آپڑے ،وہ بے بس روہانسا بِلبلا اُٹھی۔۔ نہیں نہیں
میم صاحب! وہ کیوں شناخت کرے گا ۔آج تک تو شکنجے تلے مان کر نہیں دیا کہ نا صرف یہ
بچہ،دیگرمختلف مغویہ بچوںکے ساتھ نہر کی کھدائی سے نکلی مٹی بھرے بوروں سے لدے
گدھے بند تک لے جاتے،اور پھر خالی گدھوں سمیت کھدی نہر پر واپسی ۔۔؟ میم صاحب،آپ
بھی تو اڑھائی سال تک اسی بچے کے لیے کتنی آزردہ رہیں ہیں۔پھر آپ نے بھی تو میرے
ساتھ ،بچے کی تلاش میں وہ جگہ دیکھی ہے ،آپ تو دہشت سے کانپ اُٹھی تھیں ۔وہ تو
اتفاق سے ایکسین کے پٹہ دار نے اپنے بچے کوپہچان لیا۔ گرفتاریوں کے وقت اس سمیت
کئی ایک بچے نجانے کیا سمجھ کر نکل بھاگے۔۔ موسیٰ کی پہچان تو اس کے الٹے کندھے کا
نشان ہے ۔۔ یاد نہیں لکڑیوں کے گودام کے پیچھے تہ خانے کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھتے
ہوئے،نجانے کیسے لڑھک کر نیچے آگرا تھا اور کندھے کا زخم کوئی دوائی نہ ہونے کی
بدولت اُپلہ جلا کر ہگکی سی کُن کُنی گرم راکھ اُس کے زخم پر میں نے ہی توباندھی
تھی ،میم صاحب آپ کو یاد ہے نہ ،راکھ باندھتے ہی کتنا تڑپ تڑپ کر اُچھلا تھا ،اوپر
جنایت کاروں کے متلاشی شور غوغے،اس کے ماں باپ سے ہم لوگوں کے متعلق پوچھ گچھ
کرتے، اذیتیں دیتے، قتل کردیا تھا ،اور عین اُسی وقت وہ سارے ہڑبرنگ مچاتے ، کھڑ
بڑاتے دھمکاتے پیروں کی ملی جلی آوازوں سے ڈراتے سِٹک لیے ،اُس وقت تک میں نے اس
کے منہ کو دبا ئے رکھا تھا ۔ اور پھر ہم کتنے دن بلا آواز نکالے ،تہہ خانے میں ان
کی ہی جمع کی ہوئی،بُھنی ہوئی مکئی گڑ اور پانی پر گزارہ کرتے رہے ،اور اس نے جب
بے ہوشی سے ہوش وحواس میں قدم رکھا ،تو بھی زخم کی جان لیوا ٹیسوں سے کلبلاتا
رہا۔۔ باغیوں کی منہ زوری اور نفرت کا یہ عالم تھا کہ کیولری اور قلعے کی برطانوی
فوج کو اک دوجے سے کافی مدت تک کاٹے رکھا ،اور اسی سبب سے لاہور نہر بننے کا ایک
تاریخی ورق لکھا گیا جو شاید واسا کے فائلنگ سٹورکی کسی الماری میں ایک قدیمی
فائیل جو”سینی ٹیشن اینڈ واٹر سپلائی سسٹم آف لاہور “ کے نام سے پرانے پلندوں میں
موجود ہونی چاہیے ،بشرطہ وہ خستہ حال پلندے اب بھی محفوظ ہوں۔اس میں ہے کہ غیر
منظم باغیوں نے ایک مدت تک کیولری کی برطانوی فوج جو قلعے میں خزانے ایمونیشن کی
حفاظت کے لےے موجود برطانوی فوج سے تعداد میں نصف تھی،جب اک دوجے کی کُمک کے لیے
راستہ مکمل رک گیا تو کیولری کمانڈر نے اپنے نقصان کی پرواہ نہ کرتے بڑے
کیلکولیٹڈحساب سے راوی کا اِس سمت کا ایک قدیمی حفاظتی بند توڑڈالااور راوی کا وہ
غیر معمولی بہاﺅ باغیوں کو بہا کر لے گیا اور پھر خفیہ دیدبانی کے لےے نہر
بنادی گئی ۔اسی واقع سے ایک میدانی جنگ نمائی اور ٹیکٹکس کے تاریخی ورق سے ایک بڑے
بھرپور جملے نے بیشماراور بے مثال جنگ نامے کَھول دیے۔کہ جری اور صاحبِ فہم جرنیل
کمزور فوج کو بھی لڑا دیتا ہے اور بزدل اور راج ہنسوں کا پخ پخ کرتا جھپٹتا،غراتا
مغرور جرنیل طاقتور فوج کو بھی ہروا دیتا ہے ۔دکھ تو یہ ہے کہ اٹھارا سو ستاون میں
کو ئی صاحب فہم اور آرگنائزر لیڈر باغیوں کو میسر نہ آسکا ۔ورنہ مُٹھی بھر برطانوی
فوج کی کیا حیثیت تھی ،ساری نفری تولالچ اور چُرلو پھیرتی مکارانہ چالبازی کے بل
بوتے مقامی گماشتے اور جانیں قُربان کرنے کو مقامی سپاہ ۔اور ایسی ہی مثال یو ایس
ایس آر کی بھی ہے ،مکمل ماسکو اور پیڑز گراڈ تباہ ہوچکے تھے اور لیکن سٹالن کی
قابلیت کے بل بوتے ہٹلر کا غرور مٹی میں ایسا مِلا کہ اُسے خود کشی پر مجبور کر
دیا ،ورنہ کہنے والی بات ہے ڈھائی کروڑ مخلوق اور فوج قُربان ہوچکی تھی ۔مگرہٹلر
کے ہاتھوں بے بس اتحادیوں نے پراپیگینڈے کے بل اس فتح کو اپنے نام لکھ لیا۔۔ اِسی
اٹھارہ سو ستاون زمانے کی کتھاﺅں میں سے اک کتھا۔۔؟ صاحب اور میم اور اُن کی چھوٹی بہن کی
آنکھوں کے پردہ سکرین پر جان پر بنی وحشتناکی بیک وقت اُتر آئی، خوفناک مناظر یکے
بعد دیگرے کچوکے دیتے گزرتے چلے گئے ۔اور جب چھاونی کا دوبارہ کنڑول ہوگیا تواُسی
سمے ایک دن اوپر سائیس کے ساتھ چند فوجی بوٹوں کی دھمک کے ساتھ سائیس سے انگریزی
میں سوا ل جواب سنتے ہی صاحب ہڑبڑا کر سیڑھیا ں چڑھا،اوپر کی ناب سے دروازہ شق ہوا
تودونوں لاشوں سے اُٹھتے تعفن کی بدولت اُس نے ناک پر میلا کُچیلا رومال رکھا مگر
آنکھیں تیز روشنی کی جھلملاہٹ سے دو ایک دقیقے نہ کُھل سکیں اور جب حواسوں میں
پلٹتے آنکھیں ملتے ہوئے کھولیں تو روبرو سٹیشن کمانڈر ۔وہ اُسے زندہ دیکھتے ،حواس
باختہ،کھلی باہوں سے لپک کر اُسے اپنے شکنجے میں جکڑتے باقیوں کاسوال کرتے ہی اُس
کے اشارے پر مشعلیں روشن کرتے، نیچے اُتر گئے اور چند ہی لمحوں کے بعد ایک نوجوان
گورا فوجی بے سُدھ زخمی لڑکے کو کندھے پر ڈالے نمودار ہوا اور اُس کے پیچھے آیا
سمیت تین عورتوں کی بے رنگ اُجاڑ صورتوں کی ٹولی۔ لڑکے کے متعلق جب سوال سے اُس کے
پروٹیکٹر ہونے کا جوا ب ملا توسٹریچر اُٹھائے ہسپتال کے دو اردلی لپکتے ہوئے لے
جانے کے لےے آپہنچے ، گورا صاحب اپنی تمکنت بھری آواز میں بیدار ہو گیا۔ ”دی بوائے
شُڈ بی ٹریٹڈ ویری ویل ایز مائی فیملی اینڈ رپورٹ ٹو می“۔ موسیٰ کے نیم سُدھ کانوں
نے اُس کی آخری آواز سُنی اور پھر وہ خصوصی توجہ کی بدولت صحت مند توجلد ہی ہوگیا
مگرہسپتال سے ڈسچار ج ہونے میں تین چار ا یام کا وقفہ حائیل ہوگیا۔تھیراپِسٹ کی
ہدایت کے مطابق ہسپتال کے لان میں ٹہلتے ہوئے زورزور سے بازوگُھماتے ، آگے پیچھے
ہلانے کی ورزش کرتے چہل قدمی کر رہا تھا کہ مغرب کا ملگجا اندھیراآہستہ آہستہ گرد
و نواح پر اُتر تا محسوس ہونے لگا ۔ وہ ہسپتال کے برآمدے کی سیڑھیوں کی جانب گھوما
ہی تھا کہ اُس پر ہسپتال کاکلیجی رنگ کمبل آگرا اور دہانے پر چوڑے چکلے ہاتھ کی سد
چڑھ گئی، شکنجے کی جکڑ بندی نے اُس کی ہولناکی میں لپٹی بے اختیار چیخیں اُبلنے سے
پہلے ہی سلب کر لیں ،اگلے لمحے میں سانس پر بھی پہرا آلگا۔اور جب ہچکولوں سے
آوازیں گڈمڈہوتی ہڑبونگ مچاتی کانوں پر اُتریں تودھیرے دھیرے اس کی گرفت میں آتی
چھن چھن کر گرتی سمجھ بوجھ صرف اتنی ہموار ہوئی کہ وہ سواری کے جانور کی پہچان
تراش گئی، وہ گدھے کی پُشت پر سینے کے بل رسیوں میں کسا ہوا تھا ،دہانے اور آنکھوں
پر کَسی پٹیاں ،دھیرے دھیرے آوازوں کا مصورمختلف رنگوں سے کانوں پر اشکال کو جنم
دیتا چلا گیا ،وہ اکیلا گدھے پر بندھا ہوا نہیں تھا ،آگے پیچھے گدھوں کی قطاریںاور
چند ایک آتے جاتے بھاری قدموں کی چاپ کے علاوہ ،گدھوں کی آگے بڑھتی قطار میں اُس
کا گدھا سب سے آگے،بالکل شروع میں،قطار کے پہلے گدھے کے ساتھ ساتھ مختلف لوگوں کی
باتیں ، بِنا اپنی تعداد کا اپرچر کھولے، لب و لہجے کے تفاوت سے اُن کے پیدائشی
علاقے کا تشخص بانٹ رہی تھیں،کوہستانِ نمک، پوٹھوہار،چھچھ اور ڈیرہ اسماعیل خاں کے
ہندکوکے مختلف لہجے انتہائی درشت،اکھڑ اورچیختے تنک مزاج لہجے میں آوازوں کے زیر و
بم سے اُن کے سخت جفاکش جثوں کے مضبوط اعضاءکی تصویر کشی ہو رہی تھی ،لیکن باتوں
کا مفہوم سمجھ میں آنے سے قاصر ،اور سوا ل سُنے بنا ہی وہ چابک ضربوں کی دید بانی
کے اشارے کے روشن زور پر کھدی مٹی سے لدے گدھوں کو ہانکتا اور اونچے بند پر مٹی کی
ایک اور تہہ جماتا رہا ، لوٹ کر وہی مٹی لدے گدھے کے پیچھے چڑھائی ۔رات کو پنڈلی
پرکسی قفل لگی آہنی لمبی زنجیر جو کھونٹے پر مقفل دیگر لڑکوں کی طرح۔ کھانا
کھاتے،یا پانی پیتے دوسرے لڑکوں میں سے کسی سے کوئی سوال کیا جاتا ، تو جواب۔۔ ؟
مطلُوب لڑکے کے ہونٹوں سے جواب اُبلنے سے پہلے ہی کمر پر برستے شلاک ،ساتھ ہی پہرے
دار کی کڑکتی آواز۔۔! ’چُپ شا“ ” بات وات کرو گے تو اسی بند میں زندہ دفن کر دوں
گا ۔“ یہ مٹی کھودتے،گدھوں پر بوجھ اُٹھاتے،چھوٹی موٹی چوریوں اور لوٹ مار کے
علاوہ ،راہ گزر سے نکلنے والے قافلوں کو لُوٹ لیتے ، مسلح لوگوں سے دوبدو ہونے کی
نوبت پر وہ اپنی جان بچاتے بھاگ کر پہاڑوں میں چُھپ جاتے، انگریزفوجی،سینے پر
سجائے تمغے اور کندھوں سوار سِلے چڑھے ستاروں نے انہیں بخوبی پہچانا ، انہیں پٹہ
ڈالے بنا کھلا چھوڑ دیا گیا،کیونکہ مقاوت پرستوں کی نقل و حرکت کی مُخبری اورمقابل
شلوغ کرنے والوں کی ضرورت بے حد لازم ،اورانجانے میں پیسے کی لالچ میں گُتھے وہی
گوری فوج کے ہراول دستے ثابت ہوتے، اور ان ہی کے بھائی بندھ تھے کہ جنہوں نے کالا
خان کی مخبری کی اور اُس کی رسد گاہ کو لُوٹ لیا،اور پشت سے حملہ آور انگریز فوج
،لیکن وہ رسد کم ہوجانے پربھی جی جان سے لڑے اور اُن کے فوجی جرنیل،اور ایک لمبی
تعداد فوجیوںکویم دوت کے ہاتھوں سونپتے، اُس پار اُتارتے ،بچے کُھچے لوگوں نے کالا
خان کے اشارے پر منہ زور دریائے سوہان میں چھلانگ لگادی ۔اور اُسی جرنیل کی یاد
میں برطانوی حاکموں نے پہاڑی ٹیلے پراک لاٹ اور توپ لگا دی گئی ۔ا ور یہ مکروہ لوگ
جن کا آگا پیچھا ، رخت خواب پر ِبرطانوی لومڑوں کے لےے کُھل جاتا رہا،اور اس کا
بڑا بھر پُور معاوضہ؟گماشتہ! لمبی چوڑی زمینوں کی حوالگی اور اونچی ناک !!۔یہ
انگریز کے پالتو کُتے ، خصیہ بردار ،چاپلُوس درندہ صف ، کہ جنہیں مقاومت کرنے والی
قوموں کو دربدر کرتے ،انہیں مختلف علاقوں سے لاکر،مرا یافتگی کا مساج کرتے
،وفادار رہنے کے لیے جھولی بھر آب و دانہ اور ڈھیرقسمیں اندر اُتارتے ،اِن علاقوں
میں آباد کرکے اس علاقے کی پہچان گُم کر ڈالی ،مگر۔۔؟ مگر نام وہی رہا ۔۔! اور
جیسے ہی لڑکے کی پہچان کی تصدیق ملی ،تو بے اولاد میم صاحبہ نے اُسے متبنیٰ بنانے
کے لیے شوہر کی رضامندی کی طالب ہوئی۔مگر ریٹائرمنٹ کے آخری چار پانچ سال کی سرحد
پرکھڑے برطانوی فوجی مارشل جج کی تیوری چڑھ گئی ۔اور اپنی گوری رنگت کے تفاخر اور
لارڈ فیملی نژاد ہونے کے سبب رعونت اور تمکنت سے بلڈی غلام سے بھری نفرت اُس پر
انڈیل دی ،اپنی آیا کی لڑکی جومشن میں موجود ہے، چرچ کو انسٹریکشن دے دوکہ جوان
ہونے پر اُس سے اِس کی شادی کردیں،اگلے سالوں میں جب ہم ریٹائر ہوکر واپس انگلیڈ
چلے جائیں گے،وہاں مختلف مقبوضہ جاتی وار میں تاج برطانیہ پر جان دینے والے کافی
فوجی تھے ،ان کے یتیم انگریزبچے قابلِ توجہ ہیں ،اُن میں سے کسی کو ایڈاپٹ
کرلینا،اس طرح ہمارے ٹیوڈر خاندانی رشتوں میں ناک اونچی رہے گی۔ میں اس حرامی
بلیکی کو اپنے ساتھ گھسیٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ یہ لوگ طلائی چمک کو دیکھ کر
وہیں اپنا سب کچھ لٹانے پر مر مٹتے ہیں ،یہاں تم نے کسی صاحبِ نسب کو دیکھا ہے ،یہ
سب تو دم ہلاتے کُتے ، ہمارے پھینکے پارچوں پر آپس میں لڑتے اک دوجے کو کاٹ کر رکھ
دیتے ہیں ۔نو نو اس حرامی موقعہ شناس،احسان فراموش مخلُوق سے کوئی رشتہ نہیں جوڑنا
چاہتا ۔اُس کی جوانی کے نام پر انعام و اکرام لکھے گئے ہیں،اور اس کے علاوہ سوئیٹ
ہارٹ!تم نے خوداپنی جان کی خیرات میں سے آباد کاری کےلیے روپے پیسے کی جھنکار کے
رنگ رس میں رنگتے کئی ایک مشوروں سے نوازا ۔اور زمین کے ٹکڑے پر چھوٹے چھوٹے
مکانات کے علاوہ اس کا دو منزلہ مکان اپنی ہدایت پر تعمیراتی ٹھیکدار سے بنوا ڈالے
۔ اور ایک ٹکڑا زرعی زمین کا بھی لکھ دیا گیا ہے ۔اور موسیٰ۔؟اُسے چرچ کے مشنری
سکول میں داخلہ دلا دیا ، جس کے ہوسٹل میں وہ اٹھارہ سال کی عمر تک رہائش پذیر رہے
گا، اور مفت تعلیم ملے گی،پھرشادی کرکے دونوں کو اُن کے نو تعمیرگھر میںبھجوادیا
جائے گا ،جہاں زندگی کی تمام آسائشیں میسر۔۔! بس اُسے اور کیا چاہیے ،احسان کی
قیمت تو ادا کردی ہم دونوںنے ۔۔! مگر۔۔؟ مگر موسیٰ کو ایک مدت تک اس ساری مرا
اور میم کی اپنائیت کا سبب نہ کُھل سکا ۔کُنڈی کھولی تو اُس کی بیوی نے۔۔
بند دروازے پر اجنبی دستک۔۔؟ پہلی دستک ،بڑی بے رحمی سے وجود کُھرچتی ،خوابیدہ جوڑ
جوڑ کو بیدار کرتی ۔۔! اور پھر دوجی ،ایسی آبدار لپکتی مانوس لپٹتی دستک۔۔!! بوڑھے
موسیٰ کی پژمردہ آنکھوں میں ایک چمک سی اُٹھی،بیساختہ اُس کا چہرہ لیٹے لیٹے ہی
دروازے کی اَور گھوم گیا۔مانوس دستک سے اُس کی پژمردہ یادیں پانی لگتے ہی تروتازہ
۔ شاید بدبخت کو باپ کی یاد آ ہی گئی ، اور وہ بڑبڑاتا ہوا چارپائی سے اُٹھاکچھ
دیر کمر سیدھی کرنے میں لگ گئی ۔ دروازہ دوبارہ بجا تو وہ جھنجلایا ہوا بلغمی آواز
میں بلبلا اُٹھا ۔بھاگ جاﺅ یہاں سے ، یہاں کوئی نہیں رہتا ۔اور اُسی لمحے جھک کر پائے سے
اٹکے ہوئے عصا کو اُٹھایا۔ ابھی آکر تمھا راسر پھاڑتا ہوں، اور زور زور سے گالیوں
کا طومار امریکہ اور یورپ کے ہر ملک اور مشن کو دیتا ،آہستہ آہستہ صحن پار کرکے دروازے
کے روبرو رُکا ۔اگر تُو ہے مُنڈی کے تو لپک لے ،یہاں کوئی تیرا آیا جایا نہیں رہتا
نہ ہی یہاں تیرے لیے کوئی جگہ ہے اور نہ ہی مجھے تیرے کسی چھدام کی ضرورت ،کمائی
کے لیے کوارٹروں اور دو چوباروں کا کرایہ مجھ کم کوس کے لیے کافی ہے ۔اب تُو لوٹ
جا ۔لیکن جیسے ہی قدموں کی چاپ دروازے سے دور ہوئی تو اُس نے بیتابی سے کُنڈی
کھولی سینے میں بھڑکتا الاﺅ ،روم روم کو جلاتا ،بس برکھا کا اک چھینٹا پڑنے سے ٹھنڈا پڑ
سکتاتھا جو اس کی آواز کی تانگ میں چُھپا بیٹھا تھا ،کہے تو کس سے کہے ،بیوی اُس
کی جدائی کی اذیتناکی جھیلتے دم دے گئی اور اُس کی پیڑا کو سہن کرنے والا اب کون
ہوسکتا تھا ،بس اک وہی ،دنیا جہان پرقدرت کی فیاضی گھن گرج سے برسی لیکن ایک میرے
گھر سے دُور پار ہی برسی ۔ اُس کے جنم جمان کے بعد میری بیوی ہی کی کوک پر سوکھا
پڑگیا۔اگر دوجا ہوتا تو شایدیہ جدائی ،تنہائی ۔۔؟ اُن کا بیٹا مشن کی تعلیم سے
فارغ ہوتے ہی سے دونوں کی اجازت اور مشن کے اساتذہ کی تھپکی اور مالی اعانت سے
اعلیٰ تعلیم کے لےے انگلینڈچلا گیا ،چھ ماہ تک تو اس کے خطوط آتے رہے اور پھر۔۔ ؟
مشنری کے کارندوں کی طویل تلاش کے بعدایک ہسپتال سے اُس کی موت کی خبر ملی تو اُس
کی ماں دیوانہ ہوگئی اوروہ اُس کو ڈھونڈتی زیر زمین جا نکلی اور بابا موسیٰ۔۔؟؟ یک
دم بابا موسیٰ نے کپکپاتے ہاتھوں سے چرچراتے ہوئے دروازے کو کھولا تو سورج کی
روشنی نے اُس کی آنکھوں میں اُتر کر بوسہ دیا، مگر دونوں دیدنی کے در روشنی اور
تپش سے روبرو ہوتے ہی اپنی درماندگی کے بَل مچمچا اُٹھیں ،سفید پلکوں کی چلمن کی
درزوںسے اُس نے بچوں کے دنگے فساد اور ہنگام سے اُبلتی گلی میں کھوجتی نظریں
اُتاریں ۔کو ن ہے بھئی ؟دور ہوتا نوجوان پلٹا جی مَیں ۔!آپ کے لیے اجنبی ہوں اور
۔۔؟اور وہ آواز اور چہرہ اور چال بیٹے کی تصویر بن گئے ،ابھی اجنبی نوجوان کی
آوازمیں اتنے ہی الفاظ ،صوت میں رنگے،ٹھنڈے میٹھے، اُس کے کانوں میں اُترے ہی تھے
کہ پڑوسیوں کی آنکھوں کے نُور ،مگرگلی میں اُترتے ہی ہڑبونگ مچاتی مشینیں، جہاں
چھٹی ہوتی تو گلی میں وہی نور چشمی،زرد چہروں والے لڑکے بالے ،ان سب کی معاشی بے
بسیوں اور لاچاریوں کی وحشت زدہ سہمی آنکھوں کے انبوہ میں ذرا سی خوشیاں ،خرا فاتی
موسم کی تند آندھی میںٹپکتے گرتے کچے پکے پھل ۔سب نے نوجوان اجنبی کی بات ختم ہونے
سے پہلے ہی اُسے اپنے جھرمٹ میں لے لیا اور سوالوں کی پچکاریاں اُس پر ترشح
کرڈالیں۔کہو کہو تم کون ہو اور اس بڈھے نانا ابا سے کیا چاہتے ہو؟یہ تو ہم سب کا
درخش ہے ،جو تم باہر کی دنیا والے کیا جانو۔!اور پھرہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اُس کے
گرد چکر لگاتے،ناچتے، یک آواز حلق پھاڑتے ،گانے لگے۔ بڈھا پھوس پُراناابا ، سب توں
اچھا نانا ابا ،اس کے پوپلے پچکے گالوں کی بدولت اسے اکیلا مت سمجھنا۔ پہلے تو وہ
انہیں ڈانٹتا رہا اور پھر گانے کے شور میں اُسے گھرمیں اندر لے گیا ۔ جھلنگی
چارپائی پر بٹھاتے ،حقے کی نال تھما دی ۔مَیں تمھیں اس لےے اندر لے آیا کہ وہ کوئی
بات نہیں کرنے دیتے ۔۔! اب دھیان سے سُنو ۔۔! اس گھرمیں میرے دو ملازم ہیں اور
دونوں ہی شادی کی جکڑ بندی میں قید ہیں، گھرکی صفائی ، باورچی خانے میں تینوں
وقتوں کا کھانا پکانے اورمجھے کھلانے ، اور کپڑے دھونے کے لیے بیوی اور باہر کے
اوپری کام کاج کے لیے اور چوکیدارے کے لیے اس کا شوہر ہے اور اپنے کوارٹر میں رہتے
ہیں۔ تم ٹھنڈا شربت یا چائے جب بھی پینا چاہو گے ،وہ تُرت لے آئے گی ۔ بس تمھارے
ہونٹ ہلانے کی دیر ہوگی ۔ جی نہیں ۔۔! میرا مطلب ہے کہ میں تو دراصل اوپر والے
خالی چوبارے کے ایک خالی ہونے والے کمرے کے لےے آیا تھا تاکہ مَیں اُسے کراے پر لے
سکوں ،مَیں دراصل یہاں ۔۔؟ خیر خیر کوئی بات نہیں ، وہ تو مَیں سُن ہی لوں گا ۔مگر
فی الحال تم میری سُنو ۔!! مگر کمرہ۔۔؟ وہ تمھارا ہوا،مگر۔۔!! مگر اب میری بات
سُنو ۔!!! اُس نے سنناکیا تھا آس امید میں پھنسا،اپنی ضرورت کے حل کی لُکن میٹی
میں چھوت دے رہا تھا ، اور بابے نے سنانا کیا تھا وہ تو اپنی تنہائی کے سبب ، اندر
پھیلے گھاﺅ کی مرہم ڈھونڈ تا تھا ۔ کہ کوئی آئے اور اُس کے بولنے سننے کی
پیاس کو بجھا دے ۔ورنہ گھر میں بیٹھے یاگھومتے پھرتے وقت کوئی جان پہچان والا اپنا
کان اُس کے ہونٹوں سے نہیں چِپکا سکتا تھا ،سب اُسے دیکھتے دوچار فقروں میں اُس کی
سنتے جواب دیتے ہی بڑبڑاتے ہمیشہ دُور سے کنی کتراجاتے ۔ وہ سامان لینے گیا تو اُس
نے کمرہ اپنی ملازمہ سے دھلوا کر صاف کروایا اور پھر جب وہ تانگے پرسامان لے کر
پہنچا ،تو تانگے کا کرایہ اُس نے لڑکے کو نہیں دینے دیا اور خود اپنی جیب سے
ادائیگی کرتے نوکر سے اُس کا سامان اپنی نگرانی میں اوپر پہنچوایا ،اور سامان تو
تھا ہی کتنا ایک ہولڈال میں بستر اور ایک لوہے کا چھوٹا سا ٹرنک۔مگر ساتھ ہی موسیٰ
کی تنبیہ چلتی رہی ۔ مَیں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ کمرے ومرے کو بھول جاﺅ اور میرے ساتھ ہی
نیچے رہو مگر تم !نجانے کِس مٹی کے بنے ہو ، بزرگوں کا کہا بھی نہیں مانتے ،اب
کھانے پینے کی فکر مت کرنا ، نیچے میرے ساتھ ہی کھاﺅ گے۔لیکن۔۔؟ لیکن وہ
بھی شاید عزتِ نفس کا سبق گھر سے پڑھ کر ہی نکلا تھا ۔
Khalid Farhad
Dhariwal is a well known Punjabi Short story writer. He has many collections as
well as a lot of research work regarding Punjabi literature. ماس، مٹی تے مایا (خالد فرہاد دھاریوال) ماس : نہواں نالوں نکھیڑے ہوئے
لئی وی اوہدا لہو جوش کیوں ماردا اے۔ مٹی: جتھے مُڑکدی پیر نہیں دھرنا
سُفنیاں وچ اوتھے کیوں پھردا رہندا اے۔ مایا: سُکھالیاں کر دی اے تاں پھر
دُکھ وی کیوں دیندی اے۔ اختر ایہہ سوچدے ہوئے بیتے دناں دیاں یاداں وچ کدھرے
دُور جا نکلدا اے۔ایتھے لندن وچ اج توں کئی ورھے پہلوں اوہنوں اپنے پیو دی موت دا
پتہ پُورے ست دن بعدلگیا سی۔ اوس دے گھر والے ایس دو چتی وچ پئے رہے سن کہ پردیس
وسدے مُنڈے نوں ایس موت بارے دسیا جائے یاں نہیں ؟ بُہتیاں داخیال سی کہ اوس نوں
نہیں دسنا چاہیدا۔ پردیساں دا دل بڑا سوہل ہوندا اے ۔ایہہ سوگ اوہ کدھرے چت نہ دھر
لئے ۔ وچوں کُجھ وی صلاح ایہہ وی سی کہ اوس توں کُجھ نہیں لکانا چاہیدا ۔ خبر تاں
اوہنوں ہونی ای اے ، اج نہ سہی پھر کدے سہی ۔ تے بہتر ایہی اے جیہڑی گل بھیت نہیں
رہنی اوہ دس ای دتی جائے ۔ پھر وی اک دم نہیں سوگ پہلے دسیا گیا سی کہ بُڈھابیمار
اے پھر سخت بیمار دا سنیہا ملیا تے اوڑک ساہ پُورے ہون دی خبر۔ انج اوہنوں پہلے
توں ای کوئی صدمہ سہن لئی تیار رکھیا گیا سی۔ اک اجیہا واقعہ جیہڑا کئیدن
پہلے واپر چُکیا سی پر کئی دن بعد دسیا گیا تے اصل مرن دیہاڑ داپتہ ہور وی کئی دن
بعد لگیا۔ اوس کیلنڈر ویکھ کے حساب لایا سی کہ بھلا اوس دن اوہ کتھے سی تے کیہ کر
رہیا سی ؟ دس اپریل سوموار، جدوں اوہناں دا سارا ٹبر مرن سیج تے پئے اوس دے پیو
دوالے بیٹھا ہویا سی ٹھیک اوس ویلے اوہ آپ ورکشاپ وچ کم تے حاضر سی۔ اوس دن اوہدا
کم وچ جی نہیں سی لگ رہیا۔ ایہہ اج وی اوہنوں یاد اے۔ سارا دن اک بے نام جیہی
اُداسی چھائی رہی سی۔ جدوں دل بے سبب اچن چیت اداس ہو جائے تاں سمجھیا ایہی جاندا
اے کوئی شدت نال یاد کر رہیا اے۔ اپنے نکے پُتر نوں کول نہ ویکھ کے مرن والے
نے اوہنوں یاد کیتا سی۔ شاید ایسے لئی اوس دن اوہ اداس رہیا۔ کی دناں بعد اختر نے
سوچیا تے ایہہ جانن لئی اپنے بھرا نوں فون کیتا کہ پیو دے آخری واک کیہ سن؟ اگوں
جد اوہنے دسیا کہ “مرن ویلے پیو نے تیرا نال لیا سی۔"تاں کئی دناں توں ڈکیا
ہنجواں دا ہڑ اکھاں وچوں ویہہ پیا سی۔ اوس کئی وار رونا چاہیا سی پر ہنجوں پلکاں
تے آ کے مُڑ جاندے رہے۔ اوہ چاہوندا سی کوئی اجیہا محرم ملے جیہدے نال ایہہ دُکھ
سانجھا کرے۔ کسے دے گل لگ کے روئے پر اجیہا کوئی ملیا نہیں سی۔ اخیر کندھ تے
نطریندے اپنے ای پرچھاویں نوں دوجا جی من کے اوس نال ایہہ دُکھ سانجھا کر لیا تے
کندھ نال سر ٹکا کے اودوں تیک روندا رہیا جد تیک دل دا بوجھ ہولا نہیں ہو گیا۔ ایس
توں سوا ہور چارہ وی کیہ سی۔ ایتھے پردیس وچ ایس اپنے آپ توں سوا ہور کوئی اپنا ہے
وی کیہڑا سی۔ اکلاپے دے ایسے احساس نے بعد وچ اوہنوں کیتھی نال ویاہ تے مجبور
کیتا۔ اوہدا دل کہندا سی دُکھ سُکھ داشریک ایتھے کوئی اک تاں اپنا ہووے۔ سوگ
دے دِناں وِچ اپنے پیو نوں یاد کردیاں اختر نے وہ دِن یاد کیتے جدوں اوہ اجے وساں
وساں سالاں دا سی تے اوہدے پیر تے کوئی سپ ٹھونہا لڑ گیا۔ زخم ہو جان وجہوں اوہ
کئی مہینے ٹُر پِھر نہ سکیا۔ اودوں اوہدا پیو اوہنوں کندھاڑے بٹھا کے علاقے دے
ماندری کول مرہم پٹی کراؤن پیدل لے جاندا رہیا سی۔ اوہناں کول دودوں کوئی سواری
نہیں سی ہوندی۔ "نورے کیاں توں سائیکل منگ لیجایا کر پندھ لمیرا اے تے
جا تک جوان۔"اِک دن تائے رحمے نے ورھدے مِینہہ روہی وِچوں لنھدے جاندے اوس دے
پیو نوں آکھیا۔ "بھلا اولاد دا وی کوئی بھار ہوندا اے رحمیا۔
"کھوبے وِچوں پیر پُٹدے پیو نے ہفی ہوئی آواز وِچ اگوں کہیا سی۔ پیو
اوہدے نوں شریکاں کولوں سائیکلہ منگنا چنگا نہیں سی لگدا۔ بچپن توں اچیت وِچ پیا
ایہہ واقعہ ای سی جیہنے اوہنوں جوان ہویاں انگلینڈ آؤن لئی پریریا سی۔ اپنے خاندان
دے چنگے بھوِکھ دی آس وِچ۔ لندن آ کے جدوں اوس کُجھ چِر بعد کار مُل لین لئی
بھرا اپنے نوں پیسے گھلائے سن تاں اوہدے ساہمنے گھر لئی سواری دی لوڑ نہیں سگوں
پیو اپنے دی انکھ سی۔ اوہ اپنے پیو نوں کار وِچ بیتھے ہوئے خیال کردا تے اوہدا من
خوشی نال بھر جاندا۔ بعد وِچ ایہہ ہِرکھ اوس خوشی نالوں ودھ گیا پئی اوہ آپ پیو دے
موڈھے چڑھی پِھر یا پر اخیر سمے اوس دے جنازے نوں اپنا موڈھا نہ دے سکیا۔
کیتھرین نال ویاہ کردے سمے اختر دا خیال سی کہ اکلا پا گھٹ جائے گا۔ اوہ گوری میم
تِن کمریاں دے اِک فلیت وِچ اوہدے نال ای رہن لگ پئی سی۔ بچے ہون توں پہلے تیک
ایہہ ساتھ اختر نوں سوشل کنٹریکٹ جیہا محسوس ہوندا رہیا۔ ایہہ ویاہ ریتل سانجھ دی
بجائے اوس نوں کوئی سماجی باندھ جیہی جاپدا۔ شاید ایس لئی وی کہ ایہہ ریتاں رسماں
توں بغیر ای رچایا گیا سی۔ ویاہ اِک نجی کم ہوندے ہوئے وی تاں سراسر سماجی عمل
ہوندا اے۔ مریادہ دے پُھل چُنن والا عمل۔ نکاح دو جِسماں دے میل دا اجازت نامہ ای
نہیں ہوندا سگوں اِک گُوڑھے سانگے دا مُڈھ وی ہوندا اے جیہنے آپ اگوں کئی رشتیاں
نوں جنم دینا ہوندا اے۔ ایتھے لندن وِچ جٹھانی، نُونہہ، ننان، بھر جائی ورگے ایہہ
سارے ای رِشتے ناپید سن شاید ایس لئی وی اختر بعض ویلے کیتھی توں آنند نہیں سگوں
اچوی جیہی محسوس کردا۔ کیتھرین کئی واری اوہنوں اپنی بیوی نہیں کوئی بے تعلق عورت
معلوم ہوندی۔ اوہنے کیتھرین نوں کلثوم کہنا شروع کیتا تاں اوہدے دوست راجو نے کہیا
تیرا اپنی تیویں نوں دیسی ناں توں بلاؤنا اپنے ولوں بے تعلقی نوں مضبوط رِشتے وِچ
بدلن دی لاشعوری کوشش اے۔ ایہہ انکشاف اختر لئی عجیب سی۔ بالاں بارے وی بعض
ویلے اوہنوں محسوس کردا جیویں ایہناں غلط تھاں جنم لے لیا اے، کوئل دے بچے کاں دے
آملنے وِچ ہو پین واگوں۔ اوہ پِنکی، مانی تے بوبی بارے سوچدا کدے ایہہ بچے اوہدی
پھپھی دی دھی وِچوں جنمے ہوندے جیہڑی اوہدی منگیتر وی رہی سی پر اوہدے ولیت توں نہ
مُڑن وجہوں اپنے ماسی دے پُتر نال ویاہی گئی سی۔ لندن وِچ جدوں اوہدا جی
اداس ہوندا اے اوہ اِک پرانا البم کڈھ کے بیٹھ جاندا اے جیہدے وِچ خاندان دے سارے
لوکاں دیاں تصویراں موجود نیں۔ البم وِچوں بعد وِچ کجھ تصویراں دی موجودگی پاروں
اوہدا ڈرائنگ روم وِچ وڑ دے ای اکلاپے دا احساس گھٹ جاندا اے۔ اپنی تیویں تے اولاد
نوں اوہنے البم وِچ موجود ساریاں تصویراں نال اوہناں دا بندا ہر رِشتہ کئی وار
دسیا اے پر ایہناں اجنبی تے دور دراڈیاں بے جان شکلاں نال کوئی ساک کیویں تے کیوں
نبھایا جا سکدا اے اوہ نہیں جاندے۔ اوہدی کوشش دے باوجود اوہدے بیوی بچے ک،سے
وطرحاں دی کوئی وی جُڑت یا ساکا داری ایہناں تصویراں وچلے لوکاں نال ظاہر نہیں کر
سکے۔ اوہ تے صرف اوہدے نال پیار کردے نیں تے اوہدی ذات توں سوا کِسے ہور رِشتے توں
اوہ جانو ای نہیں۔ اختر اپنی تیویں کیتھرین تے بالاں نوں ڈرائنگ روم وِچ ٹنگیاں
تصویراں دا مذاق اڈاوندے کئی وار ویکھ چُکیا اے۔ ایہہ مذاق تصویراں دا نہیں سگوں
اوہدے پُرکھیاں دا اے، ایہہ اوہ جاندا اے۔ شاید ایس مذاق دا سبب بن رہی بے تعلقی
نے مِٹی تے مریادہ دے اوبڑ پن توں جنم لیا اے۔ اولاد تے تیویں نوں اوہ اِک
وار پنجاب وی لے کے گیا سی۔ اپنے ولوں بیگانگی دیاں حداں ختم کر دین دی ایہہ اوہدی
ناکام کوشش سی۔ لندن تے لہور و چلی وتھ تاں اوس پُور دِتی پر دو پیڑھیاں وِچ موجود
ویلے دا کھپا اوہ کیویں پُوردا۔ اوہ خاندان دے جیوندے لوکاں نال ہی اپنی تیویں تے
اجے چھوتی عُمر دی اولاد دا میل کروا سکیا۔ مر چُکے لوک انجان ای رہ گئے سن۔
جیوندیاں دا مُردیاں نال کیہ رِشتہ ہوندا اے بال نہیں جاندے ہوندے۔ ایسے لئی
ڈرائنگ روم وِچ ٹنگیاں تصویراں واپس آ کے وی اوہناں لئی اوبڑ ای سن۔ بعد وِچ اختر
نے ایس جماندرو اوبڑ پن تے بے تعلقی نوں اولاد دا تے اپنا مقدر من کے قبول کر لیا
سی۔ اکلاپے دے ایناں ای دناں وِچ اوہدی دوستی راجو نال ہوئی۔ اختر جیہڑی
ورکشاپ تے کم کردا سی راجو اوتھے ٹیکسی ٹھیک کروان آیا سی۔ راجو وی اوہدے وانگوں
اُکھڑیا ہویا تے اکلاپے دا روگی بندہ سی۔ پہلی ای ملاقات وِچ اوہ یار بن گئے۔ راجو
ایتھے لندن وِچ ٹیکسی ڈرائیور سی۔ "یار سارا دن انگریزی بول بول کے
مُونہہ تھک جاندا اے۔ اپنی بولی تاں سالے انگریزاں نوں گاہل کڈھن دے ای کم آؤندی
اے، ایتھے تاں اپنی بولی سُنن نوں وی سہک جائی دا اےـ"راجو نوں
چِراں بعد کوئی اپنی بولی بولن والا بندہ مِلیا سی۔ اپنی بولی سُنن بولن
والے جیہڑے لوک ایتھے ہے وی نیں اوہناں کول مِل بیٹھن لئی ویہل نہیں ہوندا۔ ویلے
دا ویہن ایتھے بُہت تیز اے۔ جیہڑیاں دو گھڑیاں کِسے کول بیٹھنا اے اینے چر کئی
پونڈ کمائے جا سکدے نیں۔ پردیس وِچ اکثر دی ایہی سوچ ہوندی اے۔ "ہاں ساہ
لیندیاں راجو نوں کہیا تے پِھر ونڈ توں بعد لاہور وِچ رہ گئے اِک گورے سائمن دا
قِصّہ اوہنوں سُنان لگا: اوہدا اصل ناں سائمن سی پر بال اوہنوں سائیں مناں کہندے
سن۔ کھلری ہوئی دارھی تے ودھے ہوئے والاں والا اوہ اِک بُڈھا انگریز سی۔ شدا پاروں
ایہہ ناں اوہنوں اجیہا جچیا کہ لوکاں نوں وی پِھر سائیں مناں ای یاد رہیا۔ ونڈ توں
پچھوں اکلا رہ گیا سائمن رُکھاں نال انگریزی بولدا رہندا۔ اوہ کِسے اِک رُکھ اگے
جا کھڑ دا تے اوہدے نال گلاں کرن لگ پیندا۔ کدے دھیمی آواز وِچ جیویں سرگوشیاں کر
رہیا ہووے۔ کدے بُہت اُچی بولدا جیویں ساہمنے کوئی ڈورا اے۔ اوہنوں خبر نہیں سی کہ
رُکھ ڈورے ای نہیں ہوندے گونگے وی ہوندے نیں۔ جدوں اوہنوں اگوں ہنگارا نہ مِلدا
تاں اوہ رُکھاں دے گل لگ کے رون لگ پیندا سی۔ رُکھ سُندے سن نہ بولدے سن تے لوک
سُندے سی پر بولدے نہیں سی۔ عام لوکاں نوں سائمن دی بولی سمجھ نہیں سی آؤندی،
جیہناں نوں اوہدی بولی آؤندی سی اوہناں نوں سائمن کول بیٹھ کے اوہدی بولی وِچ چار
گلاں کرن دا ویہل نہیں سی۔ رُکھاں نال گلاں کرن تے اوہناں نوں جپھی پا کے رون
وجہوں سائمن نوں پاگل خانے داخل کروا دِتا گیا۔ اوہدا علاج اوہنوں پاگل پن دے لگن
والے ٹیکے نہیں سگوں اوہدے نال بولے دو مٹھے بول نیں۔ ایہہ سُرت کِسے نوں وی نہ
آئی۔ پاگل خانے وِچ اوہدا تماشا لگن لگ پیا۔ پاگل اکٹھے ہو کے سائمن نوں گھیرا
پالیندے تے اوہنوں چھیڑ دے۔ اوہ انگریزی وِچ گاہلاں کڈھدا، پاگل ہور چھیڑدے۔ سائمن
چیکدا تے اپنا سر پٹ لیندا۔ ایہہ دیکھدے ہوئے دوالے کھڑے پاگل تاڑیاں مار دے اُچی
اُچی ہسدے۔ کدی سائمن اِک دم آکڑ کے گھڑا ہو جاندا تے پاگلاں نوں حُکم چلان لگ
پیندا۔ پاگل اوہنوں سلیوٹ کرن دی بجائے "ایتھے وج"قسم دے اشارے کردے تاں
اوہ بھوئیں تے بیٹھ کے سر گوڈیاں وِچ دے لیندا تے پھیر رون لگ پیندا۔ ایہہ تماشا
اپنے پاگل رِشتے داراں دی خبر لین آئے سیانے بیانے لوک وی بڑے شوق نال
ویکھدے۔ سائمن جے پاگل نہیں وی سی تاں ہُن پاگل ہو گیا سی۔ "دوجے
گوریاں وانگوں اوہ اپنے دیس کیوں نہ پرت گیا؟"راجو نے پُچھیا تاں اختر نے
دسیا، سنتالی توں مگروں جدوں انگریز ہند پاک وِچوں جا رہے سن، سائمن نوں وی اوہناں
نال لیجانا چاہیا پر اوس انکار کر دِتا سی۔ سائمن کہندا سی، لاہور دے گورا قبرستان
وِچ اوہدی سوانی ڈیانا تے دو بال ایلز بتھ تے بینجمن دفن نیں اوہ ایتھوں نہیں جائے
گا ایہہ مِٹی تے ماس دا وی عجیب رِشتہ اے۔ جِتھے تہاڈا ناڑو دبیا ہووے اوہ بھومی
تہانوں اپنے چُثے دا انگ جاپدی اے تے جِتھے تہاڈے پیاریاں دے جُثے دبے ہوون اوہ
خاک بھوئیں تے دھرتی کلبوت توں وی اگے روح دا کوئی حِصّہ معلوم ہوندی اے۔ بندے دا
خمیر مِٹی وِچوں ایں تے روح خمیر دا ای دوجا ناں اے۔ پر تھاؤں تھاں پھرن والیاں دے
من وِچوں مِٹی دا موہ کدے مر وی جاندا اے، کیونجو اوہناں نوں دھرتی نہیں دھن پیارا
ہو جاندا اے۔ ایہہ آخری گل کر دے ہوئے اختر دے ساھویں سائمن نہیں سگوں ایتھے لندن
وِچ ای وسدا اپنا اِک دوست منشا سی۔ ـ"لے بئی یاد رکھیں جے میں ایتھے مر گیا
تاں میری لوتھ پِچھے پہنچا دیویں"راجو نے اختر نوں وصیت کیتی۔ اختر نے
راجو دے چہرے ول ویکھیا اوتھے بُلھاں تے مُسکڑی ہون دے باوجود اکھیاں وِچ گوڑھی
اداسی سی۔ ویاہ توں بعد کُجھ چر لئی پنجاب جاندے ہوئے اختر نے کیتھی نوں وی
نال لے جانا چاہیا پر پیر بھارا ہون پاروں ڈاکٹر نے کیتھی نوں ایس سفر توں ورج
دِتا سی۔ اختر نے پنجاب جا کے دیکھیا پِنڈ وِچ نیائیں توں لے کے نہر تیک سارا رقبہ
اوہناں خرید لیا ہویا سی۔ اُچا تے خوبصورت بنگلہ بنوا لیا ہویا سی۔ گھر والیاں
اوہنودں چھیتی ای لندن جا کے ہور پیسے گھلان دی گل تاں کیتی تاں جو نہر توں پار
والا مربعہ خریدیا جا سکے پر پردیس وِچ رہندے ہوئے اپنی مِٹی تے لگدے لانیاں توں
دُوری دا جو کشٹ تے سنتا پ اوہ بھوگ رہیا سی اوس بارے کِسے وی نہ پُچھیا۔ تن
مہینیاں بعد اوہ لندن مُڑیا تاں کیتھی نال کرن لئی اوس کول کھیتاں، فصلاں، رُت دے
رنگاں تے انگاں ساکاں بارے ڈھیر گلاں سن پر کیتھی نے ایہناں گلاں وِچ کوئی وی
دِلچسپی ظاہر نہ کیتی۔ دوجی پنجاب پِھری ویلے اوہ کیتھی تے بالاں نوں وی نال
لے گیا۔ پِنکی اودودں ستاں ورھیاں دی سی۔ مانی ٹُڑن دی جاچ سِکھ رہیا سی تے بوبی
اجے گود وِچ سی۔ کیتھی تے بالاں نوں مِل کے سارے ای خُش ہوئے سن۔ پِنکی بارے کہیا
گیا کہ ایہدی شکل اپنی پُھپھی نال مِلدی اے تے بوبی دا مہاندرا اپنے مرن والے دادے
تے گیا اے۔ حیرانی اختر نوں اودوں ہوئی جدوں اوہدی اپنی پھپھی جو بُڈھ وڈیری تے
انھی موراں ہو چکی سی نے مانی نوں گود وِچ لیندیاں اوہدے چہرے نوں ٹوہ کے مانی دے
پڑدادے نال ایہدی مشابہت دا اعلان کر دِتا۔ مانی جیہنوں وکھرے سبھا دا ہون پاروں
ایتھے سارے گھر والے کاٹھا انگریز آکھدے سن اوہ کِسے دی جھولی وِچ گھٹ ای ٹھہردا
سی پر ایس انھی مائی دی گود وِچ سکون نال کھیڈ دا رہا۔ اختر نے پھپھی نال ایہی گل
کیتی تاں اوہنے کہیا۔ "اپنے لہو نوں لہو سیہان لیندا اے۔ ” ایس نیڑتا تے
سانجھ وچلے بھیت نوں تے اختر نہ جان سکیا پر پِچھلی پیڑھی نال ملدے ایہناں
مہاندریاں پاروں ایہہ سٹہ اوہنے ضرور کڈھیا کہ رشتیاں وِچ فاصل کوئی نہیں۔ ایہہ
اِک لامکانی لازمانی تعلق ہوندا اے۔ ورھیاں بعد جدوں اختر نوں اپنی اولاد
وِچ ایس مہاندریاں دی مشابہت توں وکھ ہور کوئی وی وصف اپنے پُرکھیاں والا نظر نہیں
سی آیا تاں اودوں اوہنے سوچیا سی خاندان دے جُڑے رہن لئی جُثیاں وِچ دوڑ رہے لہو
دی سانجھ دی ای نری لوڑ نہیں ہوندی سگوں مِٹی دی سانجھ وی شاید ضروی ہوندی
اے۔ اوہنوں طے شدہ شیڈول توں پہلے ای لندن مُڑن پیا سی۔ بالاں نوں پنجاب دی
رُت راس نہیں سی آئی۔ اوہناں دی مِٹی جو اوپری سی تے پِھر موسم وی اوپرا ای لگنا
سی۔ لندن آ کے بالاں دے چیک اپ دوران ڈاکٹر نے جد اختر نوں کہیا کہ چِنتا والی
کوئی گل نہیں بالاں نوں اینویں ذرا ڈسٹ الرجی ہو گئی سی تاں اختر بڑ بڑایا “سی
ایہی تے اصل چِنتا اے"انگریز ڈاکٹر اوہدی ایہہ گل سمجھ نہیں سی سکیا۔
پھر راجو نوں بالاں دی ایس بیماری بارے دسدے ہوئے اختر پہلے ہسیا تے پھر رو پیا ۔
ہسیا اوہ ایس لئی کہ دھرتی جایاں دے بالاں نوں کھیہ مٹی توں بھلا کیہ کنچھ ہو سکدی
اے تے رویا ایس وجہوں کہ اگلی نسل وچ مٹی تے ماس دا صدیاں پرنا رشتہ ٹُٹ رہیا اے۔
سگوں مٹی تے ماس نوں اک دوجے نال ضد ہو گئی اے۔ ایہنوں اوہ مایا دا ستم آکھن یاں
کرم، راجو تے اختر کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ منشے نے سُنیا تاں اوہ بہت خُش
ہویا۔ اوس کہیا "مبارکھ ہوئے ! ایہہ بیماری نہیں اک علامت اے پُرکھیاںدے اُجڈ
پُنے نوں لانگھ کے اُچی گُڑھتل ول اُٹھے بالاں دے پہلے پیر دی ۔ تے بالاں دی
کیمسٹری چینج ہو رہی اے۔” “شیطان دا پُتر"، غصے نال اکٹر نے خیال ای خیال وچ منشے
دے مُونہہ تے تھک دتا سی۔ مریادہ دا نابر تے پُرکھیاں دامذاق اڈاؤن والا منشا
اوہنوں کدے وی پسند نہیں آیا۔ اک اجیہا بندہ جیہنوں اپنے لہور دی پچھان سی نہ ای
اپنی مٹی دی قدر۔ جیہڑا بڑے ماننال دسدا کہ عرب وچ اک بڈھے بدو دی سوانی نے اک بال
تہاڈے منشے یاردا وی جمیا۔ "اوپرے بھانڈے جاگ لاندیاں تینوں لاج نہ
آئی"، راجو نے اک وار اوہنوں پُچھیا۔ "نہیں بالکل نہیں ۔ تے نہ ای میں
کدے عرباں وچ پل رہے اپنے اوس بالک بارے سوچیا اے"منشے مُکت دسیا سی۔ ساؤتھ
افریقہ وی اک نیگرو کُڑی منشے دے نکاح وچ رہی۔ بعد وچ تن بالڑیاں تے اوس نیگرو
کُڑی نوں چھڈ کے آپ انگلینڈ نٹھ آیا تے مُڑ کدی اوہناں دی سار نہ لئی۔ منشا اکثر
کہندا، "ایہہ مٹی موہ، مریادہ کیہ اے میں نہیں جاندا، مینوں تے بس مدھوا، ماس
تے مایا دا پتہ اے۔ گلوبلائزیشن دےدور وچ وی بندے نوں پرانے حد بنیاںوچ قید نہیں
رہنا چاہیدا۔"اختر تے راجو منشے نوں ویکھ کے سوچدے کہ بندہ اینا بے کرک وی وی
ہوسکدا اے ؟ کیونجو منشے نے کدی اپنی اولاد دی پروا کیتی سی نہ ای پچھے موجود اپنے
خاندان د ۔ اوہ جو وی کماندا ، شراب پین یا ویشیا عورتاں نال سون تے خرچ کر
دیندا۔ "دُنیا کنی وی گلوبل ہو جائے ایہہ گلابولائزیشن منڈی تے مال تک
ای محدود رہسی ، اختر راجو نوں سمجھایا۔ "بندہ اپنی گڑھتل رہتل ، بوی تے
ورتارے وچ کدے وی گلوبل نہیں ہو سکدا۔ ہر بندے دی اپنی مٹی ہوندی اے تے ہر مٹی دی
اپنی مریادہ تے اک وکھرا ہیروا۔ راجو دیکھ ! پنڈ دی نکی جیہی گل ساڈے لئی کنی وڈی
خبر ہوندی اے۔ فون وچ اسیںایہہ تک کیوں پُچھ لیندے ہاںکہ بُوری مجھ نے ایدکیں کٹا
دتا اے یاں کٹی۔ سانوں ایہہ جانن دی خاہش کیوں ہوندی اے کہ روہی والے نیویں کھیت
وچ ایدکیں کیہڑی فصل بیجی گئی۔ امب دے اوس رُکھ تے سانوں بُور آؤن دی اُڈیک کیو ں
رہندی اے جیہڑا اسیں اپنے ہتھاںنال پچھے لا کے آئے ہوندے آں ؟"راجو کول
ایہناں سوالاں دا کوئی جواب نہیں سی اوہ تے آلپ ایہہ سوچ رہیاسی کہ انگلینڈ دی
اکرسی رُت وچ رہندے ہوئے وی اوہ ورھے دا دیسی حساب کیوں نہیں بھُلیا۔ پوہ
ماگھ……….پھگن ، چیتر ………گُڑھتی وچ ملیا ایہہ رُت لیکھا تے شاید اوہنوں پو لوک وچ
وی نہ وسرے۔ اختر داگچ بھر آیا سی تے راجو دیاں وی اکھاں بھج گئیاں سن۔ راجو
مہینے وچ اک ویک اینڈ تے اختر دے گھر ضرور آوندا۔ اوہ بچیاں نوں مل کے اپنا دلدر
دُورکردا راجو ہر وار بچیاں لئی کوئی نہ کوئی گفٹ پیک ضرور لیاوندا سی۔ اک وار اوہ
پنکی لئی کروشیا سیٹ، دھاگے دے گُچھے تے کشیدہ کاری دی کوئی گائیڈ لے کے آیا۔
اوہنے کہیا ایہہ عُمر پنک دی سکھلائی دی اے تے پھر لاڈ تے مان نال پنکی دے سر تے
پیار دے کے بولیا، "ساڈی دھی ہُن میز پوشاں دیاں لیساں کڈھ کے وکھاوئے
گی۔"پنکی نے اودوں وی نک مُونہہ وٹیا تے مُڑ کے دوجی وار ایہناں چیزاں نوں
ہتھ وی نہ لایا۔ مانی نوں اوہنے خوبصورت رنگدار بانسری دتی پرمانی نے ضد کر کے
اگلی وار چھوٹی گٹار منگوا لئی۔ بولی نوں راجو نے "بندے داپُتر” بنان لئی
پُورا ٹل لایا۔ بوبی لُڈیاں پاون ، بیٹھکاں مارن تے اپنی وینی مُونہہ نال جوڑ کے
ببلی مارن سکھ گیا سی۔ راجو نوں بوبی نال موہ سی تاںبوبی نوں وی اپنے انکل راج نال
بہتیری لٹک سی۔ بوبی اپنے “راج نکل"کولوں فوک ٹیلز سُندا۔ راجو تے اختر
اوہنوں پنجاب دیاں لوک باتاں سُناوندے۔ ایہناں باتاں وچ پکھوآں ، جنوراں تے رُکھاں
نوں جدوں بندیاں وانگ گلاں کردے ویکھدا تاںعقل داپُتلا بوبی ایہناں باتاں نوں نہ
منن جوگ آکھ کے "جھوٹھ ! جھوٹھ ! جھوٹھ!!"دا رولا پادیندا۔ راجو تے اختر
صفائی دیندے کہ اک جُگ سی جدوں رُکھ پکھو تے جنور بندیاں وانگ ہی بولدے سن تے بندہ
اوہناں دی گل سمجھدا وی سی۔ "تُسیں میرے جگ دی بات سناؤ"، بوبی اگوں
گٹکدا۔ جتھے بندہ بندے نال بات نہیں کردااجیہے گُونگے جُگ دی اوہ کیہ بات
سُناوندے ایسے لئی اوہ دڑ وٹ جاندے۔ "پکھوآں تے جنوراں وچکار کسے ڈنگر
بولیداوجود تاںمیں اج وی مندا ہاں پر اتہاس دے کسے وی ورگ وچ رُکھاں دے گلانکرن دا
مُنکر ہاں۔"اختر نے اک دن راجو نوں وکھریاں کر کے دسیا تے کہیا، "جے
رُکھ بولدے ہوندے تاں سائمن کدی پاگل نہ ہوندا۔” پھر راجو اک روڈ ایکسیڈنٹ وچ مر
گیا۔ اوہدی وصیت مطابق اوہدی لاش پچھے بھیج دتی گئی سی۔ نال اوہدا کھٹیا وٹیا اک
وڈی رقم دا بنک ڈرافٹ وی۔ کھنکدی مایا نال بھری پوٹلی تے ہمک گئے مُردہ ماس دی
گُتھلی اکو ہتھ وصول کردے راجو دے ماپیاں نوں کنا عجیب جیہا لگیا ہووے گا۔ اختر
ایہہ اج وی سوچدا اے۔ اوہنوں راجو، منشا تے سائمن اکثر چیتے آؤندے نیں۔ راجو جیہنے
اپنی مٹی نوں سوارن لئی اک اوبھڑ دھرتی تے رہن دا کشٹ کٹیا۔ راجو دی اپنے خاندان
لئی قربانی یاد کر دیاں اختر دیاں اکھیاں بھر آؤندیاں نیں۔ منشا جو اپنے خاندان ،
بالان تے تیویں نوں ، ہمیشہ لئی پچھاڑ آیا سی تے سائمن جس اپنے موئے بالاں تے
تیویں دی خاطر اپناوچن تیاگ دتا۔ اختر دے خیال وچ ایہناں تناں دے وکھ وکھ چتر نیں۔
راجو اوہنوں دیا دکھشنا نال گُٹ کوئی بھگت سادھو جاپدااے ۔منشا شیطان دا اک روپ اے
، حرص ہوس دا کوئی پُتلا تے سائمن معصوم صورت ، مہر محبت داکوئی بُت پر کئی سالاں
بعداختر نے جدوں منشے نوں ایڈز ہو جان داسُنیا سی تاں اوہنوں بڑا ہرکھ ہویا
سی۔ اختر نے کئی وار چاہیاسی کہ پنجاب پرت جائے پرکیتھرین نے اوہدا ساتھ
نہیں دتا۔ اوہ اپنا وطن چھڈ کے جان لئی تیار نہیں ہوئی ۔اوس دی جوان ہوچکی اولاد
نے وی کدی پچھے مُڑ جان دی خاہش ظاہر نہیں کیتی ۔ اولاد دی محبت وچ پھر اوہ وی
نہیں گیا۔ پچھلے پھیرے جدوں اختر اپنی ماں دے سوگ لئی پنجاب جا رہیا سی تاں اوس
کجھ دناں لئی ای سہی کیتھرین تے اولاد نوں نال جان لئی کہیا پر اگوں اوہناں دی نہ
جان دی مرضی ویکھ کے اختر نے وی اوہناں نوں مجبور نہیں سی کیتا تے اکلا ای چلا گیا
سی۔ ایس وار اوہنے پنڈ دے سکول وچ نلکہ لوایا۔ نیائیں والی دو کلے بھوئیں وچ باغ
لوان دی نصیحت کیتی۔ ماں تے پیو دی قبر دے سرہانے اپنے ہتھاں نال بیری دے بوٹے
لائے۔ دونادں قبراں دی پواندوں دو بُک مٹی دے چُکے تے پچھے پیریں ہنجوں کیردا لندن
مُڑ آیا۔ اوہ دو بُک مٹی ہُن ایہدے بیڈ روموچ کارنس تے رکھے اک گملے رُتاں وچ ایس
اندر پنجاب وچ کھیتاں دے بنیاں تے ہون والیاں بُوٹیاں اپنے آپ اُگ آوندیاں
نیں۔ گملے والی ایس مٹی بارے اختر نے وصیت کیتی ہوئی اے کہ جد اوہ مرے تاں
اوہنوں قبر وچ رکھن توں پہلاں ایہہ مٹی تھلے کھلار دتی جائے۔اوہ چاہوندا اے مرن
توں بعد کم سو کم میری کنڈ اپنی مٹی اُتے ہون دا احساس تاں رہوے۔ پچھلے دو
ورھیاں توں بھرا دی مرضی ایہہ وی اے کہ مُنڈے نوں انگلینڈ سد کے پنکی نال اوس دا
نکاح پڑھوا دتا جائے۔ بھرا ولوں ویزا گھلن دا تقاضا ودھ گیا تاں اخٹر نے بھرا اپنے
فون دی بجائے چٹھی راہیں جواب دینا مناسب سمجھیا ۔ اوس لکھیا : “ ………..اپنی
مٹی ماس توں دُوری دا دُکھ میں نہیں چاوہوندا میرے بعد وی کوئی بھوگے ………..میری
اولاد نے مُستقل انگلینڈ رہن دا فیصلہ کر لیا اے ………ویزا میں نہیں گھلنا، میرے حصے
دی جائیداد اپنے مُنڈے دے ناں لوا دے …………..رہی پنکی نال اوہدے ویاہ دی گل تان میں
پنکی تے اپنی مرضی نہیں تھوپ سکدا……….ایہہ انگلینڈ اے جے پنجاب وی ہوندا تاں میں
پنکی دی اپنی سدھر دا احترام کردا………..ـ” اختر جد چٹھی پوسٹ کرن جا رہیا سی تاں رستے
وچ اوس اپنے آپ نوں کئی سوال کیتے : اوس داایتھے آؤنا تقدیر دا ستم سی یاں
کرم ؟ دولت کمان دا عمل کیہ اوس لئی کوئی سزا سی ؟ اوہنے ایہہ سارا کشٹ کیوں
کٹیا ؟ تے کیہ اوہدی عُمر اکارت گئی ؟ ایہناںسارے سوالاں دا اوس کول اک ای
جواب سی : “اپنے لئی تاں ہر کوئی جیوندا اے اوہنوں اپنے تے مان اے کہ اوہ اپنے
خاندان لئی جیویا اے ۔” ہُن اپنے وطن واپس نہ جان دے فیصلے تے اختر نوں کوئی ہرکھ
نہیں سی۔ “کسے دی خاطر جتھے اینا جیون گذر گیا اوتھے ہُن اوہ کسے واسطے مر
وی تے سکدا اے۔"ایہہ سوچدے ہوئے اوہ اداس مُسکرا پیا تے تے ایس پل اوہنوں
سائمن چیتے آ گیا۔
بلھا میرا مرشد بلھے نوں سمجھاون آئیاں، بھیناں تے بھرجائیاں من
لے بلھیا ساڈا کہنا، چھڈ دے پلّا رائیاں
بڈھی کتاب ( شو کمار بٹالوی ) میں میرے دوست تیری کتاب نوں پڑھ
کے کئی دن ہو گئے نے سوں نہیں سکیا ۔ ایہہ میرے واسطے تیری کتاب بڈھی ہے ایہدے
حرفاں دے ہتھ کمبدے ہن ایہدی ہر سطر سٹھیائی ہوئی ہے ایہہ بل کے بجھ گئے ارتھاں دی
اگّ ہے ایہہ میرے واسطے شمشانی سواہ ہے ۔ میں بڈھے ہونکدے ایہدے حرف جد وی پڑھدا
ہاں تے جھرڑائے ہوئے واکاں ‘تے نظر دھردا ہاں تاں گھر وچ ویکھ کے شمشانی سواہ توں
ڈردا ہاں تے ایہدے بجھ گئے ارتھاں دی اگّ 'چ جلدا ہاں جدوں میرے گھر 'چ ایہہ بڈھی
کتاب کھنگھدی ہے ہفی تے ہونگدی ارتھاں دا گھٹّ منگدی ہے تاں میری نیند دے متھے 'چ
رات کمبدی ہے ۔ مینوں ڈر ہے کتے ایہہ بڈھی کتاب میرے ہی گھر وچ کتے مر نہ جاوے تے
میری دوستی 'تے حرف آوے سو میرے دوست میں بڈھی کتاب موڑ رہا ہاں جے جیوندی مل گئی
تاں خط لکھ دئیں جے راہ وچ مر گئی تاں خط دی کوئی لوڑ نہیں تے تیرے شہر وچ قبراں دی
کوئی تھوڑ نہیں ۔ میں میرے دوست تیری کتاب نوں پڑھ کے کئی دن ہو گئے نے سوں نہیں
سکیا ۔
قطعات ( شہناز پروین سحر ) ایک تابوت مرے قد کے برابر بھیجا
ساتھ اک مرتا ہوا زخمی کبوتر بھیجا اس سے نفرت بھی نہ ہو پائی محبت کیطرح اس نے ہر
جذبہ مرے رتبے سے کم تر بھیجا ــــــــــــــــــــــــــــــــ٭٭٭ـــــــــــــــــــــــــــــــــ جدھر گیا ہے وہ سب
کو ا دھر ہی جانا ہے جو جی رہے ہیں انہیں بھی تو مر ہی جانا ہے ذرا سے بوجھ سے
زنجیر ِ عدل ٹوٹ گئی یہ منصفی کا ہنر تھا ہنر ہی جانا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ مٹی جنون ِ رقص میں رندوں سے جا ملی اونچی
اڑان والے پرندوں سے جا ملی اندیشے خوف پہن کے بیٹھے رہے سحر ہرنی خود اپنے آپ
درندوں سے جا ملی
مردار خور ( صفیہ حیات ) خون کے چھینٹے منہ پہ چپکے اس
بات کے گواہ ہیں کہ وہ مردار خور ہیں۔ ۔ یہ گدھ نسل سے ہیں۔ اس نسل کے مذکر و
موءنث روز مردار خور جنم دیتے ہیں۔ ۔ یہ فائلوں پہ جھکے کتابوں کے اوراق
پلٹتے گاڑی سٹارٹ کرتے اپنے شکار کو تاڑتے رھتے ہیں۔ ۔ تازہ خون اور تازہ
گوشت کو چھکتے ہیں۔ بشرطیکہ حرام ہو حلال تو انکے معدے قبول
نہیں کرتے یہ حلال کو قے کر کے کھاکر حرام کر تے ہیں۔
رنگ وچھڑے گلاباں دے ( صغری صدف ) رنگ وچھڑے گلاباں دے موسم نے
عذاباں دے اک کچے گھڑے کیتے منہ کالے چناباں دے دریاواں دے پانی وچ دھوکے
نیں سراباں دے ہوکے تے وی پابندی دُکھڑے وچ کتاباں دے رُت خوشیاں دی لنگھ گئی اے
موسم نیں حساباں دے
نیلی نوٹ بُک عمانویل کزا کیویچ مترجم: ڈاکٹر
انور سجاد عمانویل کزا کیویچ 1913 میں یوکرین میں پیدا ہوا ۔1932 میں اسکی نظموں
کا پہلا مجموعہ “ ستارہ ” کے نام سے شائع ہوا جس نے اسے پوری دنیا سے متعارف
کروایا۔ بعد ازاں اس کی لکھی کتابیں ، اودر کی بہار، دل دوست، اسٹیپ میں، چوک میں
ایک گھر، اور دن کی روشنی میں، منظر عام پر آیئں ۔ “ نیلی نوٹ بک ” اسکا
آخری ناولٹ تھا۔ عمانویل کے ہم عصر، فیودر دوستووسکی کے مطابق کزا کیو ایچ ایک
زبردست سیاح، شکاری، پارٹی کا روح رواں، فطرتا ہنس مکھ لیکن بہت ہی جرات مند سپاھی
تھا۔ ڈاکٹر انور سجاد : 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی
بی ایس کے بعد انہوں نے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا۔ نور سجاد
کی شخصیت پہلو دار ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ نظریاتی وابستگی
انہیں سیاست تک لے آئی۔سٹیج اور ٹیلی ویژن کی قوت اظہار سے خوب واقف ہیں اور جدید
اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہیں۔ رقص کے بھی ماہر ہیں۔ انکی شخصیت کے تمام پہلو
ان کی افسانہ نگاری میں کسی نہ کسی طور ظاہر ہیں۔ رگ ِ سنگ، آج، استعارے،
پہلی کہانیاں، چوراہا، خوشیوں کا باغ ان کی نمایاں تخلیقات ہیں۔ قسط 4 جب
زینییو ئف اگلی صبح بیدار ہوا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کہاں ہے۔ حواس
باختہ، حیران پریشان، اس نے دروازے سے سر نکال کر باہر دیکھا۔ جھونپڑی کی بایئں
جانب ذرا ہٹ کر کٹے درخت کے ٹھنٹھ کو کرسی بنائے لینن بیٹھا تھا۔ اسکے سامنے کٹی
گیلی میزینی پڑی تھی جس پر جھکا وہ بہت تیزی سے کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ صبح کے
سورج کی کرنیں اس کے سر کو روشن کر رہی تھیں۔ اسکے گرد پیلے اور سبز جہازی بھبھٹ
اڑ رہے تھے جنہیں وہ گاہے بگاہے نظریں اٹھا کر ، ہاتھ لہرا کے خود سے پرے رکھنے کی
کوشش کر رہا تھا۔ اسکی نظریں کاغذ پر پلٹنے سے پہلے بے توجہی سے دور تک ان کا
پیچھا کرتیں۔ ایک کیڑا رینگتا ہوا کاغذ پر آ لیا تو اسنے کاغذ سے نظریں اٹھائے
بغیر بے دھیانی میں اٹھا کر نیچے گھاس میں پھینک دیا۔ وہ ماحول میں زیادہ ہی رچ بس
گیا تھا اور زینیئیف کو اس کی خوبی پر رشک آتا تھا۔ ہمیشہ کی طرح لینن کے چہرے پر
اب بھی وہی انہماک تھا جو لکھنے وقت اسکے چہرے پر چھا جایا کرتا تھا۔ اس نے اسی
کیفیت میں زینیو یئف کی طرف نظریں اٹھائے بغیر کہا “ جاگ گئے گریگوری ؟ تم با لکل
شہریوں کی طرح سوتے ہو۔ تم بھول گئے کہ تم فنستانی گھسیارے ہو اور اس وقت تمہیں
کام میں جتا ہونا چاہیئے کہ سردیوں کے لئے بندو بست کر سکو۔ بال بچوں کے رزق کے
لئے۔ دیکھو میں نے ایک مضمون مکمل کر لیا ہے اور یہ ابھی آدھا ہوا ہے۔ میں
اپنا قلم ہنسیا کی ظرح استعمال کررہا ہوں ۔۔۔ نہالو، پھر آ کے پڑھ لو۔ ” یمیلیا
نووف سلاخ سے لٹکتے ڈول کے نیچے آگ جلانے میں مصروف تھا ۔ دول میں پانی ابل رہا
تھا۔ کولیا وہاں نہیں تھا۔ لیکن چند لمحوں بعد وہ پرندوں ایسی سیٹی بجاتا ہوا
درختوں کے پیچھے سے نمودار ہوا۔ ، “ سب ٹھیک ہے، کوئی کشتی نظر نہیں آئی۔ ” “ شی،
شور نہ مچاو ” یمیلیانوف نے لینن کے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دبی آواز میں کہا
پر کولیا بے صبر ہوا جا رہا تھا۔ اس نے اپنا لہجہ مدھم کر لیا ، “ میں نے ایک خار
پشت دیکھا، اپنے بچوں سمیت۔ ” “ کیا خیال ہے ، وہ خار پشت قابل اعتبار ہے ؟
وہ ہمارا راز تو افشا نہیں کر دےگا؟ ” لینن نے اس سے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔ اسکی
نگاہیں اسی طرح کاغذ پر جھکی تھیں جس پر وہ بڑی تیزی سے لکھ رہا تھا۔ یوں لگتا تھا
جیسے وہ کولیا کو اپنی کن پٹی سے دیکھ رہا ہے جس پر مسکراہٹ شکنوں میں چنی گئی
تھی۔ ، “ وہ ہماری طرف ہے” کولیا نے بے طرح ہنستے ہوئے کہا “ چلو بھاگو” یمیلیا
نووف نے سخت لہجے میں سنجیدگی سے ڈانٹا اور پانی سے بھری بالٹی اٹھا کر زینیویئف
کے پاس چلا گیا، “ یہاں نہاو گے یا جھیل پر ؟ ” “ پتہ نہیں ۔ ´اس نے تذبذب سے کہا،
” شاید یہاں۔ تم تکلف نہ کرو، میں انتظام کر لوں گا۔ “ ” میں تم پر پانی ڈالوں گا،
اس طرح سہولت رہے گی۔ “ زینیو یئف نے اپنے سوٹ کیس سے صابن اور دانتوں کا برش
نکالا لیکن اسے وہاں دانت صاف کرنے کا پاوڈر نہ ملا۔ وہ اور یمیلیا نوف سرگوشیوں
میں باتیں کر رہے تھے پر لینن تک ان کی آواز پہنچ ہی گئی۔ اس نے اپنے کام سے توجہ
ہٹائے بغیر کہا، ’ ” میرا پاوڈرلے لو، میرے تکیے کے پاس تولیے میں لپٹا پڑا ہے۔ “
ڈول میں آلو ابل رہے تھے۔ یمیلیا نوف نے کانٹا چبھو کر دیکھا اور کہا کہ ” پک گئے
ہیں “ ” انہیں بلا لو، “ اس نے زینیو یئف کے کان میں سرگوشی کی، ” یا یہ بہتر ہو
گا کہ ہم ان کے کام میں کلل انداز نہ ہوں “ ” ناشتہ تیار ہے ولادیمیر آیلیچ “ ”
آیا۔ ابھی آیا" لینن نے انہیں دیکھتے ہوئے جلدی سے کہا، پر فورا اٹھ کر نہیں
آیا۔ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر سوچتا رہا ۔ اسکے چہرے پر اداسی تھی ۔ ایسی اداسی جو
زینیو یئف کے دل میں ملے جلے جذبات ابھار دیا کرتی تھی۔ داڑھی مونچھ منڈوانے کے
بعد لینن کا چہرہ حیرت انگیز طور پر بدل گیا تھا۔ بیک وقت سادہ ، درست اور سنجیدہ۔
داڑھی اور مونچھوں نے اس کے ہونٹوں کے اٹل اور اولوالعزم خطوط چھپا رکھے تھے۔ اب
پختہ عزم کا عکس لیے اسکا دہن بڑا اور صاف دکھائی دیتا تھا۔ صرف جب وہ مسکراتا تو
پتہ چلتا کہ یہ وہی لینن ہے ۔ گالوں کی اونچی ہڈیوں پر تنی ہوئی جلد ، چھوٹی
آنکھیں اور شرارتی سی نیک فطرتی شکنیں آنکھوں کے نیچے اور کنپٹیوں پر
مسکراہٹ کی صورت۔ چند لمحے ساکت بیٹھنے کے بعد لینن اٹھ کر آگ کے پاس اپنے ساتھیوں
میں آ گیا۔ اس نے چپ چاپ، جلدی سے ناشتہ کیا۔ ناشتے کے دواران کبھی کبھار پوچھ
لیتا ، “ ساشا اخبار لے کر نہیں آیا ؟؟ ” “ ابھی بہت سویر ہے ” یمیلیا نوف اپنی
بڑی سی چاندی کی جیبی گھڑی نکال کے وقت دیکھ کر کہتا، “ اخبار آتھ بجے ملتے ہیں
اور انہیں خرید کر لوٹنے اور کشتی میں یہاں تک پہنچنے میں آدھ گھنٹہ لگتا ہے ”
لینن نے اخباروں کے لیے اپنی بے صبری چھپانے کی بہت کوشش کی ۔ وہ اپنے گھٹنوں کو
انگلیوں سے بجاتے بار بار جھیل کی اور جاتے راستے کو دیکھتا۔ اسکے دھیان میں یہ با
لکل نہیں تھا کہ اسکے پاس کون بیٹھا ہے۔ آگ کی تپش خوشگوار ہے یا وہ کھا کیا رہا
ہے۔ “ جب اخبار آ جایں گے” اس نے اٹھتے ہوئے کہا، “ تو گریگوری تین جولائی کے
واقعات پر اپنا مقدمہ مکمل کر لینا۔ ” “ بہتر” زینیویئف نے کہا۔ پھر مایوسی سے
اپنے کندھے جھٹک دیے۔ “ پر چھپے گا کہاں ؟ ہمارے تمام اخباروں پر تو پابندی لگا دی
گئی ہے ” “ ہمارے ساتھی کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔ ہم اسے کرانشٹاٹ سے چھپوا لیں گے۔
ہو سکتا ہے وہاں ساتھیوں نے جولوس پراودی کو بچا لیا ہو۔ وہ بہت اٹل ارادوں کے لوگ
ہیں اور مواقع بھی بہتر ہیں وہاں ۔۔۔” “ کچھ کہا نہیں جا سکتا” زینیو یئف بڑ
بڑایا: “ ایسے حالات میں اخبار کا جاری رکھنا ۔۔۔ ؟ ہو سکتا ہے ۔۔۔؟ ” لینن
اپنی مایوسی کو چھپا کر اٹھا اور اس نے بڑی بشاشت سے کہا، “ انسانوں کو لکھتے رہنا
چاہیئے۔ لکھو۔ لکھو۔ لکھو۔ ” “ دس بج گئے ہیں۔ ” یمیلیانوف نے اپنی چاندی کی گھڑی
دیکھ کر کہا، “ ساشا بس آتا ہی ہو گا۔ ” لینن اور زینیو یئف اس جگہ آ کر بیٹھ گئے
جو، یمیلیانوف نے درختوں کے درمیان پودے صاف کر کے بنائی تھی۔ وہ کچھ عرصہ اپنے
اپنے ٹھنٹھنوں پر بیٹھے خاموشی سے لکھتے رہے۔ سورج آسمان میں اور بھی بلند ہو گیا
تھا اور دھوپ میں کافی حدت آگئی تھی۔ لینن بہت تیزی سے لکھ رہا تھا۔ کبھی کبھار وہ
اٹھ کر ٹہلتے ہوئے اپنے مضمون کے جملوں کو زیر لب دہرانے لگتا۔ پھر آ کے بیٹھ
جاتا۔ اس کی نظریں زینیو یئف کی طرف اٹھ گیئں جو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے خلاوں میں
گھور رہا تھا۔ لینن مسکرا دیا۔ “ لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا ؟ ” اس نے پوچھا، “
نہیں ؟ تو لو یہ مضمون پڑھ لو” اس نے مضمون والے کاغذ لپیٹے اور گیلی کی بنی میز
پر جھک کر دوسری طرف زینیو یئف کو تھما دیے۔ مضمون ابھی نامکمل تھا۔ عنوان تھا
۔۔۔۔ “نعروں کے بارے میں ” ۔۔۔ وہ گھاس پر لیٹ کر مضمون پڑھنے لگا۔ وہ مضمون کی
سادگی، گمبھیرتا اور قوت سے بہت متاثر ہوا۔ “ اس مضمون کی حیثیت کارل مارکس کے
بہترین مقالوں سے کم نہیں ” ۔ جب وہ 1848 کے انقلاب میں گھرا تھا۔ اور اسے یقین
تھا کہ یہ انقلاب ہو کر رہے گا۔ “ پھر زینیو یئف کے پوپلے چہرے پر درشتی چھانے
لگی۔ جوں جوں مضمون پڑھتا جاتا اسکے چہرے کی درشتی بڑھتی جاتی۔ اس نے سر ہلا کر
کاغذوں کا پلندہ میز پر رکھ دیا اور سوچ میں گم، صفحوں کو ترتیب وار لگانے لگا۔ (
جاری ہے )
David Owoyele is a
well known writer from Africa. His short stories are very popular among
readers. “ The beggars Tree” is included in his book” Seven short stories” He
was awarded international prize for this story. بھکاریوں
کا درخت ( ڈیوڈ اویالے ) ‘‘میرا خیال ہے اب ہمیں کھانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔’’
عبدو نے کہا۔ ریمی نے جمائی لی جیسے وہ عبدو کے خیال پر غور کر رہا ہو، پھر ایک
طویل وقفے کے بعد بولا۔ ‘‘میں سورج نکلنے سے چند گھنٹے پہلے ہی کھانے کے متعلق
سوچنے لگتا ہوں۔ یہی خیال مجھے یہاں بیٹھنے پر مجبور کرتا ہے۔’’ ریمی نے اپنی
ٹانگیں پھیلادیں۔ اب وہ قدرے آرام محسوس کر رہا تھا۔ اس نے ایک طویل آہ بھری اور
اپنے سامنے زمین کو ٹٹولتے ہوئے چھڑی اٹھائی اور اسے گود میں رکھ لیا۔ عبدو کو
چھڑی چھو گئی۔ عبدو نے اس پراحتجاج کیا۔ ‘‘کیا کہتے ہو….؟’’ ریمی نے پوچھا۔ ‘‘میں
کہتا ہوں چھڑی گھمانا بند کرو، کسی کا سر پھوڑ دیا، تو خواہ مخواہ کی مصیبت گلے پڑ
جائے گی۔’’ ‘‘اوہ! تو چھڑی تم سے چھو گئی….؟’’ریمی نے کہا۔ چند لمحے خاموشی طاری
رہی۔ ‘‘میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ ہمیں کھانے کےلیے کچھ کرنا چاہیے۔ دوپہر گزر
چکی ہے، تمہاری کیا رائے ہے….؟’’ عبدو نے قدرے زور دیتےہوئےپوچھا۔ ‘‘ہاں، میں بھی
یہی سمجھتا ہوں…. اپنی دائیں طرف زیادہ تپش محسوس کر رہا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ
سایہ میری بائیں جانب بڑھ رہا ہے۔’’ ریمی نے عبدو کی تائید کی۔ وہ دونوں سڑک کے
کنارے، ایک آم کے درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ کئی سال سے ان کا یہی معمول تھا۔ اب یہ
درخت ‘‘بھکاریوں کا درخت’’ کے نام سے مشہور ہوچکا تھا۔ کسی اجنبی کو راستہ بتاتے
ہوئے کہا جاتا کہ۔ ‘‘سیدھے چلتے رہو، تم بھکاریوں کے درخت کے پاس پہنچ جاؤ
گے، پھر کچھ دور چل کر بائیں موڑ پر گھومجانا۔’’ عبدو اور ریمی بھی درخت کی مانند
مشہور ہوگئے تھے۔ یہ شہرت ان کے لیے مفید ثابت ہوئی۔ ابتدا میں وہ راہگیروں
سے گڑگڑا کر مانگتے اور راہگیر حسب توفیق کچھ نہ کچھ ان کی جھولی میں ڈال دیتے ۔
وقت گزرتا رہا اور انہیں خیرات ملتی رہی، وہ دونوں کہاں سے آئے تھے اور ان کا یہ
عجیب ‘‘اشتراک’’ کب شروع ہوا، یہ ایک ایسا معمہ تھا جو کبھی حل نہ ہوا۔ ان کے
اشتراک کا یہ عالم تھا کہ ایک روز عبدو جھولی پھیلا کر بیٹھتا اور ریمی پس منظر
میں چلا جاتا۔ دوسرے روز معاملہ اس کے برعکس ہوتا۔ شام کو اٹھتے وقت خیرات کے پیسے
آپس میں برابر برابر تقسیم کرلیے جاتے۔ ان کی جوانی بیت چکی تھی۔ شاید سالہا سال
بھیک مانگنے کی وجہ سے انہیں یہ طریقہ سوجھا تھا۔ وہ سمجھتے تھے ایک ‘‘مخیر
راہگیر’’ ایک وقت میں صرف ایک بھکاری کو خیرات دیتا ہے۔ اگر اس سے بیکوقت دو
بھکاری بھیک مانگیں، تو وہ کسی کو بھی خیرات نہیں دیتا۔ اس نظام کے تحت ان کا بہت
اچھا وقت گزرتا رہا…. شہر میں مشہور ہوجانے کی وجہ سے انہوں نے راہگیروں سے
التجائیں اور منتیں کرنا چھوڑ دی تھیں، اب وہ چپ چاپ بیٹھے رہتے اور راہگیر انہیں
خود بخود خیراتدےجاتے۔ وہ کئی راہگیروں کو ان کے قدموں کی چاپ یا ان کی آواز سے
پہچاننے لگے تھے، بھاری بھرکم قدموں کی آہٹ سے جان لیتے کہ یہ وہی خاتون ہے جو اس
سڑک کے آخری موڑ پر خوانچہ لگاتی ہے۔ اس طرح وہ ایک اور راہگیر کو آہٹ سے پہچان
لیتے تھے جو ہمیشہ تیزی سے قدم اٹھاتا اور سیٹی بجاتا ہوا گزرتا تھا۔ کچھ عرصہ بعد
معلوم ہوا کہ شہرت دو دھاری تلوار ہے، لوگ انہیں درخت کی مانند سڑک کا ایک حصہ
سمجھنے لگے تھے اور وہاں سے گزرتے وقت خودبخودد فرض کرلیتے کہ یہاں عبدو اور ریمی
بیٹھے ہوں گے۔ اب ان کے دل میں رحم کا جذبہ کم ہی ابھرتا اور وہ ہر چیز کو معمول
سمجھ کر آگے بڑھ جاتےتھے۔ ‘‘میرے خیال میں ہمارے پاس اتنے پیسے ہیں کہ کچھ کھایا
جاسکتا ہے۔’’ ریمی نے آگے بیٹھے ہوئے عبدو سے کہا ‘‘….ہم خوانچہ فروش عورت سے کچھ
خریدسکتےہیں۔’’ ریمی کو سوچنے کی عادت زیادہ تھی۔ اس نے فوراً جواب نہ دیا۔ سوچ کر
بولا۔ ‘‘آج کل ہمیں کچھ زیادہ نہیں ملتا، پہلے تو ایسانہتھا۔’’ ‘‘شاید آج کل
کاروبار مندا ہو، مگر ہمارے پاس جتنے پیسے ہیں، ان سے ہم کچھ کھا تو سکتے ہیں۔’’
عبدونےکہا۔ ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ ‘‘میں قدموں کی چاپ سن رہا ہوں۔ ہمیں کچھ
دیر انتظار کرنا چاہیے۔’’ ریمی نے فضا کو سونگھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ ‘‘یہ راہگیر
جلدی میں ہے۔’’ عبدو نے ریمی کی بات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ‘‘ہاں، وہ رکا نہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے ان دنوں لوگ نہیں رکتے۔’’ ریمی نے افسردہ لہجے میں کہا۔ ‘‘شاید
آج کل اس راستے سے زیادہ لوگ نہیں گزرتے۔’’ عبدو نے تائید کی۔ ‘‘ایسا نہیں، دن کے
اس حصے میں آمدورفت کم ہوجاتی ہے۔’’ ریمی نے فلسفیانہ توجیہہ پیش کی۔ ‘‘اس لیے تو
کہتا ہوں یہی وقت مناسب ہے کہ ہم اٹھ کر اس عورت سے کھانے کے لیے کچھخریدلائیں۔’’
‘‘نہیں، ہمیں یہاں سے اٹھنا نہیں چاہیے…. کیا خبر یہاں سے کون گزرنے والا ہے، کیوں
نہ ہم دوپہر اور شام کا کھانا اکٹھا ہی کھالیں۔ جب پیسے کی قلت ہو، تو سمجھنا
چاہیے کہ خوراک کا بھی کال ہے۔ ایسے میں صبرکرنا چاہیے۔’’ ریمی یہ کہہ کر اپنی
جیبیں ٹٹولنے لگا۔ ذرا سی تلاش کے بعد اس نے جیب سے اخروٹ نکالا۔ دانتوں سے توڑا،
نصف اخروٹ مٹھی میں بند کیا اور اپنا ہاتھ عبدو کے کندھے پر رکھ دیا۔ عبدو نے اپنا
ہاتھ بڑھا کر اس کی مٹھی سے نصف اخروٹ لے لیا۔ دونوں چپ چاپ اخروٹ کا مغز چبانے
لگے۔ وہ راہگیروں کا انتظار کرتے رہے…. یہ انتظار بڑا صبر آزما تھا۔ سڑک کے آخری
کونے پر خوانچہ بردار عورت بھی اسی شدت سے گاہکوں کا انتظار کرتی تھی۔
خوانچہ فروش عورت اور بھکاریوں پر انتظار کے لمحے یکساں کٹھن تھے۔ اس راہگزر پر
چیتھڑوں میں ملبوس ایک لڑکا دبے پاؤں بھکاریوں کے قریب پہنچا اور چند لمحوں بعد
واپس مڑا، اب اس کی مٹھی میں کوئی چیز تھی۔ ‘‘یوں محسوس ہوتا ہے یہاں سے کوئی گزرا
ہے۔ کیا تم نے بھی کسی کی آہٹ سنی….؟’’ عبدو نے پوچھا۔ ‘‘نہیں، میں نے کچھ نہیں
سنا۔’’ ریمی نے جوابدیا۔ ‘‘عجیب بات ہے، مجھے تو کسی کے چلنے کی آواز آتی ہے۔’’
‘‘شاید کوئی کتا ہو۔’’ ‘‘ہاں، یقیناً کتا ہوگا۔’’ عبدو نے کہا۔ پھر وہ خاصی دیر
خاموش رہے…. جیسے سڑک سے تپش کی لہروں کو اٹھتے ہوئے محسوس کررہےہوں۔ ‘‘ہمیں یہاں
سے جلد اٹھنا ہوگا۔’’ ‘‘کیوں….؟’’ ‘‘سایہ ہم سے دور ہورہا ہے۔’’ ‘‘ہاں، ہمیں درخت
کی دوسری طرف بیٹھنا چاہیے۔’’ ریمی یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔‘‘اٹھتے وقت پیسے نہ
گرا دینا….؟’’ اس نے عبدو کو تنبیہہ کی اور عبدو اٹھنے کا انتظار کرنے لگا۔ ‘‘تم
کھڑے کیوں نہیں ہوتے….؟’’ ریمی کی آواز جھنجھلا گئی۔ عبدو بڑی گھبراہٹ کے ساتھ
اپنی جھولی میں کچھ ٹٹول رہا تھا۔‘‘پیسے’’۔ وہ صرف اتنا کہہ سکا۔ ‘‘ہاں، ہاں،
پیسوں کا کیا ہوا….؟’’ ‘‘پیسے، پیسے کھو گئے ہیں۔’’ ‘‘اس وقت مذاق اچھا نہیں لگتا۔’’
ریمی نے روکھے پن سے جواب دیا۔ ‘‘اسے مذاق نہ سمجھو، پیسے واقعی نہیں مل رہے۔’’
عبدو نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔ ریمی سنجیدہ ہوگیا۔ ‘‘کیا تمہیں اس کا
یقینہے….؟’’ ‘‘ہاں ہاں، مجھے یقین ہے۔’’ ریمی، عبدو کے قریب آ بیٹھا اور اس کا
لباس اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگا۔ ‘‘میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ پیسے یہاں نہیں
ہیں۔’’ عبدو رک رک کر یہ فقرہ دہراتا رہا۔ ‘‘لیکن پیسے یہیں کہیں ہونے چاہئیں۔’’
ریمی نے زور سے کہا۔ ‘‘کچھ دیر پہلے پیسے یہیں تھے، تم نے مجھے خود ہی بتایا
تھا۔’’ ‘‘ہاں، میں نے تمہیں بتایا تھا اور اب میں خود تمہیں بتا رہا ہوں کہ پیسے
یہاں نہیں ہیں۔’’ عبدو نے غصے میں کہا۔ ‘‘بہرحال تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پیسے
کہاں گئے….؟’’ ریمی نے ترخ کر کہا۔ ‘‘مجھے معلوم نہیں، میں حلفیہ کہتا ہوں کہ مجھے
معلوم نہیں۔’’ ‘‘میں نہیں مانتا۔’’ ‘‘کیا تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو….؟’’ ‘‘تم تو چور
معلوم ہوتے ہو۔’’ اس بات پر دونوں گتھم گتا ہوگئے۔ یہ دیکھ کر چند راہگیر جمع
ہوگئے اور انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا۔ دونوں کی بات سنی اور پیسے ادھر ادھر تلاش
کیے، مگر انہیں وہاں کچھ نہ ملا۔ بھکاریوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا، جلد ہی انہوں نے آپس
میں صلح کرلی اور چند منٹ بعد درخت کے سائے میں ایک دوسرے سے ذرا ہٹ کر بیٹھ گئے۔
‘‘پیسوں کا یوں غائب ہوجانا بڑی تشویش ناک بات ہے۔’’ عبدو نے تقریباً بیسویں بار
کہا۔ ‘‘ہاں، واقعی یہ پریشان کن بات ہے۔ اندھا ہونے میں یہ بھی خامی ہے کہ کچھ پتہ
نہیں چل سکتا۔’’ ریمی نے اپنے فلسفیانہ انداز میں کہا۔ ‘‘آج تو ہمیں پانچ پیسے کا
سکہ ملنے سے رہا۔’’ عبدو نے مایوسی کا اظہار کیا۔ ‘‘خدا کے خزانے خالی نہیں، وہی
دے گا’’…. ریمی پر امید لہجے میں بولا۔ اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔ ‘‘مجھے پاؤں کی
چاپ سنائی دے رہی ہے’’…. عبدو قدرے چونکتے ہوئے بولا۔ دونوں بڑے انہماک سے یہ آواز
سننے لگے۔ آہستہ آہستہ قدموں کی آواز دور ہوتی گئی۔ یہ آواز اس لڑکے کی تھی جو کچھ
دیر پہلے بھکاریوں کے پاس سے گزرا تھا۔ اب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا بڑے مزے سے
چنے چبا رہا تھا۔ ‘‘یہ کسی چھوٹے بچے کے قدم تھے۔’’ عبدوبولا۔ ‘‘شاید بچہ گزرا ہے،
مگر یہاں سے کوئی نہ کوئی سخی بھی ضرور گزرے گا۔’’ ریمی نے آہستہ سے کہا۔ اور
دونوں پھر انتظار کرنے لگے۔
ننگ رنگ ( نین سُکھ) لِلاں لیندا ہور وچارا کیہہ کردا، پٹا
پرانا پجامہ ہیٹھ چا کیتا تے جھگا چک کے اوہ اگوں ننگا ہو گیا۔ باہر شوکدیاں واجاں
ہور وددھدیاں گیاں۔ “ واہے گرو جی دا خالصہ، واہے گروجی دی فتح ” بھائی سوہن سنگھ
نظر والی عینک اتے تھلے کردیاں پکا کے تسلا کر لئی پر اک بکھیڑا دوجے بھنبل بھوسے
وچ پا گیا: “ تاں پھیر تیں پاکستان کیہہ کرنا ؟ ’ ڈریا ہویا کنبدے ہتھاں نال اوہ
پجاما اپر کردیاں صفائی دین لگ پیا، اوہدی وچ ترلا تے ترٹھ سی۔ ” ساڈی لامھے کوئی
مُسلا آ لگیا تے اوہ لبھے نہ ۔۔۔۔۔ اوہنوں اوتھوں کڈھن لئی سرداراں نوں اوتھے اگ
لانی پے گئی۔۔ اسیں سارے گھر دے جی جاناں بچاندے نسے تے اک دوجے توں وچھڑ گئے۔ “
اوہ پِھس پیا تے گل اوہنے ایتھے مکائی۔ ” میں والمیکی آں، لہور میرے نانکے نیں۔ “
اکالیاں دیاں کرپاناں ڈھلیاں پے گیاں تے اوہناں ہتھ نکاں تے رکھ لے۔ نویں دیس نوں
جاندیاں پرانیاں راہواں چوں پھڑے شکار توں کریہت آئی تے اوہناں کِربت نوں مگروں
لاہیا۔ بُوٹے نوں کیہہ لوڑ سی ریفیوجی کیمپ اچ رہن دی۔ لہور اوہدے نانکے، پچھدا
پچھاندا اپڑ گیا۔ اگوں نانکے اوہدے جینہاں دا اک کٹری دی دھروں گئی وتھے گھر نا،
آپنی گلی چھڈ کے چبارے تاڑدے پھرن۔ پر ہندواں سکھاں دیاں چھڈیاں جیداتاں تے ہن
مسلماناں دیاں۔ بوٹے دے نانکے وی اوہدے سنے کلمہ پڑھ کے مسلمان ہو گئے۔ دیندار
گُنہہ گڈ وی ونجا بیٹھے پر جتھوں دی کھوتی اوتھے آ کھلوتی۔ چنگا بھلا اپنا کم سی۔
ہن کیہہ کرن۔ جھاکا تے انھے نانے نوں اگے وی کوئی نہیں سی، ہن تے اوہدا ٹیچا ای بن
گیا ، ہر جمعے دے جمعے بوٹے دی کنڈھ تے سوار ہو کے کسے نہ کسے مسیت دے باہر جا
بہندا۔ جو سردا، سخی بڈھڑے متھاج نوں دیندیاں جوان جہان بوٹے نوں جھڑکدے، ” تیرے
تے نین پران نیں، کوئی کم کر “ نمازیاں دیاں گھوریاں توں ڈردا بوٹا نانے نوں باہر
بہا کے آپ ہن مسیتے وڑ جاندا۔ اوہنوں تلاوت اوکھی لگدی، اوہدا نعت پڑھن تے دل
کردا۔ اوہنوں اوہ پھیری والا منگتا بڑا چنگا لگدا جیہڑا آل دوالے توں بے خبر اپنے
دھیانے گاندا جاندا دکھیاں دی بیڑی لیندی اُلارا مشکل کشا ساہنوں تیرا سہارا گلی
دے اخیر تے جا کے پرتدا ہویا ہر بوہے اگے صدا کردا، اوہنوں چراگی ملدی اک جمعے نوں
پیپا کھڑکا کے ہوکا ” ٹھک ۔۔۔۔ ٹھک ۔۔۔۔ ٹھک ۔۔۔ اج جمعے دی نماز بعدوں اک غیر
مسلم مسلمان ہو رہیا اے، ٹھک ٹھک ٹھک اسلام
دی شان ویکھو" اچرج گل کیہہ سی۔ بوٹے کوئی سمجھ نہ آئی۔ خیر اسلام دی شان
وکھان والی گھڑی آ پہنچی۔ مولوی غیر مسلم نوں کلمہ پڑھا کے گل لایا۔ دین اسلام دے
نعرے لگے۔ واری واری نمازی اوہنوں جپھی پا کے تھاپڑدے ہوئے ممارکھ دیندے۔ مولوی
اپنا رومال وچھا کے اوہدے تے موری والا پیسہ رکھیا، مسلماناں ودھ ودھ کے نویں
مسلمان دا مان ودھایا۔ گتھلی بھر کے جاندے نویں مسلمان نوں ویکھ کے بوٹا اپنے اپ
نال جھگڑن لگ پیا۔ “ اگلے انج ہوندے نیں مسلمان۔ گج وج کے۔ تسیں پورا ٹبر راتو رات
چپ چپیتے مسلمان ہو گئے، کسے فٹے مونہہ وی نہیں آکھیا ” “ اوہ مولوی وی ایویں جیہا
سی” نانے اپنے توں گل لاہی اگلے جمعے اک ہور مسیت دے باہر کسے غیر مسلم دے اسلام
قبولن لئی ہوکا ۔۔۔۔ بوٹے نون پیسے پھڑاندیا اک نمازی آکھن لگا “ توں تے پہلاں ای
مسلمان نہیں / جاپدا میں تینوں اپنی مسیتے ویکھیا اے ” بوٹے دا پیسیاں وال ودھیا
ہتھ تھلے جا پیا، “ نہیں جی میں تے اج مسلمان ہو رہیا واں، تہانوں کوئی بھلیکھا
لگا ہونا ” ایس محلے پروہنا آیا نمازی اپنی گل تے اڑ گیا ۔ وچوں کوئی سیانا بولیا
“ اوئے منڈیا۔ توں دس، سچ کیہہ اے ؟ ” “ میں کجھ نہیں اہندا، تسیں آپ ویکھ لوو ”
بوٹا مولوی دا ہتھ پھڑ کے طہارت خانے ول ٹر پیا۔ بوٹے دے اگوں ننگے ہندیاں ای
مولوی باہر آکے پروہنے نوں آکھن لگا۔ “ توں وی شک کڈھ لے اپنا ” پروہنا سر کھرکن
لگ پیا۔ کجھ دن مگروں سڑک تے جاندے بوٹے نوں مگروں موڈھے توں پھڑ کے کسے نے
جھوٹیا، “ ایس واری سنتاں کرایئان نی کہ نہیں ؟ ’ اوییو بندا جینہے مسیتے اوہدے
نال آڈا لایا سی۔ بوٹا اگے لگ گے بھج پیا تے اوس بندے دے ہتھ نہ آیا۔ اودوکا اکثر
راتیں ستا پیا ڈر جائے ۔۔۔۔۔ اوہ ای بندہ، نال اوہدے نائی، نائی رچھانی چوں
استرا پیا لاوے۔ اوہ اکھاں میٹ کے جیبھ وی دنداں ہیٹھ دے ، پر فیر وی جدوں رَچھ
پھِرن لئی ماس نوں مَس ای کردا ، اوہ چیک مار کے اٹھ بہندا۔ سنتی بہن توں اوہدی
جان جاندی، اوہنوں تے مشکی ہوئی رن کولوں لت کھا کے غیرت نہ آئی۔ اوس دن لاری وچ
بڑی بھیڑ سی ۔ اوہ وی کھلوتا ہویا تے اوہدے اگے اوہ بی بی وی۔ واہوا اوکھیاں ،
پورا ٹل لا کے اوہ پچھے پچھے ہووے پر جدوں دھکا وجے تے اوہ بی بی دے نال جا لگے۔
دو تن واراں ہو گیاں تے بوٹے نون لگا جیویں بی بی آپ اگے پئی ہوندی اے۔ اوہنے وی
اپنے آپ نوں ڈھلا چھڈ دتا پر سارا وجود ڈھلا نہ ہویا۔ بی بی اپنے سٹاپ تے اترن
لگیاں بوٹے نوں سینتر ماری ، بوٹا وی پچھے پچھے۔ لاریوں لہہ کے جھٹ اوہنوں کندھ ول
مونہہ کر کے کھلونا پیا۔ اگے اگے نک دی سیدھے جاندی بی بی اوہدے نال گلاں پئی کرے۔
” تیرا کم واہوا ٹھیک اے “ حیاتی وچ پہلی واری بوٹے نے نکیاں نکیاں مچھاں تے ہتھ
پھیریا پر وٹ دین لئی وال چونڈھی وچ نہ آئے۔ ” ہر ہفتے دی رات آ جایا کر۔ میرا مرد
اوس دن رات دی ڈیوٹی کردا اے۔ “ بوٹا پاٹن والا ہو گیا تے کم اوہدے وسوں باہر ہو
رہیا سی۔ ” لگدا اے میں تینوں کدرے ویکھیا ہویا اے، توں کیہڑے محلے دا ایں ؟’
اوہناں قدماں تے ای اوہنوں ٹھیڈا لگا تے کِھڑیا ہویا بوٹا اوتھے ای جھونہہ گیا۔
گھر اپڑ کے بی بی نے بوٹے نوں کچ دے گلاس وچ ددھ دتا تے بوہا باری بند کر کے اگے
لمی پے گئی۔ بوٹے کپڑے لائے ہی سن، “ توں مسلمان نہیں ؟ ” بی بی غصے وچ اٹھ کے بہہ
گئی۔ تُھڑے ہوئے چتھے پئے بوٹے بتھیرا ترلا منت کیتا بی بی نوں منان لئی، بوجھے وچ
ہتھ ماریا۔ “ نہیں میں کدی غیر مسلمان نال نہیں کیتا” سیہنان دیاں ہویاں بولی، “
توں چنگڑ محلے دا تے نہیں ؟ ” بوٹا مرد بنن لگا تے بی بی نے لت مار کے آکھیا، “ چپ
کر کے نکل جا نہیں تے میرے توں برا کوئی نہیں ہونا۔ ” بوٹے بروہاں توں باہر اجے
پیر دھریا ای سی کہ پچھوں گلاس ٹُٹن دی آواز آئی۔ بوٹا لُک چھپ کے وقت ٹپان لگ
پیا۔ اوہدا کوئی جانو ریلوے وچ سویپر سی۔ اوہدے نال اک دن ٹیشن چلا گیا۔ لوہے دے
اسارے پل توں اوہنے ہیٹھ ریل گڈیاں دی آوا جائی دا تماشہ ویکھیا، “ بم چھِک بم
چھک” دے رولے نال اس مغرور نوں بڑا ارام ایا۔ اک سپنی آئے، اک جائے۔ گڈی وچ سفر
لئی تکت چاہیدی، اوہ ڈبے وچ کھلوکے گان لگ پیا۔ دکھیاں دی بیڑی لیندی ہلارا مشک
کشا ساہنوں تیرا سہارا کس ٹکٹ پچھنی سی، سگوں مسافراں اوہنوں خیر پائی۔ کئی نِت دے
مسافراں نال بوتے دی جان پچھان ہو گئی۔ شہر شہر پھرن لگ پیا۔ کنے کنے ڈنگ لہوروں
باہر رہندا، جدوں نانکیاں توں بہتا اودردا، پرت اوندا۔ اک واری مدت پچھوں پرتیا تے
نانے دے دھرنگے تے مامے دا بمار سوہرا پیا کھنگے۔ نانکیاں دا نکا جیہا گھر نانے
مگروں ایدا سوڑا ہو گیا کہ کسے نوں آکھن دی لوڑ نہ پئی، بوٹا آپ ہی سمجھ گیا۔ ریل
گڈی چلدی رہی، شہر لنگھدے رہے، مسافر چڑھدے لہندے رہے۔ ڈبے ڈبے منگدیاں ہویاں بوٹے
دے دھولے کالیاں نالوں بہتے ہو گئے۔ بہتا چر چلن کھلون نال بوٹے دا ساہ پھل جاندا،
گڈیاں دا دھواں ہن اوہنوں چنگا نہ لگدا۔ کسے شہر وچ امداد لین والے قطاراں وچ
بیٹھے سن۔ ایہہ وی قطار دے اخیر وچ جا کے بہہ گیا ۔ پچھ ہوئی “ تینوں پتہ اے ایہہ
کون لوک نیں ؟’ پچھن والے وال بوٹا بٹ بٹ تکدا رہیا۔ ” ایہہ او عیسائی نیں جنہاں نوں
مسلمان دھکے نال مسلمان کر رہے سن۔ توں عیسائی ایں ؟ ’ کسے چنگے چیتے والے نیں
بوٹے نوں سیہان لیا۔ “ ایہہ تے مسلمان اے، گڈیاں وچ منگدا اے ” پہریدار بوٹے نوں
پھڑ کے فادر کول لے گئے۔ “ ناٹ گُڈ ۔۔۔ اس طرح نہیں کرتے ” فادر رنجگی پی کے
اوہنوں چھڑایا پر امداد نہ دتی۔ “ میرا مطبل اے تسیں آپ ویکھ لوو” اگے ہتھ لا کے
اوس فادر نوں آکھیا۔ فادر دے روکدیاں روکدیاں اوہ اگوں ننگا ہو گیا۔ فادر دوجے
پاسے مونہہ کر کے امداد دا لفافہ اوہنوں پھڑا دتا۔ ہن پچھلی حیاتی بوٹا بہتا لہور
ای رہندا۔ کسے نہ کسے مزار تے۔ پچھے جیہے اک راتیں چرکا جیہا دو منڈے بھنجے
ستے مانگے فقیراں چوں ہندو لبھدے پھرن۔ “ ویکھ بھانویں توں ہندو تے نہیں، بس
اوتھے ہندو بن کے بہنا ای۔ اوتھے ہور وی ہون گے تیرے جیہے۔ ایس کم دے پیسے ملن گے۔
” ، “ کدن ؟ ” کھسر پھسر سن کے بوٹے پچھیا ہندو لبھن والے منڈے اک ہیومن رائٹس دی
این جی او دے ورکر سن۔ ایہناں دی این جی او نیں ایدکیں دیوالی دا تہوار لہور دے
کرشنا مندر وچ ہھدوواں نال منانا سی۔ کم اوپرا سی پر پُگ گیا۔ ایتھے امریکہ دی
چھتر چھانوین چھوہے جہاد چوں القاعدہ پُھٹن مگروں پاکستان دا نواں مہاندرا چتران
دی لوڑ سی۔ سرکار نے 2004 دی ایہہ دیوالی منان لئی نری ڈھل نہ دتی سگوں ہتھ وی
پوایا۔ الیکڑانک میڈیا سبھ توں اگے ۔ ایہہ آہر کرن والی این جی او دے وڈیان نال اک
میدیا پرسن دی کوئی پرانی کھندک ، اوہنوں ایہہ سُکھایا نہ۔ اوہدا چینل ایس پروگرام
دے پچھے پے گیا تے اوہنے کوئی خبر کڈھ لیاندی۔ کرشنا مندر، وادھو رونق میلے، چوکھی
ستھرائی تے نویں سدھار وچ اوپرا اوپرا پیا لگے۔ تھاں تھاں دیپ پئے جگدے سن۔ لوکاں
ول مونہہ کر کے مندر دا پجاری مورتی کول آلتی پالتی مار کے بیٹھا پنڈت بنیا بیٹھا
سی۔ مونہہ سر چوپڑیا، متھے تلک، جوگیے رنگ دی نویں نکور چادر۔ کسے کیمرے دی لائٹ
پوے تے پنڈت لشک پوے۔ بھجناں دی کیسٹ رمکے رمکے چل رہی ۔ ہندو قطاراں وچ مورتی ول
مونہہ کر کے ٹھٹھمبرے بیٹھے۔ پنڈت مونہہ وچ کوئی منتر نہیں سی پیا جپدا، بونتریا
ہویا ساہمنے بیٹھے اینے وڑے ہندوواں دی گنتی کر رہیا سی۔ اک چینل دا رپورٹر جھٹے
جھٹے پنڈت نوں پچھے “ ایہناں ہندوواں وچ کئی مسلمان وی ہندو بن کے بیٹھے نیں، کیہہ
تینوں پتہ اے ؟ ” پنڈت نہیں نہیں کردا تھک گیا تے ساہمنے بیٹھے ہندوواں نوں پچھن
لگا “ تہاڈے وچ کوئی مسلمان ہے ؟ ” بوٹا اگلی لائن اچ بیٹھا سی، اٹھ کے آکھن لگا “
دوجیاں دا تے پتہ نہیں، توں آپ ویکھ لے” اوس اگوں دھوتی چک دتی۔
چھلاوے ( سبین علی ) بنتے بگڑتے ٹیلوں کے درمیان ریت کے چھلاوے
رقصاں تھے سورج کی تپش جوں کی توں برقرار تھی مگر روشنی کی کرنیں زمین پر پہنچنے
سے انکاری تھیں۔ مگر ریت کے پیالے تلے دم توڑتی قدروں کی کہانی سانس لے رہی تھی۔
وقت اور تہذیب کا سفر کبھی تھما نہیں تھم جائے تو شاید متعفن ہو جائے۔ تہذیب کے
ٹیلے بھی کبھی کھائیوں میں بدل جاتے ہیں اور کبھی کھائیاں ٹیلوں جتنی بلند ہو جاتی
ہیں۔ قریب رہنے والے حتی کہ اپنا وجود بھی نگاہوں سے اوجھل اور دور بسنے والے رگ
جاں سے بھی قریب ٹھہرتے ہیں۔ نور دین پر کھانسی کا شدید دورہ پڑا تھا۔ کئی دنوں سے
وہ مسجد کے بیرونی چھپر تلے ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔ جدہ شہر کے اس گنجان محلے میں بہت
سے پاکستانی بنگلہ دیشی اور ہندوستانی ملازمین رہائش پذیر تھے۔ چند پاکستانی ہمدرد
پچھلے دوسال میں اسے وطن واپس بھجوانے کی کئی سنجیدہ کوششیں کر چکے تھے۔ چند ایک
بار کئی لوگوں نے مل کر پیسے بھی جمع کیے تاکہ کچھ دے دلا کر پھر اسے ترحیل کے
ذریعے سے وطن واپس بھیجا جا سکے۔ مگر حج سیزن کے بعد شہر کی مرکزی سڑکوں اور پلوں
کے نیچے غیر قانونی مقیمین کا ایک جم غفیر موجود تھا جو ترحیل کے ذریعے ڈی پورٹ
ہونے کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر واپس جانا چاہتا تھا ایسے میں نور دین کی شنوائی
کہاں ہوتی۔ گاڑی ریورس کرتے ہوئے میں نور دین کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن ریت کے
اتنے شدید غبار میں گاڑی سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ سانحے ہوں یا
واقعے خبریں ہوں یا تبصرے سب گرد کی تہوں میں تو کہیں ریت کے چھلاووں میں دب جاتے
ہیں مگر کہانی سینہ با سینہ، نسل در نسل، ورق در ورق سفر جاری رکھتی ہے۔ نور دین
کے لیے وہ دن بھی ایک ایسی ہی کہانی کا ورق تھا۔ ریت کے طوفان میں گرد و غبار سے
بچنے کی خاطر اس نے اپنے سر کا رو مال ناک اور منہ پر لپیٹ لیا تھا جسے وہ گاہے
گاہے سر سے اتارتا اور پھر نتھنوں میں گھستی ریت کے ڈر سے دوبارہ اوڑھ لیتا۔ ایسے
سینکڑوں ہزاروں اوراق سے تحریر کردہ پتوکی کے نور دین کی زندگی بجائے خود ایک
افسانہ تھی۔ اس کی زندگی میں اساطیری کہانیوں اور حکایتوں جیسے کئی موڑ تو آئے ہی
تھے مگر کہانی کے باقی کردار کبھی اس کے پلے نہ پڑ سکے۔ اپنی زندگی کے حساب کتاب
کا گوشوارہ دیکھتے وہ گھٹن اور تنہائی کے عالم میں اپنی یادوں کی کتاب سے ورق ورق
پلٹتا اور ٹوٹی پھوٹی باتیں کرتا رہتا تھا۔ مجھے وہ اکثر پتوکی کے قریبی گاؤں میں
مغرب کے بعد کا منظر بتاتا۔ اس کی چھوٹی سی نرسری، ہوا میں رچی موتیا چنبیلی کی
مہک، گاؤں کے کمہار اور ان کے مشاق ہاتھوں میں گندھی مٹی لیور کے ساتھ پاؤں سے
گھمانے والے چاک پر بہت خوب صورت گملوں میں ڈھلتی چلی جاتی۔ انہیں دیسی گملوں میں
ایک دن قیمتی ان ڈور پودوں کی آرائش کرتے ہوئے ایک کانٹا بہت زور سے اس کے ہتھیلی
میں چبھا تھا اس کا نشان آج تک موجود ہے۔ کئی بار وہ اس نشان کو دیکھ کر مسکراتا
ہے گویا کانٹوں سے بھی رشتہ داری رہی ہو۔ گاؤں کی نیم پختہ مسجد میں عشاء کی نماز
کے بعد گھر لوٹتا تو بیوی باورچی خانہ میں لکڑی کی چوکی پر چولہے کے قریب بیٹھی اس
کی منتظر ہوتی۔ پھر اس کی یادوں کے مناظر بدلتے۔ بیٹے جوان ہوئے الگ سے کمانے لگے
تو گھر میں تنگی کے بعد قدرے خوش حالی جھانکنے لگی۔ سچا عاشق رسول صل اللہ علیہ و
سلم تھا۔ مدینے کی گلیوں میں گھومنے کی تمنا اور کعبہ کے دیدار کا اشتیاق عمر بھر
کی حسرت تھی۔ کمیٹیاں ڈال کرپیسے جمع کیے اور کچھ الگ سے پس انداز کی ہوئی رقم سے
اپنی بیوی بیٹے کے ہمراہ عمرے کے لیے ارض مقدس پہنچ گیا۔ یہ یں سے اس کی زندگی میں
اساطیری کہانیوں جیسا انقلاب رونما ہوا۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد وہ اپنی بیوی بیٹے
کے ہمراہ بلد کے بازار میں واقع اپنے کسی عزیز کی دکان پر اسے ملنے اور کچھ
خریداری کرنے آیا۔ بازار میں شدید گرمی اور گھٹن کا احساس ہونے پر وہ ایک شاپنگ
سنٹر میں موجود حمام میں غسل کی نیت سے گیا اور اپنے کپڑے اتار کے دروازے کے اوپر
ہی لٹکا دیے۔ ابھی جسم بھی گیلا نہ ہوا تھا کہ کسی نے حمام کے باہر سے اس کے کپڑے
اتارے اور چلتا بنا۔ وہ اندر آوازیں دیتا رہ گیا۔ اسی قمیض کی جیب میں رقم کے
علاوہ پاسپورٹ شناختی کارڈ اور ہوائی ٹکٹ بھی موجود تھا۔ اس چور کا پتا چلنا تھا
نہ چلا۔ واپسی میں فقط ایک دن تھا بڑی دوڑ دھوپ کے بعد بھی کچھ سجھائی نہ دیا تو
کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ اپنی فیملی کو بھیج دے اور بعد میں کسی طرح سفارت خانے
سے آؤٹ پاس لے کر وطن واپس چلا جائے۔ قونصلیٹ سے عارضی پاسپورٹ کے حصول کے لیے اسے
اپنی شناخت ثابت کرنا تھا۔ پیچھے وطن میں موجود بیٹے کو تاکید کی کہ وطن جاتے ہی
شناختی دستاویزات اور فارمس وغیرہ کی نقول ڈاک سے جدہ بھجوا دے۔ تب ڈاک بھی قدرے
تاخیر سے پہنچا کرتی تھی۔ عارضی پاسپورٹ کے انتظار میں اس نے فارغ بیٹھنے کی بجائے
اپنے واقف کار کی دکان پر چھوٹا موٹا کام کرنے کو ترجیح دی تاکہ اپنے میزبان پر
بھی بوجھ نہ بنے۔ کوئی دو مہینے بعد اس نے ملنے والی اجرت ہنڈی سے پاکستان روانہ
کر دی تاکہ اس رقم سے اس کا بیٹا کاغذات مکمل کروا کر اسے بھیج دے۔ شاید یہی اس کی
زندگی کی فاش غلطی تھی۔ شناختی دستاویزات نہ پاکستان سے بھیجی گئیں نہ ہی جدہ
پہنچیں۔ مگر ہر ماہ پس انداز کی ہوئی رقم ہنڈی سے پاکستان بروقت پہنچتی رہی۔ پھر
بیوی اور اولاد نے بھی اس کی طرف سے کان ڈھانپ لیے الٹا اسے کہتے کہ اچھا روزگار
لگا ہوا ہے یہاں آ کر کیا کرنا ہے ؟ پاکستان میں کیا رکھا ہے سوائے مسائل کے ؟ دو
سال بعد بڑی بیٹی بیوہ ہو کر مائیکے کی دہلیز پر آن بیٹھی اور نور دین کی ذمہ
داریوں میں نیا اضافہ ہو گیا۔ ہر مہینے بیوہ بیٹی کی کفالت کے لیے اسے الگ سے پیسے
بھیجنا پڑتے۔ بڑھاپے میں اعضاء جواب دینے لگے، وزن اٹھانا اور مزدوری کرنا دوبھر
ہوا تو مانگنا شروع کر دیا۔ دو عشرے بیت گئے مگر وطن سے شناختی دستاویزات نہ
آئیں – کچھ عرصے سے وہ مسجد کے باہر بیٹھا رہتا تھا۔ بڑھاپا بجائے خود ایک
بیماری ہے اوپر سے اپنوں کی خود غرضی اور بے اعتنائی نے اس کی صحت اتنی گرا دی کہ
چند دنوں کا مہمان لگنے لگا۔ محلے داروں نے کئی بار اسے وطن بھجوانے کی کوشش کی۔
ہم وطن پاکستانیوں نے دے دلا کر ترحیل بھی بھیجا مگر قونصلیٹ سے آؤٹ پاس نہ مل
سکا۔ کہا جاتا تھا اس کا پاکستان میں کوئی شناختی ریکارڈ موجود نہیں اس لیے مشکوک
شہریت کی بنا پر اسے آؤٹ پاس نہیں مل سکتا۔ جب ایک بار ترحیل گیا تو وہاں کے
محکمہ والوں نے اس پر ترس کھا کر پھر چھوڑ دیا کہ کسی طرح اپنے وطن سے کاغذات
منگوا لو تاکہ تمہارا سفارہ تمہیں آؤٹ پاس بنا دے ریت کے غبار میں اس دن نور دین
کو یوں بے یار و مدد گار پڑا دیکھ کر میرا دل بہت دکھا۔ مجھے یاد آیا جب میرا باپ
فوت ہوا میں دبئی میں نوکری کرتا تھا اور بڑا بھائی انگلینڈ جا بسا تھا۔ محلے
والوں نے دروازہ توڑ کر میت باہر نکالی تھی۔ نور دین کو دیکھ کر مجھے اپنا باپ بہت
یاد آتا ہے اسے یوں پردیس میں اکیلے نہیں مرنا چاہیے۔ نور دین نے مجھے دیکھ کر
کھانسی بمشکل روکتے ہوئے کہا پتر اپنا پاکستان کا فون نمبر تجھے دیا تھا بتا کیا
کہتے ہیں میرے گھر والے ! کاغذ کب بھیجیں گے ؟ اب اخیر ویلا آ گیا ہے بڑی خواہش ہے
اپنے گاؤں میں جا کر دم دوں۔ یہاں مر کھپ گیا تو جانے کوئی میرا جنازہ بھی کرے گا
یا نہیں ؟ میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا بابا تم فکر نہ کرو ہم کسی طرح تمہارا
آؤٹ پاس بنوا دیں گے۔ اب تو سارا کچھ کمپیوٹر پر آ گیا ہوا ہے کہیں نہ کہیں تیرا
نام بھی نادرا والوں کو مل جائے گا – اچھا رب سوہنا بھلا کرے تیرا پتر۔ اپنی
اولاد کو تو پروا نہیں جیوں یا مروں ان کی بلا اسے انہیں تو بس پیسے چاہیں خواہ
سارا مہینہ بھیک مانگ کے جمع کروں۔ پر اب نہیں بھیجوں گا۔ یہ دیکھ دو ہزار ریال
جمع ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا اتنے میں جہاز کا ٹکٹ آ جائے گا؟ بابا تم پیسوں کی فکر نہ
کرو ٹکٹ بھی آ جائے گا بس حوصلہ نہ ہارو تمہیں ضرور واپس بھیجیں گے۔ میں ذرا
تمہارے ڈیرے والوں کو فون کروں۔ انہوں نے تمہیں اکیلے باہر کیوں نکلنے دیا؟ یہ کیا
مسجد کے باہر پڑے ہوئے ہو ؟ پھر دمے کا دورہ پڑ گیا تو پریشانی ہو گی۔ نور دین سنی
ان سنی کرتے ہوئے کہنے لگا! پتر کیا پاکستان فون کیا تجھے نمبر دیا تھا تو نے وعدہ
کیا تھا تو فون کرے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے کاغذ منگوائے گا۔ نور دین کو سہارا دے کر
اٹھاتے ہوئے میں نے اسے اپنی گاڑی میں بیٹھے کا کہا تاکہ اسے اسکے سابقہ ڈیرے پر
چھوڑ آؤں۔ مگر وہ بضد تھا ڈیرے پر نہیں بلکہ اس کے سامنے پاکستان اس کے گھر فون
کروں۔ کھانس کھانس کر اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور پسلیاں دھونکنی کی مانند
چل رہی تھیں۔ میں نے کہا بابا تم یہاں سے چلو اللہ واپسی کی کوئی سبیل نکال دے گا۔
جو نمبر تو نے دیا تھا وہاں کئی بار فون کیا مگر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر کیا پتر۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ؟ بتا نا ابھی دو چار مہینے پہلے ہی پیسے بھیجے تھے گھر بات کی تھی۔ بابا
وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا شاید نمبر بدل گیا ہے۔ کہتے ہیں کسی نور دین کو نہیں
جانتے پر تو فکر نہ کر تیرا آؤٹ پاس ہم بنوا دیں گے۔ نور دین کی گردن ڈھلکنے لگی۔
بائیس سال سے کاغذات کا منتظر نور دین آؤٹ پاس لیے بغیر ہی اگلے سفر پر روانہ ہو
گیا تھا۔
بلھا میرا مرشد آ مل یار ، سار لے میری میری جان دکھاں
نیں گھیری Come my love take care of me,
آخری بارش ابرار احمد ایک محبت کے باطن میں کتنے جذبے ہمک
رہے ہیں ایک چمکتے مکھ میں کتنے چاند ستارے دمک رہے ہیں جاگنے کی ساعت کے اندر
کتنی صدیاں سوئ ہوئی ہیں دلوں میں اور دروازوں میں کہیں ابھی موجود ہیں شاید رستہ
تکتی جھکی ہوئی بیلیں اور بارش جہاں سے کوئی مہک پرانی میری مٹی اڑا رہی ہے تیرے
کپڑے پکڑ رہی ہے جتنے اشک تھے لہو کے اندر اتنے پھول کھلا آیا ہوں جن ہونٹوں پر
چہکا ، ان پر چپ کی مہر لگا آیا ہوں جتنے خواب بھرے تھے میری نیندوں میں اتنی
تعبیروں کے پیچھے بھاگ چکا ایک نوع کے آنسو ، آنکھ سے گر جاتے ہیں اور طرح کے بھر
جاتے ہیں رستوں کے اندر رستے ہیں سفر کے اندر سفر چھپے ہیں بادلوں کے اندر بادل
ہیں چھینٹوں کے اندر چھینٹے ہیں بارش تو گرتی ہی رہے گی دنیا تو بستی ہی رہے گی جو
بھی چلتا ہے بارش میں جو بھی گھومتا ہے بستی میں کھو جاتا ہے کھو جاۓ گا عمر کی بھی سرحد
ہوتی ہے رقص کی بھی اک حد ہوتی ہے چلیے… اب میں بھی تیار ہوں تھم جانے کو کسی
مہکتی مٹی میں گھل مل جانے کو
شہر کی لڑکیاں کس کونے میں ہیں ( مسعود قمر ) شہر کے درخت کہاں
گئے وزیرِ جنگلات نے کٹوا دیے شہر کے باغات کہاں گئے وزیرِ تعمیرات نے ان میں
پلازے اُگا دئے شہر کے سکول کہاں گئے وزیرِ جیل نے اُن میں بیرکیں بنوا دیں شہر کے
طالب علم کہاں گئے جیلوں میں بیٹھےانقلابی گیت نیفوں میں چھپانے کی مشق کر
رہے ہیں شہر کے مجرم کہاں گئے اقتدار کے ایوانوں کی رونق بنے شہر کے تھیٹر اور
سینما گھر کہاں گئے آڑھت کی منڈیوں میں تبدیل ہوگئے شہر کی لڑکیاں کس کونے میں ہیں
دادیاں نانیاں بنی محبت کی شادیاں رکوا رہی ہیں
نظم ( سارا شگفتہ ) ڈبنا چاہوندی ساں تے سمندر نے اپنیاں
بانہواں ونڈ دتیاں میں چن نوں اگ لاکے اگے ودھ گئی تے کوئل نے درخت کالے کردتے
جتھے میں ہندی آں اوتھے کوئی نہیں ہندا جیہنوں میں لبھدی آں اوہ مینوں نہیں لبھدا
بُھل بُھل لبھدی آں سارا نوں کتھے ویں توں کمینیئے! گھر نہیوں جانا ؟ گھر چوں
ہنیرے کڈھ دیو’ چھت تے دروازے کڈھ دیو فیر میں گھر جاواں گی رنڈیئے ! بغیر کھسموں
بچہ پیدا کرنا چاہوندی ایں چپ ‘چپ’ نہیں تے مریم سُن لوے گی ایہہ ادھار گلاں نیں’
جیہڑیاں اسیں آپے وچ ہی کر سکدیاں واں

Syed
Abdullah Shah Qadri, popularly known as Bulleh Shah, was a Mughal-era Punjabi
Islamic philosopher and Sufi poet. His first spiritual teacher was Shah Inayat
Qadiri, a Sufi murshid of Lahore.
بلھا میرا مرشد
الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھیت سجن دے پائے
جب میری توقعات کے برعکس کام ہونے لگے تو میں نے سچے رب کو پا
لیا۔
کاں لگڑاں نوں ما رن لگے، چڑیاں جُرّے ڈھائے
گھوڑے چگن اوڑیاں تے، گدوں خوید…
گھوڑے چگن اوڑیاں تے، گدوں خوید…
Count Lyov
Nikolayevich Tolstoy, usually referred to in English as Leo Tolstoy, was a
Russian writer who is regarded as one of the greatest authors of all time. He
is best known for the novels War and Peace and Anna Karenina, often cited as
pinnacles of realist fiction. عملِ دوام لیو
ٹالسٹائی اردو ترجمہ: نادیہ افتخار حسین پرانے وقتوں میں ایک مہربان اور اچھا
انسان رہتا تھا۔ اُسے خدا نے دنیا کی ساری نعمتوں سے مالا مال کردیا تھا۔ اس کے
بہت سارے غلام تھے جو دل سے اس کی خدمت کیا کرتے تھے۔ غلاموں کو اپنے مالک پر فخر
تھا اور اکثر آپس میں بیٹھ کر اپنے مالک کے گھن گایا کرتے تھے۔ “اس سورج کے نیچے
ہمارے جیسا مالک کسی اور غلام کو نصیب نہیں ہوا۔ وہ ہمیں کھانے اور پینے کے لئے
عمدہ غذا دیتا ہے اور ہم سے ہماری سکت کے مطابق کام لیتا ہے۔ کبھی ہم سے سخت زبان
میں بات نہیں کرتا، دوسرے مالکوں کے برعکس جو اپنے غلاموں کے ساتھ جانوروں سے بدتر
سلوک کرتے ہیں، ان کو سخت سزائیں دیتے ہیں جن کے وہ مستحق بھی نہیں ہوتے، ہمارا
مالک ہم سے دوستانہ اور نرم سلوک کرتا ہے"۔ غلاموں اور ان کے مالک کے
بیچ اس محبت اور بھائی چارے کو دیکھ کر شیطان غصے سے سیخ پا ہو گیا۔ اُس نے ایلب
نامی غلام کو اپنی جال میں پھنسا کر اس کو حکم دیا کہ تم دوسرے غلاموں کو مالک کے
خلاف بھڑکاؤ۔ ایک دن جب سارے غلام بیٹھے ہوئے تھے اور اپنے مالک کی اچھائیوں کے
گُن گا رہے تھے تو ایلب نے آواز بلند کرتے ہوئے کہا ” یہ سراسر حماقت ہے کہ ہم
اپنے مالک کی اچھائیوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں۔ خود شیطان بھی ہم پر
مہربان ہوجائے اگر ہم اس کی اتنی خدمت کریں۔ ہم اپنے مالک کی بہت خدمت کرتے ہیں ،
اپنے کام سے ان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ان کا حکم دینے سے پہلے ہم
پورا کر لیتے ہیں۔ ایسے میں وہ ہم پر مہربان ہونے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟
ان کی اچھائی کا تو تب پتہ چلے اگر ہم اس کو خوش کرنے کے بجائے نقصان پہنچائیں۔
پھر ہم دیکھں گے کہ وہ کیسا سلوک کرتا ہے ہمارے ساتھ۔ یقیناً ہمارا مالک بھی دوسرے
بد ترین مالکوں کی طرح ہماری غلطی کا جواب سزا سے دے گا۔ “ دوسرے غلاموں نے
ایلب کی بات سن کر اس کی تردید کر دی۔ وہ یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ ان
کا مالک ان کے ساتھ کوئی ظالمانہ سلوک بھی کرسکتا ہے۔ آخر کار اُنہوں نے ایلب کے
ساتھ یہ شرط لگائی کہ وہ مالک کو غصہ دلائے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہو گیا
تو اپنی چھٹی والے دن کے لباس سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور اگر ایسا کرنے میں کامیاب
ہوگیا تو باقی سارے غلام اس کو اپنی چھٹی والے دن کا لباس دے دیں گے اس کے ساتھ
ساتھ وہ مالک کے سامنے ایلب کا دفاع بھی کریں گے اگر سزا کے طور پر اس کو قید کیا
گیا یا پھر زنجیروں کے ساتھ باندھا گیا۔ شرط کے مطابق ایلب اگلی صبح مالک کو غصہ دلانے
پر راضی ہو گیا۔ ایلب ایک گڈریا تھا اپنے مالک کی قیمتی اور نایاب نسل
بھیڑوں کی دیکھ بھال کرنا اس کے ذمہ داری تھی۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کا
مالک ان بھیڑوں کو کتنا عزیز رکھتا ہے۔ اگلی صبح مالک اپنے چند مہمانوں کو ایلب کی
جگہ پر لے آیا تاکہ ان مہمانوں کو اپنی بھیڑوں کا نظارہ کروا سکے۔ ایلب نے اپنے
ساتھی غلاموں کو آنکھ مارتے ہوئے اشارے سے بتایا کہ دیکھو اب کیسے میں مالک کو غصہ
دلاتا ہوں۔ دوسرے غلام یہ صورت حال دیکھتے ہوئے دروازے اور جنگلے کے اردگرد جمع ہو
گئے۔ شیطان بھی قریبی درخت پر چڑھ کر اپنے چیلے کی کارکردگی کا جائزہ لینے
لگا۔ مالک اپنے مہمانوں کے ہمراہ بھیڑوں کے دلان کے قریب پہنچ کر انہیں نر
اور مادہ مختلف نسل کے بھیڑ دیکھاتے ہوئے کہنے لگا۔ "یہ سب بھیڑ قیمتی
اور نایاب ہیں لیکن میرے پاس ایک ایسا بھیڑ بھی ہے جس کی دونوں سنگیں ایک دوسرے کے
ساتھ بہت خوبصورتی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جس کی کوئی بھی قیمت نہیں لگائی جاسکتی
سوائے اس قیمت کے کہ وہ میری آنکھوں کا تارا ہے۔" اجنبی لوگوں کو دیکھ
کر بھیڑ دلان کے اندر بھاگ گئے۔مہمان اس خاص بھیڑ کو نہیں دیکھ سکے۔ جیسے ہی
بھیڑیں آرام سے کھڑی ہوگئی ایلب نے پھر قصداً انہوں ایسے طریقے سے بھگایا جیسے سب
کچھ غلطی سے ہو گیا ہو۔ سارے بھیڑ ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہو گئے۔ مالک اس سارے
جھمیلے سے تھک سا گیا اور ایلب کو آواز دیتے ہوئے کہا: "ایلب میرے اچھے
دوست ! تم میرے لئے میرا بہترین بھیڑ پکڑ کر یہاں لے آؤ ، جس کے سینگ مضبوطی
کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اُسے آرام سے پکڑنا اور چند لمحوں
کے لئے پکڑے رہنا تاکہ مہمان اچھی طرح اسے دیکھ سکے۔" ابھی مالک نے یہ
کہا ہی تھا کہ ایلب بھیڑوں کے بیچ شیر کی طرح کود پڑا۔ اُس نے اپنے مالک کے
پسندیدہ ریشمی بھیڑ کو نہایت سختی کے ساتھ دبوچ لیا۔ اپنے مالک کی آنکھوں کے سامنے
اس نے اپنے ایک ہاتھ سے بھیڑ کے بالوں کو سختی کے ساتھ سے پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ
سے اس کے پچھلے حصے کی دائیں ٹانگ کو پکڑ کر طاقت کے ساتھ اس کو توڑ دیا۔ بھیڑ
گھٹنوں کے بل، تکلیف کی وجہ سے ممیانے لگا۔ اس کے بعد ایلب نے بھیڑ کو اگلے حصے کی
دائیں ٹانگ سے پکڑ کر ہوا میں معلق کیا۔ مہمان مایوسی ، دکھ اور حیرت سے یہ
سب دیکھ رہے تھے۔ ادھر درخت کی ٹہنی پر بیٹھا شیطان ایلب کو چالاکی کے ساتھ اپنا
کام نبھاتے ہوئے دیکھ کر مسرور ہو رہا تھا۔ مالک کے چہرے پر بادلوں جیسی
تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اُس نے غصے کی شدت سے سر جھکا لیا اور ایک لفظ بھی منہ سے
نہ نکالا۔ مہمان اور سارے غلام دم بخود کھڑے تھے کہ اب آگے کیا ہوگا۔ چند گھڑی کی
خاموشی کے بعد مالک نے اپنے جسم کو یوں حرکت دی جیسے کہ کسی وزنی شے سے خود کو
آزاد کر رہا ہو۔ پھر اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا آنکھیں آسمان کی طرف کرتے ہوئے چند
لمحے ساکت کھڑا رہا۔ اس کے چہرے پر چند لکیریں نمودار ہوئیں، سر کو جھکا کر نیچے
ایلب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : "اے ایلب تمہارے آقا نے تمہیں حکم دیا کہ تم
مجھے غصہ دلاؤ لیکن میرا "آقا” تمہارے آقا سے ذیادہ طاقتور ہے۔ میں نے تم پر
غصہ نہیں کیا لیکن میں تمہارے آقا کو غصہ ضرور دلاؤ گا۔" تم خوفزدہ ہو کے میں
تمہیں سزا دوں گا اور تمہاری خواہش ہے کہ میں تمہیں آزاد کروں، تو جان لو ایلب میں
تمہیں سزا نہیں دوں گا۔ یہاں ، اسی وقت ، اپنے مہمانوں کے سامنے ، میں تمہیں آزاد
کرتا ہوں۔ جاؤ جہاں تم جانا چاہتے ہو اور اپنی چھٹی کے دن والا لباس بھی اپنے ساتھ
لے جاؤ۔ یہ کہتے ہوئے ایلب کا مہربان مالک اپنے مہمانوں سمیت اپنے گھر واپس چلا
گیا لیکن دور درخت کی ٹہنی پر بیٹھا شیطان غصے سے اپنے دانت پیستے ہوئے نیچےگر کر
زمین میں دفن ہو گیا۔
نیلی نوٹ بُک ( عمانویل کزا کیویچ ) مترجم: (ڈاکٹر انور
سجاد) عمانویل کزا کیویچ 1913 میں یوکرین میں پیدا ہوا ۔1932 میں اسکی نظموں کا
پہلا مجموعہ “ ستارہ ” کے نام سے شائع ہوا جس نے اسے پوری دنیا سے متعارف کروایا۔
بعد ازاں اس کی لکھی کتابیں ، اودر کی بہار، دل دوست، اسٹیپ میں، چوک میں ایک
گھر، اور دن کی روشنی میں، منظر عام پر آیئں ۔ “ نیلی نوٹ بک ” اسکا آخری
ناولٹ تھا۔ عمانویل کے ہم عصر، فیودر دوستووسکی کے مطابق کزا کیو ایچ ایک زبردست
سیاح، شکاری، پارٹی کا روح رواں، فطرتا ہنس مکھ لیکن بہت ہی جرات مند سپاھی تھا۔
ڈاکٹر انور سجاد : 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی
ایس کے بعد انہوں نے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا۔ نور سجاد کی
شخصیت پہلو دار ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ نظریاتی وابستگی انہیں
سیاست تک لے آئی۔سٹیج اور ٹیلی ویژن کی قوت اظہار سے خوب واقف ہیں اور جدید اردو
افسانے کا ایک معتبر نام ہیں۔ رقص کے بھی ماہر ہیں۔ انکی شخصیت کے تمام پہلو ان کی
افسانہ نگاری میں کسی نہ کسی طور ظاہر ہیں۔ رگ ِ سنگ، آج، استعارے، پہلی
کہانیاں، چوراہا، خوشیوں کا باغ ان کی نمایاں تخلیقات ہیں۔ تیسری قسط لیکن ز
ینو یئف نہیں سو سکا تھا۔ اس کی طبیعت بہت خراب تھی۔ سر چکرا رہا تھا۔ تھوڑی دیر
پہلے کشتی میں اسے عجیب سا احساس ہوا تھا۔ اگلی کشتی جس میں لینن بیتھا بمشکل نظر
آتا تھا اس سے آگے اسے سرمئی سا غار نظر ایا تھا اور زینیویئف کو یکلخت یوں لگا
تھا جیسے اگلی کشتی اس اندھے غار کے تاریک دہانے کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کی اپنی
کشتی بھی لینن کی کشتی کے ساتھ بندھی غیر ارادی طور پر اس طرف رواں ہے، اس نے
چیخنا چاہا تھا، ۔۔۔۔ رک جاو، نہ جاو، رکو۔ جولائی کے مظاہروں کی ناکامی کے بعد
زینو یئف نے ان حالات کا تجزیہ کیا تھا جن کے باعث یہ مظاہرے کچل دیے گئے تھے۔ اس
کے ذہن میں کئی خامیاں ، کئی شکوک ابھر آئے تھے۔ آج بھی اس کومل، خنک رات میں
دھندلی جھیل کے کنارے ایک مرتبہ پھر شکوک و شبہات نے اسے گھیر لیا تھا۔ —–
کیا ہمارے سفر کی سمت درست ہے ؟ ہم اس دھند میں کھو تو نہیں جایئں گے ؟ کیا لینن
کی جرات، پختہ دلی اور اٹل ارادون میں فرقہ پرستی کو تو کوئی دخل نہیں ؟ یہ خود کو
قربان کر دینے والی خواہش تو نہیں ؟خواہش ِ مرگ ؟ اسے لگتا تھا کہ لینن انتہا پسند
ہے۔ وہ ہر شے کو اس کی اخیر تک لے جانا چاہتا ہے۔ وہ اتنا دانا نہیں۔ اس میں مناسب
سمجھوتا کرنے کی صلاحیت نہیں۔ وہ عوام کی متلون مزاجی پر نظر نہیں رکھتا۔ —–
جو بھی ہو، اس نے بستر میں لیٹے سردی سے کپکپاتے سوچا ،،،،، یہ مٹھی بھر دانشور
ہیں اور ان کے گرد پھیلا بے کراں روس جس میں لالچی انسان ، دوکاندار، شرابی مزدور
اور گرجا گھروں میں جانے والے بے مراد۔ بہت سے آیوان آیئو نو وچ ( گوگول کے احمق
قصباتی کردار) اور آیئوان نکیفیو رووچ جھوٹی کراماتوں والے پادری، سنتوں
صوفیوں کی شبیہیں، زندگی دینے والی صلیبیں ۔۔۔۔۔ یہ روس تھا، ادھ موا اور کوئی
امید نہیں تھی کہ اس کے بارے میں کوئی کچھ کر سکے۔ عوام ان پڑھ تھے اور انتشار کی
طرف راغب بھی، جیسے انہوں نے تین اور چار جولائی کو ثابت بھی کیا تھا۔ ان پر
اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آزادی نما چیز پا لینے کے بعد اب وہ پومایا یو فسکی
مدرسوں کے طلبا کی طرح ہر چیز کا شیرازہ بکھیرنے، اسے تہس نہس کرنے پر آمادہ تھے۔
ذرا سی بھی مزاحمت انہیں مایوسیوں میں دھکیل دیتی ۔ باقی رجمنٹوں کے کئی
نمائندوں نے خود کو کیرنسکی کے حوالے کر دیا تھا۔ بالٹک بحری بیڑے، کر بعض جہازوں
نے بالشویکوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ قیصر ولہم کے گماشتے ہیں۔ کرانشٹاٹ نےشر
پسندوں کو ترک کر دیا تھا۔ کامی نیف، راسکو لیئسکوف، روشال، سایئورز اور بہت سے
دوسرے گرفتار کر لیے گئے تھے۔ پرودا اور سواستیکا ( بالشویک اخبار) پر پابندی لگا
دی گئی تھی۔ اور جھونپڑی کے باہر لینن بیٹھا یوں باتیں کر رہا تھا جیسے چھٹی کا دن
گزارنے آیا ہے۔ وہ یمیلیانوف سے پوچھ رہا تھا کہ ایک محنت کش کنبہ اپنے باغیچے میں
اگائی سبزیوں سے گزارہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ وہ بازار میں سبزیوں کے بھاو جاننا
چاہتا تھا اور یہ بھی پتہ کرنا چاہتا تھا کہ سیستروتیکس میں کس قسم کی مچھلی ہوتی
ہے کہ مچھلی کا شوربہ گروف یا کم از کم پَرچ سے بنا ہو تو بیکار ہوتا ہے۔ زینیویئف
نے صبح کے اخبار پڑھنے کے بعد کچھ تلخی سے کہا تھا، “ لوگ طاقت کے سامن ے کتنی
جلدی سے جھک جاتے ہیں۔ ” لینن نے اسکی طرف مڑے بغیر تیزی سے کہا، “ لوگ طاقت کے
سامنے اس وقت تک جھکے رہیں گے جب تک وہ خود طاقت نہیں بن جاتے۔ ” لینن نے مڑ کر اخبار
پر نظر دوڑائی جسے زینیویئف پڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔ “ عوام عملی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ بلا
وجہ پھانسی کا پھندا اپنی گردن میں نہیں ڈالا کرتے۔ وہ انفرادیت پسند دانشوروں کی
طرح نہیں ہوتے۔ ڈرامائی انداز اور مسجح مکالمے کا انہیں ذوق نہیں ہوتا۔ ایسی
ڈرامائت وہ قدامت پسند درس گاہوں سے نکلے کیرنسکیوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ جو بڈھے
پلوٹارک کے مرید ہیں جس نے طلبا کا دماغ خراب کیا ہے۔ عوام کی سمجھ میں آ جائے گا
کہ وہ اس لئے ناکام ہوئے کہ منظم نہ تھے۔ اگلی مرتبہ وہ اس امر پر توجہ دیں گے۔۔۔”
زینیویئف کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی اور اس نے سوچا، ۔۔۔ موجودہ حالات مین
، اگلی مرتبہ ، کے بارے میں سوچنا سراب ہے ۔ اسے احساس ہوا کہ اسے اپنا ما فی
الضمیر صاف صاف لینن کے سامنے بیان کر دینا چاہیے لیکن وہ اس خوف کے مارے چپ رہا
کہ اگر اس نے اپنے خیالات کو زبان دے دی تو لینن اسے کہیں کردار کی
کمزوری اور اس میں قوت فیصلہ میں کمی کے مترادف نہ سمجھ لے۔ ایسی کمزوریاں
لینن کے لئے ناقابل برداشت تھیں اور پارٹی ساتھیوں کے لئے بھی کہ زینیویئف ان کے
سامنے لینن کے اقوال نہایت عقیدت سے مسلسل دہرایا کرتا تھا۔ ساتھی اس کے بارے میں
کیا سوچتے، وہ تو اسے نہ دبنے والا مستقل مزاج شخص جانتے تھے۔ وہ لینن سے کبھی
اختلاف بھی کرتا تو یہ اختلاف کبھی ٹکراو کی صورت اختیار نہ کرتا۔ اگر اس نے اپنی
کمزوریوں کا اظہار اس نازک صورت حال میں کر دیا تو اسے ہمیشہ کے لیے لینن سے
علیحدگی اختیار کرنا ہوگی۔ اس صورت میں روپوش رہنے سے فائدہ ؟ وہ اس قابل نہیں رہ
سکے گا کہ خود کو لینن کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار کر سکے۔ پھر وہ یمیلیانووف
کی روٹی اور دلیے سے بھی لطف اندوز نہ ہو سکے گا۔ وہ خود با لکل صفر ہو کر رہ جائے
گا۔ کیا یہ اس کے لیے قابل قبول ہے؟ ہر گز نہیں ۔ وہ لینن کے ساتھ با لکل عورتوں
والا عشق کرتا تھا، بیک وقت حاسدانہ، بے قابو اور پھر جانچ تول بھی۔ ایسا عشق جو
لینن انجانے میں لوگوں میں جگا دیا کرتا تھا ۔ لینن سمجھتا تھا کہ لوگوں کی اس کے
ساتھ والہانہ محبت، عقیدت مندی دراصل اسکی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ پارٹی
اصولوں کے ساتھ ان کی وابستگی کی مظہر ہے۔ لینن کی جرات، زینیئوف میں خلجان بھی
پیدا کرتی تھی اور رشک بھی لیکن پچھلے دو دنوں سے جھیل کے پار گھاس کے ان کھیتوں
میں آنے سے پہلے ان متضاد احساسات پر ایک اور احساس حاوی ہو گیا تھا جو پہلوں سے
کہیں پیچیدہ تھا۔ ہو سکتا ہے لینن محض بن رہا ہو کہ وہ دلیر ہے، رجائی ہے اور
دراصل وہ سمجھتا ہو کہ انقلاب ناکام ہو گیا ہے۔ ان کی بد قسمتی پر مہر ثبت ہو گئی
ہے۔ صوبائی حکومت کے قصاب، روسی انقلاب کے ناکام روب سپیئر اور اس کے ساتھیوں کو
تختہ دار پر کھینچنے والے ہیں۔آج کے پائلے ٹوں، پلخیانوفوں، پیوتریسوفوں اور
چرنوفوں نے اپنے ہونٹ سی لئے تھے۔ زینیو یئف کے لیے یہ عجیب سی کیفیت کا لمحہ ہوتا
تھا جب لینن سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کے باقی سب کچھ بھول جاتا تھا۔اسکے
چہرے پر محویت کا پردہ چھا جاتا تھا۔ اسی لمحے اسکی اداس تیکھی نگاہیں زینیو یئف
کو مستقبل کے بارے میں دہشت زدہ کر دیتیں۔ لیکن اسی دم اسے عجیب سا اطمینان بھی
ہوتا جو اسے ناگوار محسوس نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ شخص جس کا نام زینیو
یئف تھا، اتنا برا نہیں تھا۔ اس کے معنی یہ بھی ہوئے کہ اس کی اپنی پریشان خیالی
اس کی اپنی کم مایئگی اور کمزوری کی دلیل نہیں۔ لینن کو جب یہ محسوس ہوتا کہ وہ چپ
چپ سا ہو گیا ہے اور اس کے گرد بیٹھے لوگ بھی چپ ہیں تو وہ فورا خود پر قابو پا کر
حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے لگتا۔ انقلاب میں نئی تبدیلیوں کے امکانات کو بیان کرنے
لگتا۔ سوشلسٹ انقلابیوں اور مینشویک راہنماوں کا مذاق اڑاتا۔ روپوشوں کی سر گرمیوں
کی مشکلات کے بارے میں لطیفے سناتا لیکن چاھنے کے باوجود زینیو یئف کا دل لینن کی
اس شگفتگی کو قبول نہیں کرتا تھا۔ یکایک ، چاندنی کی چاندی جھونپڑی کے تکونے
دروازے میں بہہ نکلی۔ دور، درخت روشن شمعیں دکھائی دیتے تھے۔ زینیو یئف کو وہ
انجیلی تصویر یاد آ گئی جو اس نے وی آنا کے عجائب گھر میں دیکھی تھی۔ اپنی اس ذہنی
حالت کے باعث وہ یہ سوچے بنا نہ رہ سکا کہ اگر یسوع مسیح مذہبی شخصیت کے بجائے
تاریخ ساز شخصیت کے طور پر مانے جاتے تو وہ بھی اپنی حراست سے پیشتر اپنا چہرہ
مسرتوں سے سجا لیتے، مسکراتے ہوئے مذاق کرتے ہوئے۔ گریہ و زاری کرتے ہوئے، حزنیہ
صورت نہیں، جیسے کہ نئے عہد نامے کے مصنفوں نے ان کی تصویر کشی کی۔ عین اس لمحے
لینن ہنسا۔ “ دیکھو چاند نکل آیا۔ ” اس نے کہا، “ اور دیکھو نکولائی الیکساندر و
وچ یہ بایئں جانب کو سفر کر رہا ہے، با لکل جیسے مستقبل میں روس کرے گا، یوں تو
گریگوری سو گیا ہے۔ کولیا اونگھ رہا ہے۔ کیا خیال ہے کولیا ؟ اب سویا نہ جائے ؟
نکولائی الیکساندرو وچ۔ جب ہم انقلاب لایئں گے تو تمہیں اپنا نام بدلنا پڑے گا۔
تمہارا نام بہت شاہانہ ہے۔ ” یمیلیا نوف ہنسا۔ “ ولادیمیر ۔۔۔” اس نے پوچھا، “ ہم
انقلاب جلدی لے آیئں گے ؟ ” زینیو یئف کی نظروں میں لینن کا چہرہ گھوم گیا۔ سوچ
میں چنی بھنویں، آنکھوں میں سچائی اور چہرے پر سمٹی توجہ ۔" “ بہت جلد۔ بات
یہ ہے ، انقلاب لانے کی وجوہ پر کسی نے توجہ دی ہے نہ مسائل کا حل پیش کر کے
انقلاب کا سد باب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھئی، اگر بورژواری جنگ عظیم سے فورا
ہاتھ کھینچ لے، کسانوں کو فورا زمین دے دے، مزدوروں سے صرف آٹھ گھنٹے کام
لینے کا اعلان فورا کردے، پیداوار کو مزدوروں کے اختیار میں دے دے، سرمایہ داروں
اور فوجی منفع خوروں کا منافع فورا محدود کردے تو انقلاب کے امکانات ختم ہو جاتے
ہیں۔ اگر بورژواری یہ قدم اٹھائے تو وہ بورژواری کہاں رہے گا۔ تب تو ریابوشنسکی
اور بیلیوکوف ہماری پارٹی میں شامل ہو جایئں۔جلد بہت جلد ہی انقلاب لایئں گے۔
نکولائی الیکساندرووچ ! پھر ہمیں تمہاری تینوں رائفلوں کی ضرورت پڑے گی۔ ” ( جاری
)
انتخاب:پروفیسرمجیب
ظفرانوارحمیدی
Dr. Maryam Erfan
has emerged as a potent short story writer of Pakistan. She writes short
stories in Urdu in a unique style and smooth diction, depicting the common
and down to earth characters around her . چھانگا
مانگا ( مریم عرفان ) کراچی پھاٹک سے ذرا آگے انڈیا پھاٹک پارکرتے ہی لیکو روڈ کے
بائیں جانب پھیلی آبادی ابھی تک شہرسے کٹی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ پٹری سے گزرتی
ریل گاڑیوں کی دن رات چھکاچھک فضا کا سکوت توڑتی رہتی۔ پٹری کے دائیں طرف جھاڑیاں
یوں اگی تھیں جیسے سرکنڈوں کے جھنڈ ہوں۔ بائیں جانب چھوٹا چھپڑ تھا جس میں مکھیوں
مچھروں اور بھینسوں کے علاوہ لوگ بھی آباد تھے۔ پکے گھروں میں رہنے والوں نے اب
تک بھینسیں پال رکھی تھیں، جو دن بھرپٹری کے دائیں بائیں چرتی رہتیں۔ جن کے گوبرکے
اپلے کرتی مائی فقیراں چلچلاتی دھوپ اور دھندمیں لپٹی صبحوں میں بھی کام میں جتی
رہتی۔ پٹری کے اطراف میں کچی پگڈنڈی سیاہ ریت سے اٹی ہوئی تھی۔ جس پر چلنے والوں
کے پاؤں مٹی کے ذروں تلے ایسے چرچراتے جیسے چمڑے کا نیا جوتا پاؤں کو تھوڑی دیر
کاٹ کرپسینے سے آواز دینے لگتا ہے۔ اسی جانب علاقے کے ٹیوب ویل کی سیڑھیاں تھیں
جہاں لڑکے بیٹھ کرتاش کھیلتے تھے۔ بس اسی آبادی کے وسط میں پٹری کے بغل میں لگی
ریلنگ کے کنارے چھانگے مانگے کاگھرتھا۔ ماں باپ نے اس کا نام عنایت مسیح رکھا تھا،
جو بگڑ کر پہلے چھانگا پڑا اور پھر مانگا۔ تارکول جیسے رنگ کا مالک، سرو قد چھانگا
مانگا اگر مونچھیں نہ رکھتا تو شاید اس کے ڈیل ڈول کی وحشت کچھ کم ہو جاتی۔ اس کے
سر پر نکلی سیدھی مانگ، سردی گرمی پسینے سے بھرے جسم سے اٹھتی کھٹی بدبو اور کسرتی
وجود ایسے تھاجیسے بانس پرلٹکا گٹا، جس پرمکھیاں بھنبھنا رہی ہوں اور شیِرے کی
رالیں بانس سے ٹپکتی ہوں۔ چھانگا مانگا کبھی ایل ڈی اے میں ملازم تھا۔ پھر ایک دن
کچی آبادی کا گٹر نکالتے ہوئے زہریلی گیس خارج ہوئی۔ ساتھیوں نے گٹر سے بیہوش
چھانگا مانگا گارے کی طرح نکال کرگرم سڑک پر پھینک دیا۔ بس اس دن کے بعد اس نے
نوکری چھوڑ دی۔ اب وہ پٹری والی سڑک پر پھل کی ریڑھی لگانے لگا تھا۔ گھر میں بوڑھی
ماں تھی اور اپاہج بہن، جس کا سارا دن سلائی کڑھائی میں گزرتا۔ دو کمروں کی کوٹھری
ان تین مکینوں کی کل کائنات تھی۔ ماں کا بڑا خواب تھاکہ چھانگا مانگا سہرا پہنے
سنہری گھوڑی پر چڑھے۔ مگر برادری میں اسے کون اپنی لڑکی دیتا۔ وہ شہزادہ گلفام تو
کیا ایک عام انسان بھی نہیں لگتا تھا۔ منہ پر تو سب ہی کہتے کہ چھانگا مانگا کسی
سے کم ہے کیالیکن یہ تو اسی کادل جانتا تھاکہ وہ کتنا بھرا ہوا ہے اور کتنا خالی۔
شب و روز یونہی خاموشی سے گزر رہے تھے۔ وہ صبح سے شام ریڑھی لگائے رکھتا پھر رات
کو نہا دھو کر کرتا دھوتی پہنے باہرنکل جاتا۔ سڑک کے دائیں جانب پیر بابا سرکار کے
دربارکی سیڑھیاں اس کی منتظر ہوتیں۔ جن کے عقب کو جاتا راستہ طفیلے کی بیٹھک میں
بند ہوتا تھاجہاں رات بھر جوا چلتا۔ کبھی اس کی جیب میں سو دو سو روپے آجاتے
اورکبھی چلے بھی جاتے۔ زندگی کی پٹری پراس کی گاڑی مختلف پلیٹ فارم چھوڑتی گزر رہی
تھی کہ اچانک کوثر آندھی میں اڑنے والے غبارکی طرح اس کے آنگن میں آگری۔ وہ اسے
ملی تو ریلوے سٹیشن کی سیڑھیوں پر تھی۔ جہاں وہ اپنے دوست کو ٹرین پر چڑھانے آیا
اور واپسی میں کوثرکی گٹھری بغل میں اڑسے گھرلوٹا۔ ماں کے ماتھے کی تیوریاں بتاتی
تھیں کہ اسے چھانگا مانگا کی پشت سے چمٹی گوری چٹی کوثر لمحے بھر کو ناگوار گزری
ہے لیکن چھانگا مانگا بھلا ماں کی نصیحت کیسے سن سکتا تھا اس کے کانوں کی لوَیں تو
اس کی پشت سے لگی کوثرکی گرم سانسوں سے لرز رہی تھیں۔ اس نے کوثرکو صحن میں رکھی
پیڑھی پربیٹھنے کا اشارہ کیا اور ماں کو کھینچ کر کمرے میں لے گیا۔ اپاہج بہن
دوسرے کمرے کے دروازے سے باہر کھڑی کوثر کو دیکھتی رہ گئی۔ تب سے کوثر اس دو کمرے
کے کوارٹر نما گھرکا چوتھا فرد تھی۔ وہ روز تڑکے اٹھ کرگھرکی صفائی کرتی پھر چولھا
پھونکنے بیٹھ جاتی۔ اس دوران ماں کی خاموش نفرت انگیز آنکھیں مسلسل اس کے تعاقب
میں رہتیں۔ اپاہج بہن ادھڑے ہوئے فرش پر بچھی چٹائی کے کونے ٹھیک کرنے کے بہانے
گھسٹتی ہوئی کمرے میں ادھرسے ادھر چکر لگاتی رہتی۔ شاید اس کی آنکھیں بھی گھر کے
اس نئے فرد کا جائزہ لینے کی عادی ہو چکی تھیں۔ بس ایک چھانگا مانگا ہی تھا جسے
کوثرسے بات کرنے کا چسکا ستائے رکھتا۔ جب سے وہ گھر آئی تھی چھانگا مانگا ڈھنگ سے
ریڑھی نہیں لگا پایا تھا۔ شاید دل میں خوف تھا کہ کہیں ماں اس کی غیر موجودگی میں
کوثر کو نکال باہر نہ کرے۔ کبھی موسم اورکبھی طبیعت کی خرابی کا جواز گھڑ لیتا۔
ماں کے ہونٹوں کے کنارے اسے گالیاں دیتے دیتے پان کی پیک سے چھلکنے لگتے۔ کوثر کو
سب سنائی دیتاتھا اس سے پہلے کہ وہ اس گھرسے بھی بھاگ جاتی، چھانگا مانگا کچھ
اورہی سوچ بیٹھا تھا۔ سوچ کیا تھی ایک طوفان تھا جس نے ماں کو ہلا کے رکھ دیا۔
چھانگے کے سفید دانت لاٹیں مار رہے تھے اور ماں اس روشنی میں جلتی بجھتی ٹکر ٹکر
اسے دیکھ رہی تھی۔ ’’بس ماں اب یہ یہیں رہے گی۔ آج سے تو اسے کچھ نئیں بولنا۔
برداری کون ہوتی ہے کچھ کہنے والی۔ نہ کسی کا دیا کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ سوچ لیں
گے اس کا کیا کرنا ہے۔‘‘ ماں کی تو اس دن کے بعد بولتی ہی بند ہوگئی تھی البتہ
کوثرکے معمولات زندگی برقرار تھے۔ اب وہ چھانگے کی ریڑھی کے کریٹ صاف کرکے بڑے
قرینے سے پھل سجاتی۔ اس کی تکڑی کے کانٹوں کی کھن کھن کوثرکی چوڑیوں جیسی تھی۔ جسے
چھانگا مانگا شام تک جی ہی جی میں سنتا رہتا۔ چھانگے جیسے چمہار کی بھی زندگی بدل
گئی تھی۔ ہر وقت بالوں میں لگے تیل کی جگہ اب جیل نے لے لی۔ کرتے اور دھوتی کی جگہ
جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ آگئی۔ اب تو پیروں میں کینچی چپل بھی نہیں تھی ایک جوڑا
بوٹ کا تھا اور دو سینڈل۔ لوگ آنکھیں رکھتے ہیں اورکان بھی تو پھر چھانگے کے گھر
کے شہتیروں سے تانک جھانک کیسے نہ ہوتی۔ آنے والے پوچھتے کوثرکون ہے۔ ماں نے کہہ
رکھا تھاکہ دورکے رشتے کی بھانجی ہے۔ ماں باپ چل بسے تو یہاں آگئی۔ چمہاروں کے گھر
تو کیا کبھی محلے میں بھی چٹے رنگ کی چمڑی پیدانہیں ہوئی تھی کجا کوثرکی ایک چھب
ہی سب پر بھاری تھی۔ اگر اصل بات باہر نکلتی تو شور مچ جاتا معاملہ کورٹ کچہری تک
جاتا تو کوثرکے وارثوں کو بھی اطلاع ہو جاتی۔ اس سے آگے تو ماں کی سوچیں جواب دینے
لگتی تھیں۔ مگر چھانگا مانگا تو سوچوں کے گرداب میں چوکڑی مارے بیٹھا میٹھے میٹھے
ہلکورے لے رہا تھا۔ رات، بھوتوں کی طرح اس کے صحن کی دیوار پھلانگ کر چارپائی کی
پائینتی پر بیٹھ جاتی اور چھانگا مانگا صحن میں پڑے گھڑے سے پیاس بجھاتا رہتا۔ وہ
کبھی آنکھ بچا کر جو بغلی کمرے کی جانب دیکھتا تو سامنے چٹائی پر سیدھی لیٹی
کوثراس کی آنکھوں میں سلائیوں کی طرح کھب جاتی۔ صحن میں لگے زیروکے بلب کی روشنی
میں کمرے کا ملگجا اندھیرا کوثرکے وجودکے اجالے سے پُر تھا۔ اس نے اب تک کوثرسے اس
کے گھرچھوڑنے کی وجہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی تھی، اورنہ ہی کوثربتانے کے تکلف
میں پڑی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے وہ ان اجنبیوں کے درمیان بڑی دھونس سے رہنے کی
عادی ہوگئی تھی۔ تین ماہ ہوگئے تھے کوثرکو چھانگے کے گھرمیں رہتے ہوئے، ماں اس کی
عادی ہونے لگی تھی۔ اس کے ہاتھ کی بنی روٹی بھی کھانے لگی تھی۔ اپاہج صغریٰ تو
ایسے ہی چپ رہنے کی عادی تھی لیکن کوثرسے ہلکی پھلکی گپ شپ نے اسے بھی اس کے قریب
کردیاتھا۔ اب اکثرچھانگا رات کا کھانا ٹین کی چھت والے کچن میں کوثرکے ساتھ کھاتا۔
پھرآہستہ آہستہ یقین کی بیل منڈھے چڑھی۔ کوثرگھرکی چاردیواری سے باہر نکلنے لگی۔
کبھی گھرکا سوداسلف لانے توکبھی چھانگے کودوپہرکا کھانا دینے۔ پہلے وہ گھڑی بھر کو
باہر نکلتی تھی پھر یہ دورانیہ بڑھنے لگا۔ پٹری سے پار ریلوے افسروں کے فلیٹ تھے۔
کوثرکے بدن کی خوشبو وہاں تک پہنچی تو اسے فلیٹوں میں کام ملنے لگا۔ ماں کو بھلا
کیا اعتراض ہو سکتا تھا کہ مہینے کے آخرمیں کوثراس کے ہاتھ میں بھی ہزارکا نوٹ
تھما دیتی تھی۔ مگر چھانگا مانگا تو اسے سب کی نظروں سے بچا کر گھرکی چاردیواری
میں ہی رکھنا چاہتا تھا۔ اب کوثرکی نظریں اس کے لیے اجنبی نہیں تھیں۔ اس دن بھی جب
ماں اپاہج صغریٰ کولے کرحکیم کی طرف گئی تو چھانگے نے فلیٹوں سے آتی کوثرکو گھر
جاتے ہوئے دیکھا۔ جون کے مہینے کی تپش اس کے اندر اتر آئی تھی۔ گردن پر رکھے تولیے
سے پسینہ پونچھتا چھانگا مانگا گھر کی پگڈنڈی کی طرف چل پڑا۔ کوثرنے دروازہ کھولا
تو وہ سامنے دانت نکالے مسکرا رہا تھا۔ کوثرنے کچن کی پیڑھی گھسیٹتے ہوئے اسے بھی
بیٹھنے کا اشارہ کیا اور چنگیرمیں رکھی روٹی پرسالن ڈال کر اس کے آگے سرکا دی۔
دونوں خاموشی سے کھانا کھاتے رہے۔ چھانگا کھانا کھا کر اپنے کمرے کی چارپائی
پرجاکر لیٹ گیا۔ لگتا تھا جیسے آج دل کی بات اگرمنہ سے نہ نکلی تو پھر شاید کبھی
اسے بولنے کا موقع نہ ملے۔ وہ بات اس کے دل میں چھلتر کی طرح کسک بنتی جارہی تھی۔
لفظوں کی پن سے وہ اس چھلتر کو حلق سے نکالنے کے بارے میں سوچنے لگا کہ اتنے میں
کوثر پرات میں رکھے آم لے آئی۔ چھانگا مانگا اٹھ کر بیٹھ گیا۔ آم کا رس اس کے گلے
سے پار نہیں ہو رہا تھا بس اس کا مزہ زبان کے رستے حلق تک جاتا تو جیسے کوئی آگے
پھندہ لگائے بیٹھا تھا۔ اس کی وہی حالت تھی جیسے الٹی آنے سے پہلے ہوتی ہے۔ نہ کچھ
اندر جاسکتا ہے اور نہ ہی باہر نکلتا ہے۔ متلی کی یہ کیفیت شاید کچھ دیر اور رہتی
اگر کوثر نہ پوچھتی: ’’کیا بات ہے کچھ کہناہے کیا؟‘‘ ’’ہا۔۔ ہاں۔۔ ن۔۔ نئیں۔۔۔ ‘‘
چھانگا آم کے رس کے ساتھ تھوک بھی نگل گیا۔ اسے لگا جیسے اس کی ہتھیلی میں آم کی
جگہ کوثر ہے جسے وہ پولا کرتے کرتے خود ہتھل ہونے لگاہو۔ رس کی لکیریں چھلک رہی
ہوںلیکن وہ منہ بڑھا کر اس شیرے کو اپنے اندرانڈیل نہیں سکا۔ کوثرکے ہاتھ کی جنبش
نے اس کے اندرآندھیاں چلادیں۔ جیسے تیز جھکڑ چلنے سے آدھا پیڑ اجڑ جاتا ہے ویسے ہی
چھانگا مانگا ٹوٹے ہوئے پھل کی طرح زمین پر آگرا۔ پھرایک لمحے کی جھجک کو پیتے
ہوئے اس نے کوثرکا رس میں لتھڑا ہاتھ تھام لیا۔ ’’میرے ساتھ شادی کریگی۔ ‘‘ کوثرکے
چہرے کی بدلیاں بارش میں راستہ ڈھونڈتی گاڑی کی لائٹوں کی طرح جلنے بجھنے لگیں۔ اس
نے خاموشی سے پرات اٹھائی اورباہرنکل گئی۔ چھانگے کو خود سے آموں کے چھلکوں کی باس
آنے لگی تولگاجیسے اس کادل پھرسے متلا رہا ہو۔ وہ خود کو گھسیٹتاہوا صحن تک لے
آیا۔ کوثرکی چپ بتارہی تھی جیسے اسے چھانگے کی بات ناگوارگزری ہو۔ اس سے پہلے کے
منہ میں کڑواہٹ کا زہر گھلتا چھانگا مانگا تیزی سے پردہ اٹھاتا گھرسے باہر نکل
گیا۔ کوں۔۔ ں۔۔ ں۔۔ ں۔۔ چھکاچھک۔۔ چھکاچھک۔۔ چھکاچھک۔ ٹرین کی سیٹی کے ساتھ پہیوں
کی گھن گھرج سے پوراعلاقہ گونج اٹھتاتھا۔ اس رات کے سناٹے میں یہ شورمزید گہرا
ہوگیاجیسے ٹرین پٹری کی بجائے چھانگے کے دل کے ٹریک پر بڑھتی جارہی ہو۔ اس دن کے
بعدسے کوثر نے ایک اورفلیٹ پر نوکری ڈھونڈھ لی اب وہ شام کے بعدگھرآنے لگی تھی۔ چھ
ماہ کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا۔ اجنبیت کی دیوارمیں اس کی خاموشی نے دڑاریں ڈال دی
تھیں۔ چھانگا کن انکھیوں سے اس دوپہرکی بات دھراتا لیکن کوثرنے آنکھیں میچ لی
تھیں۔ پھرجاڑوں کی راتیں شروع ہوگئیں۔ ایسے ہی ایک جاڑے کی رات، چھانگے کی آنکھ
صحن میں کھٹ پٹ کی آواز سے کھل گئی۔ ’’کون ہے؟‘‘چھانگا اندھیرے میں ہاتھ مارتا اٹھ
کھڑا ہوا۔ دروازے تک آیاہی تھاکہ نرم ونازک یخ ٹھنڈے ہاتھ اس کے لبوں پر ٹھہرگئے۔
’’ش۔ ش۔ ش۔ ش۔۔۔ میں ہوں کوثر۔ ‘‘ ’’خیریت تھی نہ، طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری۔
‘‘چھانگا دم سادھے صحن کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ ’’ہاں خیریت ہی ہے۔ پانی پینے اٹھی
تھی تم سوجاؤ۔ ‘‘اس موسم میں پیاس کہاں سے آگئی۔ چھانگا یہ کہنا چاہتاتھا مگرکہہ
نہ سکا۔ کوثرمڑنے لگی تو چھانگے کولگا جیسے ا س نے بغل میں کچھ دبا رکھاہے۔ مگراس
کے کمرے میں جاتے ہی وہ جیسے مطمئن ہوگیا۔ پھرتو اسے ہر رات لگتاجیسے صحن تک
آنیوالے کسی کے قدم اچانک واپس مڑجاتے ہیں۔ یہ آنکھ مچولی تقریباً ہفتہ بھرجاری
رہی۔ پھرجیسے ساری پہیلی سلجھ گئی۔ اگلی صبح ماں نے اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا:
’’چھانگیا۔۔ اٹھ کوثرپتہ نئیں کدھرگئی۔۔ ‘‘ چھانگامانگاہڑبڑا کر اٹھا۔ آنکھیں ملتے
ملتے اسے اپنے کانوں پر شک گزراجیسے وہ کہیں دورسے ماں کی آوازسن رہا ہو۔ چھانگے
کو لگا جیسے وہ اندر سے تڑخ گیا ہو۔ اسے اپنی ریڑھی کے پاس کھڑا وہ بچہ یاد آگیا
جس نے جوس پیتے ہی ڈبہ سڑک پر پھینک کر اس زور سے اس پر پاؤں مارا تھا کہ ڈبے کی
لمبی سی چیخ نکل کر رہ گئی تھی۔ کوثرنے بھی اس کا پٹاخہ بجا ڈالا تھا۔ ماں نے ایک
دو دن تو کوثر کی غیرحاضری کو محسوس کیا۔ پھر خود کو سمجھا لیا کہ اسے جانا ہی تھا
سو وہ چلی گئی لیکن چھانگا تو جیسے اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔ کوثر کہاں سے آئی تھی
اور کہاں چلی گئی چھانگے کے لیے یہ سوال نہیں بلکہ الجھن تھی۔ اس کے سنگی س
اتھی
جنہیں کوثرکے بارے میں علم تھا اب اسے چھیڑنے لگے تھے۔ ’’ہور سنا چھانگیا۔۔۔ کتھے
آ تیری کبوتری۔ ‘‘ چھانگا اس سوال پر بغلیں جھانکنے لگتاکیونکہ کبوتری تو اس کے
چوبارے سے اڑگئی تھی۔ چھانگے کی یہ چپ اس دن ٹوٹی جب اس نے کوثر کو فلیٹوں کی
بیرونی سیڑھیوں پر جھاڑو پھیرتے دیکھا۔ سڑک کے پارریلوے افسروں کے فلیٹ اب سے پہلے
چھانگے کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ تین منزلہ فلیٹوں میں کچھ تو چھڑے چھانٹ
افسررہتے تھے اور باقی بال بچے دار۔ کوثرکی ایک جھلک نے چھانگے کی وہ حالت کردی
جیسے اس کے منہ پر کسی نے تیزاب پھینک دیاہو۔ جلن اور گھٹن کے باعث اس کی آنکھیں
دھواں دھواں تھیں۔ کوثرتو جھاڑودے کرآناً فاناً اندرچلی گئی لیکن وہ سڑک پارکرکے
اس کے تعاقب میں فلیٹوں کی جانب چلاگیا۔ دوپہرسے شام اورشام سے رات ہوگئی لیکن اسے
کوثرکی دوسری جھلک نظر نہیں آئی۔ پہلے تو اسے لگا شاید وہ اس کا وہم تھی لیکن
پھراسے اپنے پڑوسی روبن سے پتہ چلا کہ اس کی بیوی جس فلیٹ میں کام کرتی ہے اس کے ساتھ
کے فلیٹ میں تابی نام کی نئی کام والی آئی ہے۔ چھانگا مانگا وسوسوں کے سمندر میں
غوطے کھانے لگا۔ کبھی تو اسے لگتاجیسے دماغ میں پھوڑا نکل آیا ہو جس کا نام کوثر
تھا اور وہ اس پھوڑے کے بارے میں سوچ سوچ کر اسے پھوڑ دینا چاہتا تھا۔ روز فلیٹوں
کی جانب چکرلگانا اب چھانگے کا معمول تھا۔ پھرایک دن وہ اسے نظرآہی گئی۔ فلیٹ کی
دوسری منزل پرکھڑی ہوئی کوثربالکل پہچانی نہیں جاتی تھی۔ دوپٹے سے آزاد اور پسینے
میں تربتر کوثرکے بال کلپ میں قید تھے۔ اس کے جسم کا ابھار پہاڑجیسی اٹھان لیے
ہوئے تھا۔ کہنی کے نیچے ننگی کلائیاں چوڑیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ بالکونی کی تار پر
کسی افسر کی بنیانیں اور جھانگیے ڈالتے ہوئے اس کی نظر فلیٹوں سے نیچے گئی تو جیسے
اس کے ہاتھ ہوا میں ہی رک گئے۔ وہ بازو پونچھتے ہوئے بالٹی لیکر اندرغائب ہوگئی۔
چھانگے کو اب مزید کچھ جاننے کی ضرورت نہیں تھی کہ کوثران فلیٹوں میں کیاکررہی ہے۔
وہ تو بس اسے دیکھنا چاہتا تھا کوثر کا یہ نیا روپ ترسادینے والاتھا۔ چھانگا اس کی
تاک میں ایسے ہی تھا جیسے کوئی بلی چوہے کے پیچھے ہوتی ہے۔ وہ کبھی ایڑھیاں اٹھا
اٹھا کر کھڑکیوں سے جھانکنے کی کوشش کرتا تو کبھی فلیٹوں کے مین گیٹ کے باہرپہرہ
دینے لگتا۔ پھر ایک دن کوثراسے سڑک پر مل ہی گئی۔ سبزی کی ٹوکری اٹھائے وہ فلیٹوں
کی عقبی گلی میں تیز تیز قدم اٹھاتی چلی آرہی تھی۔ چھانگے کی نظرجیسے ہی اس پر پڑی
تووہ اس کی طرف پکا۔ ’’کوثر۔۔ سنو تو سہی۔ ‘‘چھانگے نے تیز تیز چلتی کوثرکا بازو
پکڑ لیا۔ ’’چھوڑ۔۔۔ چھوڑ مجھے۔ میں تابی ہوں کوثر نئیں۔ اور۔۔۔ ‘‘ چھانگا اس کے
سامنے آکھڑا ہواتو کوثرکے منہ سے نکلنے والے لفظ جیسے اس کے حلق میں پھنس گئے۔
’’کتے، کنجر، شکل دیکھی ہے اپنی شیشے میں۔ خبردارجو دوبارہ میرا راہ ڈکیا۔ باؤ
فیصل کو پتہ لگ گیا نا تو تیری بوٹیاں کرکے چیل کوؤں کو ڈال دیگا۔ وڈا افسر ہے
یہاں کا۔ ‘‘ کوثرکے دل کا زہر اس کی زبان سے پھسل گیا۔ باؤ فیصل کا نام لیتے ہوئے
اس کے گالوں کی سرخی مزید گہری ہوگئی اور وہ اپنا بازو چھڑا کر نکل گئی لیکن
چھانگا تو جیسے سڑک پر گڑے کھمبے کی طرح کتنی ہی دیر وہاں جما رہا۔ لفظ کیا تھے
بارود کا وہ مواد تھا جس نے اس کے دماغ میں زہر بھر دیا۔ کوثرکی باتوں کے زہرکا
ذائقہ اس کی زبان میں گھلا تو اس نے سڑک کی جانب دوڑ لگادی۔ وہ پگڈنڈی پر بھاگتا
جا رہا تھا۔ کالی سیاہ ریت کے ذرے اس کے پاؤں میں چونٹیوں کی طرح رینگ رہے تھے۔
دائیں جانب گھاٹی سے اترکروہ چھپڑکے کنارے بیٹھ گیا۔ ذراجھانک کر دیکھا تو سیاہی
میں اپنے سائے کے سوا اسے کچھ نظرنہیں آیا۔ چھانگے کو لگا جیسے چھپڑمیں تیرتی
مکھیوں کی بھنبھاہٹ اور دماغ میں چڑھتی بدبو اس کے جسم کی بو کے آگے کچھ نہیں۔ اسے
خودسے مرے ہوئے کتے کی سرانڈ آنے لگی۔ کلیجہ منہ کو آیا تو جیسے پیٹ کی گڑبڑ حلق
تک پہنچ گئی اور چھانگا مانگا چھپڑ میں منہ دئیے ابکائیاں کرنے لگا۔
Prem Gorkhi, is one
of the leading short story writers of contemporary Punjab. وتھ (پریم گورکھی)

















